79

مغربی استعمار اور ذرائع ابلاغ کی ملت پر یلغار


ڈاکٹر منور حسن کمال
آج جو دنیا کے حالات ہیں ان پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی مدبروں اور قافلہ سالاروں سے صحیح فکر وتدبر کی قوت سلب کرلی گئی ہے۔ شاید کسی نہ کسی پہلو سے خودغرضی اور حرص وطمع نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ملت کو چاہیے کہ حتی المقدور مغرب کے پھیلائے ہوئے جال سے باہر نکلے۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرے۔ اللّٰہ سے لو لگائے اور اپنی زندگی کو گلزار بنالے۔

آج دنیا کے حالات دگرگوں ہیں ۔ کسی وہیل پر کسی چیز کی گردش کی طرح انہیں قرار نہیں ہے۔ ایک مبہم تغیر ہے جس سے فطرت بھی محفوظ نہیں ہے۔ کسی بھی زاویے سے دیکھ لیں کہیں فساد نظرآئے گا اور کہیں بگاڑ۔ استحکام کی کوئی صورت نظر آنا تودور کی بات ہے ان حالات میں استحکام سے متعلق سوچنے والا اور دماغ دیکھنے والی آنکھیں بھی حیرانی کے عالم میں  ہیں ۔ دراصل دوام کسی حالت کو بھی نہیں ہے۔ باری تعالیٰ کا فرمان ہے وتلک الایام …. الخ۔ (آل عمران: 140)یہ تو زمانے کے نشیب وفراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔
آج جو دنیا کے حالات ہیں ان پر غور کرنے سے اندازہ ہوتاہے کہ بڑے بڑے سےاسی مدبروں اور قافلہ سالاروں سے صحيح فکر وتدبر کی قوت سلب کرلی گئی ہے۔ شاید کسی نہ کسی پہلو سے خودغرضی اور حرص وطمع نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا ہے۔ آج دنیا جنگ کے ایسے حاشیہ پر کھڑی ہے جسے دےکھ کر اقوام عالم کے خردمند اوراہل بصیرت لرزاں ہیں اور آنے والے وقت میں متوقع واقعات کے نتائج کے تصور سے حواس باختہ ہیں ۔ شاید آنے والے وقت میں متحارب گروپوں میں لڑائی میدانی علاقوں اور محفوظ قلعوں میں تھیں بلکہ شہر اور آباد بستیاں ان کا نشانہ بنیں گی اور ان واحد میں ہزاروں نہیں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔
ان حالات میں عام انسان کیا کرے اور مسلمان کیا کرے یہ دونوں سوال بڑے اہم ہیں ۔ سامراجی طاقتیں دونوں طبقوں کو ہی ذہن میں رکھ کر اپنی پالےسی تیار کرتی ہیں اور بھولے بھالے انسانوں کو ایک عفریت کی طرح نگلنے پر ہر وقت آمادہ رہتی ہیں مغربی استعار اور سامراجی طاقتیں بہت زمانے سے مفلوک الحال، غریب الوطن اور غریب الدیار افراد کی پشت پناہی کے لیے جو بھی پروگرام بناتی ہیں ، انہیں زمین پر اترنے میں کتنا وقت لگتا ہے ۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ درج بالا طبقات کے حق میں مفید اور کارآمد فیصلے سامنے آئیں ، ان دیکھی طاقتیں سازشوں میں مصروف ہوجاتی ہیں اوراپنی تمام فکری اور ذہنی توانائی اس بات کے لیے صرف کردےتی ہیں کہ انہیں کوئی فائدہ پہنچنے نہ پائے۔ بات اگر مسلمانوں کی ہوتو ان کی کدورتیں مزید کھل کر سامنے آتی ہیں ۔ مغربی فکر کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ اس قوم کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے۔ اسی فکر کو علامہ اقبال نے بہت پہلے ان الفاظ میں شعری قالب میں ڈھالا تھا:
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورزماں ہمارا
تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ مغرب اور صلیبی طاقتوں نے ملت کو بہت ستایا ہے اور ملت صدیوں سے ان کے ساتھ نبردآزما رہی ہے اور صلیبی طاقتوں نے کتنی شکستوں کا سامنا کیا ہے۔ آج بھی اسرائیل کی چیرہ دستیاں فلسطینیوں پر مظالم اور بیت المقدس کے مسائل سے پوری دنیا واقف ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ذرائع ابلاغ پر ایسے لوگ قابض ہیں جو اپنی من چاہی خبریں ہی نشر کراتے ہیں ۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ کی ترقی نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک مٹھی میں قید کردیا ہے، لیکن ان ذرائع کا استعمال مغربی میڈیا اپنے رجحانات اور خواہشات کو نمایاں کرنے کے لیے کرتا ہے، بلکہ ایسے ایسے پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں ، جنہیں دیکھتی آنکھوں قبول کرنے کو جی نہیں چاہتا ہے۔
ہند-پاک کے تناظر میں مغربی استعمار کی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ برطانیہ نے جب برصغیر سے بستہ باندھا تو ہند-پاک کو جنگ میں آلودہ کرنے کے لیے ’کشمیر‘ کا ایشو چھوڑدیا۔ اگرچہ اس موضوع پر اسی وقت سے گفتگو جاری ہے، لیکن کشمیر کے مسئلہ کا حل پہلے بھی لاینحل تھا اور آج بھی لاینحل ہے وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ ان طاقتوں کو اپنا اسلحہ فروخت کرنا ہے،ہندوستان کو بھی اور پاکستان کو بھی اس کا ایسا انتظام کردیا گیا ہے کہ اگر یہ دونوں ممالک کبھی گفت و شنید کی میز پر آتے بھی ہیں تو کوئی نہ کوئی عنصر ایسا نکل آتا ہے کہ مسئلہ حل نہیں ہوپاتا۔ بہت پرانی بات نہیں سابق وزیراعظم آں جہانی اٹل بہاری واجپئی نے پاکستان کے اس وقت کے حکمراں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ آگرہ اعلامیہ تیار کرایا تھا اور وہ جاری بھی ہوا چاہتا تھا کہ اس کی سیاہی مٹا دی گئی۔ یہ سب کس کے اشارے پر ہوا یہ تو سیاسی قائدین ہی بتاسکتے ہیں، لیکن بات بنتے بنتے بگڑ گئی اور دونوں ملکوں کے وہ لوگ جن کے اعزہ و اقربا دونوں ملکوں میں رہتے ہیں، خوشیوں کے شادیانے بجاتے بجاتے رہ گئے۔ وہ دن اور آج کا دن آپسی تلخیاں روز بہ روز بڑھتی ہی جارہی ہیں۔
مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے ایک موقع پر کہا تھا:
”جب تک عالم اسلام علم و سیاست، صنعت و تجارت میں مغرب کا محتاج رہے گا۔ مغرب اس کا خون چوستا رہے گا۔ اس کی زمین کا آب حیات نکالے گا۔ اس کا سامان تجارت اور مصنوعات ہر روز اس کی منڈیوں، بازاروں اور جیبوں پرچھاپہ ماری کریں گی اور اس کی ہر چیز پر ہاتھ صاف کرتی رہیں گی۔“
ملت کو چاہیے کہ حتی المقدور مغرب کے پھیلائے ہوئے جال سے باہر نکلے۔ اپنی دنیا آپ پیدا کرے۔ اللہ سے لو لگائے اور اپنی زندگی کو گلزار بنالے۔ اس لیے کہ علامہ اقبال نے بہت پہلے یہ اشارہ دیا تھا:
وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا
جو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے
وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں