77

مطالعۂ امام الہند:چند اہم گوشے

(تیسری قسط)
نایاب حسن
قرآنی بصیرت:
مولانا کا خاندانی پس منظرخالص مذہبی و علمی تھا،والدایک عالم ہونے کے ساتھ اپنے وقت کے مشہور صوفی و پیر بھی تھے،جبکہ والدہ حجازی النسل تھیں اور علم و نظرکے اس مقام پر تھیں کہ ابتداء اً عربی زبان و دینیات کی تعلیم مولانانے اپنی والدہ و خالہ سے ہی حاصل کی،حتی کہ دینیات و علومِ عربیہ کا مکمل نصاب بھی مولانا نے کسی مخصوص دارالعلوم میں پوراکرنے کی بجاے اپنے والدین اور چند دیگر اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذتہہ کرکے کیا،عربی زبان سے انسیت بالکل بچپن میں ہوگئی تھی ،کہ یہ ان کی مادری زبان تھی؛چنانچہ قرآن کریم سے تعلق بھی اسی زمانے میں پیدا ہوا،مولانانے اپنی عملی زندگی کی شروعات بہ ظاہر صحافت سے کی،مگر یہ صحافت معروف معنوں میں صحافت نہ تھی؛بلکہ یہ فی الحقیقت مسلمانانِ ہند کے لیے دعوت الی القرآن اور جرسِ بیداری تھا،ابتدا میں یہ رنگ زیادہ واضح نہ تھا،مگر1912ء میں’’ الہلال ‘‘نے اسلامیانِ ہند کوجس بلندآہنگ،پرشوکت اور باوقارقرآنی لب و لہجے میں مخاطب کیا،اس سے مولانا آزاد کی رفاقتِ قرآنی کے مختلف پہلو آشکار ہوتے گئے،بڑے غور وفکر اور تدبر کے بعد مولانا کویہ احساس ہواکہ ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ انھیں قرآن کریم کی طرف بلایا جائے اور اس میں تفکر و تدبر کی دعوت دی جائے،اسی ضرورت کو محسوس کرکے ’’الہلال ‘‘اور پھر’’ البلاغ‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی اوراس کے ساتھ قرآن پاک میں گہرے غور و خوض کا ان کا عمل بھی مسلسل جاری رہا،قرآن کریم سے مولانا کی رفاقت اور غیر معمولی انسیت ؛بلکہ کلامِ الہی سے ان کابے مثال شغف اس مقام پر پہنچ گیا تھا کہ وقت بے وقت قرآن کریم کو اٹھالیتے اور جھو م جھوم کر پڑھنے لگتے،بسااوقات ایک ہی آیت کو کئی بار پڑھتے اور ہر بار آواز کے ساتھ ان کی وضعِ نشست بھی بدل جاتی تھی۔(مولاناسعید احمد اکبرآبادی،مولاناابوالکلام آزاد:سیرت و شخصیت اور علمی و عملی کارنامے،ترتیب:ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہاں پوری،ص:83،ط:مولانا سعید احمد اکبرآبادی اکیڈمی،دسمبر1986ء)
1930ء میں ’’ترجمان القرآن‘‘ کی شکل میں مولاناکی بصیرت ورفاقتِ قرآنی کے قیمتی نتائج کاپہلی بارباضابطہ ظہور ہوا،اس کی پہلی جلد سورۂ انعام تک کے ترجمہ وتفسیر پر مشتمل ہے اور دوسری جلد سورۂ اعراف سے سورۂ مومنون تک ،دوسری جلد کی اشاعت پہلی بار 1936ء میں ہوئی تھی،ترجمان کی تسوید و اشاعت کئی مرحلوں سے گزری اور مولانا کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انھیں اس سلسلے میں کئی مشکلات سے گزرناپڑا،مگر چوں کہ وہ تمام تر عوائق و موانع کے باوصف قرآنی علوم و تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ کواپنا فریضہ سمجھتے تھے، سوترجمان القرآن بہر حال شائع ہوکر رہی،اگر چہ یہ ترجمہ و تفسیر بھی مکمل نہ ہوسکی اور سورۃ المؤمنون تک ہی کام ہوپایا،مگر جتنا بھی ہوا،وہ اپنے آپ میں بے مثال اور لازوال ثابت ہوا،مولانانے اپنے پیشِ نظر قرآن کے علوم و معارف کی توضیح وتبیین کے ساتھ اس کی اصلاحِ احوال و اعمال و افکارکی دعوت کے پہلو کو زیادہ پیشِ نظر رکھا؛کیوں کہ حالات کا تقاضابھی یہی تھا اور قرآن اپنے بارے میں بارباریہی کہتابھی ہے کہ وہ نورِمبین ہے،وہ سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتاہے ،اس میں تمام انسانیت کے لیے دعوت و پیامِ نجات ہے وغیرہ،مولانا نے ترجمان میں اپنے مخصوص پر شوکت اسلوب میں قرآن کے اس دعوتی پہلو کو آشکار کرنے پر زیادہ توجہ صرف کی،جو یقیناً اس وقت کے عمومی روایتی ماحول میں ایک نیاساتفسیری منہج تھا،اس نے یکلخت لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ، اشاعت کے بعد علمی حلقوں میں ترجمان القرآن کی دھوم مچ گئی،لوگوں نے عام طورپر اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور شوق کی نگاہوں سے دیکھا، علما و مفکرین اور دانشوران ؛تمام تر طبقات میں مولانا کی اس بے مثال کاوش کوتحسین و پذیرائی حاصل ہوئی،خود مولانا آزاد نے اپنے ایک عقیدت کیش مولانا غلام رسول مہر کو جولائی1932ء کے ایک خط میں ترجمان کی مقبولیتِ عامہ کے بارے میں لکھا:
’’شاید اردو مطبوعات کی تاریخ میں ’’ترجمان القرآن‘‘پہلی کتاب ہے،جسے لوگوں نے اس قدرذوق و شوق کے ساتھ خریدا ہواور پڑھاہو‘‘۔(غلام رسول مہر،نقشِ آزاد،ص:34،ط:شیخ غلام اینڈسنزپبلشرز،لاہور1968ء)
حتی کہ لوگ اپنی شیروانیاں بیچ کر ترجمان القرآن پڑھنا چاہتے تھے۔(ایضا،ص:414)
مولانا کے مختلف متعلقین اہلِ علم نے لکھاہے کہ دوجلدوں کے بعد ترجمان القرآن کی تیسری جلد بھی غالباًتیارہوچکی تھی؛کیوں کہ مختلف تحریروں اور خطوط وغیرہ میں مولانا اس کے حوالے دیتے رہتے تھے؛بلکہ دوسری جلد کے بعض مقامات پر بھی اس کے حوالے ملتے ہیں ؛مگر افسوس ہے کہ وہ شائع نہ ہوسکی،مولانا اخلاق حسین نے ترجمان القرآن کے کاتب مولانا عبدالقیوم مرادآبادی کے حوالے سے لکھاہے کہ دس صفحات کتابت کے لیے ان کے پاس پہنچے،مگر پھر اس کے بعد تیسری جلد کا مسودہ معمہ بن گیا۔(مولانا اخلاق حسین قاسمی،ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ،ص:44،ط:مولانا آزاد اکیڈمی دہلی1993ء) بعد میں مولانا غلام رسول مہرنے ’’الہلال‘‘ و’’ البلاغ‘‘ میں بکھرے ہوئے مضامین کی روشنی میں ’’باقیاتِ ترجمان القرآن‘‘مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، مولانااخلاق حسین قاسمی دہلوی نے ایک پاکستانی عالم مولانا ابومومن منصور احمد کے بارے میں لکھاہے کہ انھوں نے بھی الہلال و البلاغ کے مضامین میں موجودقرآنی آیات کے ترجمہ و تفسیر کو جمع کرکے ترجمان کی تیسری جلد مرتب کرنے کی کوشش کی ہے،البتہ ایک پاکستانی تبصرہ نگار(مولانا محمد حنیف ندوی) کے بقول’’مگروہ بات کہاں مولوی مدن کی سی‘‘۔(ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ،ص:25و45،بحوالہ حکمتِ قرآن،مارچ1987ء)ایک صاحب مولانا ابومسعود اظہرندوی نے’’ ترجمان القرآن‘‘ کی تلخیص کی ہے اور ایک ہی جلدمیں مولاناآزاد کی فکر و منشاکے مطابق پورے قرآن کی تعلیمات سمونے کی کوشش کرتے ہوئے بقیہ بارہ پاروں کی تلخیص میں شیخ الہند مولانا محمودحسن کے ترجمہ کو ملحوظ رکھاہے اور حسبِ ضرورت تفسیر ی نوٹس بھی تحریر کیے ہیں،مولانا کی وفات کے بعد ہی ڈاکٹر سید عبداللطیف نے ڈاکٹر سید محموداور پروفیسر ہمایوں کبیر کی ہدایت ونگرانی میں ترجمان القرآن کا انگریزی ترجمہ کیاتھا،جو شائع شدہ ہے ، گزشتہ سال دارالامور میسور سے اس کاایک دوسراانگریزی ترجمہ دارالامور میسور سے شائع ہواہے،مترجم منگلوراورگوا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور مؤرخ پروفیسر شیخ علی ہیں۔
’’ترجمان القرآن‘‘ مولانا آزاد کی قرآنی بصیرت کا شاہکار اور ان کی علمی گیرائی وتعمق کا آئینہ ہے؛حالاں کہ مولانانے ترجمے میں بنیادی طورپر شاہ عبدالقادر دہلوی کے ترجمۂ قرآن کوسامنے رکھاہے،تفسیر قرآن کی دیگر امہاتِ کتب بھی پیشِ نظر رہی ہیں ،مگر بہت سے مقامات پر قرآنی لفظیات ،واقعات،حقائق واشیا کی تفہیم میں مولانا کی مفسرانہ براعت قابلِ دادوتحسین ہے،’’ ترجمان القرآن‘‘ کی علمی وقعت اور تفسیری امتیاز کو وقت کے کبارعلماو مفسرین نے محسوس کیااور انھوں نے کھلے دل سے مولانا کی بے مثال قرآنی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خراجِ تحسین پیش کیاہے،سید سلیمان ندوی،جو ایک زمانے میں الہلال کے ادارۂ تحریر میں کام کرچکے تھے اور تیس کی دہائی میں دارالمصنفین اعظم گڑھ کے علمی سربراہ اور ماہنامہ’’معارف‘‘کے مدیر تھے،انھوں نے اکتوبر1932ء کے شمارے میں ترجمان پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
’’ترجمان القرآن دوحصوں میں منقسم ہے،حصہ اول مصنف کی تفسیر البیان سے سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے اور حصہ دوم سورۂ فاتحہ سے لے کر انعام تک کا تفسیری ترجمہ ہے،مصنف کی دیدہ وری اور نکتہ پژوہی کا اصلی جولان گاہ پہلا حصہ ہے،یہ درحقیقت نصف کتاب ہے،اس میں سورۂ فاتحہ کے ایک ایک لفظ کی ایسی دلنشیں تشریح اور بصیرت افزا تفسیر ہے کہ اس سے اس سورہ کے ام الکتاب(اصل قرآن)ہونے کا مسئلہ مشاہدۃً معلوم ہونے لگتا ہے اور اسلام کے تمام مہماتِ مسائل اور اصولِ دین پر ایک تبصرہ ہوجاتا ہے…..سورۂ بقرہ سے لے کر انعام تک تفسیر نہیں ؛بلکہ تفسیری ترجمہ ہے اور اسی کانام ترجمان القرآن ہے،اس میں مصنف نے یہ کیاہے کہ اول ہر مضمون کو اختصار کے ساتھ حاشیے میں ایک کنارے لکھ دیاہے،پھر اوپر آیت لکھ کر نیچے صفحے میں تفسیری ترجمہ لکھاہے،معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کے لیے شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ پیش نظر رہاہے،یہ تو مشکل ہے کہ ہر شخص دوسرے سے ہر مقام پر اتفاقِ رائے کر سکے،تاہم بحیثیتِ مجموعی ترجمہ صحیح،دلنشیں،مؤثراور باوقار ہے۔ترجمان القرآن وقت کی اہم چیز ہے،ضرورت ہے کہ اس کو گھر گھر پھیلایاجائے اور نوجوانوں کو اس کے مطالعے کی ترغیب دی جائے اور ہر اسلامی دارالمطالعہ میں اس کا ایک نسخہ منگواکر رکھاجائے‘‘۔(ص:312-316متفرقاً)
مولانااخلاق حسین قاسمی دہلوی نے جمعیت علماے ہند کے پہلے ناظم اور دیدہ ورعالم ومفسروخطیب مولانا احمد سعید دہلوی کاقول نقل کیاہے ، وہ فرمایاکرتے :
’’قرآن کی عربیِ مبین مولاناآزاد کا انتظار کررہی تھی کہ اسے اردوے مبین کے قالب میں ڈھالیں ،یہ کارنامہ ہندوستان کے علمامیں مولانا آزاد کے لیے مقدر تھا،ترجمان القرآن کا یہ ادبی پہلو ہے،اس کے علمی،تاریخی اور تفسیری پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں‘‘۔(ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ،ص:21)
معروف محقق مولاناابومحفوظ الکریم معصومی دوسری زبان میں قرآن کریم کاترجمہ یا ترجمانی کرتے ہوئے اس کے معجزاتی اسلوب کوقائم رکھ پانے کی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مولانا آزاد کی سب سے بڑی خصوصیت ترجمان القرآن یا پیغامِ ربانی کی ترجمانی میں یہ رہی ہے کہ اس کے ہمہ جہت وجوہِ خطاب کوانھوں نے اپنے خاص اسلوب کے ذریعے حتی الامکان وحیِ سرمدی کے خطابی اتار چڑھاؤ،لوچ لچک کو خدوخال کی رعنائیاں سمیت ترجمہ میں مجسم و مشہود کردکھانے کی سعیِ بلیغ فرمائی ہے اور اس دہرے خطاب کی ہمہ گیر آفاقیت و ہمہ جہت عمومیتِ مکانی و زمانی کو فاش کرنے میں مولانا کی مفسرانہ بصیرت پر امتِ اجابت کی رہنمائی و اصلاح کے قطعی وسائل ہی روشن نہیں ہوئے ہیں ؛بلکہ پوری امتِ دعوت کی فہمایش و اتمامِ حجت کے لیے ابلاغ و ترسیل کی راہوں کو ہموار کرنے کے اسباب و طرق بھی زیادہ سے زیادہ منکشف اور نمایاں ہوتے چلے گئے ہیں۔…….قرآن کریم کی ترجمہ نگاری و تفسیرنویسی کا لفظیاتی ملبوس مولانا آزاد نے ہمارے خیال میں اس طورپر تیار کیاکہ سرسید کی سہلِ ممتنع نگاری،محمد حسین آزاد کی ندرت بیانی،حالی کی روانی،ڈپٹی نذیر احمد کی قادرالکلامی اور شبلی نعمانی کی جامعیت و طلاقتِ لسانی سب کے اجزاے ترکیبی کو اپنی میزانِ ذوق ووجدان کے پلہ پر تول تول کربہ قاعدۂ تناسب ملایااوررنگ و آہنگ کا خاص حصہ اپنے حسن طبیعت سے مزید بڑھایا،اس طرح وہ اسلوبِ خاص تیار ہوا،جوفکر و نظر کی بلند و عمیق روح پر راست آیا‘‘۔(مولاناآزاد رفاقتِ قرآنی،ص:14-15،ط:خدابخش اورینٹل لائبریری،پٹنہ1995ء)
معروف مفکرودانشوراور ماہنامہ ’’برہان ‘‘کے مدیرپروفیسرمولاناسعید احمد اکبرآبادی لکھتے ہیں:
’’مولاناابوالکلام آزاد نے اردو ادب کے چمن میں حسنِ انشاوبیان کے جوپھول کھلائے ہیں ،یوں تو وہ سب ہی سدابہار ہیں؛لیکن مستقل تصنیف کی حیثیت سے قرآن مجید کی تفسیر’’ ترجمان القرآن ‘‘مولانا کی تمام علمی اور ادبی تحریروں میں شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے،قلم کی توانائی،اجتہادِ فکر، وسعتِ نظر ومطالعہ اور جذبۂ تحقیق و تدقیق؛مولاناکی یہ وہ خصوصیات ہیں،جوان کی ہر علمی اور ادبی تحریر میں نظر آتی ہیں؛لیکن مولانا کی یہ خصوصیات اس کتاب میں جابجا نمایاں ہیں اور اس بناپر اردو زبان کے علمی ذخیرے میں اس کو امتیازی مقام حاصل ہے……..ترجمہ و تفسیر میں مولانا کا اسلوبِ بیان وہی ہے،جو قرآن کا ہے،یعنی حکیمانہ ہونے کے ساتھ خطیبانہ بھی ہے،اس میں وعد بھی ہے اور وعید بھی،تبشیر بھی ہے اور انذار بھی،کہیں وہ نسیمِ جاں فزاہے اور کہیں برقِ صاعقہ فگن؛اس لیے قدرتی طورپر اس کا اثر ہوتا ہے اور قاری میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے،مولانا کا یہ طرزِ ادا،یہ اسلوبِ بیان ان کے ہر مذہبی مضمون میں نمایاں ہے؛لیکن جہاں تک ترجمان القرآن کا تعلق ہے،تویہ شراب دوآتشہ؛بلکہ سہ آتشہ ہوگئی ہے اور اس لیے غالب کا یہ شعر اس پر پوری طرح صادق آتاہے:
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
(ماہنامہ آجکل،ابوالکلام نمبر،ط:اگست1958،ص:80و84)
مولانا سید منت اللہ رحمانی ترجمان القرآن کی علمی و تفسیری انفرادیت کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن،جو اپنی معنوی خصوصیات اور تفسیری نکات پر ایک گراں قدر علمی شاہکار ہے،اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ مولانا آزاد نے اپنے عمیق علم،وسیع مطالعہ اور گہرے تفکر و تدبر کے ساتھ اپنی تفسیر میں خداکے مقدس کلام کی بہترین ترجمانی کی ہے…خصوصاً مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن میں مختلف آیاتِ قرآنی پر جو نوٹس دیے ہیں،وہ اپنی گہرائی اور گیرائی کی مثال آپ ہیں،نوٹس کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مولانا آزاد نے آیاتِ قرآنی پر تفسیر کے پورے ذخیرے کو کھنگالا ہے اور تمام مفسرین کی تحریروں کو سامنے رکھ کر وہ نوٹس تیار کیے ہیں اور لمبی بحثوں اور طویل مطالب کو چند الفاظ و چند جملوں میں اداکیاہے،جو مولانا کی تحریر کا اعجاز ہے‘‘۔(مقدمہ ترجمان القرآن کا تحقیقی جائزہ،ص:14)
اردولٹریچرمیں غالب و اقبال کے بعد جس شخصیت کے فکر و فن اور حیات و خدمات پر سب سے زیادہ لکھاگیا،وہ مولانا ابوالکلام آزاد ہیں،مگر افسوس کہ زیادہ تر ان کے سوانحِ حیات کے ذیل میں سیاسیات کوہی موضوعِ گفتگوبنایاگیا ،حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا آزاد کی شخصیت علم و نظر اور فکرو تحقیق کا بحرِ مواج تھی،بہ طورخاص قرآن کریم سے انھیں ایک خاص قسم کی انسیت تھی اور قرآنیات پر ان کی نظر اپنے بیشتر معاصرین سے زیادہ گہری تھی،مگر لکھنے والوں نے اس حوالے سے ان کی شخصیت کو بہت کم موضوع گفتگو بنایا؛بلکہ ترجمان کی اشاعت کے بعد سے ہی جہاں ایک بہت بڑا طبقہ اس کے قدردانوں کا سامنے آیا،وہیں بعض مخصوص سیاسی و نظریاتی اسباب کی بناپر ایک حلقہ ان لوگوں کابھی تھا،جنھوں نے ترجمان القرآن کی علمی اہمیت کوکم کرنے کی کوشش کی اور مختلف اعتراضات کیے،حالاں کہ مولاناآزاد ترجمان کے تمام قارئین سے بلا تفریق یہ درخواست کرچکے تھے کہ اس کا مطالعہ دوسری قدیم تفاسیر کو سامنے رکھ کرکریں،اس سے نہ صرف ذہنی اشکالات دورہوسکتے ہیں؛بلکہ یہ بھی اچھی طرح سمجھاجاسکتاہے کہ ’’ترجمان القرآن‘‘کس مقام پر کیاکہہ رہا ہے؟ (ترجمان القرآن،جلد دوم) ویسے یہ بھی ایک قابلِ توجہ حقیقت ہے کہ بعد میں معترضین و ناقدین کے گروہ سے کئی لوگوں نے جب تفسیریں لکھیں ،تومتعدد مقامات پربغیر حوالہ دیے مولاناکی تحقیقات اور ترجمے سے استفادہ بھی کیا۔
چوں کہ ’’ترجمان القرآن‘‘پر ہونے والے زیادہ تر اعتراضات مخصوص سیاسی ماحول ومزاج کے زیر اثرخلق کیے گئے تھے ،جن کا سرابسااوقات مولانا کی ذاتیات اور فکر و نظر کی حدوں تک پہنچاہواتھا،سو انھوں نے ان اشکالات کایاتوبہت مختصرجواب دیایا انھیں سرے سے جھٹک دیا، اپنی اجتماعی و انفرادی زندگی میں بھی مولاناکا یہی طور تھا اوران سے منسوب کسی بات،کتاب،فکریاتحریرکاذکرہوتا،تب بھی وہ عموماً اسی قسم کے رویے کا اظہار کرتے،چوں کہ انھیں معلوم تھا کہ انسانی ذہن ملمع سازوافسانہ طرازہوتا اور لوگ ذاتی بغض نکالنے کے لیے رائی کاپہاڑبنادیتے ہیں؛اس لیے عموماً وہ اپنے بارے میں کسی اشکال یا اعتراض کاکوئی جواب ہی نہ دیتے تھے،ایسابھی نہیں کہ انھوں نے ’ترجمان القرآن ‘‘کے کسی حصے پر وارد ہونے سنجیدہ اشکال کابھی جواب نہیں دیا، ان کے خطوط وغیرہ میں دیکھاجاسکتاہے کہ اگر کسی نے واقعتاً ذہنی خلجان کو دورکرنے کے لیے کوئی سوال کیاہے ، تومولانا نے تشفی بخش جواب دیا ہے ،اسی سلسلے میں انھوں نے مولانا غلام رسول مہر کے اشکالات کے جو جوابات دیے تھے،وہ ’’میرا عقیدہ‘‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع شدہ ہے۔
البتہ بعدکے دنوں میں ہندوپاکستان کے محبانِ آزاد نے مولانا کابھرپوردفاع کیااور بعضوں نے اس کا حق ادا کردیا ہے، مولاناکی قرآنی بصیرت اور ترجمان القرآن کے حوالے سے ان پر جو چھینٹا کشی کی گئی،اس حوالے سے مولاناکی اصل تصویر سامنے لانے والے دیوبند کے ممتاز فاضل مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی کا نام سرفہرست ہے اور غالباان کی کتاب’’ترجمان القرآن کا تحقیقی مطالعہ‘‘مولانا آزاد کی قرآنی بصیرت کے تعلق سے لکھی جانے والی پہلی باضابطہ تحقیقی تصنیف ہے،مولاناقاسمی نے اس کتاب میں نہایت دقت نظری کے ساتھ نہ صرف ترجمان کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے؛بلکہ370؍صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مولانا دہلوی نے ترجمان پر وارد ہونے والے تقریباً تمام اشکالات وسوالات کا تشفی بخش جواب دیاہے ،مثلاً یہ کہ کیامولاناآزاد نے ایاک نعبد وایاک نستعین کی تفسیر نہیں لکھی؟کیا مولاناایمان کے لیے محض توحید کے قائل کے تھے، اقرارِرسالت کو ضروری نہیں سمجھتے تھے؟وحدتِ دین اور وحدتِ ادیان میں کیافرق ہے؟کیا مولانا وحدتِ ادیان کے قائل تھے؟ہر قوم میں انبیاورسل کی بعثت کے کیامعنی ہیں؟کیامولانانے تفسیر بالرائے سے کام لیا ہے ؟ تفسیر بالرائے کا مطلب کیاہے؟ مولاناکانظریۂ اجتہاد،اسلام کی دعوتِ امن،سورۂ توبہ کی آیاتِ جہاد کی تشریح ،اسلام کا تصورِ دفاع ،ناموسِ رسالت اور نبی اکرمﷺ کا مقام و مرتبہ،معجزے کی حقیقت،معجزہ اور تصرف میں فرق؛یہ اور اس قسم کے دیگر سوسے زائد عناوین کے تحت مولانا دہلوی نے ترجمان القرآن اور مولانا آزاد کے نقطہ ہاے نظر کی نہایت تشفی بخش تشریح و توضیح کی ہے۔ خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری نے آزاد صدی ( 1988-89ء) کی مناسبت سے اس موضوع پرسیمینار منعقد کیاتھا،اس کے مقالات بھی’’مولاناآزاد اور رفاقتِ قرآنی‘‘کے نام سے طبع شدہ ہیں،اس میں کل دس مقالات جمع کیے گئے ہیں،جو مولاناآزادکی قرآن فہمی کے مختلف گوشوں کااحاطہ کرتے ہیں، کتاب135؍صفحات پر مشتمل ہے،اس حوالے سے ایک اور قابلِ ذکر کتاب پروفیسر اخترالواسع اور فرحت احساس کے ذریعے مرتب کردہ’’مولاناآزاد کی قرآنی بصیرت‘‘بھی ہے،جو مولاناابومسعوداظہرندوی کی کتاب ’’تلخیص ترجمان القرآن‘‘کے حوالے سے منعقدہ مذاکرے میں پیش کردہ مقالات کا مجموعہ ہے،یہ کتاب بھی ٹھیک ٹھاک اور قابلِ مطالعہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں