128

مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ،موریشس میں محفلِ غزل سرائی کاانعقاد

موریشس (آبینازجان علی)
موسیقی کا عالمی دن ۲۱ جون کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نصف کرۂ شمالی میں گرمی کا سب سے لمبا دن ہوتا ہے اور نصف کرۂ جنوبی میں سردی کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے۔ ۱۹۸۲ء میں پیرس میں پہلی بار عالمی یومِ موسیقی منایا گیا، تب سے یہ دن دنیا کے ۱۲۰ سے زیادہ ممالک میں منایا جاتاہے۔ موریشس کا مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ بھی ۳۲ سالوں سے اس دن کو منا رہا ہے اور ۲۱ جون ۲۰۱۸ءکو غزل کی محفل ’ارشاد‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ موسیقی کے دن کے ساتھ ساتھ عید بھی منائی گئی۔ یہاں کے مقامی فنکاروں نے غزل سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس محفل میں بطور مہمانِ خصوصی صدرِ جمہوریہ ویاپوری صاحب شریک تھے۔

دورانِ محفل اردو کے عظیم شعراء جیسے بشیر بدر اور ناصرکاظمی اورمہدی حسن اور غلام علی جیسے مقبول ترین گلوکار کی غزلوں نے سامعین کا دل جیت لیا۔ مقامی فنکاروں میں ورشا رانی بیسے سار، بلال لال محمد، نکھل شبھنوٹھ، وشال منگرو، للیتا گوپی، نیہا دیرپول، شویتا بابولال، ریتیش جورن اور اکشئے جورن تھے۔ سیتار پر اروند بھجن، طبلہ پر نیرین ویرلاپین، وائلن پرپون مردن، سنتور پر اتتم درباری، ڈرم پیڈ پر منیش سکراپانی، گیتار پر گوبند رونل اور کیون مونسامی، ہارمونیم پر وجئی مونسامی اور ڈگی ترنگ اور دھولک پر آنند چھٹو تھے۔
مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ موریشس میں ہندوستانی زبانوں اور ہندوستانی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ادارے کے سات ثانوی اسکول ہیں اور یونیورسٹی بھی شامل ہے جہاں ہندی، اردو، تمل، ٹیلیگو، مراٹھی جیسی زبانوں کے ساتھ موسیقی بھی سکھائی جاتی ہے۔ پروگرام کو مقامی ٹیلی ویژن پر بھی نشر کیا گیا۔
غزل کی عالمگیر مقبولیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس فن نے ’ارشاد‘ محفل میں رنگ و نسل کی تفریق کو مٹاکر شائقین غزل کوایک جگہ جمع کیااورسبھی لطف اندوزہوئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں