105

معاشرے میں تعلیمی بیداری لانے کیلیے طلبہ ونوجوانوں نے مارچ نکالا

کھگڑیا:(پریس ریلیز)الحمدللہ آج سات بجے شام پروفیسر نوشاد مرحوم کے وسیع صحن میں اپنے گاؤں کے چند مستعد نوجوانوں کے تعاون سے تعلیمی بیداری کے عنوان سے ایک مختصر پروگرام منعقد کیا گیاـ اس کا آغاز حافظ سلیمان کی تلاوت قرآن پاک سے ہواـ اس پروگرام میں تقریباً ایک سو سے زائد لوگوں نے شرکت کی. بچوں کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں ان کے والدین اور سرپرست بھی موجود تھےـ پروگرام سے پہلے تعلیمی بیداری کے لیے بچوں کا ایک جلوس بھی نکالا گیا جس نے اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں کے مختلف نعروں کے ساتھ گاؤں کی گلی کوچوں کا گشت کیاـ پروگرام میں پانچ مقررین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیاـ انجینئر نعمان شاداب نے تعلیم میں آنے والی مشکلات اور ان کے حل پر گفتگو کی، ڈاکٹر مشکور عالم نے حصول تعلیم کے لیے جان مال کی قربانی ضروری ہے، کے موضوع پر بات کی، انجینئر عتیق الرحمن عرف حامد نے سچر رپورٹ کے حوالے سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر اظہارِ خیال کیا، ماسٹر تبریز شمیم نے دینی اور عصری تعلیم کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی، اسی طرح ماسٹر تنویر، ماسٹر مشیر اور ماسٹر شمشیر نے بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا. اخیر میں ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی نے خطاب کیا اور تعلیم کی اہمیت و ضرورت پر تفصیلی بات کی اور کہا کہ دنیا کی سب سے مقدس کتاب کا آغاز لفظِ “پڑھ” سے ہوتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس کتاب کو ماننے والی قوم ہی تعلیم میں سب سے پسماندہ ہے. علم ہی کی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا،تعلیم میں دین و دنیا کی دوئی ختم ہونی چاہیے، علم ایک روشنی ہے جو جہالت کی اندھیری کو چیر کر کامیابی کی منزل عطا کرتی ہے، ہماری اس چھوٹی سی کوشش کا مقصد یہ ہے کہ دین کا دامن مسلمانوں سے چھوٹنے نہ پائے اور دنیا میں وہ کسی قوم سے پیچھے نہ رہ جائے. خطاب کے آخر میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ نوجوانوں کا ایک گروپ تیار کیا جائے گا جو طلبہ کی تعلیمی رہنمائی بھی کرے گا اور غریب طالب علم کی مالی امداد بھی، اس کے لیے ایک لائبریری نما کوچنگ سینٹر قائم کیا جائے گا. نو بجے شب دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہواـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں