104

مطالعۂ امام الہند: چنداہم گوشے

(دوسری قسط)
نایاب حسن
مختلف زبانوں کاعلم:
مولاناکی وسعتِ علمی کی ایک وجہ اپنے زمانے کی مختلف ترقی یافتہ و ترقی پذیر زبانوں سے بصیرت مندانہ آگہی بھی تھی،ان کا دادیہالی خاندان دہلی سے تعلق رکھتا تھااور ننہیال حجازی تھا،ماں عربی النسل تھیں اور باپ ہندوستانی،عربی مادری زبان تھی اور اردو پدری زبان۔ ابتدائی عمر میں ان کی والدہ اور خالہ انھیں پڑھاتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتیں کہ ان کی زبان شستہ عربی سانچے میں ڈھل جائے اور ہندوستانی اثرسے محفوظ رہے؛ چنانچہ مولاناکے ابتدائی عملی دنوں میں ان کی اردوتحریر و تقریر میں عربی کے جدید ترین الفاظ و تعبیرات کی آمیزش اسی وجہ سے نظر آتی ہے،جس میں عموماً فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے اور اردو کے بہترین ادبی معیار کی ترجمان ہے۔
عربی زبان سے آگاہی تو پیدایشی تھی،البتہ انھوں نے اپنے پیچھے کوئی باقاعدہ عربی تصنیف نہیں چھوڑی ،جس سے اندازہ لگایاجاسکے کہ وہ عربی ادب میں کس مقام پر تھے،ہاں اس سلسلے میں ندوۃ العلما میں علامہ رشید رضاکی تقریر کی فی البدیہہ ترجمانی کے حوالے سے جو مشہور واقعہ ہے،اس سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ مولانا عربی ادب پر بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے۔اس کے علاوہ چوں کہ انھوں نے قاہرہ،بغداد ،دمشق وغیرہ کا سفر خاص حصولِ علم کے مقصدسے کیاتھا،اسی طرح اس زمانے کے مشہور علمی آلوسی خانوادہ کی مجلسوں سے استفادہ کیاتھا،نیز تاعمر وہ عربی کتابوں،اخبارات و رسائل کا پابندی سے مطالعہ کرتے رہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھلے ہی انھیں مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے عربی زبان میں تحریر و تقریر کا باقاعدہ موقع نہ ملا،مگر وہ اپنے زمانے کے عربی زبان و ادب سے بھرپور آگاہی رکھتے تھے۔عربی زبان و ادب سے طبعی انسیت ہی کانتیجہ تھاکہ مولانا نے 1923میں “الجامعة “کے نام سے ایک پندرہ روزہ رسالہ نکالا، جس کی نگرانی وہ خودکرتے تھے اورادارت مولاناعبدالرزاق ملیح آبادی کے سپردکی تھی، یہ رسالہ اس زمانے کے عالمِ عرب، بالخصوص حجازکے مخصوص احوال کے پیش نظرایک خاص مقصدکے تحت نکالاگیاتھا؛ چنانچہ جب وہ مقصدحاصل ہوگیا، تواسے بند کردیاگیا،اس رسالے کااداریہ “فاتحة الجامعة “کے عنوان سے مولاناخودلکھتے تھے، اس کے علاوہ “الحرية في الإسلام، تفسيرسورة التين، خطبة المؤتمرالوطني للجمعية الوطنية الكبرى “جیسے شہہ پارے مولاناکے قلم سے اسی رسالے میں شائع ہوئے، اس کےلیےمضامین ومشمولات کےانتخاب اوران کی صحت وغیرہ کامولاناحددرجہ اہتمام فرماتے تھےـ (ذکرآزاد،ص: 177-171، ط:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی 2006ء)
اسی طرح آزادی کے بعد ہندوستانی تہذیب و ثقافت و معاشرت اور علوم و افکار سے اہلِ عرب کو واقف کروانے کے مقصد سے ایک عربی رسالہ’’ثقافۃ الہند‘‘جاری کروایا،انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنزقائم کی گئی اوراسی کے تحت مولاناعبدالرزاق ملیح آبادی کے زیر ادارت اس رسالے کا 1950ء میں آغاز کیاگیاتھا،اس کے اجراکے سلسلے میں ملیح آبادی نے ’’ذکرِ آزاد‘‘ہی میں ایک دلچسپ واقعہ بھی لکھاہے۔ (ص:262-260)تب سے دوسال قبل تک یہ رسالہ پابندی سے شائع ہوتارہا ہے اور اس کی ایک وقیع تاریخ ہے،افسوس کی بات ہے کہ موجودہ بی جے پی حکومت نے اس اہم رسالے کی اشاعت روک دی ہے،یہ ایک قیمتی رسالہ تھا اور اس سے سراسر ہندوستان ہی کا فائدہ تھا،مگر غالباًحکومت نے مذہبی عصبیت کے زیراثر یہ سمجھاکہ اس سے تومسلمانوں کو فائدہ پہنچ رہاہے اوراسے بند کردیاگیاہے۔
مولاناآزادپرمتعدداہم کتابوں کے مصنف عبداللطیف اعظمی نے اپنے ایک مضمون میں ایک واقعہ لکھاہے کہ ڈاکٹرعبدالحلیم ندوی، جو “ثقافة الهند “کے شریک مدیرکے طورپرکام کرچکے ہیں،انھوں نے بسااوقات عرب مہمانوں کی ترجمانی کافریضہ بھی انجام دیاہے؛چنانچہ جب شاہ فیصل مرحوم اپنی ولی عہدی کے زمانے میں ہندوستان آئے، تویہاں ان کی ترجمانی کرنے والوں میں عبدالحلیم صاحب بھی تھے، جب مولاناآزادنے مہمان کے اعزازمیں حیدرآبادہاؤس میں ایٹ ہوم دیا، تواس وقت بھی وہ وہاں موجود تھے، ان کابیان ہے کہ معززمہمان کوکچھ ضروری کام تھا؛ اس لیے مولاناسے معذرت کرکے جاناچاہتے تھے، اس وقت انھوں نےاظہارِ معذرت کرتے ہوئے کچھ اس طرح کے الفاظ کہے “مکثناعندکم لوقت قلیل “یہ سن کرمولاناآزادنے برجستہ وبے ساختہ حسبِ ذیل شعرپڑھا:
قلیل منک یکفیني ولكن
قليلك لايقال له قليل
یہ سن کرمہمان کومسرت آمیزحیرت ہوئی ـ
(معترضینِ ابوالکلام آزاد، ص: 100،ط: علمی ادارہ، ذاکرنگر، نئی دہلی 1990)
انگریزی زبان سے دلچسپی تو قیامِ کلکتہ کے زمانے میں ابتدائی عمر میں ہی پیدا ہوگئی تھی،مولانا یوسف جعفری رنجور کی مدد سے اسے جلا حاصل ہوئی،انجیل کے فارسی اور اردو تراجم ان کے انگریزی متون کو سامنے رکھ کر پڑھے ،اس سے بھی انگریزی زبان میں پختگی پیدا ہوئی،اس حد تک کہ بہ آسانی انگریزی اخبارات پڑھنے لگے،اس کے بعد خود کو ’’بالخصوص تاریخ اور فلسفے کے مطالعے کے لیے وقف کردیا‘‘۔(مولاناابوالکلام آزاد،ہماری آزادی، ص:4، مترجم:شمیم حنفی،ط:اورینٹ لونگ مین 1991ء)پھر ایک زمانہ وہ آیا کہ اس زبان میں لکھی گئی مختلف الموضوع کتابیں پڑھتے،ان پر نوٹس لکھتے اورزبانی تبصرے بھی کرتے، راج گوپال اچاریہ کابیان ہے کہ:’’یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مولانا آزاد انتہائی مشکل انگریزی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا کرتے تھے‘‘۔(خلیق احمد نظامی،مآثرِابوالکلام آزاد، ص:9، ط:ادارۂ ادبیات دہلی1992ء)
گاندھی جی کے سکریٹری مہادیوڈیسائی نے اپنے ایک مضمون میں لکھاہے:
’’اگر چہ آپ انگریزی بہت کم بولتے ہیں ،مگر آپ کی لائبریری انگریزی اور فرانسیسی کتابوں سے بھری ہوئی ہے،آپ نے کئی انگریزی شعرا شکسپیئر، ورڈز ورتھ،شیلے اور بائرن کا مطالعہ کیاہے،گوئٹے،سپونواز،روسو،مارکس،ہیولاک ریلس،ڈیوماز،ہیوگو،ٹالسٹائی اور رسکن کو بار بارپڑھاہے‘‘۔(گاندھی جی جن سے رجوع کرتے تھے، مشمولہ: مولاناابوالکلام آزاداور تحریک آزادی ویکجہتی،ترتیب :خان عبدالودود خان، ص: ۲۱، ط: کتاب والاپہاڑی بھوجلہ ، دہلی، اگست 1983ء )
فارسی زبان وادب اور شاعری تو آپ کے رگ و پے میں پیوست تھی،فارسی اشعار کو اپنی تحریر و تقریر میں ایسی خوبی سے کھپاتے کہ معلوم ہوتا وہ شعر خاص اسی موقعے کے لیے کہاگیاہے۔سعید نفیسی فارسی کے جید عالم وفاضل تھے ،انھوں نے پہلی باروزارتِ تعلیم کی دعوت پر ہندوستان میں نومبر 1949ء سے لے کرفروری 1950ء تک کا عرصہ گزارااور اس دوران علی گڑھ،دہلی،لکھنؤ،الہ آباد ،بنارس ،پٹنہ،کلکتہ ،ناگپور ،حیدرآباد،مدراس ،ممبئی اور ترونت پورم کی یونیورسٹیز میں لیکچرزدیے (دوبارہ 1957ء میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طورپر بھی بلائے گئے تپے اور جب مولانا کا انتقال ہوا،تووہ علی گڑھ میں ہی تھے) وہ جب ہندوستان آئے ،توکچھ دن بعد مولاناسے ملاقات کا وقت لیا اور 14؍دسمبر کو دن کے بارہ بجے وزارتِ تعلیم کی آفس میں پہنچ گئے ،مولاناکے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ایک گھنٹے کی رہی ،وہ مختلف کتابوں کے واسطے سے مولاناکے بارے میں پہلے سے بہت کچھ جانتے تھے ،مگر اس ملاقات کے بعد خاص کر انھیں محسوس ہواکہ مولانادینیات کے جلیل القدر عالم ہیں اورعربی و فارسی ادب و شعر پرنکتہ ورانہ دست رکھتے ہیں ،اپنے ملاقات کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ :انھوں نے جس فصاحت و روانی سے فارسی میں گفتگو کی، اس سے اندازہ ہوا کہ وہ فارسی زبان پربھرپور قدرت رکھتے ہیں ‘‘پھروہ لکھتے ہیں کہ: مولانا کے ’’شدن‘‘کی جگہ’’گشتن‘‘کے افعال کے استعمال سے مجھے حیرت انگیز انکشاف ہواکہ وہ اس زبان کی تعبیرات اور الفاظ کے محلِ استعمال سے بھی کاملاًواقف ہیں،ایک واقعہ مثنوی مولانا روم سے ملاح اور نحوی والا مولانا کو سنایا،تومولانا ہنسنے لگے اور پھر انھوں نے مثنوی کے وہ سارے اشعار فی البدیہہ سنادیے،سعید نفیسی مولاناکی اس ذہانت پردم بخودرہ گئے، ان پر مولاناکی بلند قامتی کا غیر معمولی اثرقائم ہوگیا۔ ((Saeed Naficy:A Tribute from Iran,Maulana Abul Kalam Azad:A Memorial Volume,Edited by:Humayun Kabir,published by:Asia Publishing House,New Delhi,Page:65-66)
فرانسیسی زبان سے بھی اس حد تک آگاہی تھی کہ اس زبان کی کتابیں زیر مطالعہ رہتی تھیں ، جیسا کہ مہادیوڈیسائی کا اقتباس نقل کیاگیاہے۔ایک مرتبہ پروفیسر خورشید الاسلام کے ایک مضمون کے تعلق سے رشید احمد صدیقی کو لکھا:
’’بہرحال یہ مضمون دیکھ کر خوشی ہوئی،انھیں معلوم ہویانہ ہو؛لیکن انھوں نے ایک فرنچ اسکول کا تتبع کیاہے‘‘۔
مرزامحمد عسکری نے ایک بار عیسائیوں کی ایک مذہبی شخصیت میری میگڈیلین (Mary Magdalene)کے بارے میں مولانا سے دریافت کرلیا، تو انھوں نے فرنچ مؤرخ رینال اور دوسرے ادیبوں کے حوالے سے اس کے حالات اس برجستگی سے بیان کیے کہ وہ حیرت زدہ رہ گئے۔(مآثرمولاناابوالکلام آزاد،ص:10-11)
ان زبانوں کے علاوہ پڑھنے کی حد تک پنجابی زبان سے بھی واقف تھے ،کہ ’’وکیل‘‘کی ادارت کے زمانے میں پنجاب میں رہ چکے تھے اور بنگالی زبان بھی جانتے تھے؛کیوں کہ ابتدائی عمر کا ایک حصہ وہاں گزارچکے تھے، اس زبان کی ادبی اہمیت واحوال سے بھی اچھی طرح واقف تھے،البتہ ان دونوں زبانوں میں کبھی اظہارِ خیال نہیں کیا۔
ادبی ذوق:
انھوں نے اردو،عربی،فارسی و انگریزی زبانوں کا مطالعہ محض لسانی پس منظر میں نہیں کیاتھا؛بلکہ ان کے تہذیبی ، ثقافتی اور ادبی پہلوبھی ان کے پیش نظر تھے۔مولانااگر مذہبی علوم میں عرب علماومفکرین مثلا ابن قیم،ابن تیمیہ،شمس الائمہ سرخسی وغیرہ سے متاثر تھے اوران کے افکار و علوم کی ان پر چھاپ پائی جاتی تھی،توان کے جذبات کی دنیاپر بطور خاص فارسی شعرا مثلاً حافظ،عرفی،فیضی،کلیم اور بیدل وغیرہ کی حکمرانی تھی اور ان کا ادبی ذوق ان کی تحریروں میں خاص طورپر جھلکتا تھا۔مولاناکا ادبی معیار نہایت بلند و بالا تھا، اصغرگونڈوی کی’’سرودِزندگی‘‘کی تقریظ میں کہتے ہیں:
’’میری نگاہ نکتہ چینی میں کمی نہیں کرتی،میں معیار کی پستی پر کسی طرح اپنے آپ کو راضی نہیں کرسکتا‘‘۔(ایضا)
عربی میں شیخ آلوسی زادہ کو اپنا معیار مانتے تھے،فرماتے ہیں:’’میں نے علومِ عربیہ میں ان سے بڑھ کر کسی کو صاحبِ رسوخ و احاطہ نہیں پایا‘‘۔(کاروانِ خیال،ص:72،ط:مدینہ پریس ، بجنور1946ء)ان کی والدہ چوں کہ حجازی النسل تھیں؛اس لیے انھوں نے بچپن میں ہی عربی زبان کی تحصیل پر خاصا زور دیاتھااورتبھی انھیں ایسا محسوس ہونے لگاتھاکہ’’گویاہم اپنی مادری زبان پڑھ رہے ہیں‘‘۔(خودنوشت(ترتیب:مولاناعبدالرزاق ملیح آبادی)ص:59،ط:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی 2002ء)
عربی سے یہ غیر معمولی انسیت بہ تدریج بڑھتی گئی،حتی کہ شیخ آلوسی زادہ کی بہ دولت اس انسیت میں تحقیق و تجسس کے جذبے کا بھی اضافہ ہوگیااوربعدمیں اردوکے ساتھ عربی صحافت میں بھی ہاتھ آزمائےـ
مولاناکوفارسی زبان و ادب کا ذوق والدسے ورثے میں ملاتھا،پھر خاص استفادہ مرزامحمد حسین طبی سے کیا،فرماتے ہیں’’فارسی تحریر میں تومیں نے ان سے بہتر لکھنے والا شخص کوئی نہیں دیکھا،ان سے مجھ کو بہت فائدہ ہوا تھا‘‘۔(خودنوشت،ص:161)
اس ذوق کو مزید تابانی علامہ شبلی نعمانی کی صحبت میں حاصل ہوئی،لکھتے ہیں:
’’شاعری کے ذوق و فہم کا جواعلیٰ مرتبہ ان کے(شبلی کے)حصے میں آیاتھا،اس کی تو نظیر ملنی دشوارہے،ہندوستان میں فارسی شاعری غالب پر نہیں ، ان (شبلی)پر ختم ہوئی،غزل میں تو یقیناً مولانا کے یہاں غالب سے کہیں زیادہ سرخوشی و کیفیت ہے اور حقائق وواردات کے لحاظ سے تو مقام ہی دوسرا ہے‘‘۔ (کاروانِ خیال،ص:94-95)
ان کے علاوہ انگریزی و فرانسیسی زبانوں کے حوالے سے مولاناکی آگاہی کاذکرآچکاہے،ان زبانوں میں بھی مولاناکااپنا ادبی ذوق تھااوراپنے خطوط میں متعدد مقامات پرانھوں نے انگریزی شاعری کے حوالے استعمال کیے ہیں۔
اسلوبِ نگارش:
مولاناکے اسلوبِ نگارش کی شناخت اور تفہیم کے لیے اس کے ارتقائی مراحل سے واقفیت ضروری ہے،بہت سے لوگوں نے مولاناکی کسی خاص تحریر یا تصنیف یا مثلاً’’ الہلال‘‘ و’’ البلاغ‘‘ کی نثرکے حوالے سے ہی ان کا اسلوب متعین کرنے کی کوشش کی اورپھر ان سے غلطیاں سرزدہوئی ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ مولانا کے اسلوبِ نگارش میں مرحلہ وار تبدیلیاں پیداہوتی رہی ہیں اور بارہ سال کی عمر میں ’’لسان الصدق‘‘کی ادارت کرنے والا ا بوالکلام آزاد’’الہلال ‘‘و ’’البلاغ‘‘ تک پہنچ کر کچھ سے کچھ ہوگیاتھا،جبکہ تذکرہ و غبارِ خاطرکا اسلوبِ تحریراس سے بھی کچھ الگ آہنگ لیے ہوئے تھا،مولانا کے اسلوبِ تحریر کے حوالے سے ’’قولِ فیصل‘‘کوبھی خصوصی اہمیت حاصل ہے،یہ وہ تحریر ہے،جسے مولانا نے 1922ء میں سرکاری استغاثہ کے جواب میں لکھ کر عدالت کو سنایاتھا،اس مقدمے میں مولاناکو ایک سال کی سزاہوئی تھی،اس تحریر کی اپنی ایک فضاہے اور اندازِتحریر میں ایک قسم کی انفرادیت پائی جاتی ہے،اس میں مولانا نے جہاں اپنے جرم کا اعتراف کیاہے،وہیں تاریخ کے عظیم مفکرین ومصلحین کی حق پرستی و بے باکی کے حوالوں سے اپنے موقف کومبرہن بھی کیا ہے،اس میں مولانا نے اسلام کے حریت پسندانہ نقطۂ نظر کوبھی دلائل و براہین کی روشنی میں بیان کیا ہے، اسی کو پڑھ کر مہاتما گاندھی نے ’’ینگ انڈیا‘‘میں مولانا کے اس بیان کوGreat Statementقرار دیاتھا،اس بیان میں سادہ الفاظ وسلیس خطابی اسلوب میں اعتراف و انکار کا دلچسپ سٹائل اختیار کیاگیا ہے۔
بہر کیف مولاناکے نثری اسلوب کی مختلف منزلیں ہیں اور ان میں سے ہرایک کی انفرادی خصوصیات ہیں ،جنھیں ادب و انشاکے ماہرین و اساتذہ نے نہ صرف تسلیم کیا ہے؛ بلکہ اس تنوع کو مولانا کے کمالات میں شامل کیاہے۔بقول رشید احمد صدیقی :’’الہلال میں دعوتِ دارورسن ہے ،تذکرہ میں دعوتِ دید و شنید، غبارِ خاطر میں دعوتِ نوش ونشید اور تفسیرِ قرآن کا لب و لہجہ علمی اور عالمانہ ہے ‘‘۔(آئینۂ ابوالکلام آزاد،مرتب:عتیق صدیقی،ص:71،ط:انجمن ترقی اردو ہند1976ء )مولاناکی نثر کو پڑھ کر وقت کے کئی بڑے علماو مفکرین اور دانشوروں کے شعور میں ہیجان برپاہوا اور ایک پوری نسل ان کی تحریرسے متاثر ہوئی،مولاناکے قلم نے مسلمانوں کوان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور انہی کی دعوت پر اسلامیانِ ہند نے تحریکِ آزادی میں واپسی کی،ورنہ1857ء کی ناکامی کے بعد مسلمان ہر قسم کی جدوجہد سے تقریباً کنارہ کش ہوچکے تھے،مولاناکے اسلوبِ تحریرکا کمال اور ان کی نثرکے ادبی و فنی محاسن و دلکشی کا اعتراف کرتے ہوئے مولانا حسرت موہانی نے کہاتھا:
جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظمِ حسرت میں وہ مزا نہ رہا
مولانا محمد علی جوہر اور مولاناآزاد کی سیاست میں بعدالمشرقین تھا،مگر محمد علی جوہر کا کہنا تھا:
’’میں نے لیڈری ابوالکلام کی نثر اور اقبال کی شاعری سے سیکھی ہے‘‘۔(آغاشورش کاشمیری ، ابوالکلام آزاد:سوانح وافکار،ص:413،ط:الفیصل ناشران و تاجرانِ کتب ، لاہور 2009ء)
سجادانصاری ایک صاحبِ طرزنثر نگار تھے،انھوں نے ایک موقع پراپنے تاثرات میں لکھا:’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ اگر قرآن نازل نہ کیاگیا ہوتا،تو مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر اس کے لیے منتخب کی جاتی یا اقبال کی نظم‘‘۔(آئینۂ ابوالکلام آزاد،ص:15)
پنجاب کے مشہور ریڈیائی ڈرامہ نگار رفیع انور نے اپنے ایک مضمون میں لکھا:
’’ان کے رشحاتِ قلم پر سیکڑوں اسپنسراور ہزاروں میکالے بے دریغ نچھاورکیے جاسکتے ہیں‘‘۔(ابوالکلام اور اردو ادب، مشمولہ: ابوالکلام آزاد،مرتب:عبداللہ بٹ ،ص:134، ط: قومی کتب خانہ لاہور،اگست1943ء)
اسی مضمون میں ایک جگہ مولاناکے دوسرے دورکی نثرکے متعلق لکھاہے کہ:
’’وہ الفاظ اور فقروں کی نشست و برخاست کچھ اس طرح کرتے تھے کہ سامع یا قاری کا ذہن ودماغ پرسش کی بجاے پرستش کی طرف مائل ہوجاتاتھا‘‘۔(ص:133)
سید سلیمان ندوی اردونثرکے ارتقائی مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’سرسید کی عبارت کی ناہمواری اور پھیکے پن کو حالی نے اپنی سادگی و پرکاری سے دورکیا،محمد حسین آزادنے اس کو رنگینی و دلکشی عطاکی،ڈپٹی نذیر احمد نے برجستگی اور صاف گوئی دی،شبلی نے متانت،ثقاہت اورلطافت بخشی؛لیکن اردو کے اسلوبِ بیان میں شوکت و حشمت اور عظمت و جلال کی جو کمی تھی،اس کو مولانا آزاد نے’’ الہلال‘‘ کے ذریعے پورا کیا،’’الہلال‘‘ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی،دینی اور سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑتھا، مولانا نے الہلال کی معرفت مسلمانوں کی دینی محبت،ملی غیرت اور قومی بصیرت کا مینار تیارکیا،پھر اس کی چوٹی پر چڑھ کے ملکی سیاست اور وطن کی آزادی کا صور پھونکا،جس نے انگریزوں کے تعمیر کردہ طلائی قصرکی بنیاد ہلادی‘‘۔(ابوالکلام آزاد:سوانح و افکار،ص:414)
اردوکے معروف نقاد پروفیسر عبدالمغنی نے مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوبِ نگارش کابڑی گہرائی،دیدہ ریزی اور بصیرت مندی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے، انھوں نے اپنی تحقیق کی روشنی میں مولانا کے اسلوبِ نگارش کے مختلف محاسن و امتیازات کی نشان دہی کرتے ہوئے اسلوبِ آزاد کے ارتقائی سفرکوبیان کیا ہے،ساتھ ہی مختلف استادنثرنگاروں سرسید، حالی، شبلی ابوالاعلیٰ مودودی وغیرہ سے نثرِ آزاد کا تقابل کرتے ہوئے اس کی خصوصیات پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے،وہ لکھتے ہیں:
’’مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبیات کا سرمایہ ان کی نثری تصانیف ہیں،خواہ وہ اداریوں کی صورت میں ہوں یا تبصروں، مقالوں، خطبوں اور کتابوں کی شکل میں، مولاناایک صحافی بھی تھے،عالمِ دین بھی اور سیاست داں بھی،ان کی رنگارنگ شخصیت کی ان تمام جہتوں کا اظہار مخصوص ادبی ذوق و شوق کے ساتھ ہوا ہے، وہ بلاشبہ اردو کے عظیم ترین نثاروں میں سے ایک ہیں اور صاحبِ طرز ادیبوں کے درمیان ان کا ایک خاص مقام ہے،ان کے اسلوبِ نگارش کا پرتواردو کے ادیبوں کی ایک پوری نسل پر پڑاہے اور اس کے اثرات بہت وسیع ہیں، ایک تاریخی مرحلے پر ابوالکلام کی نثرنے اردو نثرکے ارتقامیں ایک سنگِ میل نصب کیا ہے، جسے نشانِ منزل بھی سمجھا جاسکتا ہے‘‘۔(ابوالکلام آزاد کا اسلوبِ نگارش،ص:6، ط: ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ1991ء)
شکیل الرحمن کا ایک مضمون’’غبارِ خاطر کی رومانیت‘‘بھی مولانا کے اسلوبِ تحریر اور ادبی ذوق کے ایک اچھوتے گوشے پر روشنی ڈالتا ہے،اس میں مختلف اقتباسات کے ذریعے مولاناکے لطیف خیالات و افکار اور ان کے اظہار کے دلچسپ اسالیب پر اچھی گفتگوکی گئی ہے۔(دیکھیے:ابوالکلام آزاد،از:شکیل الرحمن،ط:قاضی پبلشرزدہلی1998ء)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مطالعۂ امام الہند: چنداہم گوشے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں