92

مودی حکومت کے 100دن


عبدالعزیز

وزیر اعظم نریندر مودی کی دوسری اننگ30مئی سے شروع ہوئی۔ گزشتہ روز ان کے سو دن پورے ہوئے۔ ان کی پارٹی کے لوگوں نے  اپنے نقطہئ نظر کے حساب سے سو دن پورے ہونے پر مبارک باد دی اور پھولوں کا ہار پہنایا۔لیکن مودی جی نے ملک کے عوام سے اور خاص کر اقلیتوں سے جو وعدہ کیا تھا سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس، بد قسمتی سے اس میں سے کوئی چیز عوام کو نہیں ملی اور جو توقعات ان سے کی گئی تھیں پوری نہیں ہوئیں۔ عوام نے تو کلیاں مانگی تھیں ان کو کانٹوں کا ہار ملا۔
امن و امان: کسی بھی حکومت کا سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان، نظم و نسق(Low & Order) کو بحال رکھے، اور جو حکومت اس کام کو انجام نہیں دے سکے اسے قائم رہنے کا قانوناً کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ملک کا دستور کچھ ایسا ہے کہ قانون میں جتنا بھی گراوٹ آجائے مرکز کی حکومت قائم رہے گی، لیکن اگر کسی ریاست میں نقصِ امن(Break Doqwn)  ہوجائے تو دستور کی دفعہ356 کے تحت صدر راج قائم کر دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی اسمبلی بھی تحلیل کر دی جاتی ہے۔ انسانوں کا بنایا ہوا قانون اسی لئے کہا جاتا خامیوں سے پُر ہوتا ہے۔ جے پرکاش نارائن نے اندرا گاندھی کے زمانے میں کہا تھا کہ اگرعوام کے نمائندے کام نہیں کر سکے تو عوام کو ان کی نمائندگی رد کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ لیکن ان کی یہ تجویز دھری کی دھری رہ گئی۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، ملک کے لوگوں کو معلوم ہے۔ خاص طور پر قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ مودی جی کے دور حکومت میں قانون شکنی عروج پر ہے۔ آسانی سے ان کے پارٹی کے لوگ قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں جب اور جہاں چاہتے ہیں اقلیت کے کسی فرد پر کسی بہانے سے سر قلم کر دیتے ہیں اور اس کا نام ہجومی تشدد ہوتا ہے حالانکہ یہ کسی بھی طرح دہشت گردی سے کم کا جرم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے بہت سارے نمائندوں نے ہجومی تشدد پر قانون بنانے کا مطالبہ کیا مرکزی حکومت نے اس کی کوئی اہمیت نہیں دی۔ ابھی تک صرف تین ریاستوں میں، مدھیہ پر دیش،راجستھان اور مغربی بنگال میں قانون بنا ہے۔ بی جے پی کے یوگی کے حکومت میں قانون شکنی کا دور دورہ ہے۔ وہاں مجرموں کو جب وہ ضمانت سے باہر آتے ہیں تو سنگھ پریوار کے لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں اور پھولوں کا ہار پہناتے ہیں۔ چند دن پہلے بلند شہر کے ایک ایماندار پولس انسپکٹر کے قتل کے مجرموں کو جب ضمانت ملی تو ان کا استقبال کیا گیا۔ مودی جی بھی مظفر نگر کے فسادی مجرموں کو ہار پہنا چکے ہیں۔ ہزاری باغ کے سابق ایم پی جینت سنہا جو کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں بھی مودی جی کی پہلی اننگ میں نہ صرف ہار پہنایا تھا بلکہ انہیں ضمانت سے رہا کرنے کے لئے مالی تعاون بھی دیا تھا۔ پرگیہ ٹھاکر مالیگاؤں بم بلاسٹ کی مجرم ہیں ضمانت پر رہا ہوئی ہیں ان کو ایم پی کا ٹکٹ دیا گیا سابق وزیر اعلیٰ ڈگوجے سنگھ کے مقابلے میں بھوپال حلقے سے ایم پی کے لئے کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے انتخاب کے دوران ہیمنت کرکرے کو لعنت و ملامت کی اور کہا کہ ان کی بددعاؤں سے ان کایہ حشر ہوا۔ مودی جی اور امیت شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ ان کے اوپر کارروائی ہوگی مگرا بھی تک ان کا وعدہ وعدہئ فردا ثابت ہوا۔ جہاں مجرموں کو حکومت پناہ دے یا حکمراں جماعت حوصلہ افزائی کرے تو آخر قانون کی حکمرانی کیسے قائم رہ سکتی ہے؟ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مودی جی کی حکومت ناکام ہے۔ ہار پہنانے سے یا مبارک باد دینے سے مسٹر نریندر مودی کا قد اونچا ہوجائے گا یا حکومت کی نیک نامی ہوگی یہ ممکن نہیں ہے۔ آج بھی گجرات میں مودی جی کے دورِ حکومت میں جو کچھ ہوا تھا لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے۔قطب الدین کامجبور چہرہ اور اشوک موچی کا ظالمانہ چہرہ گجرات کے فسادات کی یاد دلاتا رہے گا اور مظلوموں کی آہ بھی شاید کبھی ختم ہو۔ کہا جاتا ہے مظلوم کی آہ سے عرشِ الٰہی ہلنے لگتا ہے۔ ابھی تک کچھ ایسا نہیں ہوا لیکن اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
مہنگائی اور بیروزگاری: مہنگائی کی جو حالت ہے اس سے غریب عوام جوجھ رہے ہیں۔ روز مرہ کی ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ کبھی بھی ہندوستان میں اتنے بڑے پیمانے پر بیروزگاری نہیں ہوئی جیسے اس وقت ہورہی ہے۔چالیس پچاس لاکھ لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں۔ بہت سی انڈسٹری میں کام کاج ٹھپ ہے اور بہت سے کارخانے میں تالا لگا دیئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ پارلے جی کا پانچ روپے والا  بسکٹ والی انڈسٹری بھی بند کر دیا گیا۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے لحاظ سے بھی مودی جی کی حکومت کو کامیاب بتانا سراسر زیادتی ہوگی۔
معیشت: معیشت کی تباہ حالی اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ اب حکومت کے کارندے بھی اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ دور بھی آسکتا ہے کہ ہندوستان کا معاشی نظامCollapse (گر پڑ جائے)کر جائے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات معاشی تباہی کے خطرے سے حکومت کو آگاہ بھی کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہندوستان کی معاشی حالت پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ معیشت متزلزل ہے اور اس کو بحال کرنے میں چند چیزیں ضروری ہیں۔ بی جے پی کی حریف پارٹی شیو سینا کے اخبار’سامنا‘  کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ حکومت کو جو مشورہ دے رہے ہیں حکومت کو انِ سنی نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنا چاہئے۔
کشمیر: کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ میں تبدیل ہو گیاہے۔70لاکھ لوگ قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں اور کچھ لوگ گھروں میں نظر بند ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پورا کشمیر جیل کا منظر پیش کررہا ہے۔ ہردس آدمی پر ایک فوجی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔بچے بھی گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔ مریضوں کو دوائیں وقت پر نہیں مل رہی ہیں۔یوٹیوب میں کشمیر کی ایک لڑکی نے اسرو(ISRO)کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیون کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس نے چندریان-2  کوچاند پر قدم رکھنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ چاند کے جنوبی پول پر قدم رکھنے کے بالکل قریب تھا کہ چندر یان-2 کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ لڑکی نے لکھا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ پر قوم کو کتنا فخر ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو کتنا بڑا دکھ ہوا کہ مواصلاتCommunication) کٹ گیا ہے یا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح میری ماں سے ایک ماہ ہوا کوئی رابطہ نہیں ہے میری ماں جموں و کشمیر کے بڈگام میں رہتی ہے۔ ہفتوں ہو گیا میں اپنی ماں سے بات نہیں کر سکی۔ آپ بڑے سائنسداں ہیں آپ کو اچھی طرح معلوم ہے چیزوں کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ وزیر اعظم کے سامنے رو پڑے۔ آپ پر اس وقت یہ غم طاری ہوا جب کنکشن ٹوٹ گیا اور آپ کے لئے ممکن نہیں رہا جو آپ کے سب سے قریب تھا اس سے رابطہ قائم رکھ سکیں۔ محترم ڈاکٹر صاحب آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ آپ کو دل شکستہ دیکھ کر وزیر اعظم نے آپ کو گلے سے لگا لیا آپ کو تسلی بھی دینے لگے اور یہ بھی کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن ذرا میری قسمت کو دیکھئے کہ میں کتنی بدقسمت ہوں کہ میں اپنے خاندان کے لوگوں سے کوئی رابطہ رکھنے سے قاصر ہوں۔ لیکن کوئی بھی نہیں آیا جو مجھے تسلی یا دلاسہ دے سکے۔ میرے محترم وزیر اعظم تسلی و دلاسے کے لئے مجھ جیسے لوگوں کے لئے ایک لفظ بھی نہیں بول سکے۔ یہ کنکشن کس نے ختم کیا دنیا کو معلوم ہے یہاں میں آپ ایک ہی کشتی میں سوار ہیں آپ فرما رہے ہیں کہ لینڈر وکرم سے مواصلات قائم کرنے کی کو شش کررہے ہیں اور میں بھی ایک مہینے سے اپنے ماں باپ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ آپ دیر یا سویر وکرم سے کنکشن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ محترم کیا بات سب سے دکھ پہنچانے والی ہے کہ اگر آپ کے ملک کے لوگ آپ سے ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کریں، آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ وکرم سے رابطہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے سوشل میڈیا میں سیلاب آگیا، آپ کو حوصلہ دینے اور تسلی دینے کیلئے اور یہاں حالت یہ ہے کہ میں تنہا ہوں جب یہ خط لکھ رہی ہوں۔ آخر میں اس نے لکھا ہے کہ میری کوشش یہ تھی کہ داستانِ غم کو کچھ اخبارات شائع کر دیں لیکن کوئی اخبار کوئی رسالہ شائع کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔
کاش اس غمزدہ لڑکی کا خط کوئی وزیر اعظم تک پہنچاتا وہ کچھ کرتے یا نہ کرتے لیکن ان کو کم سے کم یہ معلوم ہوجاتا کہ کس کسمپرسی کے عالم میں کشمیری کشمیر میں ہیں اور کشمیر سے باہر زندگی گزارتے ہیں۔ غالباً یہ لڑکی کسی غریب گھر کی لڑکی ہوگی جس نے ڈر سے اپنا نام تک صیغہئ راز میں رکھا ہے۔ اگر یہ امیر گھر کی لڑکی ہوتی یا اس کے پاس پیسے ہوتے تو یہ بھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتی اور شاید محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کی طرح اس کو بھی سپریم کورٹ اپنی ماں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے دیتا اور حکومت فرمان جاری کر دیتی۔ بہرحال اس خط کی زبان حال سے کشمیریوں کی کسمپرسی کو ایک حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں