357

مولانا جمیل احمد سکروڑوی :منفرد استاد باکمال شخصیت

(مفتی) اشرف عباس قاسمی
استاد دارالعلوم دیوبند
آہ آج مورخہ 24 رجب المرجب مطابق 31 مارچ 2018دارالعلوم دیوبند کے مقبول استاذ ۔طلبا کے ہردلعزیز اور مشفق معلم۔ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی بھی طویل علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہوگئے ۔اناللہ وانا الیہ راجعون ۔ ابھی پانچ بجے اس حادثہ جانکاہ کی خبر سے ہر کوئی صدمے میں ہے۔اور پورے دارالعلوم کی فضا سوگوار اور غم زدہ ہے۔مولانا کے انتقال کے ساتھ ہی دارالعلوم دیوبند اپنی تدریس کے ایک ستون اور اپنے ایک مایہ ناز سپوت سے محروم ہو گیا ۔ حضرت مولاناجمیل احمد صاحب 1946ء کے آس پاس اپنے وطن سکروڈہ ضلع ہریدوار میں پیدا ہوئے۔اپنے وطن کے بعد کاشف العلوم چھٹملپور اور مظاہر العلوم سہارنپور میں تعلیم حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور سن 1390ھ مطابق 1970ء میں دورہ حدیث شریف سے اعلی نمبرات کے ساتھ فراغت حاصل کی۔ ہاپوڑ اور گاگا لیہڑی میں چند سال تدریسی خدمات کے بعد آپ کے بزرگ اساتذہ کی جوہر شناس نگاہوں نے دارالعلوم دیوبند کے لیے آپ کا انتخاب فرمالیا اور 1397ھ
مطابق 1977ء میں آپ باضابطہ دارالعلوم کے مدرس بن گئے۔متحدہ دارالعلوم میں ہی آپ کی تدریس انتہائی مقبول اور مشہور تھی پھر جب تقسیم کا قضیہ نامرضیہ پیش آیا تو آپ نےوقف دارالعلوم کا اپنے لیےانتخاب فرمایا۔ اور وہاں سالہا سال دیگر فنون کے ساتھ حدیث شریف کی کامیاب تدریس فرماتے رہے ۔ترمذی شریف تو آپ سے متعلق تھی ہی۔ وقتافوقتا بخاری شریف اور مسلم شریف بھی آپ کے زیردرس رہی۔1420ھ مطابق 2000ء میں دارالعلوم دیوبند میں آپ کی واپسی ہوئی۔ اور اس کے بعد سے تسلسل کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں مختلف کتابوں اور امہات فن کی کامیاب تدریس فرماتے رہے۔گزشتہ تین سالوں سے دورہ حدیث شریف کی کتاب موطا مالک بھی آپ سے متعلق تھی ۔ اور اس طرح دورہ حدیث شریف کے طلبہ کو بھی آپ سے انتساب اور استفادے کی سعادت ملتی رہی۔ ہمیں حضرت مولانا سے شعبہ افتاء کی کتاب قواعد الفقہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت مولانا یہ کتاب بڑی محنت اور ذوق و شوق سے پڑھاتے تھے۔ روزانہ تمام طلبہ سے قواعد کے زبانی سننے کا معمول تھا۔ اس کے بعد قواعد کی مختصر تشریح فرماتے اور مثالوں کے ساتھ انطباق کا خاص اہتمام فرماتے۔ حضرت مولانا نے درسی کتابوں کی شروح کابھی کامیاب سلسلہ شروع فرمایا اور آپ کی تحریر کردہ اشرف ا الہدایہ، اجمل الحواشی،فیض سبحانی،تکمیل الامانی، قوت الاخیار وغیرہ آج بھی طلبا میں انتہائی مقبول اور متداول ہیں۔برصغیر کے مدارس میں ان شروح کی کافی مانگ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا با کمال اور کامیاب ترین اساتذہ میں سے تھے، آپ کا درس جامع اور محققانہ ہوتا تھا، زیادہ قیل قال کو پسند نہیں فرماتے تھے ،سبق کی واضح تشریح کرتے تھے۔ اپنی نجی زندگی میں بھی انتہائی کھرے انسان تھے ،صاف گوئی اور ظاہر و باطن کی یکسانیت آپ کا خاص امتیاز تھا ۔چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور خرد نوازی کا معاملہ فرماتے، لیکن اگر کوئی نامناسب بات دیکھتے تو روکنے اور تنبیہ کرنے میں بھی ذرہ برابر تردد نہ ہوتا تھا۔ سال گزشتہ ہی آپ پر جان لیوا مرض کا حملہ ہوا تھا، تشخیص کے بعد امید تھی کہ شاید یہ مرض کمزور پڑجائے گا اور صحت بحال ہوجائے گی۔شروع میں مولانا کی عزیمت اور قوت ارادی سے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ غالبا مرض زائل ہو چکا ہے کیونکہ کبھی اگر تذکرہ بھی ہوتا تو اس طرح گفتگو فرماتے جیسے ایسے موذی مرض کی وجہ سے بھی مولانا قطعی پریشان نہیں ہیں، لیکن اندر ہی اندر گھلتے رہے اور یہ مرض اپنا اثر دکھاتا رہا ۔ دو ماہ سے ضعف اور نقاہت کافی بڑھ گئی تھی۔اور اب مولانا کی گفتگو سے بھی اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ بہت زیادہ پریشان ہیں۔چنانچہ ایک ماہ قبل جب فون پر رابطہ ہوا تو بڑے کرب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں دعاوں کا اس وقت بہت زیادہ محتاج ہوں۔ بڑی پریشانی محسوس کر رہا ہوں۔ہفتہ عشرہ قبل جب ڈاکٹر ڈی کے جین کے یہاں حاضری ہوئی تو اس وقت تو آپ کا کرب اور بے چینی ناقابل برداشت تھی۔ہم وہاں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور تھوڑی دیر میں اجازت لے کر واپس آگئے۔مرض کی شدت کے سبب دہلی منتقل کردیے گئے تھے۔لیکن آج شام کو جس کا خدشہ تھا وہ حادثہ پیش آ ہی گیا۔اور مولانا اپنے تمام لواحقین پسماند گان اور شاگردوں کے ایک جم غفیر کو غمزدہ چھوڑ کر مولائے حقیقی سے جا ملے۔۔ مولانا نے اپنے ہزاروں شاگردوں کے علاوہ ایک صاحبزادی اورتین صاحبزادگان حافظ خلیل مولانا عبداللہ جمیل اور حافظ عبدالرحمن جمیل کو چھوڑا ہےمولانا کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن ابھی حادثے کا طبیعت پر خاص اثرہے۔ اس لئے میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہمارے استاد محترم کی جملہ خدمات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرماکر اعلیٰ علیین میں مقام بلند نصیب کریں۔ اورتمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں