111

مودی سے مسلمانوں کا کوئی باوقار وفد کیوں نہیں ملنا چاہتا؟


عبدالعزیز
2014ء میں مسٹر نریندر مودی ہندستان کے وزیر اعظم ہوئے۔ گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہواتھا اس کی بنیاد پر مسلمانوں کی رائے ان کے بارے میں اچھی نہیں تھی۔ مسلمانوں کو یہ بھی خیال تھا کہ جو کچھ گجرات میں کیا ہے اس سے کہیں زیادہ ہندستان بھر میں کرنے کی کوشش کریں گے۔ مسلمانوں کی رائے صحیح ثابت ہوئی۔ گزشتہ پانچ سال کے اندر ہر طرح مسلمانوں کو ستایا، ڈرایا اور پریشان کیا گیا۔ گائے کے تحفظ کے نام پر، گھر واپسی، وندے ماترم وغیرہ کی بنیاد پر کئی وارداتیں رونما ہوئیں۔ تشدد یا ہجومی تشدد کا سلسلہ اخلاق سے لے کر انصاری تک ابھی بھی جاری ہے۔ زیادہ تر وارداتیں یوپی میں ہوئیں۔ حال میں بھی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ یوگی جی اپنی پولس کے ذریعہ صفائی پیش کر رہے ہیں۔ ہجومی تشدد کا کوئی واقعہ ان کی ریاست میں نہیں ہوا۔ مختصراً یہ کہ نریندر مودی کا رویہ مسلمانوں کے سلسلے میں سخت سے سخت ہوتا گیا۔
نریندر مودی نے 2014ء کے بعد بہت سے نام نہاد صوفیوں کے وفود سے ملاقاتیں کیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مسلمان ان کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کی کسی بڑی تنظیم یا مسلمانوں کی کوئی وفاقی تنظیم میں نریندر مودی سے ملاقات یا بات چیت کی پہل نہیں کی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ مسلمانوں کا ہوش مند اور دانش ور طبقہ یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب تھا کہ نریندر مودی سے ملاقات بے معنی، بے مقصد اور بے فائدہ ہوگا۔ کبھی کبھی انھوں نے گؤ رکشا والوں کے خلاف سخت لب و لہجہ استعمال کیا مگر یہ دکھاوا سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ مسلمانوں کا پانچ سال اس انتظار میں گزرا کہ شاید پانچ سال کے بعد کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی لیکن تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ سیاسی لحاظ سے نریندر مودی اور ان کی پارٹی زیادہ کامیاب ہوئی۔ نریندر مودی نے اپنی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ اقلیت کو اعتماد میں لیں۔ اس وقت انھوں نے اپنے پچھلے نعرے میں ایک ٹکڑا اور جوڑ دیا ’وہ سب کا وشواس‘۔ پہلے پانچ سال کا جو نعرہ تھا ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ وہ تو کھوکھلا ثابت ہوا۔ نہ سب کا ساتھ کا مظاہرہ ہوا اور نہ وکاس کی کوئی کوشش کی گئی بلکہ مہنگائی بڑھی، پریشانی بڑھی، بدنظمی میں اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں فساد اور انارکی کا سلسلہ جاری رہا۔ 2019ء کے انتخابی نتائج کے بعد ان کی وشواس والی تقریر سے کچھ لوگ پر امید ضرور ہوئے مگر زیادہ تر لوگوں کے اندر یہ بات رہی کہ ؎ ہم کو ان سے وفا کی ہے امید -جو نہیں جانتے وفا کیا ہے‘۔
راقم نے ہندستان کی مسلم تنظیموں اور چیدہ مسلم شخصیتوں سے گزارش کی تھی کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی سے مسلمان ملاقات اور بات چیت کا فیصلہ نہ کریں تو کم سے کم ان کو ایک مکتوب لکھ کر ضرور بھیج دیں جس میں ان کی تقریر کی سراہنا کریں اور ان سے امید وفا کا اظہار کریں۔ ممکن ہے کہ کسی نے لکھا ہو لیکن مجھے اس کی اطلاع نہیں ہے اور نہ میڈیا میں کوئی اس طرح کی بات آئی۔ یہ ضرور ہوا کہ اردو اخبارات میں اس موضوع پر بے حساب مضامین لکھے گئے۔ دیگر زبانوں کے اخبار میں انصاف پسند برادرانِ وطن نے اس موضوع پر مضمون لکھا۔ مضامین کا کوئی اثر نہ وزیر اعظم پر ہوا اورنہ ان کے سنگھ پریوار پر۔ پریوار پہلے سے بھی زیادہ بگڑا ہوا نظر آرہا ہے۔ وزیر اعظم کا بھی انداز کوئی اچھا نہیں ہے۔ ان سب کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے کسی لیڈر، کسی تنظیم یا کسی باوقار وفد کو مودی جی سے ملاقات کرنا چاہئے یا نہیں۔ اس میں مسلمانوں میں دو رائے تو یقینا ہے۔ غالب رائے یہ ہے کہ نہیں ملنا چاہئے لیکن میرے خیال سے ملاقات مفید ہو یا نہ ہو ملاقات کرنا چاہئے۔
چند ملکوں کے تعلقات کے بارے میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے۔ بات چیت سے ہی دیر یا سویر مسئلے کا حل ہوگا۔ اسی طرح کوئی ہمارا دوست ہو یا دشمن ہو، ہمارے موافق ہو یا ہمارا مخالف ہو بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ قرآن کے مطالعے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کٹر سے کٹر دشمنوں سے ملاقات یا بات چیت کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل پر فرعون کی طرف سے نہایت دردناک مظالم ڈھائے جارہے تھے۔ فرعون کا منصوبہ بنی اسرائیل کی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا تھا۔ فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو بھی پیدا ہوتے ہی موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے دربار میں جانے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس سے نرم لب و لہجہ میں بات کریں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدشہ ظاہر کیا، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے جانے کا حکم دیا۔ آج کا کوئی فرعون یا نمرود ہی کیوں نہ ہو میرے خیال سے اللہ کی ہدایت کے مطابق کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرنی چاہئے۔ ملاقات سے اور قربت سے کوئی مسئلہ حل ہو یا نہ ہو لیکن بار بار کی ملاقات اور بات چیت سے ہم نے سخت سے سخت پتھر دل کو پگھلتے دیکھا ہے۔ مسلمان تو کم از کم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس مسئلے یا اس موضوع پر آپس سے میں مشورے کریں۔ اگر اتفاق رائے ہوجائے تو نریندر مودی سے ضرور ملاقات کیلئے کوئی کوشش کریں۔
نریندر مودی کی کابینہ میں راج ناتھ سنگھ اتر پردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ اتر پردیش کے مسلمان اور خاص طور پر لکھنؤ کے اکثر وبیشتر ان سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ جب وزیر داخلہ تھے جب بھی ملاقات کرتے تھے۔ اب وزیر دفاع ہیں پھر بھی ملاقات کرتے ہیں۔ مسلمان راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے سلسلے کا آغاز کریں اور انہی کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی سے مل کر اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کریں۔ اگر یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے اور باربار ملاقاتوں کا موقع ملتا ہے تو دیر یا سویر کچھ فرق ضرور پڑے گا۔ یہ بات لکھی بھی جاتی ہے اور کہی بھی جاتی ہے کہ مسلمان سنگھ پریوار سے ربط و ضبط رکھیں۔ بات چیت اور ملاقات کرتے رہیں۔ ان کی غلط فہمیوں کے ازالے کی بھی کوشش کرتے رہیں۔ کوئی تنظیم بڑے پیمانے پر یا مہم کے انداز میں یہ کام نہیں کررہی ہے۔ اگر یہ کام کرتی تو بہت سے مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ جماعت اسلامی ہند کے بہت سے لوگ ایمرجنسی میں جیلوں تھے۔ آر ایس ایس کے لوگ بھی جیل میں تھے۔ جیل کی ملاقاتوں سے آر ایس ایس کے لیڈروں کی کچھ غلط فہمیاں دور ہوئی تھیں۔ جماعت نے ایمرجنسی کے بعد بھی یہ سلسلہ باقی رکھا لیکن کمیونسٹوں، سیکولرسٹوں اور نادان صحافیوں کی تنقید کی یلغار سے جماعت والوں نے یہ سلسلہ بند کیا۔ راکھی بندھن تہوار کے موقع پر ایک وفد کے ساتھ میں بھی آر ایس ایس کے دفتر میں گیا تھا۔ جب ان لوگوں نے ہم لوگوں کو راکھی باندھنا چاہا تو میں نے ان سے کہا کہ یہ کام آپ نہیں کیجئے۔ میرے کہنے سے وہ رک گئے۔ جب میری تقریر ہوئی تو میں نے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور یہ کہاکہ قربت کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔ جب آپ ہمارے دفتر آئیں تو ہم آپ کونماز پڑھنے پر مجبور نہ کریں۔اسی طرح جب ہم آپ کی تقریب یا دفتر میں ہوں تو آپ ہم پر کوئی چیز زور زبردستی لادنے کی کوشش نہ کریں۔ تعلقات اسی طرح قائم رہ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کو نظر انداز کرنے سے تعلقات کبھی بھی قائم نہیں ہوں گے۔ میرے تقریر کے بعد ان کے ایک لیڈر نے میرے مشورے یا تجویز کی تائید کی تھی۔ آج یقینا وہ اقتدار کے نشے میں ہیں، مشکل سے ہماری باتوں کو سنیں گے لیکن ہمیں سناتے رہنے کی عادت ڈالنا چاہئے اور ان کی رائے بدلنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور یقین کرنا چاہئے کہ ان کے دلوں کو بدلنا ہمارا نہیں اللہ کا کام ہے۔ ہم اپنا کام کریں، اللہ اپنا کام کرے گا۔ اگر ہم اپنا کام نہیں کریں گے تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنا کام کرے۔
’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی …… نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا‘
(قرآن کی ایک آیت کا منظوم ترجمہ…… مولانا ظفر علی خاں)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں