64

مہاتما گاندھی پر اردو زبان میں طبع زاد کیا کچھ لکھا گیا ہے؟


صفدر امام قادری
صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
ہر قوم کی طرح ہندستانی قوم نے بھی گاندھی کو حسبِ ضرورت یاد رکھا ہے۔ ۲؍اکتوبر اور ۳۰؍جنوری کو علامتی طور پر یاد کرنے کے ساتھ خاص مواقع سے بھی انھیں یاد کرنے کی رسم ادائیگی سے کام چل جاتا ہے۔ گاندھی کے آدرشوں سے پہلے ان کے کانگریسی ہی الگ ہوئے اور پھر ہماری پوری سیاست ہی انھیں بھُلا کر الگ راستے پر چل نکلی۔ اب یاد کا ایک میکانکی عمل رہا۔ ۱۹۶۹ء میں صد سالہ جشن ہوگیا۔ ۱۹۹۹ء میں وفات کے پچاس برس پر کچھ بزم آرائیاں ہوگئیں۔ اب ایک سو پچاس برس پر بھی کچھ جشن، سمینار، سمپوزیم اور کچھ تقریبات۔ وزیر اعظم نے تو ۲۰۱۴ء سے ہی گاندھی کو ایک ذاتی تشخص اور خاکی پہچان دینے میں بہت مشقّت کی ہے جس سے گاندھی کی ایک نئی شبیہہ قائم کرنے یا ہونے کے خدشات پیدا ہورہے ہیں۔
ایسے میں کسی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے ایک شخص نے یہ سوال اچھال دیا کہ مہاتما گاندھی کے بارے میں اردو زبان میں طبع زاد کیا کچھ لکھا گیا ہے؟ اصل میں پوچھنے والے کا تناظر یہ تھا کہ اُس وقت ملک کے ایک گوشے میں ’’گاندھی اور اردو‘‘ عنوان سے ایک بڑا سمینار منعقد ہواتھا اور اردو کے نقاد، شعرا اور اساتذہ وہاں سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے اس موضوع کے الگ الگ پہلوئوں پر غور و فکر کررہے تھے۔ سوال پوچھنے والے کا مقصد یہ تھا کہ پرانی کتابوں یا مضامین سے الگ حال کے برسوں یا دہائیوں میں اردو والوں نے گاندھی کو کس حد تک قابلِ توجہ سمجھا اور ان کے افکار و نظریات پر غور و فکر کرنے کی کس حد تک ضرورت سمجھی؟جوابات نہایت غیر تشفی بخش آئے۔ مذکورہ سمینار کی اخبار اور سوشل میڈیا پر جو رپورٹیں آئیں، ان سے بھی یہ اطمینان بہ مشکل ہوا کہ گاندھیائی ادب کا ایک مکمل سروے اور احتساب ممکن ہوسکا۔
گاندھی جی کی زندگی میں ان کے سلسلے سے اردو زبان میں لکھنے والے کم نہیں تھے۔ قومی تحریک کے سرگرم کارکنوں میں ایک بڑی جماعت ایسے افراد پر مشتمل تھی جس کی نہ صرف یہ کہ مادری زبان اردو تھی بلکہ وہ اپنے علمی امور بھی اردو میں انجام دینے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی سوالوں پر وہ اپنی مادری زبان میں اظہارِ خیال کرتے تھے۔ گاندھی نے خود اردو سیکھی تھی اور وہ دوسروں سے توقع رکھتے تھے کہ اردو جاننے والے انھیں اردو میں ہی لکھیں۔ ہندستانی اکادمی کا قیام اور اس سلسلے سے بار بار اپنے خیالات کے اظہار سے انھوںنے زبان کے سلسلے سے ایک خوش گوار ماحول قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُس زمانے میں حیات اللہ انصاری سے لے کر سید عابد حسین، خواجہ غلام السیدین تک ایک سلسلہ تھا۔ ذاکر حسین، سہیل عظیم آبادی اور ان سے پہلے اکبر الہٰ آبادی سے لے کر خواجہ حسن نظامی تک۔
گاندھی کی وفات کے بعد یہ سلسلہ رُکا نہیں۔ فوری تاثر کے بہ طور ہزاروں کی تعداد میں شعرا و ادبا کی تعزیتی تحریریں صرف صدمات کا اظہار نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ گاندھی ہماری قومی زندگی کا ایک ایسا حصہ تھے جن کے بغیر نئی زندگی کا تصور بہ مشکل ممکن ہے۔ ۴۸-۱۹۴۷ء سے ۷۰-۱۹۶۹ء کے دوران گاندھی کو یاد رکھنے کے عمل میں اردو والوں نے کوتاہیاں نہیں کیں۔ گاندھی کے بنیادی کاموں کو اردو میں منتقل کرنے کا سلسلہ آگے بڑھا۔ اس دوران دوسری زبانوں میں بعض قیمتی کتابیں تیار ہوئیں جنھیں اردو ترجمہ کے ساتھ بڑی مستعدی سے سامنے لایا گیا۔ بے شک کانگریسی حکومتوں کے قومی ادارے اس کام میں پیش پیش رہے اور گاندھیائی ادارے بہ شمول جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بزرگان نے ا س سمت تحریری توجہ دے کر اپنی مادری زبان کے سرمایۂ ادب و علم میں اضافہ کیا۔
مگر ۷۰-۱۹۶۹ء تک وہ نسل اپنی طبعی عمر کو پہنچنے لگی جس کے لیے گاندھی ایک جذباتی اور ذہنی غذا تھے۔ تقسیمِ ملک کے اثرات حکومت کی پالیسیوں پر ظاہر ہونے لگے جس کی وجہ سے اردو کے بہت سے عوامی دروازے اپنے آپ بند ہوتے چلے گئے۔اتر پردیش سے تعلیمی امور میں اردو کا سوچ سمجھ کر اخراج ہوا اور نتیجے کے طور پر اردو یونی ورسٹی اور کالجوں میں سمٹنے لگی۔ عوامی طور پر پہلے جو جگہیں اردو کے حوالے سے میسر تھیں، وہ ختم ہوئیں۔ ا س ماحول میں بہت سارے کاموں کی طرح اردو والوں سے گاندھی بھی چھوٹے اور اب تک چھوٹے ہی ہوئے ہیں۔
اس دوران ترقی پسند ادیبوں کا زور بھی تھا جن پر یہ الزامات عاید ہوتے رہے کہ انھوںنے ادب میں غیر ادبی موضوعات شامل کرکے ادب کے معیارات بگاڑے۔ جدیدیوں نے ان کے سماجی سروکار کی حرف گیری کی تھی۔ ترقی پسندوں کے ہاں مارکسزم جتنا بھی ہو، قومی تحریک کے اثر سے گاندھی اور نہرو کے خیالات کی تعبیر و تشریح کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا۔ ا س وجہ سے سماجی اور سیاسی امور پر غور و فکر کرنے والے دانش ور، ادیب اور شعرا اردو میں بھی دکھائی دیتے تھے مگر جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے پچا س برس میں کن افکار و نظریات یا ماہرین پر ہم نے قلم فرسائی کی مغرب کی تیز آندھی اٹھی اور سارتر، جنگ، فرائڈ، چامسکی، بارتھ، ایڈورڈ سعید جیسے ناموں کی فہرستیں طویل تر ہوتی چلی گئیں۔ ترقی پسندوں کے ہاں بھی مارکس، لینن، اسٹالن، بیلنسکی اور کرسٹوفر کا ڈویل کا سلسلہ رہتا تھا مگر ان میں گاندھی، نہرو اور لوہیا کی وجہ سے ایک دیسی توازن پیدا ہوجاتا تھا۔ پچھلے پچاس برس سے اردو کے علمی منظرنامے پر عدم توازن کی یہ عبارتیں کندہ ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
گذشتہ نصف صدی کی اردو دانش وری سے صرف گاندھی یا نہرو ہی غائب نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں سماجی سوالوں سے صرفِ نظر کرکے شعر و ادب کی بندھی ٹکی زمین میں خود کو گاڑنے کی کاوشیں ہوئیں۔ ا س دوران جو ادب لکھا گیا، اس میں بہت سارے بنیادی مسئلوں اور ہم عصر امور سے غفلت برتی گئی۔ تنقید پر تو یوں بھی خالص ادب کا ٹھپہ لگا ہوا ہے مگر افسانے اور ناولوں کی فکری دنیا بھی اس قدر کہاں پھیل سکی۔ فرقہ واریت، صارفیت اور ذرا سا نکسلزم، کچھ عورت مرد کے جائز ناجائز رشتے۔ ا س کا دائرہ بڑھنا ہی چاہیے مگر ہماری نقلی دانش وری نے ہماری فکر کے خودرَو پودے کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیا۔ ایسی صورتِ حال میں کون یہ توقع کرے گا کہ گاندھی کو مرکز میں رکھ کر کوئی ناول لکھے یا افسانہ نویسی کرے۔
ہندستان کی دوسری زبانوں کے احوال اردو سے ذرا مختلف نظر آتے ہیں۔ ہندی زبان میں ترقی پسند ادبی رویے کا اردو کی طرح حتمی زوال نہیں آیا۔ اس وجہ سے وہاں فکری امور پر تبادلۂ خیالات کا ایک ماحول بنتا گیا۔ ہندی زبان کے رسائل و اخبارات کے خصوصی یا عمومی شماروں میں دانش ورانہ موضوعات پر جس بھرپور انداز میں گفتگو ملتی ہے، وہ اردو رسائل کے صرف ادبی مباحث کے مقابلے بہت وزنی ہے۔ انگریزی زبان کے ادبی ہی نہیں، نیوز میگزین میں بھی ادب اور سماج کے بارے میں جو غور و فکر موجود ہے، وہ ہمارے لیے خواب سے کم نہیں۔
اردو کے موجودہ علمی سرمایے کی پڑتال کیجیے تو رطب و یابس کا اندازہ ہوتا ہے۔ یونی ورسٹیوں نے ایسے نام نہاد ماہرین پیدا کردیے جنھیں ہر موضوع پر مہارت حاصل ہے۔ ایک بار مشفق خواجہ نے پاکستان کی ایک خاتون کی اس ہمہ جہتی پر پھبتی کسی تھی کہ یہ تو ایٹمی پلانٹ پر بھی اسی مہارت سے گفتگو کر سکتی ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے بارے میں ساختیات کے ساتھ ساتھ خود ساختیات کی امامت کا بھی اس زمانے میں خوب خوب لطف رہا۔ اب ایک ہی آدمی نئی غزل کی علامت سمجھائے اور مثنوی یا داستان کی باریکیوں پر کلیدی خطبہ پیش کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ قحط الرجال ہے۔ یہ علمی فیض رسانی نہیں، ماہرانہ جبر ہے مگر اردو میں اب ایسے ہی عالم ہیں جنھیں ہر موضوع پر گفتگو کرنے کی مہارت ہے، شرط یہ ہے کہ انھیں ا س کے لیے خاصی رقم ملے اور ذرا پوچھ گچھ بھی حاصل ہو، منصب سے یہ سب کچھ ممکن ہے۔
گاندھی تو برسبیلِ تذکرہ آگئے ورنہ ہر معقول موضوع کا یہی حال ہے۔ جب تک سمینار میں پرچہ یا کلیدی خطبہ نہ دینا ہو، کون لکھتا ہے۔ فرمایش سے ہی جب علمی کام انجام تک پہنچیں ،تب ذاتی غور و فکر اور برسوں کی مشقت کے بعد نتیجہ خیز تحریر پیش کرنے والی نسل کیوں کرنا پید نہ ہوجائے۔ گاندھی پر سمینار کرائیے، دو سو مضامین سامنے آجائیں گے اور ان کے الٹ پھیر سے کچھ نئی تقریریں بھی نشر ہوجائیں گی۔ مگر خدا کی قسم کہ آج اردو کا ایک نقاد، دانش ور اور خطیب اپنے طور پر دنیا ، زندگی اور کائنات کے مسئلوں پر کوئی فیصل رائے دیتا مل جائے۔ فرمایشی ادب اور علم کے سہارے گاندھی ہی نہیں، سارے موضوع غارت ہوتے نظر آتے ہیں، بہ قولِ ساحر:
گاندھی ہوں کہ غالب ہوں، انصاف کی نظروں میں
ہم دونوں کے قاتل ہیں، دونوں کے پجاری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں