70

معاشرے کا مشاہد:قیوم میو

حقانی القاسمی
قیوم میو زندہ سیاق سے جڑے ہوئے افسانہ نگار ہیں۔نئے عہد کی سیاسی، سماجی حسیت سے ان کی تخلیق کا گہرا رشتہ ہے۔ ان کی مشاہداتی قوت بہت مستحکم ہے۔ ویسا ہی مشاہدہ جو سائنس دانوں کا طریق کار رہا ہے۔ ایک منظر میں کئی جہتوں اور زاویوں کی جستجو اور پھر داخلی ادراک کے ذریعہ اس منظر کو اپنے تخیل اور تخلیق کا حصہ بنا لینا……یہ ہنر صرف تخلیق کاروں کو آتا ہے۔
مشاہدہ کی قوت‘تخیل کی طاقت اور اظہار کی ندرت ہی کسی تخلیق کار کو انبوہ سے الگ کرتی ہے۔ اس ناحیے سے دیکھا جائے تو قیوم میو کی بیشتر کہانیاں مشاہدے اور تخیل کا بہترین امتزاج ہیں۔ انہوں نے ivory tower میں بیٹھ کر کہانیاں نہیں لکھی ہیں۔موسم گرما کی دھوپ اورسرما کی خنکی سے اپنا رشتہ جوڑا ہے اور ہر منظر سے اپنی آنکھوں کا تعلق قائم رکھا ہے۔ دوسروں کی بینائی یا بصیرت سے اپنے ذہنی آنکھ کا نور نہیں بڑھایا ہے۔
ان کی زیادہ تر کہانیاں human virtues and vices کی ہیں۔ انسانی فطرت اور کرداروں کے حسین اور قبیح پہلووئں کا یہ بیانیہ مکالمے ہیں۔بنیادی طور پر انسان خیروشر کا مجموعہ ہے اور اس تضاد سے کائنات کا نظام متحرک ہے۔ اس مجموعہ سے تخلیق کار کردار تلاش کرتا ہے۔ قیوم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کرداروں کے تشخص کی تقلیب کو اپنا مرکز و محور بنایا ہے۔ کرداروں کے خصوصی اوصاف اور متعینہ مفاہیم سے الگ کردار ان کی کہانیوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلا پولیس اور ڈاکو دو مختلف اور متضاد کردار ہیں۔ ایک کا تشخص تحفظ سے عبارت ہے تو دوسرے کا لوٹ پاٹ سے۔ لیکن قیوم کے ہاں ان دونوں کرداروں کی تقلیب کا عمل نمایاں ہے۔:
”کیوں سرکار‘ہم سے ایسا کیا قصور ہو گیا؟کیا ہم سے انجانے میں کوئی غلطی ہو ئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں معاف کردیں“
لالہ جی نے سردار کے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں یہ لڑکی کا مطالبہ نہ کر دے۔ وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ ”نہیں نہیں لالہ جی آپ سے کوئی غلطی نہیں ہو ئی ہے۔ غلطی تو ہم سے ہو ئی ہے۔ اب ہم غلطی کا پرائسچت کر رہے ہیں۔ ہم ٹھاکر ہیں‘ ہم نمک حرام نہیں ہیں۔ ہماری رگوں میں راجپوتی خون دوڑ رہا ہے۔ ہم نے آپ کا نمک کھایا ہے۔ ہم نمک حرامی نہیں کریں گے۔ آپ کی بیٹی ہماری بہن ہے۔ اب ہم اس کا کنیا دان کر کے جائیں گے‘ہمیں معاف کر دیجئے“
(نمک کی تاثیر)
”تبھی دو سپاہی ایک کوٹھری نما کمرے سے ایک دس بارہ سال کے لاغر کمزور بچے کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے۔ اور خوشی سے چہکتے ہوئے بولے ”پکڑ لیا صاحب پکڑ لیا‘’اور اس پر بے تحاشہ ڈنڈے برسانے لگے ”بتا کہاں چھپا رکھا ہے تو نے سارا اسلحہ؟ نہیں تو جان سے مار،الیں گے“
m
کون ہے یہ لڑکا؟ اس جیپ سے ایک اعلی پولیس افسر نمودار ہوا۔ داروغہ نے جھٹ سے سلیوٹ مار کر جواب دیا۔ ”سر یہ گھر میں سے ہم پر گولیاں اور بم برسا رہا تھا۔پر ہم نے اس کے سارے منصوبے خاک میں ملا دئے۔اور اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور سر اس کے گھر سے اسلحہ بنانے کی فیکٹری کا بھی سراغ ملا ہے اور حال ہی میں آپ کو یاد ہو گا۔ صدر بازار میں جو پو لیس اور غنڈوں کے درمیان جو تصادم ہوا تھا۔ اس میں بھی اسی کا ہاتھ تھا۔ یہی ان سب کا سرغنہ بھی ہے“
m
”خدا کے لئے اسے چھوڑ دیجئے‘یہ بے قصور ہے اس نے کچھ نہیں کیا ہے۔ یہ محض الزام ہے۔ میرا یقین کیجئے۔“اعلی پولیس افسر نے کہا ”تم نے سنا نہیں کہ یہ پولیس پر گولیاں برسا رہا تھا اور سب سے بڑا مجرم ہے“ اور اس عورت کو اپنے پیروں سے پرے دھکیل دیا۔ وہ پھر گڑ گڑائی۔
”لیکن صاحب یہ بھلا گولیاں اور بم کیسے برسا سکتا ہے؟ یہ تو پیدائشی نا بینا ہے“ اعلی پولیس افسر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے“
(پرموشن)
ان دونوں کہانیوں میں تشخصاتی اوصاف identifying characteristicsکی تقلیب صاف طور پر نظر آتی ہے۔ ڈاکو کی انسانیت اور رحمدلی اور پولیس کی بر بریت اور وحشیانہ پن۔ تخلیق کار نے ان دو کرداروں کے حوالے سے اس تصور کی مکمل نفی کردی ہے جو ایک زمانے سے سماج کے ذہن میں پیوست ہے اور اسی کی بنیاد پرمعاشرے میں محبت اور نفرت کی منطق مرتب کی جاتی ہے۔ان دونوں کہانیوں کا کلائمکس تخلیق کار کے اس تصور کا زائیدہ ہے کہ انسانیت کے جوہر سے وہ افراد محروم نہیں ہیں جنہیں سماج وحشیسمجھتا ہے اورحیوانیت سے وہ افراد معرا نہیں ہیں جنہیں سماج محافظ سمجھتا ہے۔قیوم کی کہانی پرموشن کا کلائمکس تو اتنا متاثر کن ہے کہ پولیس نظام پر اس سے بڑا طنزہو ہی نہیں ہو سکتا۔ قیوم میو نے اسی طرح کی سچویشنل آئرنی کے وسیلے سے اپنی کہانیوں کو با مقصد اورمعنی خیزبنادیا ہے۔
قیوم سماجی تضادات کے بیان کنندہ ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں کرداری تضادات کی تکنیک سے کام لیا ہے۔ سانڈ میں بھی منشیات کا عادی ایک انسان مسیحا بن جاتا ہے۔ دراصل ان کے یہاں کرداروں کی شکست و ریخت سے ہی کہانی اپنے منطقی انجام کو پہونچتی ہے
”ان پندرہ سالوں میں اس کا ریکارڈ انتہائی صاف تھا۔لوگوں نے کبھی اس کے خلاف کوئی غلط بات سننا بھی گوارہ نہیں کیا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ وہ اس شہر میں اپنی اکلوتی بہن کو تلاش کرنے کی غرض سے آیا تھا۔کافی تگ و دو کے بعد بھی جب اسے کامیابی نہیں ملی تو مجبورا لوٹ جانا چاہا لیکن اس کے مقدر میں ابھی مزید ٹھوکریں لکھی تھیں اور پھر وہ ایسے لڑکوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا جو نشہ کے بری طرح عادی تھے اور پھر رفتہ رفتہ وہ بھی نشے میں ڈوبتا چلا گیا البتہ وہ محلہ والوں کے لئے مسیحا بن کر آیا تھا۔ہر دکھ تکلیف میں سانڈ سب سے آگے آگے ہوتا۔ ہر وقت ان کے کام آنا گویا اس نے اپنا نصب العین بنا لیا تھا۔“
اس کے قدم بڑھتے گئے‘بڑھتے گئے اور جب تک وہ لاش تک پہنچتا دو فائر ہوئے۔ سانڈ کا سینہ چھلنی ہو گیا اور اس نے زمین پر گرنے سے پہلے اپنی شرٹ برسوں سے بچھڑی ہو ئی اپنی بہن کی برہنہ لاش پر ڈال دی۔ اس کے قدموں پر اس نے آخری سانس لی مجمع حیرت زدہ یہ دلخراش منظر دیکھ رہا تھا انسپکٹر نے اپنے منہ کا ڈھیر سارا تھوک اچھال کر سانڈ پر تھوک دیا“
(سانڈ)
منٹو کی طرح قیوم میو نے بھی غلیظ اور پلید سماج میں بھی انسانیت کی روح اور عظمت کی روشنی تلاش کرلی ہے۔ یہ فنکار کے داخلی زاویہ نظر کا کرشمہ ہے۔
قیوم میو مختصر کہانیاں لکھتے ہیں اور یہی اختصار ان کا حسن بھی ہے کہ آج کے مصروف ترین دور میں طول طویل حکایات کے لئے لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے۔ ترسیل کے جدید ترین طریقہ سے آگہی ان کی ہر کہانی میں نظر آتی ہے۔ ڈکشن‘جملوں کی ساخت اور ادبی تکنیک کے استعمال میں بھی انہوں نے مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوے کی طرح ان کے جملے مختصر ہو تے ہیں جارج آرویل کی طرح طویل نہیں۔ ان کے ہاں امیجری‘ سمبالزم‘ تمثیل اور تجریدیت نہیں ہے وہ سیدھے سادے بیانیہ انداز میں کہانیاں لکطتے ہیں اور ان معاشرتی حقائق اور واردات کو اپنی کہانیوں کا حصہ بناتے ہیں جو سماج کے شب وروز میں شامل ہیں مگر فن کارانہ نگاہ سے ان میں اتنا تخیل اور تحیر کا رنگ بھر دیتے ہیں کہ حقیقت فنتاسی میں بدل کر انسانی ذہنوں کو ایک نئے زاوئے اور ذائقہ سے آشنا کر دیتی ہے۔
فنتاسی حقیقت میں بدل جاتی ہے تو سائنس کہلاتی ہے اور حقیقت فنتاسی میں بدلتی ہے تو کہانی بن جاتی ہے۔کہانیوں کا معاملہ ہے ہے کہ یہ خیال اب عام ہو چکا ہے
best fiction comes from fact
حقیقت کی عکاسی جتنی زیادہ ہو گی کہانی اتنی ہی پا ور فل ہو گی۔ قیوم کی کہانیوں میں سیاسی اور سماجی حقائق کی تصویر یں ملتی ہیں۔ ان کا سماجی اور سیاسی شعور پختہ اور بالیدہ ہے۔ متصادم اقداری نظام کی بھر پور عکاسی ان کی کہانیوں میں ملتی ہے۔ انہوں نے ان سماجی مسائل کو اپنا تخلیقی محور بنایا ہے جن سے ہماری تہذیب، سنسکرتی، آدرش اور اخلاقیات کو خطرہ ہے۔پوسٹ انڈسٹریل سوسائٹی اور کنزیومرزم کی وجہ سے پیدا ہونے والا سماجی اور اخلاقی بحران ہی ان کا موضوعی منطقہ ہے۔کرپشن، جہالت، شہریت، غربت، صنفی تفریق، بے روزگاری، گھریلو تشدد، عصمت دری، منشیات اوراستحصال کو انہوں نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ اخلاقی بحران اور سماجی زوال کی بہت ساری شکلیں ان کی کہانیوں میں ملتی ہیں۔بازیگر، دیمک، دھیرے دھیرے اور دیگر کہانیاں Exploitative Orientationکی ہیں۔بجوکا بھی ان کی ایک ایسی ہی کہانی ہے جس کا انہوں نے پریم چند کی کہانی بجوکا کو ایک نئے اور عصری تناظر میں پیش کیا ہے۔اس بجوکا میں آج کے مادیت پرست سماج کا مکروہ چہرہ نظرہ آتا ہے جہاں بستر سے بلندی حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اپنی بیوی کی عصمت بیچ کر عروج کی منزل پر پہنچے کی ہوس بڑھ رہی ہے۔ماڈرن سماج کا یہ بحران ہے۔ پریم چند کا بے جان بجوکا ہمارے یہاں بھی ایک جاندار بجوکے میں بدل چکاہے۔ یہ زمانے کی تبدیلی اور ترجیحات کے تغیر کا بھی اشارہ ہے کہ ہر عہد میں پرانی علامتیں نئی شکلوں میں موجود رہتی ہیں۔کہانی کے اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قیوم میو نے پریم چند کے بجوکا کو کس شکل اور صورت میں محسوس کیا ہے۔
”شیوپال میں نے تمہاری سفارش اوپر کردی ہے، جلد تمہاری ترقی کا پروانہ آنے والا ہے۔ میں ایک ہفتہ کے لیے کشمیر جارہا ہوں، میں نے دو ٹکٹ بک کروادیے ہیں، سونیا کو تیار کردینا“ شیوپال مجبور کی خوشی سا پھولا نہیں سمایا اور اس نے گھر پہنچ کر سونیا کو اپنی ترقی کی خبر دی تو وہ بس مسکرا کر رہ گئی۔ جب کہ شیوپال اس کے مسکرانے کی وجہ اچھی طرح جانتا تھا۔
اس کی نظریں جھک گئیں اور سونیا نے کشمیر کے لیے اپنا سامان و اسباب باندھنا شروع کردیا۔
امرت سنگھ سونیا کو لے کر ایک ہفتہ کے ٹور پر کشمیر روانہ ہوگیا۔ اسی درمیان آشو رانی بھی اس کے گھر آگئی۔ سونیا کو نہ پاکر اس نے پوچھا۔ ”بھابھی کہاں ہیں؟“ وہ بجھے لہجہ میں بولا۔
ماڈرن اور آزادی کا زمانہ ہے نا وہ میرے سینئر کے ساتھ ایک ہفتہ کے لیے کشمیر گھومنے گئی ہیں۔
”او! ویر ی گڈ!میں بھی کل تمہارے جیجا جی کے سینئر کے ساتھ دوہفتوں کے لیے کلومنالی جارہی ہوں، جلد ان کی بھی ترقی ہونے والی ہے۔“ بہن کا یہ جملہ سن کر شیوپال کی نظریں جھکتی چلی گئیں۔آشورانی چہک چہک کر سب کچھ بتارہی تھی۔ جب سونیا کشمیر سے لوٹ کر آئی تو بے حد خوش تھی۔
m
”ایک روز پھر امرت سنگھ نے سونیا کو کسی ہل اسٹیشن لے جانے کی ضد کی تو اس نے معذرت چاہ لی اور کہا“
”سر! وہ حاملہ ہے، پورے مہینہ سے ہے۔“ امرت سنگھ چڑگئے۔“
اوکے۔ اوکے کوئی بات نہیں۔ تم رام اوتار کو اندر بھیجو، اور رام اوتار جب امرت سنگھ کی کیبن سے باہر نکلا تو بے حد خوش تھا، کیونکہ پچھلے ہی ہفتہ اس کی شادی ہوئی تھی۔ شیوپال کو آج یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا سینئر افسر امرت سنگھ بھی اس کے باغ کے بجوکے کی طرح ہے۔فرق دونوں میں یہ ہے کہ باغ کا بجوکا بے جان ہے اور پولیس اسٹیشن کا بجوکا زندہ ہے۔ باغ کا بجوکا پھلوں کی رکھوالی کی کوئی قیمت وصول نہیں کرتا ہے، لیکن پولیس اسٹیشن کا بجوکا اپنے ماتحتوں کی نوکریوں کی زبردست قیمت وصول کرتا ہے۔“
(نیا بجوکا)
نیابجوکا اس لحاظ سے اہم ہے کہ بجوکا سیریز میں یہ کہانی ایک الگ انداز کی ہے جس میں پولیس کے نظام کو انہوں نے بجوکا سے تعبیر کیا اور یہ آج کی بہت بڑی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔سیاست اور اخلاقیات کے تصادم کی ایک اچھی تفہیم اور تعبیر بھی ہے اورCultural Avitismکی طرف اشارہ بھی۔کہانی کا اقتباس دیکھیں:
”پتا جی اب آپ اس بجوکے کو بدل دیجئے، بہت پرانا ہوگیا ہے۔ جگہ جگہ سے اس کے کپڑے بھی پھٹ گئے ہیں“ پتا جی نے بجوکے کا بھرپور جائزہ لیا اور دھیمے سے بولے ”نہیں بیٹا یہ ممکن نہیں ہے وہ اب بھی جیسا ہے بہت اچھا ہے۔“— یہ بجوکا ہمارے پرکھوں کی نشانی ہے۔ پرکھوں نے نصیحت اور ہدایت کی تھی کہ بجوکا کبھی مت توڑنا۔ جب تک یہ خود بخود سوکھ کر ڈھیر نہ ہوجائے۔ اسے کبھی نہیں توڑنا۔ ایسا لگتا ہے پرکھوں کی آتما بجوکا میں داخل ہے۔“
قیوم میو نے اس کہانی کے ذریعہ یہ بھی پیغام دیا ہے کہ سماج جب پرانے محور سے منحرف ہوجاتا ہے اور نئی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اپنے قدروں کو فراموش کردیتا ہے تو ایسی ہی المیاتی صورتحال پیداہوتی ہے جو اس کہانی کے بین السطور میں موجود ہے۔
قیوم کا فنی کمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے معمولی کرداروں کے غیر معمولی احساس اور ادراک کی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان کے پست کردار اپنے اعمال‘اوصاف اور احساس کی وجہ سے فلک بوس عمارتوں میں رہنے والے افراد اور اشخاص سے زیادہ بلند نظر آتے ہیں۔اس طرح قیوم نے سماجی ساخت کی تبدیلی اور جدید عہد میں بدلتی اکویشن کی طرف اشارے کئے ہیں۔ یہ اشارات فن کار کے داخلی تصورات اور احساسات کو واضح کرتے ہیں۔
یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ قیوم نے اشیا ء‘ واردات اور وقوعات کو الگ زاوئے سے دیکھا ہے۔ سوچ کے پرانے فریم ورک سے باہر نکل کر اپنے مشاہدات اور تجربات سے ہی اشیا ء کا اد راک کیا ہے۔ یہی ادراکی قوت تخلیق کار کو اس بھیڑ سے الگ کرتی ہے جس کا حصہ لا شعوری طور پر فن کار بھی بن جاتے ہیں۔قیوم میو کی یہی ادراکی قوت انہیں افسانوی ادب میں زندہ و تابندہ رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں