85

مظفرپورسانحہ:معصوم جانوں کےزیاں کاذمےدارکون ہے؟


نایاب حسن قاسمی
کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مسیحاہوتاہے اور اس کے دستِ مسیحائی سے مریضوں کو زندگی ملتی ہے،مگر اِس وقت ہندستان میں جو صورتِ حال ہے،اس سے تو یہ معلوم ہوتاہے کہ ڈاکٹری بھی دیگر پیشوں کی طرح ایک پیشہ ہی ہے اور اس شعبے میں مسیحا نہیں،خودغرضوں، مفاد پرستوں اور شقیق القلب انسانوں کا جتھہ گھسا ہواہے،یہ وہی لوگ ہیں،جو لاکھوں لاکھ ڈونیشن دے کر میڈیکل کالجز سے اس لیے ڈاکٹری کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں کہ باہر نکلتے ہی بھوکے بھیڑیے کی طرح عوام کو نوچ کھاناہے۔
کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ ایک طرف مغربی بنگال میں مرکزی حکومت کے ذریعے اسپانسرڈڈاکٹروں کے احتجاج کی حمایت میں ملک بھر کے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں اور دوسری طرف خود بی جے پی-جے ڈی یوکے زیر اقتدار صوبۂ بہار کے شہر مظفر پور کے ہسپتالوں سے ہر لمحہ معصوم بچوں کی اموات کی خبریں آرہی ہیں۔مرکزی حکومت سیاسی توڑ جوڑ میں مصروف ہے،وزیر مملکت برائے صحت اشونی چوبے اتنے سلگتے ایشو پر میڈیا پریفنگ کے دوران ہی جھپکیاں لینے لگتے ہیں،بہار کی این ڈی اے حکومت کے وزیر صحت منگل پانڈے مظفر پور کی خطرناک صورت حال کے جائزے کے لیے بلائی گئی ریاستی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی میٹنگ میں انڈیا-پاکستان میچ کی تازہ ترین صورت حال جاننے کو بے تاب نظر آتے ہیں اورمیچ کے بعد فوراً نہایت مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کے ذریعے جیت کی مبارکبادپیش کرتے ہیں،ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ اس جیت کو ایک اور ”اسٹرائک“ سے تعبیر کرتے ہیں، پورے ملک کے میڈیااور پبلک ڈومین میں روہت شرما کی سنچری کا غلغلہ ہے،جبکہ دوسری طرف انہی دنوں میں مظفر پور کے ایس کے ایم سی ایچ اور کیجریوال ہسپتال میں لگ بھگ 130بچے چمکی بخار میں تپ کر جاں ہار ہوچکے ہیں۔یہ سیاسی شقاوت و سفاکیت اور بر سر اقتدار قوتوں کی بے ضمیری کی نہایت گھناؤنی مثال ہے۔بارش نہ ہونے کی وجہ سے مظفر پورہی نہیں،اردگرد کے کئی اضلاع سمستی پور،ویشالی و چمپارن وغیرہ میں عجیب نفسانفسی کاعالم ہے،قلتِ تغذیہ کے شکاربچے بلک رہے، ان کے والدین ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے اور ڈاکٹروں کے آگے رو گڑگڑارہے ہیں،مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔قومی میڈیا اتنے عظیم سانحے کو نگل جانا چاہتاہے،پورا ملک اور اس ملک کی سواارب کی آبادی روہت شرماکے 140رنز پرخوشی خوشی130بچوں کی بلی دے رہی ہے۔الیکشن ابھی تازہ تازہ گزراہے،قریب کے دنوں میں کوئی الیکشن نہیں آرہا؛اس لیے وزیر اعظم سمیت ان کی پارٹی کے اشتراک سے بہارمیں قائم حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، وزیر اعلیٰ نتیش کمار متاثرہ خاندانوں کے لیے ساڑھ چارچار لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کرکے مطمئن ہوچکے ہیں،انھیں اب تک یہ توفیق نہیں ہوئی کہ مظفر پور پہنچ کر متعلقہ ہسپتالوں کا جائزہ لیں، متاثرین سے ملاقات کریں اور ان کے تئیں اظہار ہمدردی کریں۔یہ ایسی صورتِ حال تھی کہ مرکزی حکومت کو فوراً ان ہسپتالوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کرنا چاہیے، ان ہسپتالوں کودرپیش ڈاکٹرزاور وسائل کی قلت کے مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی،مگر کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔
ریاستی وزیر منگل پانڈے،وزیر مملکت برائے صحت اشونی کمار چوبے اور مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن مظفر پور کا دورہ کرچکے ہیں،مگر صورتِ حال محض دوروں سے کب قابومیں آتی ہے!انھوں نے وہاں پہنچ کررسمی یقین دہانی کروادی ہے کہ مسئلے کو قابو کیاجائے گا۔ اسی قسم کے واقعات سے یہ پتاچلتاہے کہ ہماری منتخب کردہ حکومت عوامی مفادات اور عوام کے مسائل کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے اور اس حکومت کی ترجیحات کیاہیں۔بہت زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ گورکھپور کے ایک ہسپتال میں گیس کی کمی کی وجہ سے ساٹھ سے زائد بچوں کی اموات ہوئی تھیں اور اس موقعے پر وہاں کی بی جے پی حکومت نے اپنی غلطی کو ماننے اوراس کی اصلاح کرنے کی بجاے ایک مسلمان ڈاکٹر کفیل کو سزادینے کا فیصلہ کیااور اسے جیل بھجواکر دم لیاتھا۔کیابہار کی نتیش کمارکی سربراہی والی حکومت بھی کسی ایسے ہی حربے کو اپنانے والی ہے؟ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ افسوسناک صوبائی و مرکزی حکومت کا رویہ ہے۔بہار میں توکسی دوسری پارٹی کی حکومت بھی نہیں ہے کہ بی جے پی اسے ذمے دار قراردے کر اپنا دامن جھٹک لے،وہاں توآپ ہی کی حکومت ہے،ایک طرف اندرخانہ مغربی بنگال میں ڈاکٹروں ہی کا سہارالے کر ممتابنرجی کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی جی توڑ کوشش کی جارہی ہے اور دوسری طرف اپنے زیر اقتدار ریاست میں ہسپتالوں کی حالت نہایت خستہ،ڈاکٹروں کی قلت اور وسائل علاج کی نایابی کی وجہ سے ہر دن بیسیوں معصوم بچے مررہے ہیں۔وزیر داخلہ پاکستان پر ہندستان کی جیت کی مبارکباد پیش کرتے ہیں،مگر انھیں مظفر پور میں جاری موت کے ہولناک کھیل پر دولفظ کہنے کی توفیق نہیں ملتی۔وزیر اعظم بھی ٹوئٹر پر اپنی نئی حکومت کا جشن منانے میں مصروف ہیں،ان کی طرف سے بھی ان سیکڑوں معصوم بچوں کی موت پران کے اہل خانہ سے تعزیت کاایک بول سننے کونہیں مل رہاہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں حکومتیں عوام کے لیے کام کرنے کے محض کاغذی دعوے کرنے کی عادی ہوتی ہیں،عملیت پسندی سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا،ان کے کام بھی زیادہ ترکاغذوں پر ہی نظر آتے ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں مودی اینڈ کمپنی کی بہ دولت یہاں سیاست و حکومت کا جو نیا ٹرینڈ قائم ہواہے،اس میں عوام کی حیثیت محض آلۂ کار کی ہوگئی ہے،مودی جی نے ہندستانی سیاست کا ڈھانچہ اور سانچہ بدل کر رکھ دیا ہے،دعویٰ تو کچھ ہے،مگر ان کی اصل سیاست جھوٹے راشٹر واد اور مذہبی منافرت پر قائم ہے،2014میں بھی انھیں اسی بنیاد پر اس ملک کے عوام کے ایک طبقے نے سپورٹ کیاتھا اور اسی بنیاد پر وہ2019میں بھی وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔اب ہماری انتظامی و انتخابی سیاست میں عوامی مسائل،تعلیم، روزگار، صحت جیسے موضوعات کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچی،اب جو جتنا زیادہ راشٹر وادی ہوگا،اس کی سیاسی کامیابی کے چانسز اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔اس میں خود اس ملک کے عوام کے بھولے پن یا ان کے مذہبی جنون کا بھی دخل ہے،جب آپ نے ایک سیاسی جماعت کومحض راشٹر واد کے مسئلے پر مینڈیٹ دیا ہے، توآپ اس کی حکومت سے بہتر تعلیم،روزگار اور بہتر طبی وسائل کی فراہمی کا مطالبہ یا اس کی امید بھی کیسے کرسکتے ہیں؟نئے سیاسی منظر نامے کے تحت ہی ہمارے ملک کے نئے قومی میڈیاکا سیٹ اَپ ہواہے،جہاں پردہ،تین طلاق،آتنک واد،مسلمانوں کے تشٹی کرن،ان کی حب الوطنی، وندے ماترم گانے یانہ گانے جیسے موضوعات پر چوبیس گھنٹے مباحثے ہوتے اورٹی وی پینلسٹوں میں ہاتھاپائی ہوتی رہتی ہے،مگر اس میڈیاکے لیے گورکھپور یا مظفر پورجیسے سانحے کوئی اہمیت نہیں رکھتے،ان پر کسی مباحثے کی ضرورت نہیں؛بلکہ اس طرح کی خبروں کوجتنا زیادہ دبایاجائے،اتناہی اچھاسمجھاجاتاہے۔ سوشل میڈیاکا اوپن پلیٹ فارم ہمارے پاس موجود ہے،مگر فیس بک سے لے کر ٹوئٹر تک کھنگال ڈالیے،بڑے سیاسی تجزیہ کاروں سے لے کر چھوٹے موٹے سیاسی وسماجی ایکٹوسٹس کی پوسٹس اور ٹوئٹس کا جائزہ لیجیے،تو پتاچلے گا کہ ہر طرف تقریباًسناٹاہے،سب ہندوہردے سمراٹ کو تاجِ شاہی سونپ کر اگلے پانچ سال تک کے لیے گیان دھیان کی اَوَستھا میں چلے گئے ہیں،ایک ہولناک خاموشی ہے،سب کی زبانوں پر آبلے پڑگئے ہیں،چندایک کو چھوڑکر کوئی ان سیکڑوں معصوموں کے حق میں بولنے کوآمادہ نہیں۔بہار میں اہم اپوزیشن پارٹی آرجے ڈی ہے، مگر لالوکی غیبوبت میں ان کے جیالے تیجسوی یادوکی سرکردگی میں حالیہ لوک سبھا الیکشن کے دوران آرجے ڈی کو ایسی پٹخنی لگی ہے کہ یہ پارٹی اور اس کے لیڈرابھی تک اس کے کرب سے باہر نہیں نکل سکے ہیں،اپوزیشن پوری طرح ”مون“ ہے، گویاوہ زبانِ حال سے عوام کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم نے ہماری جگہ این ڈی اے کو ووٹ دیاتھا،تواب اس کا مزا چکھو!الغرض مظفر پور میں جاری موت کایہ کھیل،جو بہ تدریج پوری ریاست میں پاؤں پسارتا جا رہا ہے، نہایت ہی اندوہناک ہے اور یہ سانحہ جتنا عظیم ہے،اتنی ہی شرمناک اس کے تئیں ریاستی و مرکزی حکومتوں اور اپوزیشن کا رسپانس ہے، موجودہ حالات میں کچھ نہیں کہاجاسکتاکہ آنے والے چند دنوں کے دوران معصوم جانوں کے زیاں کایہ سلسلہ تھم سکے گایانہیں۔ ایک سوشل ورکرتمناہاشمی نے سی جے ایم کورٹ میں وفاقی وزیر صحت ہرش وردھن اورریاستی وزیر صحت منگل پانڈے کے خلاف شکایتی عرضی داخل کی ہے،جس میں انھوں نے حکومت پر الزام لگایاہے کہ اس نے اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے عوامی بیداری کی مہم چلانے اوران کی اموات کے اسباب کی کھوج لگانے کے لیے ضروری ریسرچ کروانے میں سستی کا مظاہرہ کیاہے،سی جے ایم نے اس شکایت کوسننے کے بعد سماعت کی اگلی تاریخ24جون مقرر کی ہے،تب تک دیکھیے حالات کہاں تک پہنچتے ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں