249

مولاناعبیداللہ سندھی کو یاد کرتے ہوئے

رضانعیم
ہندستان کی تحریک آزادی کے نابغہ رکن اور اسلامی سکالر مولانا عبیداللہ سندھی(1872-1944)،جن کی74؍سال قبل21؍اگست کو وفات ہوئی،انھوں نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمودحسن کی ہدایت پر1915ء میں افغانستان کا سفر کیاتھا،وہ سات سال تک کابل میں رہے،وہاں کے حالات ناموافق ثابت ہوئے ،تواپنے متعددرفقاے کار کے ساتھ اکتوبر1922ء میں ماسکو(روس)کاسفر اختیار کیا۔ماسکومیں قیام کے دوران انھوں نے کمیونزم کے اصولوں اور سویت یونین میں ان کے عملی نفاذ کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا،پھر جب وہ نو ماہ بعد استنبول پہنچے،توانھوں نے ستمبر 1924ء میں آزاد برصغیر کا ایک دستوری خاکہ تیار کیا،جواردو زبان میں شائع کیاگیا،پھر مختلف ذرائع سے اسے ہندستان بھیجاگیا،حکومت کو اس کی بھنک لگتے ہی مئی1925ء میں اس کی عام اشاعت پر پابندی لگا دی گئی، مگر 1926ءمیں مختلف جزوی ترمیموں کے ساتھ اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیاگیا اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔قابلِ ذکر ہے کہ اُس وقت تک خود اہلِ ہند کی سیاسی جماعتوں اور آزادیِ ہند کی تحریک میں سرگرم اداروں کی جانب سے آزاد ہند کا کوئی دستوری خاکہ سامنے نہیں آیاتھا۔مولانا نے اپنے اس خاکے میں برصغیر کی آزادی و خود مختاری اور مختلف تہذیبی و مذہبی طبقات کے باہمی تعلقات کے سلسلے میں جس قسم کی آرا کا اظہار کیاتھا،وہ یہاں کے زمینی حقائق سے بالکل ہم آہنگ تھیں اور اگر ان کے پیش کردہ پروگرام کے مطابق برصغیر کی آزادی کا نقشہ تیار کیاجاتا،تو عین ممکن تھا کہ آج اس کی تصویر کچھ اور ہوتی،وہ بعد میں سامنے آنے والی عام سیاسی فکر کے برعکس برصغیر کی آزادی،استقلال اور مختلف النوع اختلافات کے خاتمے کے لیے مذہب کو بنیاد بنانے(اوراس بنیاد پر جغرافیائی تقسیم) کی بجاے معاشی صورتِ حال کو بنیاد بنانا چاہتے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر کی جو موجودہ صورتِ حال ہے اور اس خطے کو جس قسم کی سیاسی و معاشی مشکلات کا سامناہے ،انھیں دیکھتے ہوئے مولانا سندھی کے پیش کردہ پروگرام کی معنویت اور ان کی سیاسی بصیرت ،مستقبل بینی اور دوراندیشی کا بخوبی ادراک ہوتا ہے ،آزادی پر ستر سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعدآج بھی اگر اس خطے کی مشکلات کو دور کرنے کا کوئی نتیجہ خیز طریقہ یا منصوبہ ہوسکتا ہے،تو وہ وہی ہوسکتا ہے ، جو مولانا سندھی نے 95؍سال پہلے پیش کیا تھا۔مولانا سندھی سوشلسٹ نظریات کوبڑی حد تک اسلام سے ہم آہنگ محسوس کرتے تھے،اس آئینی مسودے کے شروع میں انھوں نے ماسکو کے تئیں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’ہمیں ماسکو میں انقلابِ روس کے نتائج آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا،انقلاب کا پورا مطالعہ کرنے کے لیے ہماری کمیٹی کے بعض ممبروں نے روسی زبان سیکھی،ہمیں روس کے اہم اشخاص سے تبادلۂ خیالات کے اچھے موقعے ملے،یورپ کے دیگر ممالک پر جو انقلابِ روس کا اثر آیا،اس کے مطالعے کے لیے ہماری کمیٹی کے ممبراُن ملکوں میں گئے،(مگر)ہمیں افسوس کے ساتھ اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی موجودہ نسل انقلاب کی ماہیت سمجھنے سے بہت دور ہوگئی‘‘۔(خطبات و مقالات مولانا عبیداللہ سندھی،مرتب:مولاناعبدالخالق آزاد،ص:138،ط:دارالتحقیق والاشاعت، لاہور2002ء)
اُس وقت کے ہندستان کے مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا نے لکھا:
’’ہر قوم میں طبقاتی پیچیدگی موجود ہے،مالدار و محنت کش،زمیندار و کسان،سرمایہ دار و مزدور کی باہمی کشاکش ہر ایک ہندستانی کو دو متقابل اور متعارض صنفوں میں بہ آسانی تقسیم کرسکتی ہے؛اس لیے صرف مذہبی بناپر تمام ہندستانی مسائل اور خصوصاً ہندومسلم اختلافات کو حل کرنا کوئی راہِ نجات پیدا نہیں کر سکتا؛لہذا ہم اپنے پروگرام میں مذہب کو ان مسائل کے حل کرنے کی اساس نہیں قرار دیتے؛بلکہ قومی اور طبقاتی تفریق اور اقتصادی و سیاسی اصول پر ان مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں،جس کے ذیل میں مذہبی اختلافات بھی معقولیت کے ساتھ رفع ہوسکتے ہیں‘‘۔(ایضا،ص:140)
مولاناسندھی سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف تھے؛چنانچہ انھوں نے اپنے اس پروگرام میں ہندستان کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا:
’’ہم اپنے ملک کے موجودہ نظامِ سرمایہ داری کو توڑ کر ایسے نظام کی بنیاد ڈالتے ہیں،جوطبقۂ محنت کش ،یعنی ملک کی اکثریت کی فلاح کا ضامن ہو اوراسی محنت کش طبقے کے زیر اقتدار رہے،اس سے ہماری تحریکِ آزادی بھی یقینی طورپر کامیاب ہوسکتی ہے؛کیوں کہ اس نظام کی تائید میں عام اہلِ ملک کی ہمدردی جب شروع ہوگئی،تو آخر تک قائم رہے گی اور یہی کلیدِ کامیابی ہے‘‘۔(ایضا،ص:141)
سویت یونین کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ہندستان نے انقلابِ عظیم فرانس سے چشم پوشی کرکے اپنی عظمت کو خاک میں ملادیا،اب اِس عالمگیر اہمیت رکھنے والے واقعے سے اغماض کرکے ہم نہیں چاہتے کہ وہ اپنی موت کے فتوے پر دستخط کردے،ہمالیہ،قراقرم اور ہندوکش کے مقامِ اتصال سے چند قدم آگے روس ہم سے ملتا ہے،اگر وہ سارے کا سارا دے دیں اور ننگے بھوکے رہ کر شمال مغربی دروں سے قطبِ شمالی تک رہنے والی قوموں کی دوستی خرید لیں،تو ہم خسارے میں نہیں رہیں گے:
نہ سمجھوگے تومٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
(ایضا،ص:143)
انگریزی سے ترجمہ:نایاب حسن قاسمی
(اصل مضمون ہفت روزہ دی فرائیڈے ٹائمس میں شائع ہوا ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں