140

مکاتب اور کانوینٹ:موازنہ کیوں، محاسبہ کیوں نہیں؟

ڈاکٹر عبدالرحیم خان ریاض

میں ایک ایسی کارپوریٹ فرم میں گزشتہ تقریبا ایک دہائ سے ملازمت کررہا ہوں جو اب تک تسلسل کے ساتھ ارتقائ منازل طے کرتے ہوۓ اپنی صنف کی دو درجن سے زیادہ کمپنیوں میں نمبر تین پر آپہونچی ہے۔ مگر ۲۰۱۹ کا ربع اول (Quarter 1 -2019) باقی مہینوں کے تناسب میں معمولی مایوس کن رہا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں صرف تین ماہ کے نتائج میں کمی انتظامیہ کے لئے اسقدر تشویش کا باعث بن گئ ہے کہ آۓ دن تجزیاتی اجلاسات ہورہے ہیں اور جوابدیہی کے تئیں اعلی منتظمین کی نیندیں غائب ہوچکی ہیں۔

تمہید یہ بتانے کے لئے باندھی گئ کہ دنیاوی و دینی ہر دو معاملات میں مثبت نتائج کا انحصار صرف عمل مسلسل نہیں بلکہ ساتھ ہی تجزیہ، خود احتسابی، جوابدیہی اور اصلاحاتی اقدامات پرہوتا ہے۔ کل عزیزم کاشف کی مکاتب / مدارس و کانوینٹ اسکولوں پر ایک موازناتی پوسٹ کے بعد میں نے اعداد و شمار کی چھان بین کرنی چاہی۔ مکاتب و مدارس کی صحیح تعداد کا پتہ تو نہ چل سکا البتہ یہ ضرور اندازا ہوا کہ موجودہ ھندوستان میں بالخصوص مسلم آبادیوں میں مکاتب کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ بات اگر شمال مشرقی ھندوستان کی کیجاۓ تو کم و بیش ہر گاؤں میں مکاتب موجود ہیں۔
قبل اس کے کہ ارباب حلت و حرمت مجھ پر لبرل اور اینٹی مذھب ہونے کا فتوی داغیں، واضح کرتا چلوں کہ برصغیر میں مدارس و مکاتب کا مسلم امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ جسے بآسانی شمار بھی نہیں کرایا جاسکتا۔ اختصار میں اگر کہا جاۓ تو ھندوستانی مسلمانوں کا اسلامی تشخص انہیں بوریوں اور چٹائیوں کا مرہون منت ہے۔ ہزارہا سلام ہے ان نفوس سلف کو جنہوں نے امت کے مفاد کے تحت اس کی پرخلوص داغ بیل ڈالی تھی۔
لیکن مکاتب کی ان بیش بہا خدمات کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ یہ مسؤلیت اور جوابدیہی یا اصلاح کے زمرے سے خارج کوئ مافوق الفطرت یا آفاقی شعبے جات ہیں کہ جن پر گفتگو، تنقید یا محاسبے کی بات کرنا نقص ایمان کا سبب بن جاۓ۔ اس بات سے آج کسی اہل دانش کو انکار نہیں کہ ہمارے لاکھوں مکاتب گزشتہ کئ دہائیوں سے وہ نتائج نہیں دے پارہے ہیں جو ان سے مطلوب ہیں یا جو ان پر ہونے والےاخراجات کے بقدر ہوں۔ ان سے متعلق ایک معمولی تعداد کے علاوہ اکثریت نہ تو دینی اعتبار سے مستحکم ہے اور نہ ہی دنیاوی کامیابی سے ہمکنار ہے۔ بہت ساری دیگر وجوہات کے ساتھ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مکاتب و مدارس کو روحانی خانے میں رکھتے ہوۓ انہیں ہر قسم کے احتساب سے مستثنی تسلیم کرلیا ہے۔ انہیں ملی سرماۓ کے بجاۓ ذاتی اجاراداریوں کی شکل دے دی گئ ہے جسمیں نہ تو مشاورتی طریقۂ کار کا دخل ہے اور نہ ہی جوابدیہی کا کوئ امکان شامل ہے۔ امت کے زکات و عطیات کا ایک خاطرخواہ حصہ ان پر صرف ہوتا ہے مگر نتائج کو لیکر ہم کبھی اسے گرفت کی صف میں کھڑا نہیں کرپاتے۔
بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہمارے تشخص کے نگہبان ان مکاتب و مدارس کے سربراہان کے تعین کے لئے ہمارے ہاں دو بنیادی معیار ہیں۔ یا تو منتظمین کا اہل ثروت و سیٹھوں کی صف سے ہونا ضروری ہے یا پھر اہل جبہ و دستار میں سے آنا مشروط ہے۔ جبکہ ان دونوں کے ساتھ ساتھ سربراہان کے لئے بہتر منتظم، نتیجہ پرور اور اچھا آڈیٹر ہونا بھی یکساں ضروری ہے۔ جب تک ہمارے مدارس و مکاتب محاسبہ، جوابدیہی اور آڈیٹ کے زمرے میں نہیں لائےجائیں گے تب تک انکا یہی حال اور ان سے مرتب ہونے والے نتائج ایسے ہی ہونگے۔ لازمی ہے کہ سہ ماہی اور سالانہ ان کا مالی تجزیہ و آڈیٹ ہو، خراب نتائج کے اسباب کا پتہ لگاکر انہیں دور کرنے کے سخت عملی اقدامات ہوں۔ اگر ایسا ہوا تب جاکے ایک نفع بخش مثبت نتیجہ سامنے آۓ گا۔۔۔۔۔۔۔ شاید یہی اصل مفہوم بھی ہے “الا كلكم راع و كلكم مسول” کا۔ مجھے یکسر تعجب کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے کہ ان مدارس پر عوام کا سوال اور محاسبہ کیسے ناجائز ہوجاتا ہے جن میں خود انہیں عوام کا سرمایہ لگا ہوتا ہے۔ اگر مدارس کا آڈیٹ غیر جائز ہے تو حکومت کو ٹیکس دینے کے بعد پٹرول کی قیمتوں اور سڑک کے گڈھوں پر پیشانیوں پر بل لانا بھی حرام ہی ہونا چاہئے۔

سچر کمیٹی کے اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کا صرف تین سے چار فیصد ان مدارس سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اسلئے جب کبھی انکے تعلق سے تنقید کی جاتی ہے تو اجاراداران ملت کی طرف سےجواب ملتا ہے کہ ان تین چار فیصد نفوس پر تنقید نہ کرکے آپ باقی ۹۷ فیصد کی فکر و اصلاح کیوں نہیں کرتے۔ ان معصوموں کو یہ نہیں معلوم کہ ھندوستان جیسے ملک میں یہ مدارس و مکاتب امت مسلمہ کی ریڑھ کی ہڈی اور انکے اسلامی تشخص کے اولین نگہبان ہیں۔ تو بھلا آپ ایسے اہم حصے کو جوابدیہی سے الگ کیسے رکھ سکتے ہیں۔ ضروری ہوچلا ہے کہ

  • مدارس و مکاتب کو شخصی اجاراداریوں سے نکال کر ملی اداروں کی شکل دی جاۓ۔
  • ان کی سربراہی ثروت و تقوی کی بنیادوں کے ساتھ ساتھ بہتر منتظمین، محاسبین اور دوراندیشوں کے ہاتھوں سونپی جائےـ
  • ضلعی، صوبائ اور مرکزی تنظیموں کے ادارے مکاتب و مدارس کا مالی و نتائجی آڈیٹ کریں۔
  • اچھے نتائج پر ستائش کے ساتھ ساتھ خراب نتائج پر نہ صرف تجزیہ بالکہ گرفت اور سزا بھی ہو۔
    یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر بالا اقدامات ہوئے تو:
    • ملت کی مزید دلچسپیاں اور تعاون مکاتب و مدارس کے لئے سامنے آئیں گے۔
    • نتائج مثبت ہونے کے بعد اسمیں شمولیت کا تناسب تین چار فیصد سے کہیں زیادہ ہوگا۔
    • مدارس م مکاتب سے منسلک افراد زیادہ مستحکم اور اجرت کے اعتبار سے زیادہ مطمئن ہونگے۔
    • دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی امور میں بھی یہاں سے متعلق افراد کہیں زیادہ کامیاب ہونگے۔
    اس موضوع پر روایتی کانفرنسیں نہیں بالکہ اہل علم و نظر کا بہت ہی سنجیدہ اور موثر سیمینار ہونا چاہئے۔ نصاب پر الجھنےاور بحث کرنے کے بجاۓ اس بات پر وچار ومرش کرنا چاھئے کہ ھندوستان کے کونے کونے میں عربوں روپئے کی زکات سے چلنے والے لاکھوں مکاتب کو کیسے نتیجہ آمیز بنایا جاۓ۔ ہمیں مثال سامنے رکھنی چاہئے کہ محض صحیح نظم، آڈیٹ اور جوابدیہی نے دلی کے گورنمنٹ اسکولوں کو ملک کے دیگر سرکاری اسکوں سے کس قدر ممتاز بنا رکھا ہے۔ اسلام نظام حیات ہے اور جب تک ھمارے سربراہان و نظماء “نظام” کے صحیح مفہوم سے نابلد رہیں گے تب تک اس ضمن میں کچھ بھلا نہیں ہوسکتا، ہم آپ خواہ کتنے ہی صفحات سیاہ کیوں نہ کرلیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مکاتب اور کانوینٹ:موازنہ کیوں، محاسبہ کیوں نہیں؟” ایک تبصرہ

  1. مضمون حد اعتدال سے متجاوز ہے
    آپ کی کچھ باتوں سے اتفاق ہے اور کچھ سے نہیں
    1.جہاں تک مدارس و مکاتب پر مخصوص افراد کے قبضے کی بات ہے تو یہ ذہن نشین کرلیں کہ :ان اداروں کو جو لوگ قائم کرتے ہیں وہ ان کو اپنا دین و دنیا دونوں تصور کرکے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں پھر کچھ مدتوں کے بعد مدرسہ اور مکتب کی شکل نظر آتی ہے. ورنہ کونسا سرمایہ دار یا کونسے پروفیسر اور ڈاکٹر ہیں جو مدرسہ قائم کرتے ہیں ہاں چندہ لینے پہنچنے پر چندہ ضرور مل جاتا ہوگا. لیکن مدارس اور مکاتب کو جس ملی نظریے کے ساتھ دیکھنے کی بات کرتے ہیں وہ ممکن نہیں ہے بلکہ میرا خیال ہے جو موجودہ نظام ہے اس سے بھی بد تر ہوگا جیسے سرکاری اسکول اور بہار ایجوکیشن بورڈ کا حال ہے اس سے بھی بدتر ہوگا.
    2.جہاں تک حساب آڈٹ کی بات ہے تو مدرسوں میں باضابطہ یہ کام ہوتا ہے اگر کہیں نہیں ہوتا ہے تو جانکار لوگوں کو رہنمائی کرنی چاہیے
    3.کچھ ادارے ہیں جہاں کمیٹیاں قائم نہیں ہیں اور اجارہ داری قائم ہے.
    4.نصاب تعلیم میں کچھ حد تک حذف و اضافے کی ضرورت ہے
    5.میرا سب سے اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ مدرسوں میں جو زکوۃ اور فطرے کی اور دیگر امدادی رقوم چندہ کر کے لاتے ہیں ان رقوم کو ہم کن لوگوں پر صرف کرتے ہیں ؟ میں خود ایک دینی ادارہ چلاتا ہوں میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ ایک ہی آدمی اپنے ایک بچے پر کالج میں ماہانہ 4 سے پانچ ہزار روپے خرچ کر رہا ہے اور دوسرے بچے کو مدرسے میں مفت پڑھانا چاہتا ہے. 90 سے 95 فیصد گارجین اس لائق ہوتے ہیں کہ وہ شرعی مالدار ہیں اور اچھی خاصی رقم خرچ کر کے پڑھا سکتے ہیں لیکن زکوۃ کھلا کر پڑھاتے ہیں.
    5.ایک چھوٹا سا سوال اور ہے وہ یہ بڑے بڑے شہروں میں جیسے ممبئی میں اسکولوں میں مالدار بچوں پر زکوۃ کی رقم خرچ کرتے ہیں وہ اس طرح کہ کلی فیس دیں ورنہ اپنی زکوۃ اسکول کو دیں آخر اس پر کوئی توجہ نہیں ؟
    دو تین باتیں قابل غور ہیں ——-
    نصاب تعلیم اور اس نصاب کو پڑھانے والے افراد دونوں کامیاب ہوں بچے اس طرح بن کر نکلیں کہ کسی کالج یا یونیورسٹی سے مساوی ڈگری حاصل کر سکے .نصاب اس طرح ہو کہ دنیاوی تعلیم میں آگے بڑھنا چاہے تو بڑھ سکے
    داخلہ کے وقت مکمل چھان بین کے ساتھ داخلہ ہو جو مستحق ہو اسی کو چندے کی رقوم سے امداد کی دی جائے اس سے ادارہ بھی مضبوط ہوگا اور تعلیم بھی اچھی ہوگی.
    انپڑھ لوگ اپنے پیٹ کے لئے مدرسہ قائم کر بیٹھتے ہیں اور اپنے بل بوتے چلاتے ہیں ایسے لوگوں کی خیریت اچھی طرح لینی چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں