401

میری اماں!


انوار احمد
ایرپورٹ سے گھر پہنچا ،تو فجر کی اذان ہورہی تھی،ہمیشہ کی طرع اس بار بھی سیدھا اماں کے کمرے میں گیا ،ان کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی، بہت نحیف اور کمزور لگ رہی تھیں ،میں بیڈ پر ان کے قریب ہی بیٹھ گیا اور پوچھا’’ اماں بتائیے ،میں کون ہوں؟ ‘‘ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اپنے جھریوں بھرے لرزتے ہوئے ہاتھ کو میرے سر پر رکھا اور نحیف سی آواز میں فرمایا’’ ہمارا لاڈلا بیٹا ہے‘‘ اور مجھے یوں لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے جنت کی بشارت دے دی ہو،کچھ دیر ان کے پاس بیٹھا رہا ،پھر دعاؤں اور شفقت کی دولت سمیٹ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔
دن نکلنے پر اماں کو قریبی ہسپتال ’’ پی این ایس شفا‘‘ لے گیا، انہیں کئی روز سے قبض کی شکایت تھی اور پیٹ بھی سخت ہورہا تھا، ڈاکٹر نے دوا لکھ دی؛ لیکن اس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا،تمام ٹیسٹ رپورٹس نارمل تھیں ،کوئی خاص بیماری بھی نہیں تھی ؛لیکن بڑھاپا اور اس سے متعلق مسائل بہرحال تھے،اندازہ ہے کہ وہ نوے برس سے تجاوز کرچکی تھیں۔دوسرے دن شاید جمعہ تھا، بیگم اور ملازمہ نے اماں کے سارے جسم پر اسپنج کیا ،پھر ان کو کرسی پے بٹھا کے ٹیرس میں لے آئے، وہاں بڑی کومل سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی، ہم نے ان کے سر پر شمپو کیا اور بال خشک ہونے تک وہیں بیٹھے رہے، اماں کو گرم گرم کافی پلائی اور خوب دعائیں سمیٹیں۔شام کو اماں کی طبیعت پھر خراب ہوگئی،میں نے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پہلے ہی گھر پر ڈرپ لگوانے کا بندوبست کیا ہوا تھا، ڈرپ لگوانے کے باوجود ان کی حالت بگڑ رہی تھیں ؛لہذا ایمبولنس منگوائی اور ایمرجنسی میں پی این ایس شفا لے گئے، ہسپتال پہنچتے پہنچتے اماں کی سانس اکھڑنے لگی ،انہیں فوراً آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا اور آکسیجن دی گئی، رات بھر حالت بہت تشویشناک رہی، ساری رات میں ،بیگم اور بیٹا اماں کے ساتھ رہے، صبح تین بجے کے قریب بیٹے کو چھوڑنے گھر گیا ،جو ہسپتال سے زیادہ دور نہیں تھا، گھر پہنچ کر چائے بنوائی اور پھر واپس ہسپتال جانے کا ارادہ کیا، بڑا بیٹا جو ان دنوں امتحان کی تیاری کے لیے جاگ رہا تھا، اس نے مجھے روکنا چاہا اور مشورہ دیا کہ میں کچھ دیر آرام کرلوں اور میری بجائے وہ خود ہسپتال جانے کے لیے تیار ہوگیا، میرے منھ سے بے ساختہ نکلا ’’ نہیں بیٹا ہسپتال میں ہی جاؤنگا ،آج میری جنت کمانے کی رات ہے ‘‘ اور میں چائے کا کپ لے کر گاڑی میں آ بیٹھا اور چند منٹ کے بعد دوبارہ ہسپتال پہنچ گیا، دھڑکتے دل کے ساتھ ان کے کمرے میں داخل ہوا کہ نہ جانے کیا منظر دیکھوں گا،اماں کی حالت بگڑتی جارہی تھی ،میں ان کے قریب ہی تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور سینے سے لگا لیا اور خوب زور سے بھینچ لیتیں، سامنے کرسی پر بیگم سورۂ یاسین کی تلاوت کررہی تھیں! سلام قولاً من ربً رحیم.
کہیں دور مسجد سے اذانِ فجر کی آوازیں آرہی تھیں اور اماں اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں یا شاید ان کی سانسیں بکھر رہی تھیں، مجھ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا اور کمرے سے باہر نکل آیا، میں کوریڈور میں سینے پے ہاتھ باندھے سر جھکا ئے دیوار کے سہارے کھڑا تھا، چند لمحوں کے بعد مجھے اپنے عقب میں بھاگتے قدموں کی آوازیں آنے لگیں ،میں خوب سمجھ رہا تھا کہ کیا چل رہا ہے، میڈیکل اسٹاف شاید اماں کی سانسیں بحال کرنے کی آخری کوششوں میں مصروف تھے کہ اچانک سب کچھ ساکت ہوگیااور پھر چند لمحوں بعد کسی بوجھل قوموں کی چاپ سنائی دی ،جو میری ہی طرف بڑھ رہی تھی، قریب آگئی، میں نے اپنے کاندھے پر ایک ہاتھ محسوس کیا مڑ کر دیکھا، تو بیگم تھیں، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ،شاید اب کہنے کو ان کے پاس کچھ باقی نہیں رہا تھا، پھر ہم دونوں بنا کچھ کہے رونے لگے۔اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے تھے اور تاریخ تھی سات فروری دو ہزار چار، اماں ہمیں چھوڑ کے جاچکی تھیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
ماں کا شفقت بھرا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ چکا تھا اور زمانے کی کڑی دھوپ منتظر، ایسے میں ہاتھ اٹھاکے ہماری خیر و سلامتی کی دعائیں اب کون کرے گا: اب دعائے نیم شب میں کس کو یاد آؤنگا میں
اماں کی صحیح تاریخ پیدائش کا تو معلوم نہیں ،گمان ہے کہ انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پرتابگڈھ، یوپی میں ایک متمول زمیندار حاجی محمد اصغر مرحوم کے گھرانے میں پیدا ہوئیں،نانا مرحوم انتہائی متقی اور پرہیزگار تھے ،ان کا گھرانہ روایتی مشرقی تہذیب کا آئینہ دار تھا، نانا کی سات بیٹیاں ہوئیں ،اماں شاید چوتھے نمبر کی تھیں، نانا سے لوگوں نے دوسری شادی کے لیے بہت کہا ؛تاکہ جائیداد کا کوئی تو وارث ہو؛ لیکن انہوں نے منع کردیا اور کہا اگر میری قسمت میں بیٹا ہے تو انہی سے ہوگا، ساتویں بیٹی کے بعد اللہ نے انہیں چار بیٹے دیے، جن میں ایک ہندوستان کے معروف شاعر نازش پرتابگڑھی بھی تھے، نانا کی وفات کے وقت سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر بمشکل چند ماہ ہی رہی ہوگی، جبکہ سب سے بڑے صاحبزادے بھی اس وقت کمسن ہی تھی، گھر میں دولت کی فراوانی اور ملازموں کی فوج تھی، اس کے باوجود نانی مرحومہ نے بیٹیوں کی پرورش بہت مشرقی انداز میں کی، باپ کا سایہ جلد اٹھ جانے کے باعث بیٹے بڑے نانا اور ملازموں کے زیر تربیت رہے،بڑے نانا بڑے رکھ رکھاؤ اور شاہی مزاج کے آدمی تھے اور ان میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں بھی تھیں ،جو اس وقت کے رؤسا میں ہوا کرتی تھیں ،ان کا کافی اثر بڑے ماموں پر بھی آیا، وہ بھی انتہائی شوقین مزاج اور باوضع شخص تھے، بہنوں کے لاڈلے ،عمدہ کھانوں اور اچھا پہننے کے شوقین، ان کی پسند آج بھی خاندان میں ضرب المثال ہے۔
اماں پرتابگڈھ سے بیاہ کر نگرام اور پھر لکھنؤ آگئیں، والدہ جس گھرمیں بیاہ کر آئیں ،وہاں دولت کی وہ فراوانی تو نہ تھی؛ بلکہ جائیداد کے چکر میں ہونے والی مقدمہ بازیوں نے معاشی حالات کو مزید مخدوش کردیا تھا؛ لیکن ماحول نہایت ادبی تھا، میری دادیہال لکھنوی تہذیب کا نمونہ تھی، خواتین غرارے اور مرد حضرات اچکن اور شیروانی پہنتے، جب تک والد حیات رہے ،اماں نے غرارہ ہی پہنا یا کبھی کبھا رساڑھی بھی زیب تن کرتیں، پان سے منھ لال رہتا، بعد میں پان کھانا تو کم کردیا تھا؛ لیکن چھالیہ کتھا چونا اور تمباکو بٹوے میں ضرور ہوتا اور شوق سے کھاتیں، اماں اچھے کھانوں کی شوقین تھیں، خوراک بہت کم تھی؛ لیکن کھانے کے فوراً بعد میٹھا ضرور کھاتیں ،کچھ نہ ہوتو دیسی گھی اور گڑ یا چینی ہی سہی، اکثر دودھ چاول بھی کھاتے دیکھا، آم سے بہت رغبت تھی ،اس موسم میں دوپہر کے کھانے کے وقت بیگم سے فرماتیں ’’ بھیا ہمیں تو آم روٹی ہی دے دو!‘‘ تو بیگم ان کے لیے آم کے گودے اور دودھ یا بالائی کے ساتھ ایک روٹی دے دیتیں اور یہی انکا لنچ ہوتا، سردی کے موسم میں حلوہ سوہن بڑے شوق سے منگواتیں اور رکھ کر کھاتیں۔گھر میں بڑا ادبی ماحول تھا، ہر قسم کی کتابیں پڑھی جاتیں، مودودی صاحب کی ’’تفہیم القرآن‘‘ ہو یا کارل مارکس کی ’’ کیپٹل ‘‘ہو یا موپساں کے افسانے ؛گھر ہی میں دستیاب تھے، جس سے ہم بھائی بہنوں کو بھی پڑھنے کی ترغیب ملی اور کتب بینی کا شوق پیدا ہوا،اماں شعر و شاعری اور پڑھنے کی بہت شوقین تھیں، اکثر بڑے برمحل شعر پڑھ دیتیں، ایک روز جب میں ان کے قریب ہی بیٹھا تھا کہ مجھے ہچکیاں آنا شروع ہوگئیں ،تو فورا مجھ پر ایک شعر چسپاں کردیا:
”ہچکیاں بن گئیں آج گلے کا پھندا
جانے کس وعدہ فراموش کو میں یاد آیا
ایک رات میں دیر سے گھر لوٹا، حسبِ عادت پہلے ان کے کمرے میں گیا اور دیر سے آنے کی وجہ بتانے کی کوشش میں بے ربط ہوگیا ،تو فرماتی ہیں:
نہ ہم سمجھے کہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے
اور مجھے یوں لگا کہ انہوں نے میری کوئی چوری پکڑلی ہو
گھر میں روز کئی اخبار اور ہر ماہ مختلف رسالے،جرائد اور میگزین آتے ،جو تقریباً سبھی اماں پڑھتیں، اسکے علاوہ محلے کی لائبریری سے نسیم حجازی، رضیہ بٹ،اے آر خاتون اور ابن صفی سب کو پڑھتیں، شعر وادب سے بھی بہت لگاؤ تھا ،’’شاہنامۂ اسلام‘‘ ترنم سے پڑھتیں اور آب دیدہ ہوجاتیں، منٹو، عصمت چغتائی،مجاز، جذبی سب ہی ان کے مطالعے میں رہتے، بارہا ایسا ہوا کہ لائبریری سے کتاب منگواتیں اور بار بار یہ کہ کر واپس کروادیتیں کہ یہ تو ہماری پڑھی ہوئی ہے، ہم کئی چکر لگاتے، زچ آکر لائبریری والا اپنا رجسٹر ہی دے دیتا کہ اماں کو دکھا دو، جو کتاب نہیں پڑھی ،وہ بتا دیں،مجروح صاحب چچا کے بچپن کے دوست تھے اور اکثر گھر آتے ،اماں کو بھوجی کہتے اور اپنی مترنم آواز میں گیت سناتے اور اماں کے ہاتھوں کا پکا لذیذ کھانا کھاتے،اماں بہت روایتی خاتون تھیں، ہر تہوار اورشادی بیاہ کے موقع پرخوب گانا بجانا کرتیں اور ان موقعوں پر دینے دلانے کا بہت اہتمام کرتیں،یہاں تک کہ گھر کے ملازمین کے لیے بھی جوڑے بنتے اور بڑے چاؤ سے کہتیں ’’ اے بھیا یہ پرجا کا حق ہے‘‘ دور دراز کے رشتہ کی بہنوں کو بھی’’ نیگ ‘‘ ضرور بھجواتیں،اماں کے اسی شوق اور مزاج کو دیکھتے ہوئے ان کے بہنوئی صاحب نے انہیں’’ دھوم دھام‘‘ کے خطاب سے نوازا اور وہ واقعی اسکی اہل بھی تھیں۔
ربیع الاول کے مہینے میں خوب نعتیں اور سلام پڑھتیں، اسی طرع محرم کے دس دن مرثیے، نوحے اور سلام پڑھتیں اور ریڈیو پربھی سنتیں اور خوب روتیں، دس محرم کو محفل شام غریباں ٹی وی پر ضرور دیکھتیں اور اہلبیت پر ہونے والے مصائب پر آنسو بہاتیں، اسی طرع شب برأت میں قسم قسم کے حلوے بھی بناتیں اور تقسیم کرواتیں،ان کے اس شوق کے سامنے ابا کی وہابیت بھی کچھ کام نہ آتی اور وہ خاموش ہی رہتے، کیسے وضع دار لوگ تھے،جب تک اماں رہیں ،پرانی رسم و رواج پر عمل بھی ہوتا تھا،پکوان بھی پکتے تھے، وہ ساون کے گیت بھی پوربی زبان میں خوب گاتی تھیں اور اپنا میکہ یاد کرکے روتیں،پوتے پوتیوں کی پیدائش پر کچھ مخصوص گیت اگر مجھے نام ٹھیک سے یاد ہے’’سہل‘‘ گاتیں، ان کے ساتھ خالائیں اور نانی اماں بھی سر ملاتیں ،ان گیتوں میں سنسکرت کے دیو مالائی کردار ’’نند لال‘‘ کا ذکر بار بار ہوتا، یہ گیت ٹھیٹ پوربی میں ہوتے،ہمارے پلے کچھ نہیں پڑتا؛لیکن اس کی لے اچھی ضرور لگتی تھی،اس کے علاوہ اور بہت سے گیت موقع محل اور موسم کے لحاظ سے گائے جاتے،’’ مورے سیاں جی اتریں گے پار ندیا دھیرے بہو‘‘،’’ چھوڑ بابل کا گھر موہے پی کے نگر‘‘ اور امیر خسرو کے گیت خوب لہک کر گاتیں اور ساتھ ہی ساتھ روتی بھی جاتیں، شادی کہیں بھی یا کسی کی بیٹی کی ہو، اماں رخصتی کے گیت ضرور گاتیں اور آنسو بہاتیں۔
آج بھی جب ذہن بچپن کے واقعات اور ان سے جڑی یادوں ،روایات میں کھو جاتا ہے ،تو بے شمار بھولی بسری یادیں سر اٹھانے لگتی ہیں،والدین کا وہ سنہرا دور ،جب وہ مکمل طور پر فعال تھے ،اپنی گوناگوں مصروفیات اور معاشی تگ و دو کے باوجود ان بزرگوں نے اپنی روایات اور اقدار کو کسی طور زندہ رکھا اور انہیں بخوبی نباہ بھی رہے تھے، باجود اس کے کہ تقسیم کے بعد اکثر خاندان ٹوٹ پھوٹ اور کسمپرسی کا شکار ہوئے ، انہوں نے اپنی اقدار کو بھی زندہ رکھا، جو یقیناًآسان نہ ہوگا،اب اماں نہیں رہیں اور اپنے ساتھ وہ میٹھی اور محبتوں بھری روایتیں بھی لے گئیں ،ہر طرف نفسا نفسی اور خود غرضی کا راج ہے، کوئی گداز اور رکھ رکھاؤ باقی نہیں رہا۔اللہ ان نیک ہستیوں کے درجات بلند فرمائے ،جن کے دم سے تہذیب اور شائستگی کا رواج تھا۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

5 تبصرے “میری اماں!

  1. زبردست مضمون انوار بھائی ۔۔۔ آپ نے والدہ کے ذکر کا حق ادا کردیا۔۔۔ جیسا نقشہ آپ نے ان کا کھینچا ویسا ہی میرے ذہن میں محفوظ تھا انہیں آپ کے ماموں ہمارے یحیٰ خالو کے یہاں کی تقریبات میں انہیں دیکھا پھر اپنی بہن کی شادی میں بھی جو بیاہ کر یحیٰ خالو کے گھر گئیں- اللہ ان کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، آمین

  2. مول نہی ہے ماں کا کو ئ یہ تو ہے انمول …آپ نے حق ادا کردیا ..بہت ساری رسومات لکھنؤ والوں کی یادگار رسومات ہیں سب تازہ ہو گئیں ..اللہ انکے درجات بلند فرمائے آمین

  3. واہ محترم انوار احمد بھائی، اماں کا کیا شاندار خاکہ رقم فرمایا ہے آپ نے۔ یہ پڑھ کر مجھے اور پرانے دور گو کہ میں اُتنا پرانا تو ہرگز نہیں پھر بھی اپنے بچپن میں آپ کی اماں اور چند دوستوں کی امیوں کو دیکھ کر بطورِ خاص پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے فاطمہ ثریا بجیا کے تمام تر کلاسیک ڈراموں میں دیکھیں امائیں یاد آ گئیں۔
    بلاشبہ وہ بہت ہی نفیس زمانے تھے اور اُس زمانے کے بزرگ بھی اپنی اپنی شخصیات میں نفاست، تہذیب اور رکھ رکھاو کے امین تھے۔
    اب تو معاملہ ہی اُلٹا ہو گیا ہے۔ زمانے کی نفسانفسی نے اُن پرانے اقدار کو نگاہوں سے اُوحھل کر کے رکھ ریا ہے۔
    اس بہت ہی پُراثر تحریر پر میری جانب سے مبارکباد
    اللہ اماں کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے، آمین۔

    1. Anwar Ahmad Bahaiji, main maazrat ka khwastgaar hoon ke mujhe Urdu typing nahi aati. Is liye main apne emotions Roman Urdu me darj kar raha hoon.

      Mazmoon bahut hi emotional aur touching hai, khas taur par jab aaj “MOTHER’S DAY” hai. Mujhe ye itna khoobsurat laga ke main ne Mrs. Mahna ko sunaane ke liye pass bitha liya. Yaqeen maaniye, main ne ise padhte hue baar baar aansuon ko rokne ki koshish kee.

      Mai to aap ke mutaliq do baton se bahut mutassir hua hoon; (1) Aap maa bête ke shafaqat aur (2) aap ke khandaan ka ek adbi gharaane se taaluq rakhna. Mujhe rashk hota hai ke main bhi aap jaisa hee har lihaz se samajhdaar hota, khas taur par AMMA JI se itni muhabbat karne wala. Is me koi shaq nahin ke main bhi apni Ammi se bahut zyaada lgav rakhta tha lekin halat ko madde nazar rakhte hue main aap jitna khushqismat nahi raha. Meri Amma ji 3-9-2003 ko 89 saal ki umr me Allahtala ke qadmon me pahuncheen lekin tab main, halat ki wajeh se, un ke nazdeek nahi tha kyon ke wo blood cancer kee beemari ke chalte mere bade bhai sahib ke pass ek deegar makaan me theen. Mujhe abhi tak yaad hai ke wo mujhe 2-9-2003 ki sham ko rokti raheen lekin mujhe yaqeen tha ke wo mujhe kuchh to mauqa dengi taake main agle din unhen apne pass le aata. Lekin agli subeh hui hi nahin aur taqreeban 4 am (3-9-2003) mere pass un ke jannat nasheen hone ka phone aa gaya.

      Baharhal, meri Ammi bahut kam khushqismat logon me se theen jinhon ne apni goad me POTE KA POTA khilaaya ho. Is ke alawa wo apne peechhe taqreeban 250 logon ka ek bada kunba chhod kar rukhsat huin.

اپنا تبصرہ بھیجیں