48

منشی پریم چند کی تخلیقات ہمارے سماج کا آئینہ ہیں: ڈکٹر محمد کاظم


منشی پریم چند کی یاد میں وی کمٹ اور شعبہء اردو کی جانب سے پر’’ایک ادبی شام‘‘ کا انعقاد
میرٹھ (پریس ریلیز)
شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چندسیمینار ہال میں وی کمٹ اور شعبہء اردو کے اشتراک سے ممتاز و مشہور ادیب منشی پریم چندکی یاد میں ایک ادبی شام کا انقعاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت محترمہ رما نہرونے کی ۔ بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد کاظم ،شعبہء اردو دہلی یونیورسٹی سے شریک ہوئے۔ جبکہ مہمانِ اعزازی میں صدر شعبہء ہندی پروفیسر نوین حیذر لوہانی اور محترمہ نایاب زہرا زیدی تشریف لائے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر آصف علی ، استقبال ڈاکٹر شاداب علیم اور مہمانان کا شکریہ ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیا۔
پروگرام کا آغاز مہمانان نے مل کر شمع روشن کرکے کیا اور سبھی مہمانان کی خدمت میں پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے محترمہ رما نہرونے کہا کہ ادب میں منشی پریم چندکا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پریم چند کی تخلیقات چاہے کہانی ، ناول ، افسانہ ہو یا ڈراما، وہ سب سماج کی بھلائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ آپ نے کہانی اور ناول کو اس طرح ترقی عطا کی کہ جس نے صدی کے ادب کو فروغ دیا۔ مہمان ِ خصوصی ڈاکٹر محمد کاظم نے کہا کہ منشی پریم چند اپنے دور سے بہت بعد کے تخلیق کار ہیںانہوں نے اپنی تخلیقات میںماضی کے ساتھ ساتھ حال اور مستقبل کو نہایت فنکاری سے پیش کیاہے۔انہوں نے اب سے کم و بیش نوے سال قبل کہا تھا کہ ہمیں ایسا ادب پیش کرنا ہے جو سُولائے نہیں ۔ آج ہم سب سورہیںاور ادب میں یعنی مایوسی کی بات زیادہ ہو رہی ہے۔ہمیں پریم چند کا مطالعہ از سر نو کرنا چاہئے۔ان کی تخلیقات ہمارے سماج کا آئینہ ہیں۔
شعبہء اردہ کے پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے پریم چند کی زندگی اور ان کی تخلیقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پریم چند ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اپنے ادب سے نہ صرف سماج میںموجود برائیوں کو پیش کیا بلکہ برائیوں کو دور کرنے کا راستہ دکھایا۔آج ہمیں ہندو مسلمان کی دوریاں اگر پاٹنی ہیں تو ہمیں پریم چند کو پڑھنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ آپ نے پریم چندکو نذر اپنی ایک پرتا ثیر کہانی’’گئودان سے پہلے‘‘ سنائی جس کو سن کرسبھی سامعین کا فی متاثر ہوئے۔صدر شعبہء ہندی پروفیسر لوہانی نے کہا کہ منشی پریم چندہندی اور اردو کو فروغ دینے والے ادیب ہیں۔ہندوستان کے علاوہ چین میں بھی منشی پریم چنداور گاندھی جی کو یاد کیا جاتاہے۔وہاں پر لوگ گئودان و دیگر ناولوں کو بھی پڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر شاداب علیم نے منشی پریم چندکی کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ایک کہانی ’’ ممّی ‘‘پڑھ کر سنائی۔ جسے لوگوں نے کافی پسند کیا ۔ محترم نایاب زہرازیدی نے اپنی ایک نظم’’زندگی زندگی کا حساب مانگتی ہے‘‘ پڑھی جس کو سن کر لوگوں نے کافی داد و تحسین دی ۔ ثنا خان نے لڑکیوں کو پیدا ہونے سے قبل ہی مار ڈالنے کے تعلق سے نظم پڑھی ۔اس کے علاوہ شعبہء اردو کی طالبہ مریم بے بی نے بہت خوبصورت نظم ’’نئی صدی کا سلام اُردو‘‘پڑھی ۔جسے بھی مہمانان اور سامعین نے خوب پسند کیا۔
اس موقع پر محترم آفاق خان ، ڈاکٹر پشپیندر کما نم، تابش فرید، محمد فیضان، شاکر مطلوب، فرح ناز ، شبستہ پروین،خوشبو ،ارشد اکرام، صبا ، محمد شمشاد، پشپا نہرو، انل سکسینہ، ایڈو کیٹ نریندر کمار، رضیہ زیدی، رفعت جمالی،ترون چوپڑا، نغمہ، اروند دت، ڈاکٹر دنیش ، مندیو چوہان کے علاوہ میرٹھ شہر کے بہت سے طلبا و طالبات و سامعین حاضر رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں