51

معروف شاعر عزیز نبیل کے شعری مجموعہ ”آواز کے پر کھلتے ہیں“ کی تقریبِ اجرا

دوحہ قطر:(نیاز احمد اعظمی)انجمن محبان اردو ہند قطر، دوحہ قطر کی معروف و مشہور ادبی تنظیم ہے جومتنوع علمی اور ادبی سرگرمیاں اورتقاریب کا اہتمام کرتی رہتی ہے جس میں کامیاب ترین مشاعروں کے ساتھ ساتھ معیاری و گراں قدر ادبی تخلیقات کی اشاعت، علمی اور ادبی شخصیات کے اعزاز میں نشستوں کا اہتمام وغیرہ شامل ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی انجمن کے جنرل سکریٹری عزیز نبیل کے دوسرے شعری مجموعہ ”آواز کے پر کھلتے ہیں“ کی اشاعت بھی ہے۔اس کی رونمائی گرانڈ ریگل ہوٹل میں ایک باوقار اور خوبصورت تقریب میں ہوئی۔

ساتھ ہی انجمن کے تیرہویں سالانہ مشاعرہ منعقدہ 15 فروری 2019 کی ڈی وی ڈی کا اجرابھی عمل میں آیا۔عزیز نبیل قطر کی ادبی شناخت اور دنیاے ادب اردو کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ وہ ایک معتبر ادیب وشاعر، مرتب ومحقق، انجمن کے جنرل سکریٹری، دستاویزی اور تحقیقی سالانہ مجلہ ”دستاویز“ کے مدیر اعلی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب سمندر“ اور دیگر کئی تحقیقی، علمی اور ادبی کتابیں شائع ہوکر اہل علم وادب کے معتبر اور سنجیدہ حلقوں میں اپنا مقام بنا چکی ہیں۔ ان کی دیگر تخلیقات میں فراق گورکھپوری: شخصیت شاعری اور شناخت، عرفان صدیقی:حیات، خدمات اور شعری کائنات، آنند نرائن ملا: شخصیت اور فن، برج نرائن چکبست: شخصیت اور فن شامل ہیں۔
عزیز نبیل اپنے عہد کے نہ صرف منفرد لب ولہجہ کے شاعر ہیں بلکہ انہوں نے اس میدان میں اپنا جادہ خود ہموار کیا اور پھر اس کے مسافر بن کر نشان راہ بناتے ہوئے، خواب سمندر عبور کرتے ہوئے، طلسمی دائرے تخلیق کرتے ہوئے اپنی آواز کو مسافتوں کی قید سے آزاد کرکے ادب کے ہفت رنگ آفاق میں بکھیرتے ہوئے، جدت میں روایت کا نور بھرتے ہوئے، مشتاق نگاہوں کو خواب عطا کرتے ہوئے، خود کو جم غفیر سے منفرد اور ممتاز کرلیا ہے۔ یقیناان کایہ دوسرا شعری مجموعہ ان کے طویل ادبی و شعری سفر کا محض ایک پڑاؤ ثابت ہوگا کیونکہ ادبی دنیا ان سے ابھی بہت کچھ خوب سے خوب تر کی امید لگائے ہوئے ہے۔
اس اہم پروگرام کی ابتدا کرتے ہوئے قطر کی معروف ومشہور شخصیت، اردو زبان وادب اور تہذیب وثقافت کی ترویج وترقی کو اپنا مشن بنانے والے انجمن کے بانی جناب ابراہیم خان کمال نے اپنے استقبالیہ کلمات میں باذوق سامعین اور تشنگان ادب کا استقبال کیا، پروگرام کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی اور اسٹیج کو اردو ادب کی آفتاب وماہتاب شخصیات سے سجایا۔تقریب کی صدارت قطر کی مقبول ومعروف سماجی اور ادبی شخصیت، انجمن کے چیرمین جناب حسن عبدالکریم چوگلے نے فرمائی۔ جبکہ مہمانان خصوصی کی نشستوں کو جناب محمد عتیق صاحب (بانی مجلس فروغ اردو قطر) اور مشہور تاجر و سماجی کارکن جناب وسیم احمد غازی نے رونق بخشی۔ تقریب کی ابتداء تلاوتِ کلام ربانی سے ہوئی جس کی سعادت جناب عامر شکیب کو نصیب ہوئی۔بعد ازاں نائب صدر انجمن،شعر و ادب کی دنیا میں اپنے یکتا لہجہ اور الگ رنگ و آہنگ سے پہچانے جانے والے شاعر وادیب اور قطر کے مقبول ترین ناظم مشاعرہ جناب ندیم ماہر نے تقریب کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس موقع پرقطر کے باذوق محبان اردو کی موجودگی میں حسن عبدالکریم چوگلے، محمد عتیق، وسیم احمد غازی، ابراہیم خان کمال، خالد داد خان، عظیم عباس، شاہد خان کے ہاتھوں شعری مجموعہ کی رونمائی ہوئی اور مشاعرہ کی ڈی وی ڈی کا اجراعمل میں آیا۔
اس اہم تقریب میں دوحہ کے ممتاز ادبااور شعرانے شعری مجموعہ ”آواز کے پر کھلتے ہیں“ پر اپنے بیش قیمتی خیالات اور تاثراث کا اظہار کیا۔، عزیز نبیل اور ان کی شاعری پر مختلف ناحیوں سے گفتگو کی اور اپنی آرااور تجزیے پیش کیے۔ مقالہ نگاران کے نام حسب ذیل ہیں: جناب سید شکیل احمد، جناب قیصر مسعود، جناب شاہد خان، جناب عبید طاہر، جناب شفیق اختر، ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی۔مقالہ نگاران نے اپنے مقالات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ عزیز نبیل اپنے عہد کی ایک ایسی توانا،مضبوط اور منفرد آواز ہے جس نے اہل اردو کوچونکایا اور اپنی جانب متوجہ کیاہے۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے۔ یہاں موضوع اور اسلوب کا تنوع بھی ہے اور حسیات،جمالیات، کیفیات اور رومانیات کا حسین امتزاج بھی۔ مقالہ نگاران نے دوسرے شعری مجموعے کی اشاعت پرانہیں مبارک باد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پروگرام کے اخیر میں عزیز نبیل نے تمام حاضرین محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ انجمن کے درمیان رہ کر ان سے بہت کچھ سیکھا اورقدم قدم پر رہنمائی حاصل کی ہے۔انجمن کے اراکین اور قطر کے آپ تمام اہل ادب کی محبتیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔ میں آپ کا شکریہ ادا نہیں کروں گا بلکہ آپ کی محبتوں کا مقروض رہنا چاہتا ہوں۔ شکریہ کے الفاظ ادا کردینے سے میرے جذبہئ تشکر کی تشفی نہیں ہوتی ہے۔ آپ تمام کی محبتیں میرے لئے اہم سرمایہ ہیں۔ آپ حضرات یہاں تشریف لائے اور میری ہمت افزائی کی اورمجھے عزت بخشی۔سامعین کے اصرار پر عزیز نبیل نے اپنی ایک غزل بھی سنائی جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
تو میں نے بحث نہ کی گفتگو کو ختم کیا
نکل گئی تھی بہت دور بات چلتی ہوئی
ملی تھی راہ میں اک بے قرار پرچھائیں
گھر آگئی ہے مرے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی
طلوعِ صبح سے پہلے، غروبِ شام کے بعد
ٹھہر گئی مرے سینے میں رات چلتی ہوئی
کچھ اس طرح سے صدا دی ہے اک نظر نے نبیل
ٹھٹھک کے رک گئی جیسے حیات چلتی ہوئی
اخیر میں انجمن کے صدر اور اردو کے بے لوث خادم خالد داد خان نے تمام مہمانان، شعراے کرام اور باذو ق حاضرین کا بہت شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں