93

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ


ڈاکٹر منور حسن کمال
کرد فوجیں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے خلاف کاررائیوں میں امریکہ کی اہم اتحادی رہی ہیں، لیکن وہائٹ ہاﺅس سے جاری بیان میں جب یہ کہا گیا کہ امریکہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں مستقبل قریب میں ترکی عسکری کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا تو کرد فوجوں میں سراسیمگی کا عالم ہے۔

گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا اگر سمٹ کر کمپیوٹر اور موبائل کے صرف ایک کلک پر آگئی ہے تو وہیں وسط ایشیا میں جنگ وجدال کے پھیلتے دائرے نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی اپنی پالیسیوں پر غور کرنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔ ایک امریکی اعلیٰ افسر کے مطابق شام میں امریکی فوجیوں کی واپسی ابتدائی طور پر ترکی کی سرحد کے قریبی علاقے تک محدود کی جائے گی۔ جہاں انقرہ اور واشنگٹن میں خصوصی زون کے قیام کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ امریکی اعلیٰ افسر کے مطابق شام کے سیف زون سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا، مگر دیگر علاقوں میں ابھی امریکی فوجی قیام کریں گے۔
امریکی سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوجیوں کے اس انخلا کا کوئی دوسرا مطلب نہ نکالے اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ ٹرمپ نے اس فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے اگرچہ سخت لہجہ اختیار نہیں کیا، لیکن ٹرمپ کے انتباہ کو ترکی نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت شام میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جن میں سے 20,25فوجیوں کو ہی واپس بلایا گیا ہے۔
دوسری طرف ترکی کرد پیش مرگاہ کے خلاف اپنی عسکری کارروائی کی تیاری کررہا ہے۔ ترکی انہیں ایک طرح سے دہشت گرد تصور کرتا ہے او رانہیں اپنی سرحدوں سے دور کرنا چاہتا ہے تاکہ ان کی طرف سے خطرات کے امکانات مسدود ہوجائیں۔ کرد فوجیں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے خلاف کاررائیوں میں امریکہ کی اہم اتحادی رہی ہیں، لیکن وہائٹ ہاﺅس سے جاری بیان میں جب یہ کہا گیا کہ امریکہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں مستقبل قریب میں ترکی عسکری کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا تو کرد فوجوں میں سراسیمگی کا عالم ہے۔ دراصل یہ اعلامیہ اس وقت جاری کیا گیا جب اسی اتوار کو صدر امریکہ ٹرمپ اور صدر ترکی رجب طیب اردگان کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق محفوظ علاقے کا قیام اہل شام خطہ میں امن کے قیام کے لئے بہت ضروری ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان وضاحت کرچکے ہیں کہ ان کا مقصد سرحدی علاقوں میں ترکی میں قیام پذیر 36لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے 20لاکھ افراد کی بازآباد کاری کے لئے ایک محفوظ علاقہ بنانا ہے۔تاہم اس علامیہ کے جاری ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی جبلت عود کر آئی اور انہوں نے ترکی کو انتباہ دے دیا کہ اگر اس نے حد سے تجاوز کیا تو ترکی کی معیشت تباہ کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکہ اور ترکی کے مابین تلخی آنے کے دوران امریکہ نے چند ترک اشیا پر تجارتی ٹیکس میں اضافہ کیا تھا اور ترک حکام پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ ادھر صدر ٹرمپ کو اپنے فیصلے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تنقید کرنے والوں میں ان کے حامی ریپبلکنز بھی شامل ہیں۔ بین اقوامی امور پر نظر رکھنے والے ناقدین کا کہنا ہے امریکی فوجیوں کا انخلا اور کرد فوجوں کو چھوڑنا اور ترکی کی جانب سے ان پر حملے داعش کے مضبوط ہونے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ترک صدر اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ترک اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور آئندہ ماہ واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ ترکی متعدد مرتبہ کہہ چکا ہے کہ وہ 20لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اس زون میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ جب کہ ترکی میں ابھی 36لاکھ پناہ گزیں قیام پذیر ہیں۔ ترکی کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے دنیا میں سب سے زیادہ 36لاکھ مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے، لیکن شاید اب اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے قریب نظر آرہا ہے۔ امید ہے کہ تقریباً آٹھ برس سے جاری جنگ کے بعد اب ترکی کے دروازے شامی مہاجرین پر بند ہوتے نظر آتے ہیں او راب انہیں ترکی کے داخلی دروازے پر خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔شامی باشندے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں زیادہ رہنا چاہتے ہیں، لیکن ترک حکومت نے بہت سے شامی پناہ گزینوں کا ترکی کی دوسری ریاستوں میں بھی اندراج کیا ہے، اسی لئے اگست کے شروع میں تقریباً 12ہزار شامی پناہ گزینوں کو استنبول سے ان ریاستوں میں منتقل کردیا گیا، جہاں ان کا اندراج کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان خبردار کرچکے ہیں کہ اگر شمالی شام کے علاقے میں شامی پناہ گزینوں کے لئے محفوظ پنگاہ بنانے کے لئے بین اقوامی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ شامی مہاجرین کے یوروپ میں داخلے کے راستے دوبارہ کھول سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی نے یوروپی یونین کے ساتھ 2016میں ایک معاہدے کے تحت شام کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے یوروپ جانے والے راستے پر مضبوط نظام قائم کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت یوروپی یونین نے شام کے مہاجرین کی رہائش کے لئے ترکی کو 6بلین یوروز کی امداد فراہم کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ صدر اردگان کا کہنا ہے کہ یوروپی یونین نے ابھی تک صرف تین بلین یوروز ہی دیے ہیں۔ اُدھر یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ 5.6بلین یوروز فراہم کرچکا ہے۔ امریکہ اس منصوبے کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن کرد فوجیں اس منصوبے میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔ اسی لئے دونوں ملکوں کے سربراہوں نے اس ’محفوظ پناگاہ‘ کے لئے گزشتہ اتوار کو پھر گفتگو کی ہے۔ شام کی کرد افواج شام کے ان پناہ گزینوں کی منتقلی سے گریزاں نظر آرہی ہیں۔ یہ معاملہ کہیں پھر تنازع کا شکار نہ ہوجائے اس لئے صدر ترکی چاہتے ہیں کہ فیصلے پر جلد عمل آوری ہوجائے۔
صدر ٹرمپ بھی چاہتے ہیں کہ وہ شام کے قضیہ سے امریکہ کو باہر نکالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کا سامنا ترکی اور کردوں کو کرنا ہے۔ امریکہ ایسے قبائلی اور انجام سے لاعلم فوجی کارروائی سے باہر ہونا چاہتا ہے اور اب ہم وہیں جنگ کریں گے کہ جہاں ہمارا فائدہ ہوگا اور ہم صرف فتح یاب ہونے کے لئے ہی جنگ کریں گے۔ اب ترکی، یوروپ، شام، ایران، عراقی، روس اور کردوں کو طے کرنا ہے کہ وہ داعش سے کیسے نپٹیں گے اور اس کے قبضے سے اس علاقے کو کیسے آزادا کرائیںگے۔ترکی کا موقف ہے کہ سیف زون کا قیام دونوں طرف امن واستحکام کے لئے ضروری ہے، جس سے اہل شام کو بھی فائدہ ہوگا تاکہ وہ محفوظ اور پُرامن زندگی گزار سکیں۔ ایک امریکی اعلیٰ افسر نے صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ نتائج اخذ کئے ہیں کہ ترکی کے سیف زون سے امریکی فوج کو ہٹالینے سے متعلق صدر ٹرمپ کے فیصلے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ شام سے فوج کا انخلا ہوجائے گا۔ بلکہ شام میں پچاس سے سو امریکی فوجیوں کو ازسر نو تعینات کیا جائے گا…. اور نہ امریکہ ترکی کی فوجی کارروائی کی تائید ہی کرتا ہے۔ واشنگٹن نے انقرہ کو واضح کردیا ہے کہ کسی امریکی فوجی کا خون نہیں بہنا چاہیے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور رجب طیب اردگان دونوں کی گفتگو اگرچہ بہت واضح ہے، لیکن ایسا لگتا ہے بعض افسران اس تنازع کو ہوا دے کر سیاسی تپش میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں…. دونوں صدور کو چاہیے کہ انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی جانب پیش قدمی کریں۔ شام کے پناہ گزینوں کو سکون و عافیت میسر ہو اور پڑوسی ملکوں کو بھی کسی ناگہانی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نفرتیں، عداوتیں بہت ہوچکیں۔ اب دنیا کو محبت کی ضرورت ہے، امن و سکون کی ضرورت ہے، اس لئے جذبہ ¿ خیر سگالی کو پروان چڑھایا جائے۔ایسے حالات میں علاقہ اقبال کا شعر یاد آرہا ہے:
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہِ شجر سے امید بہار رکھ
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں