68

میاں بیوی کی لڑائیاں:ایک وجہ

حفصہ عبدالغفار
کسی صحابیہ یا قرونِ اولی کی خاتون کا واقعہ ہے کہ ان کے بچے کی وفات ہو گئی،شام کو ان کے میاں واپس آئے،تو انہوں نے پہلے کھانا کھلایا، بعد میں اطلاع دی، وہ بھی اس انداز میں کہ اگر آپ کے پاس کوئی امانت رکھوائے،پھر واپس لے لے، تو آپ کو کوئی مسئلہ ہو گا؟ ہمارا بیٹا بھی اللہ کی امانت تھا اور اس نے واپس لے لیا ہے۔ اسی طرح ایک شوہر (صحابی یا اسلاف میں کسی) کے واقعے کا مفہوم یاد ہے کہ وہ انتہائی بد صورت بیوی کی باتیں (تمام تر کوفت کے باوجود اجرکی امید پر) بڑے غور سے سنتے رہتے تھے۔
اور اسی قسم کے ان گنت واقعات یقینا میاں بیوی کو بہت بڑے سبق دےدیتے ہیں کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے، کس چیز کو کیسے برداشت کرنا ہے؛ لیکن ھل من مدکر والا سوال باقی رہ جاتا ہےاور ہمیں واقعی سوچنے سمجھنے والے خال خال ملتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پچھلی صدی کے وہ کیا احوال تھے،جنہوں نے جہالت کو دین کے نام پر اپنانے کا چلن عام کردیا۔پڑھنے پڑھانے، سیکھنے سکھانے کا ذوق سوچوں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ جیسے اس بات پر تحقیقات اور تجزیے سامنے آتے ہیں کہ پاکستان میں افغان جہاد کے نام پر گولی سے خود کش دھماکے کا چلن کب کیسے عام ہوا، ایسے ہی اس پر بھی کام ہوجانا چاہیے کہ یہاں دین کے نام پر جہالت پر فخر کب کیوں ہونا شروع ہوا؟
جیسے یہی سوچ لیا ہو کہ بچی کو جتنا ان پڑھ رکھا جائے گا،اتنا ہی فخر کی بات ہے اور جتنی جلدی اس کی شادی کر دی جائے، تو گویا بس یہی دین کے قیام کی سب سے بڑی ذمے داری ہے اور لڑکوں کو بھی ایک لفظ نہیں سکھانا سوائے اس کے کہ تم قوّام ہو اور اس کا مطلب ہے عورت کو ذلیل کر کے رکھنا۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے، پھر یہ ایک بڑا مذہبی طبقہ نہ جانے کہاں سے وجود میں آگیا،جس کی جنت اتنی ہی سادہ ہے، جتنی خود کش حملہ آوروں کی۔ تعلیمی، فنی، اخلاقی ہر لحاظ سے پستی کو گلے کا طوق بنا کر سمجھتے ہیں دین پر قائم ہیں۔ بھائی تم بچی کا نکاح گیارہ سال میں کرو کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ہوگا؛لیکن تم اسے دینی و دنیاوی تعلیم سے دور رکھ کر یہ سمجھو کہ دینی فریضہ ہے، اولاد کو اخباروں، کتابوں، یونیورسٹیوں، تحریروں اور تقریروں کے ذوق سے باندھ کر سمجھو دین کے خادم پیدا کردیے ہیں، تو میری مانو کچھ دیر جنت کی تلاش چھوڑ کر وہ اسباب تلاش کرو،جنھوں نے تمہیں دین کے نام پر جہالت کاٹھیکیدار بنا دیا ہے۔
آج سے چھ سال قبل ایک مذہبی ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹیوں کو فرمایا کرتے تھے”حفصہ تو پاگل ہے”اور خود وہ اتنے سمجھ دار نکلے ہیں کہ چھ سال میں اپنی ایک بیٹی کو مکمل طور پر پاگل بنا چکے ہیں۔ پہلے اسے جاہل رکھ کر اپاہج بنایا، پھر کسی جاہل کے ساتھ شادی کی، جس نے پیدا ہونے والی تین بچیاں پاس رکھ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ وہ باپ کے گھر روتی رہی اور یہ جملے بولتی رہی”میں مزدوری کرکے بچیاں پال لوں گی، مجھے بس وہ دلوا دو” لیکن سمجھ دار مولوی صاحب نے اسے یوں ہی رلایا اور آج بیٹی کوپاگل بنا کر طلاق کروا لی ہے،جبکہ خود کو اتنی توفیق بھی نہیں کہ اس کی اولاد ہی اس کو دلوا دیں، پھر دماغ تب گھومتا ہے، جب کہتے ہیں”ہم مذہبی لوگ ہیں”ـ آج بہن کے گھر تھی،اس کی کوئی ہمسائی تشریف لائیں،ساتھ ایک پندرہ سولہ سالہ بیٹی تھی، جو سر جھکائے ایسے بیٹھی رہی اور ماں کے کندھے کےپیچھے چھپی رہی کہ میں سمجھی بیچاری نفسیاتی مریض ہے۔ چند منٹ بعد خاتون میری طرف اشارہ کر کے آپی کو عجیب غصے سے بولیں “اس کی تو کی نہیں شادی”۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ بزعم خود “انتہائی مذہبی لوگ ہیں، جس کا مطلب ہے اولاد کی شادی بالغ ہوتے ساتھ کرتے ہیں”ـ میری طرف سے نو سال میں نکاح پڑھا دو بچی کا ؛لیکن جو سیدھا منہ کرکے بیٹھ نہیں سکتی، وہ کیسی ‘مسلمان’ بیوی اور کیسی ‘مسلمان’ ماں بنے گی؛لیکن یہ ان کو سمجھایا نہیں جا سکتا تھا۔
کئی کپلز کو لڑتے دیکھ کر دل چاہتا ہے جا کر بتاؤں کہ تم لوگوں کےپاس سب کچھ ہے، پیسہ بھی، اولاد بھی، سواری بھی، گھر بھی،اگر نہیں ہے، تو اخلاق نہیں، شعور نہیں، تعلیم نہیں!!! اس میں جتنا قصور تمہارا ہے،اتنا تمہارے والدین کا۔پچھلی دو نسلوں کے انٹیلیکچوئل زوال کی کوئی تاریخ مرتب ہوئی ہو، توکوئی اطلاع فرما دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں