168

مطالعۂ امام الہند:چند اہم گوشے

نایاب حسن
(پہلی قسط)
بیسویں صدی کے ہندوستان کی تاریخ میں کئی ایسی شخصیات نظر آتی ہیں،جنھوں نے اپنے علم و عمل اور فکر و نظر کی تابانی سے نہ صرف اس ملک کے چپے چپے کو منور کیا؛بلکہ ان کے افکار کی گونج سارے عالم میں سنی گئی اور ان کی انفرادیت و آفاقیت کو ہرجگہ محسوس اور تسلیم کیاگیا،ایسی ہی نابغہ شخصیات میں سے ایک امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد بھی ہیں،ان کی شخصیت کی اتنی پرتیں ہیں اور باری تعالیٰ نے ان کے اندر اتنی ساری خوبیوں کو جمع کردیاتھا کہ ان سب کا صحیح طورسے جائزہ لینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔مولانا کی شخصیت میں علم و فکر کی بلندی،جہدوعمل کا تب و تاب،ادب و فن کا جمال،انشاوخطابت کا کمال، ہمہ گیرسیاسی بصیرت،اخلاق کی پاکیزگی و لطافت اور عزم و ارادے کی لازوال قوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔انھوں نے عمرکی بالکل ابتدائی منزل میں اپنا میدانِ عمل منتخب کرلیاتھا اورپھر تاحیات پیچھے مڑکرنہیں دیکھا،جس شعبے میں قدم ڈالا،اپنی انفرادیت قائم کی اور جس طرف کو نکل گئے ،بھیڑمیں امتیازی شناخت قائم کی۔صحافت کو اختیار کیا،تواس میں حق نگاری و بے باکی کی نئی بنیاد اٹھائی،قرآنی علوم کی طرف متوجہ ہوئے تو ’’ترجمان القرآن‘‘کی شکل میں اردو کتب خانے کو ایک منفرد ،جامع اور قیمتی ترجمہ و تفسیرِقرآن سے ثروت مند بنایا،مذہبی موضوعات پر بولتے یا لکھتے ،توتحقیق و تدقیق کا دریا بہا دیتے، خطابت کے اسٹیج پر جلوہ فگن ہوتے،تو سامعین پر سحر طاری کردیتے،سیاست کے میدان میں آئے ،تو محض 35؍ سال کی عمر میں متحدہ ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے صدر بنائے گئے ،جدجہدِ آزادی میں سربراہانہ طورپر حصہ لیا،جیل گئے،نظربندیاں سہیں،پابندیوں کو جھیلا، پھر ہندومسلم اتحاد کے قیام وبقا کے مقصد سے متحدہ قومی نظریہ کی تبلیغ و تلقین کی پاداش میں اپنوں اور غیروں کے وارسہے،مگر لمحہ بھرکے لیے بھی اپنے اعتقاد وفکر اور طرزِ عمل میں ذرا بھی لغزش نہ آنے دی،وہ اس سے بہت بلند تھے کہ اپنی ذات پر ہونے والے زبانی یاتحریری حملوں کاکوئی جواب دیں،دراصل خود اپنی زبان میں وہ’’بے پناہ‘‘ ہوگئے تھے ،آزادہندوستان کی پارلیمنٹ میں انھوں نے ایک مرتبہ کہاتھا:
’’میری پوری زندگی ایک کھلی کتاب ہے،میں بے غرض ہوں اور جو بے غرض ہوتا ہے،وہ بے پناہ ہوجاتا ہے،آپ سمجھے بے پناہ کون ہوتا ہے؟نہیں،آپ نہیں سمجھے،میں بتاؤں؟بے پناہ وہ ہوتا ہے ،جسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی‘‘۔(1)
اور واقعہ بھی یہی تھاکہ آزاد کی بلندوبالاشخصیت کوبونا ثابت کرنے میں بہت سے لوگوں نے اپنی توانائیاں صرف کیں،مگر وہ خود اپنی کوتاہ قامتی ہی ثابت کر سکے؛کیوں کہ بقول رشید احمد صدیقی ’’مولانا اتنے بڑے تھے کہ وہ انتقام لینے میں اپنی توہین سمجھتے تھے‘‘۔(2) مالک رام نے ایک واقعہ تحریر کیاہے کہ جب وہ 1952ء میں مصر سے ہندوستان واپسی کے دوران دو تین دن کے لیے پاکستان میں قیام پذیر رہے،تواس دوران ماہرالقادری نے انھیں اپنے رسالہ ’’فاران‘‘کی کچھ جلدیں بطورہدیہ پیش کیں اورجنوری1952ء کے شمارے میں شامل ایک مضمون کا مطالعہ کرنے کی خاص تلقین کی،اس مضمون کا عنوان تھا ’’پردہ اٹھتاہے‘‘اوراس میں مولاناکے وطن،تعلیم،بیرونی اسفار وغیرہ کے بارے میں نہایت تندوترش تنقید کی گئی تھی،مالک رام نے دہلی پہنچ کر مولانا کی ذاتی تفصیلات کی جانکاری چاہی اور کہاکہ ایک مضمون کا جواب لکھناہے،اس پر مولانانے جوجواب دیا،وہ ان کی فطرت کا حصہ تھااور اس سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ مولاناآزاد ذاتی معاندین وناقدین کے بارے میں کیسا رویہ رکھتے تھے، مولانانے فرمایا:
’’کیا آپ کے پاس کرنے کوکوئی اورکام نہیں کہ آپ کو لوگوں کے اعتراضات کا جواب لکھنے کی سوجھی ہے ؟یہ بالکل فضول اور بیکارکام ہے ،اگر معترض نے کوئی صحیح بات لکھی ہے ،تواپنی اصلاح کرلیجیے اور اگر غلط لکھاہے ،تواس سے درگزرکیجیے ،اس سے آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا اور تلخی میں اضافہ نہیں ہوگا ،اس سے جو وقت بچے گا،اس میں کوئی اور مفید کام کیجیے ‘‘۔(3)
نئے ہندوستان کی تعمیرمیں مولانا آزاد کی حصے داری اتنی ہے کہ اس پر مستقل کتابیں تصنیف کی جاسکتی ہیں،ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق جواہر لال نہرونے انھیں وزارتِ تعلیم کا قلمدان سونپااور مولانا نے اپنی وسعتِ نظر،علمی انفرادیت ،سائنسی بصیرت اور تہذیبی و ثقافتی آگاہی و حرکیت کی بہ دولت ہندوستان کو علوم و فنون اور ثقافت و السنہ کے باب میں کئی اہم ادارے دیے ،ان کا خاکہ مرتب کیا،نصاب و نظام طے کیے اور انھیں اس ملک کے لیے مفید سے مفید تربنانے کی ہر تدبیر کی ۔
علم و نظرکا جلوۂ کامل:
مولاناکی علمی گیرائی ووسعت ایسی تھی کہ ہمہ شما اس کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگاسکتے،حقیقت یہ ہے کہ وہ جس عہد میں پائے گئے،وہ ان کے جیسے نابغہ انسان کے لیے بڑی حد تک ناموزوں تھا؛اس لیے ان کے تبحر علمی کا صحیح ادراک بھی نہیں کیاجاسکا۔اس میں خود ان کی اپنی مصروفیات کی رنگارنگی کابھی دخل تھا،کہ اگر وہ سیاسی آبلہ پائیوں سے کنارہ کش ہوکر محض علم وتحقیق کے شعبے کوعملی میدان کے طورپر منتخب کرتے ،توان کے نتائجِ فکر کی کمیت و کیفیت کا رنگ کچھ الگ ہی ہوتا۔ خود مولانااپنی صلاحیتوں اور اپنے عہد میں زبردست بعدمحسوس کرتے تھے،فرماتے ہیں:
’’میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ میں اس عہد اور محل کاآدمی نہ تھا،مگراس کے حوالے کردیاگیا‘‘۔(4)
کبھی بے اختیارانہ انداز میں کہتے:
’’کس سے کہیے اور کون جانتاہے کہ اس مشتِ خاک کے ساتھ کیاکیاچیزیں ہیں کہ سپردِ خاک ہوں گی،فیضانِ الہی نے اپنے فضلِ مخصوص سے علوم و معارف کے کیسے کیسے دروازے اس عاجز پر کھولے تھے،جو بندکے بند رہ جائیں گے:
تونظیری زفلک آمدہ بودی چومسیح
بازپس رفتی وکس قدرتونہ شناخت دریغ
(5)
اسی حقیقت کاکچھ ادراک نیاز فتحپوری کوہوا،توانھوں نے کہا:
’’ہم نے مولاناکواتناہی جا نا،جتنا وہ چاہتے تھے کہ ہم جانیں اوران کی ہستی کے بہت سے امکانات دنیاپر ظاہر نہ ہوسکے،جس حد تک میرے ذاتی ربط اور مطالعہ کاتعلق ہے،میں کہہ سکتاہوں کہ اگر ان کی زندگی ایک خاص سانچے میں ڈھل کر وہ نہ ہوجاتی،جوہمارے سامنے آئی،تووہ خداجانے کیاکیاہوسکتے تھے، اگر وہ عربی شاعری کی طرف توجہ کرتے تو متنبی اور بدیع الزماں ہوتے،اگر وہ محض دینی و مذہبی اصلاح اپنا شعار بنالیتے تواس عہد کے ابن تیمیہ ہوتے،اگر محض علومِ حکمیہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیتے،توابن رشد اور ابن طفیل سے کم درجہ کے متکلم اور فیلسوف نہ ہوتے،اگر وہ فارسی شعروادب کی طرف متوجہ ہوتے،تو عرفی ونظیری کی صف میں انھیں جگہ ملتی،اگر وہ تصوف واصلاحِ اخلاق کی طرف مائل ہوتے،تو غزالی اور رومی سے کم نہ ہوتے اور اگر وہ مسلکِ اعتزال اختیار کرتے،تو دوسرے واصل ابن عطا ہوتے‘‘۔(6)
نیازفتحپوری کے اس تاثر میں مبالغے کی آمیزش نہیں ہے،لگ بھگ اسی قسم کے تاثرات ان تمام لوگوں کے ہیں،جنھوں نے مولانا آزاد کودیکھا،سنایا ان کی صحبتِ علم و ادب سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل کی ہے۔ان کی مجلس میں بیٹھنے والاشخص جس علمی یاعملی شعبے سے تعلق رکھتا،مولانااسے اسی شعبے سے متعلق ایسی ایسی باریکیوں سے روشناس کراتے کہ وہ عش عش کرنے لگتا۔
مولاناکے علمی تبحر و بے کرانی کا اعتراف تو سبھوں نے کیاہے ،البتہ ان کی شخصیت،حیات اور علم وفکر کا جائزہ لینے والوں نے اپنے اپنے علم و ذوق کے مطابق ان کے قدوقامت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے،کسی نے انھیں دینیات کا عالم وفاضلِ اجل سمجھا،توکسی نے اردو صحافت میں انقلابِ نوبرپاکرنے کے حوالے سے ان کی انفرادیت بیان کی،کسی نے انھیں ایک باکمال انشاپرداز کے طورپر دیکھا،تو کسی نے ایک دوربیں سیاست داں مانانااور جانا،آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو،جوان چند خوش نصیب نفوس میں سے تھے،جنھیں آزاد کے سفر و حضر کو نہایت قریب سے دیکھنے ؛بلکہ ان گھڑیوں کوان کے ساتھ جینے کے مواقع نصیب ہوئے،وہ انھیں فرانسیسی قاموسیوں (Encyclopaedics)کاہم رتبہ قرار دیتے تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا کی ذات میں علم و فکر کی نہایت وسیع کائنات آباد تھی اوروہ اپنے حسبِ مرضی جب،جہاں جس شخص کے سامنے یاجس محفل میں چاہتے اپنے کمال کی ایک پرت کھولتے اور باقی حصے پردۂ خفامیں ہی رکھتے،وہ دوسروں کواس کا شاذہی کوئی موقع دیتے تھے کہ وہ ان کے ذہنی،علمی یا فکری پس منظر میں جھانک سکیں،ہاں خودجب موڈ میں ہوتے اور بہرۂ خطابت کھل جاتا ،تو پھر ’’وہ کہیں اور سناکرے کوئی‘‘کا منظرپیدا ہوجاتا۔ مولانادریابادی کاخیال تھا:
’’خدامعلوم کتنے مختلف علوم اور متعدد فنون کے خزانے دماغ میں جمع ہوگئے تھے اور ہر وقت مستحضر،طب ہوکہ الٰہیات،فقہ ہو یا کلام،شعرو ادب ہو یا موسیقی، تاریخ ہوکہ سیاست،جس فن سے متعلق جوبھی موضوع ہو،بس گفتگو چھیڑنے کی دیر تھی،تقریر بھی ایسی دل آویز،مربوط کہ فصاحت وبلاغت بلائیں لیتی جارہی ہیں‘‘۔(7)
البتہ عام طورپر مولانااپنی علمیت کے مظاہرے سے پرہیز کرتے تھے،اس کی وجہ عموماً مخاطب کے ذہنی مبلغ کی فروتری ہوتی تھی،مولانا حبیب الرحمن شیروانی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’اب برسوں گزرجاتے ہیں ،ایک متنفس بھی میسر نہیں آتا،جس سے دوگھڑی بیٹھ کر اپنے ذوق و طبیعت کی چار باتیں کرلوں‘‘۔(8)
ہاں جب لکھنے بیٹھتے،تو پھر ان کے قلم کی روانی دیدنی ہوتی،انھوں نے اپنے پیچھے جو تصنیفات چھوڑی ہیں،وہ کمیت کے اعتبار سے گوبہت زیادہ نہیں،مگر ان کی کیفیت دیکھیے،تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص اپنے خطوط میں بھی علوم و افکار کے دریا بہاسکتاتھا، مخصوص لوگوں کا تذکرہ وسوانح لکھتے ہوئے تاریخ کے بے شمار عظیم لوگوں کی زندگیوں کے کارناموں پر روشنی ڈال سکتا تھااور تفسیر قرآن کے ضمن میں کلامِ الٰہی کی معجز نمائی و یکتائی کی توضیح کرتے ہوئے قرآنی علوم و معانی کے بے شمار ایسے درکھول سکتا تھا،جہاں تک اگلے پچھلے علماے تفسیر میں سے بہتیرے نہیں پہنچ پائے۔
شوقِ مطالعہ،بے مثال ذہانت:
مولانا کے اس تبحرِ علمی کی وجہ ان کا بے پناہ شوقِ مطالعہ تھا،وہ ایک قومی سطح کے سیاسی لیڈر اور کانگریس جیسی جماعت کے صدرہونے کے باوجود عموماً مجمعوں سے کنارہ کش رہتے اور تنہائی میں ان کا مشغلہ مطالعۂ کتب ہوتا تھا،جب سے ہوش و آگہی کی آنکھ کھولی ،تب سے لے کر آخری دم تک مطالعۂ کتب ان کا شوق بھی تھا اور مجبوری بھی،وہ اپنی اس عادت سے نہ حضر میں بازآئے نہ سفر میں ،حتی کہ قید و بند کے عرصے میں بھی وہ اپنے ایک دوسرے محبوب شغل (سگریٹ نوشی)سے عارضی طورپر توبہ توکرلیتے تھے،مگر کتابوں کے بغیر وہ کسی طور گزارہ نہ کر سکتے تھے،ان کی سب سے بڑی خواہش’’فراغتے وکتابے و گوشۂ چمنے‘‘ ہوتی اور وہ اکثر کلیم کاشانی کا یہ شعر پڑھاکرتے:
ہیچ گہ ذوقِ طلب ازجستجوبازم نہ داشت
دانہ می چیدم دراں روزے کہ خرمن داشتم
بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہی کتب بینی کا ایسا چسکہ پڑچکاتھا کہ گھر والوں سے چھپ چھپاکر کسی گوشے میں کتاب لیے مطالعے میں مصروف رہتے (9) ان کے والد مولانا خیر الدین شوقِ مطالعہ کی اس فراوانی سے خوش ہوتے،مگر اس حد تک مبالغے سے انھیں تشویش بھی ہوتی اور فرماتے کہ ’’یہ لڑکا اپنی تندرستی بگاڑ لے گا‘‘۔عمر کے آخری زمانے میں اپنے والد کی اس بات کو یاد کرتے ہوئے مولانا فرماتے :
’’معلوم نہیں جسم کی تندرستی بگڑی یا سنوری،مگر دل کو تو ایسا روگ لگ گیا کہ پھر کبھی نہ پنپ سکا:
کہ گفتہ بودکہ دردش دواپذیر مباد‘‘
(10)
کثرتِ مطالعہ کے ساتھ ذہانت کی بے مثال دولت بھی پائی تھی،سو ان دونوں خصوصیات نے مل کر ان کی وسعتِ علمی کوکہیں سے کہیں پہنچادیاتھا،خلیق احمد نظامی کے بہ قول ’’ان کے حافظے میں امام شافعی کے حافظے کی جھلک نظر آتی تھی‘‘۔(11)ور خود مولانا فرماتے ہیں:
’’تیس چالیس برس پیشتر کے مطالعے کے نقوش کبھی اچانک اس طرح ابھر آئیں گے کہ معلوم ہوگا ابھی ابھی کتاب دیکھ کراٹھاہوں،مضمون کے ساتھ کتاب یاد آجاتی ہے،کتاب کے ساتھ جلد،جلد کے ساتھ صفحہ،صفحہ کے ساتھ یہ تعین کہ مضمون ابتدائی سطروں میں تھایا درمیانی سطروں میں‘‘۔(12)
’’طبیعت طالب علمی کے زمانے میں اس بات کی خوگر ہوگئی تھی کہ جوکتاب بھی ہاتھ آئی، اس پر ایک نظر ڈالی اور تمام مطالب پر عبور ہوگیا‘‘۔(13)
نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ:
’’ہر روز اپنے آپ کو عالمِ معانی کے ایک نئے مقام پر پاتا ہوں اور ہر مقام کی کرشمہ سنجیاں پچھلی منزلوں کی جلوہ طرازیوں کو ماند کردیتی ہیں‘‘۔(14)
مولاناکی ان باتوں کو خودستائی یا تعلّی پر محمول کرنے کی بجاے بیانِ حقیقت پر محمول کرناچاہیے؛کیوں کہ خارج میں ہمارے پاس ان کی تصانیف کی شکل میں ان کے بے مثال حافظے پرزندہ شواہدموجودہیں،اس کے علاوہ جن لوگوں نے مولانا کی صحبت میں عمر کاکوئی حصہ گزارا،انھوں نے بھی ان کی بے مثال ذکاوت و استحضارِ ذہنی اورمعلومات کی فراوانی کی شہادت منہ بھر بھر کر دی ہے،اسی طرح مولانانے مذہب،فلسفہ،تاریخ و ادب وغیرہ کی مختلف اردو، فارسی، عربی و انگریزی کتب کے مطالعے کے دوران ان کتا بوں پر جو حاشیے تحریر کیے ہیں،وہ بھی ان کے تبحرِ علمی،وسعتِ مطالعہ اور دقتِ نظرپر شاہد عدل ہیں،ان حواشی کو سید مسیح الحسن نے ’’حواشیِ ابوالکلام آزاد‘‘کے نام سے جمع کردیاہے ،یہ کتاب پہلی بار آزاد صدی کے موقعے پر1988ء میں شائع ہوئی تھی،پونے چھ سوصفحات پر مشتمل ہے اوراس کے مطالعے سے مولانا آزاد کے علم و مطالعہ کی ہمہ گیری اور بھی روشن ہوکر سامنے آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں