174

موہن بھاگوت کی دوتقریریں اوران کا پیغام

سید منصورآغا، نئی دہلی

آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت جی کی حال ہی میں دوتقریروں کی خبریں آئیں۔ ابھی 8تاریخ کو دسہرہ کے موقع پرناگپور میں اور اس سے چندروز قبل دہلی میں ایک کتاب کی رسم اجرا انجام دیتے ہوئے، جس میں آرایس ایس کا تعارف کرایا گیا ہے۔کتاب کے بارے میں کہاکہ اس میں سنگھ کے بارے میں اچھی معلومات ہیں،لیکن ساتھ ہی سنگھ کے بانی کیشو بلی رام ہیڈگیوار کے حوالہ سے یہ بھی کہاکہ آر ایس ایس کسی ایک خیال یا نظریہ کی پابند نہیں۔ اس میں کسی بھی وقت تبدیلی آسکتی ہے۔گویا تنطیم کا کوئی مقررہ ضابطہ یا دستور نہیں۔ جیسا موقع دیکھا کرلیا۔اس سے قبل کچھ ایسا ہی انہوں سنگھ کے دوسرے سربراہ مادھو سداشیو گولوالکر کی کتاب ’بنچ آف تھاٹ‘کے بارے میں کہا تھا، جس کو سنگھ کے نظریہ کی اساس سمجھا جاتا ہے۔اس وقت یہ خیال کیا گیا تھا کہ سنگھ اپنے ماضی سے دامن چھڑا کرخود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ انہوں نے اس کے ساتھ زور دے کر کہا کہ بس ایک بات اٹل ہے اوروہ یہ کہ بھارت ایک ہندوراشٹرا ہے اوریہ بات کسی نظریہ ساز یا تنظیم کی طرف سے نہیں ہے بلکہ صدیوں پرانی ایک حقیقت ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوراشٹر کی رٹ تو بہت لگائی جاتی ہے، مگرکوئی یہ نہیں بتاتا یہ راشٹراکیساہوگا اورکس اصول وضابطہ قائم ہوگا؟ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے احال ہی میں کہا تھا، اپنے جنم کی بدولت برہمنوں کو دیگرقوموں اورذاتوں پر بڑائی اوربرتری حاصل ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ہندوراشٹرا کا مطلب اورمقصد اسی منووادی اصول کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
سنگھ سربراہ کی دشہرہ کی تقریر میں بھی ہندوراشٹرکے نظریہ کی گونچ سنائی دیتی ہے۔پوری تقریر’ہندوبھارت‘ سے خطاب، اسی کے گن گان اورصر ف ہندوؤں کی فکرمندی اوران کی طرفداری میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس میں سنگھ سربراہ نے ملک کے غیر ہندو باشندوں کا یاان کی تکلیفوں کاذکرتک نہیں کیا، البتہ این آرسی کی تائید کی۔ انہوں نے نہایت ڈھٹائی سے غیر ہندوؤں کی تکلیفوں کو چٹکیوں میں اڑا دیا اور ان کی حقیقی فکرمندیوں سے صاف انکار کردیا۔ہندوؤں کی بے جا جانب داری اورغیرہندوؤں کی تکلیفوں کا یہ انکارآئین وقانون کی عملداری پر، غیرہندوطبقوں کے انسانی اور شہری حقوق پر سیدھی زد ہے اوراسی لائن کے توسیع وتصدیق ہے جو مسٹر امت شاہ غیر ہندو طبقوں کو این آر سی کی زد میں لانے کے عندیہ کے دوران ظاہر کرچکے ہیں۔یہ ایک سنگین تبدیلی ہے۔ سنگھ کا اصرار پہلے یہ ہوتا تھا کہ یہاں آباد مسلم اورعیسائی طبقے اصلاً ہندوہی ہے۔ ان کے آباواجداد ہندو تھے۔اب ان کی گھرواپسی ہونی چاہئے۔ گویاان کی شہریت اوروطنیت کو چیلینج نہیں کیا جاتا تھا،جو اب کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں تو یہ کہا جاتا تھا ان کو ’محمڈن ہندو‘ کہا جاسکتا ہے۔وہ عبادت تواپنے طریقے سے کر سکتے ہیں لیکن باقی زندگی میں مقامی کلچر میں گم ہوجائیں۔اب ان کو اشاروں اشاروں میں گھس پیٹھئے کہہ کر ملک بدرکرنے کی دھمکی دی جاری ہے۔ یہاں یہ نشاندہی بے جا نہیں ہوگی کہ سنگھ سربراہ کے بیان اور ان کے موقف میں یہ تبدیلی محترم مولانا ارشد صاحب سے ملاقات کے بعدظاہر ہوئی ہے۔ اس کے اسباب وعلل چاہے جو ہوں لیکن یہ قیاس کیا جاسکتا ہے سنگھ کے سخت گیررویہ میں اس تبادلہئ خیال سے کوئی لچک نہیں آئی، البتہ ایک کوشش تھی جو کرلی گئی۔
بھاگوت جی کا یہ نیا موقف وزیراعظم نریندرمودی کے اس موقف کی رد ہے جس کا اظہار انہوں نے حالیہ لوک سبھا چنا ؤ کے بعد ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس’نعرے سے کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں سنگھ سربراہ نے غیرمسلم اوردلتوں کے مقابلہ میں بالواسطہ طورسے ہجومی تشدد میں ملوث سرکش اورقانون شکن عناصر کی حوصلہ افزائی بھی کردی جو اس سے لذت اورشہرت حاصل کرتے ہیں اورسیاست میں اپنا سکہ جماتے ہیں۔ ہجومی تشدد کی انتہائی صورت کو جس میں کسی کو جان سے مارڈالاجائے، ’لنچنگ‘ کہا جاتا ہے۔بیشک یہ انگریزی کا لفظ ہے اور بھاگوت جی کا کہنا کہ یہ تصوربھارتیہ نہیں، بلکہ ہندوؤں کو بدنام کرنے لئے بولا جاتا ہے۔ لنچنگ کا انکار اس واقعاتی حقیقت کا انکارہے جس کے متعددویڈیو سرکش ظالموں نے خود بناکر جاری کئے ہیں۔ بقول انڈین ایکسپریس یہ ایک سنگدلانہ حقیقت کا ڈھٹائی سے انکار ہے۔سنگھ سربراہ نے لنچنگ کرنے والوں کی طرف سے وکالت کرکے ان کی جو حوصلہ افزائی کی ہے وہ افسوسناک بھی ہے اورخطرناک بھی۔اس سے انتظامیہ کی ان کوششوں میں رخنہ پڑیگا جو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد شروع ہوئی ہیں اوراس ظلم کی تکرار میں کمی نظرآئی ہے۔
ہاں یہ بات درست ہے کہ ہجومی تشدد کے زد میں صرف مسلمان ہی نہیں آئے، ہمارے کچھ دلت بھائی بھی ستائے اورمارے گئے ہیں۔اس کی زد میں چندہندوبھائی بھی آ گئے۔ لیکن اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ ان میں بڑی اکثریت غریب اورمعمولی حیثیت کے مویشی یا گوشت تاجرمسلمانوں کی ہے۔ ہمارے دلت بھائی اور جو مسلمان اس ظلم شکار بنے ان میں زیادہ تر گائے کے نام پرمارے گئے۔ کئی لوگ تو بغیر کسی سبب قتل کردئے گئے جیسے راجسمند میں شمبھو ریگر نے ایک مزدور افرازل کا بہیمانہ قتل کیا۔ خوداس کا ویڈیو بنوا کر سوشل میڈیا پر ڈالنااور ساتھ ہی اس کا بیان، اس کے بعد اسکی ہمدردی کی لہر اورمالی مدد کی پکار،اس کی جھانکی،چناؤ میں کھڑاکرنے کی تیاری، سب کیا ہے؟ان میں پیش پیش وہی لوگ ہیں جو ہندوراشٹرکے نعرے لگاتے ہیں۔یہ صاف قتل کاکیس ہے۔ویڈیوز میں کھلے ثبوت ہیں۔مگرمقدمہ کی کاروائی کی کوئی خبرنہیں۔ یہ سب کیابتاتا ہے؟ عوام کے ذہنوں میں یہ زہرکسی ودیشی نے نہیں گھولا۔ اس کے سنچالک اورپرچارک سب سودیشی ہیں۔یہ اقلیتوں کے خلاف ہندوؤں کو ورغلا کر ووٹ حاصل کرنے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کاحربہ ہے۔ حیرت ہے کہ شری بھاگوت جی جیسے ذمہ دار نے اس طرح کے واقعات کی مذمت کی ضرورت نہیں سمجھی۔کیا ہندوراشٹرا کایہی مطلب ہے؟
بھاگوت جی نے لنچنگ کا ذکرداخلی خطروں سے آگاہی کے ضمن میں کیا۔ان کوکہناچاہئے تھا کہ اس طرح کی ظالمانہ حرکتیں آئین، قانون، انسانیت اورسمائی کی ہماری قدیم روایتوں کے خلاف ہیں۔اسکے بجائے لنچنگ کی پشت پناہی میں یہ دلیل دی کہ یہ لفظ ہندستانی نہیں۔اس کا استعمال ہندوؤں کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ جی ہاں لنچنگ کا لفظ اسی طرح غیرہندستانی ہے جیسے سائکل، ٹرین، شمپو، اورکوکر وغیرہ۔آج ہرسر شمپوسے دھلتا ہے، ہرگھر میں کھانا کوکر میں بنتا ہے۔کیاآپ کہہ سکتے ہیں کہ شمپوسے دھلا سردھلا ہی نہیں، اور کوکر میں پکی ہنڈیا کھانا ہی نہیں کچھ اورہے؟ بیشک لنچنگ غیرزبان کالفظ ہے، لیکن اس کی زد میں آکر مارے جانے والے تو غیرہندستانی نہیں ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے واقعات دونوں طرف سے ہوتے ہیں۔ ہم تلاش کرتے رہے کہ ایسی کوئی خبر اس دور کی مل جائے کہ غیرہندوؤں نے یا دلتوں نے کسی اعلیٰ ذات کے ہندو کو نشانہ بنایاہو۔ اگرکسی نے جل کلس کر کہہ بھی دیا کہ ان کی بھی لنچنگ ہو توہماری کمیونٹی نے کھل کرمخالفت کی کہ ہمارا دین اس طرح کی ذلیل حرکتوں کی اجازت نہیں دیتا۔
دفعہ370:
دفعہ 370 کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہی چاہتا تھا جو سرکار نے کیا۔ لیکن خود کشمیر ی کیا چاہتے تھے اوران کو جس آزار میں مبتلاکیاگیا، اس کا ذکرنہیں۔ سنگھ پریورار اپنی کلچر کوجس طرح سب پر حاوی کرنا چاہتا ہے، اس نظریہ سے کشمیری پنڈت، ڈوگرہ، سکھ اورمسلم وغیرمسلم طبقے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کو اپنی سرزمین بھی عزیز ہے اوراپنی کلچربھی۔ وہاں کی کلچر یہ ہے کہ موت زندگی میں سب ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔روایت کے مطابق امرناتھ یاترا میں خچروں سے یاتریوں اورسامان کو ڈھونے والے مسلمان ہوتے ہیں۔ لاوارث ہندو کے جنازے کو اس کے پڑوسی مسلمان آخری منزل تک پہنچاتے ہیں اورلاوارث مسلم بیٹی کی شادی میں پڑوسی ہندو ایسے کھڑے ہوجاتے ہیں، جیسے ان کی ہی بیٹی ہو۔ دفعہ 370 اور 35 اے، ان کو اسی لئے عزیز ہیں کہ وہ اپنی اس کلچر کو بچانا چاہتے ہیں، جو ان لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی جن کو ایک بھارت میں مذہب کی بنیاد پر کئی بھارت نظرآتے ہیں۔
وزیراعظم کومکتوب
ایک ہفتہ قبل مظفرپور، (بہار) کے تھانہ صدرمیں 49 معروف شخصیات کے خلاف بغاوت کے الزام میں جوایف آئی آر درج کی گئی تھی وہ الٹی سرکارکے گلے پڑ گئی اوراس کو9اکتوبر کو واپس لے کرالٹا شکایت کنندہ کے خلاف ہی کیس درج کرلیاگیا۔ ان شخصیات نے وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط لکھ کر ہجومی تشدد کی روک تھام کی اپیل کی تھی۔ جس پر ایک مقامی وکیل سدھیرکمار اوجھا نے ضلع کے سی جے ایم سوریہ کانت تیواری کی عدالت میں ایک پٹیشن دائرکردی اورکہا کہ وزیراعظم کے نام خط شائع کردینے سے سرکارکے اچھے کاموں پرداغ آگیااوراس کی امیج خراب ہوئی ہے اس لئے یہ دیش دروہ ہے۔ اوجھا اورتیواری برہمنوں کی ہی ذیلی ذات ہے۔عدالت کے حکم پر پولیس نے ایف آئی درج کرلی جس پر سخت ردعمل ہوا۔ اوجھا اس طرح کی شکائتیں سونیاگاندھی، راہل گاندھی، ارون کیجریوال اوربہت سی فلمی ہستیوں اوردیگرافراد کے خلاف بھی کرتا رہاہے جس کا مقصد غالباً خبروں میں نام کماناہے۔ حیرت کی بات ہے سی جے ایم نے شکایت کی میرٹ پرتوجہ نہیں فرمائی اورپولیس کو کاروائی کی ہدایت دیدی۔
پولیس کی اس کاروائی پر دودن قبل ہی(7 /اکتوبر) کو 180 اہم شخصیات نے ایک دوسرا خط پی ایم کولکھا جس میں ہجومی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایاکہ وزیراعظم کے نام کھلا خط کیونکر جرم ہو گیا؟ اسی دوران کیرالہ کی بائیں بازو کی تنظیموں ایس ایف آئی اورڈی وائی ایف آئی نے اسی مضمون کے ڈیرھ لاکھ خطوط پی ایم کو بھیجے اوراعلان کیا ہے کہ 50 ہزار خطوط اور بھیجے جارہے ہیں۔ اگرسرکارچاہے تو ان کے خلاف بھی کیس درج کرادے اوروہ جیل بھرنے کو تیار ہیں۔بعض دیگرتنظیموں نے بھی اس طرح کی اپیل کی۔لیکن ہماری ملی،مذہبی اورسماجی تنظیموں نے یا نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے اس پرکیا کچھ کیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں