74

مطالعۂ امام الہند:چنداہم گوشے

نایاب حسن
(چوتھی قسط)
سیاسی ژرف نگاہی:
مولاناکی سیاسی شخصیت نے اولاً ایک انقلاب پسند کی حیثیت سے بال و پر نکالے، جب انھوں نے بنگال کی انقلابی تحریکوں سے آشنائی اور1908ء کے بعد بغدادوعراق وغیرہ کے سفر میں انقلاب پسندوں سے ملنے اور ان سے متاثر ہوکرلوٹنے کے بعد باقاعدہ بنگال کے انقلابی لیڈرشیام سندرچکرورتی کی تنظیم کی ممبر شپ حاصل کرلی،مگر یہ کیفیت زیادہ دن باقی نہ رہی اور غالباً دوتین سال کے بعد ہی انھوں نے اپنی سیاسی فکر کا رخ بدل لیا،اس تبدیلی کی واضح علامت یا شاہکار ’’الہلال‘‘تھا،جوپہلی بار جولائی1912ء میں معرضِ وجودمیں آیا،مولانا نے اس کے صفحات پر جوافکار پیش کیے،وہ مذہب و سیاست کے حوالے سے بالکل الگ قسم کے اور خاص طورپر ہندوستان کے مسلم معاشرے کے لیے نئے تھے،مولانانے مسلمانوں میں بیداری کا صورپھونکا اور انھیں عملی سیاست کی طرف بلایا،’’الہلال ‘‘کے بعد’’ البلاغ‘‘ کا اجرا ہوا ،حزب اللہ اور دارالارشادبھی انہی دنوں میں قائم کیے گئے،ان سب سرگرمیوں کاایک مقصد مسلمانوں کی ذہنی و فکری پرورش اور دوسرا مقصد ان کی سیاسی تربیت تھا،مولانانے مختلف رنگ و آہنگ میں ہندی مسلمانوں کوبتایاکہ معاصربرطانوی استعمار کو برداشت کرنا کسی بھی طرح درست نہیں اور اس غاصب حکومت کو ہندوستان بدرکرنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی جانی چاہیے،حکومت تک مولانا کی ان سرگرمیوں کی اطلاع پہنچی اور’’ملک معظم کے دشمنوں سے سازباز رکھنے ‘‘کے الزام میں رانچی میں نظربندکردیاگیا۔(مالک رام،خطباتِ آزاد، ص:72، ط:ساہتیہ اکادمی، دہلی1981ء) یہ مولانا کی سیاسی فکر کا پہلا پڑاؤ تھا۔
1920ء میں مولانا کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات ہوئی ،باہم تبادلۂ خیال ہوا اور فکر و نظر کی بہت سی مماثلتوں کی بناپر دونوں نے یکساں راہِ سیاست پر چلنے کا تہیہ کرلیا،اس کے فوراً بعدملک گیر سطح پر خلافت تحریک برپاہوئی ،جس میں اظہارِ یکجہتی اور ہندوستان کے ہندوومسلمانوں میں ذہنی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے گاندھی جی نے بھی آگے بڑھ کر حصہ لیا اور اس تحریک کی کھل کر حمایت و تایید کی،یہ تحریک نتیجے کے اعتبار سے کامیاب تو نہ ہوسکی،مگر ہندوستانیوں کے اتحاد کی مولانا آزاد و گاندھی کی کوششیں بارآورضرورہوئیں؛چنانچہ آیندہ کے دنوں میں دونوں بڑی قوموں نے مل کر تحریکِ آزادی کے معرکے سرکیے،مولاناکی سیاست کا مرکزی نقطہ تمام ہندوستانیوں کی قومی وحدت پر ٹکاہوا تھا،جسے تاریخِ ہند میں متحدہ قومیت کے نظریے کے طورپر جانا جاتا ہے،مولانا اپنے وسیع و عریض مطالعہ و مشاہدہ اور سیاسی و فکری بصیرت کے پیش نظراس بات کا پختہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہندوستان بحیثیت ملک کے تبھی آزادوخوشحال رہ سکتا ہے ،جب اس ملک کی دونوں بڑی قوموں (ہندواور مسلمان)میں ہم آہنگی اور یکجہتی پائی جائے،وہ مسلمانوں کے ایک دیدہ ورمذہبی عالم تھے ، اسلام کی تیرہ سوسالہ علمی،دینی،سیاسی تاریخ و تعلیم ان کی نگاہ کے سامنے تھی اور ہندوستان کا اس وقت کا سیاسی و سماجی منظرنامہ بھی ان کے پیشِ نظر تھا ؛ چنانچہ انھوں نے اعلان کیا اور باربار اعلان کیا:
’’میرا عقیدہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوستان کے مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے،جب تک وہ احکامِ اسلامیہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندووں سے پوری سچائی کے ساتھ اتحاد و اتفاق نہ کرلیں ‘‘۔(خطباتِ آزاد،ص:47)
مولانانے تحریک ترکِ موالات کی پوری شدت کے ساتھ تاییدکی،جگہ جگہ تقریریں کیں،اخباروں میں لکھا،مسلمانوں میں بیداری پیداکی اور انھیں انگریزی حکومت کی ملازمت اورانگریزوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاملت سے کنارہ کش رہنے پر ابھارا،نومبر1921ء کے جمعیت علماے ہندکے سالانہ اجلاس میں ترک موالات کی تایید وتوثیق کرکے ملک بھر کے مسلمانوں میں اس کے حکمِ شرعی ہونے کا یقین پیدا کیاگیاتھا،اس اجلاس کی صدارت مولانا آزاد نے ہی کی تھی،اسی کے بعد دسمبر1921ء میں مولانا کی گرفتاری عمل میں آئی،ان کا مشہور تاریخی عدالتی بیان،جو’’قولِ فیصل‘‘کے نام سے عام طورپر دستیاب ہے،اسی گرفتاری اورمقدمے کی یادگارہے،اس واقعے کے بعد مولانا کا سیاسی قدکچھ اور بلند ہوگیا۔
غیر ملکی تسلط سے آزادی کے حصول کے لیے ملک کے ہندوومسلمانوں کے اتحادکا خیال مولاناکے ذہن کی اپج یا خدا نخواستہ کسی فکری ،ذہنی یانفسیاتی کمزوری کا شاخسانہ نہ تھا؛بلکہ مولانا کی سیاسی دقتِ نظری اور ہندوستان کی ہزارسالہ تاریخ پران کی گہری نظرکا نتیجہ تھا؛چنانچہ آپ مولاناکے خطبۂ رام گڑھ کو پڑھیے،جو زبان و بیان کے اعتبار سے بھی اسلوبِ آزاد کے ایک الگ رنگ وآہنگ کی نمایندگی کرتا ہے،اس میں مولانا نے تفصیل سے ہندوستانیوں کے باہمی رشتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے منفردومخصوص پرجلال لہجے میں فرمایا:
’’اسلام بھی اس سرزمین پر ویسا ہی دعویٰ رکھتا ہے،جیسادعویٰ ہندومذہب کاہے،اگر ہندومذہب کئی ہزار برس سے اس سرزمین کے باشندوں کا مذہب رہا ہے،تو اسلام بھی ایک ہزار برس سے اس کے باشندوں کا مذہب چلا آتا ہے،جس طرح آج ایک ہندو فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے اور ہندومذہب کا پیروہے،ٹھیک اسی طرح ہم بھی فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں اور مذہب اسلام کے پیرو ہیں‘‘۔(خطباتِ آزاد،ص:982)
مولانانے اسی ذہن و فکر کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں ،ان کا علمی وقار اور فکری بلندی ایسی تھی کہ کانگریس میں انھیں اپنے سے دوگنی عمر کے لیڈروں کے بالمقابل ترجیح حاصل ہوتی؛چنانچہ کانگریس کی تاریخ میں سب سے کم عمر صدربنائے گئے اور دوسری بار تواس وقت بنائے گئے،جب ہندوستان سیاسی سطح پر نہایت عظیم الشان تبدیلیوں کا مشاہدہ کررہاتھا،مولاناکی سیاسی بصیرت پر ان کے رفقاے کار نہرو،گاندھی،راجندرپرشاد یا دیگر قومی لیڈروں کے تاثرات مختلف کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں،سبھوں نے مولانا کی کوہ قامت شخصیت کا نہ صرف اعتراف کیاہے؛بلکہ ان کے ساتھ اپنی رفاقت کو اپنی سیاسی زندگی کی سعادتوں میں شمار کیاہے۔
1940ء کے بعدسے وسط اگست 1947ء تک کے دورانیے میں مسلمانوں کے بیشتر اور ہندووں کے ایک بڑے حلقے میں جذباتی سیاست کا زور بندھا رہااوراسی کے نتیجے میں ملک آزاد ہونے کے ساتھ دولخت بھی ہوا،یہ دوربڑے بڑے اولوالعزم سیاسی ومذہبی رہنماؤں کے لیے صبرآزماتھا اوران میں سے بہت سے لوگ حالات کے جبرکے آگے سپراندازہوگئے،مگر مولانانے شروع میں جس سیاسی راہ اور نظریے کواپنے لیے منتخب کیاتھا،انھیں اس کی صداقت و حقانیت کا پختہ یقین تھا،سو وہ اس وقت بھی اپنے نظریے پر ڈٹے اور جمے رہے،جب کانگریس کے بعض تنگ ذہن لیڈروں کے ساتھ خود ان کی قوم کے بیشتر راہنمایا عوام ان کے خلاف ہوچکے تھے اور ہر چہار جانب سے ان پر پھبتیاں کسی جارہی تھیں،ان کی شخصیت پر طنز و تعریض کے تیر برسائے جارہے تھے اور سیاسی بغض نکالنے کے لیے ان کے ایمان و مذہب کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا تھا، مولانابیسویں صدی میں اردو زبان کے سب سے بڑے ادیب، سب سے بڑے خطیب اور سب سے بڑے سیاست داں تھے،مگر بقول ڈاکرذاکرحسین’’اردوزبان کی ایسی کوئی گالی نہ تھی،جو ہندوستانی مسلمانوں نے اس سب سے بڑے محسن کونہ دی ہو،وہ گالیاں سنتا اور دعائیں دیتا رہا‘‘۔(ابوالکلام آزاد:سوانح و افکار،ص:39)آزادی سے قبل کے ساڑھے چھ ،سات سال کے عرصے میں متحدہ ہندوستان کے دوتہائی سے زائد مسلمانوں کا جوشِ غضب آتش کدہ بن گیاتھا،عام لوگ کجا،خود اصحابِ جبہ و دستار نے اس الاؤ کا تماشہ کیا، اکثر علماے کرام اور فضلاے عظام،جو اپنے آپ کو تقویٰ وعلم کا سرچشمہ خیال کرتے تھے ، وہ مولاناکے خلاف عوام و خواص کی یاوہ گوئی اور لیگی صحافت و خطابت کی ژاژخائی کے مزے لیتے رہے ، ان میں سے جو لوگ مولاناکے ارادت کیش تھے،ان کابھی اپنااپنا حلقہ تھااور وہ حالات کے شکار یاحقیقت کی دنیا میں اس خول سے باہر نکلنے کو تیار نہ تھے۔
تقسیم کے بعد جب ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں میں ایک نئی قسم کی ناامیدی اور گھبراہٹ پیدا ہوئی،تو قوم کی طرف سے دیے گئے ماضی کے تمام زخموں کو بھول کر اسے سہارادینے والا،دلاسہ دینے والا،حالات کی قہرناکی سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخشنے والا بھی ابوالکلام آزاد ہی تھا،جب اس نے دیکھا کہ دوقومی نظریہ کی تبلیغ کرنے والے سارے سیاسی رہنماکنجِ عافیت کی تلاش میں نومولودملک کی طرف کوچ کرچکے ہیں اور جن لوگوں نے نتائج سے بے پرواہوکر ان کی حمایت کی تھی،ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہا، تومولانانکلے،دہلی کی شاہجہانی جامع مسجدکے ممبر پرآئے،جذبات ابل رہے تھے، گزشتہ چھ سات سال کے عرصے میں اپنے لوگوں کی بے رخی ،زیادتی اوربے وفائی کی تصویرمولاناکے پردۂ ذہن پرناچ گئی،مسلمانوں کو اُن دنوں کی یاد دلاتے ہوئے فرمایا:
’’تمہیں یاد ہے؟میں نے تمھیں پکارا،تم نے میری زبان کاٹ لی،میں نے قلم اٹھایااور تم نے میرے ہاتھ قلم کردیے،میں نے چلنا چاہا،تم نے میرے پاؤں کاٹ دیے،میں نے کروٹ لینی چاہی،تم نے میری کمرتوڑدی،حتی کہ پچھلے سات برس کی تلخ نوا سیاست،جوتمھیں آج داغِ جدائی دے گئی ہے،اس کے عہدِ شباب میں بھی میں نے خطرے کی شاہراہ پر جھنجھوڑا؛لیکن تم نے میری صداسے نہ صرف احتراز کیا؛بلکہ غفلت وانکار کی ساری سنتیں تازہ کردیں؛نیتجہ معلوم کہ آج انہی خطروں نے تمھیں گھیر لیاہے ،جن کا اندیشہ تمھیں صراطِ مستقیم سے دورلے گیاتھا‘‘۔(ایضا، ص:337)
پھر اس وقت کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مجمع کو دلاسہ دیا اور کہا:
’’ہراس کا موسم عارضی ہے،میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کرسکتا،میں نے ہمیشہ کہا اور آج پھر کہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑدو، شک سے ہاتھ اٹھالو اور بدعملی کوترک کردو،یہ تین دھار کا انوکھا خنجرلوہے کی اس دودھاری تلوار سے زیادہ کاری ہے،جس کے گھاؤ کی کہانیاں میں نے تمھارے نوجوانوں کی زبانی سنی ہیں‘‘۔(ایضا،ص:340)
کتنے ہی لیگی سورماتھے،جو اپنے حامیوں کو حادثات کے بھنور میں چھوڑکربھاگے جارہے اور کتنے ہی اصحابِ شریعت و طریقت تھے،جو ہجرت کے نام پر فرارکی راہ اختیار کررہے تھے، مولانانے فرمایا:
’’یہ فرار کی زندگی ،جو تم نے ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے،اس پر غور کرو،اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغ کوسوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھوکہ تمھارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں،آخر کہاں جارہے ہواورکیوں جارہے ہو؟یہ دیکھو مسجدکے بلند مینارتم سے اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیاہے؟ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمھارے قافلوں نے وضوکیا تھا اور آج تم ہو کہ تمھیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے،حالاں کہ دہلی تمھارے خون سے سینچی ہوئی ہے،عزیزو!اپنے اندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو،جس طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے تمھاراجوش و خروش بے جا تھا،اسی طرح آج یہ تمھارا خوف و ہراس بھی بے جا ہے،مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعال ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے،سچے مسلمانوں کو نہ تو کوئی طمع ہلاسکتی ہے اور نہ کوئی خوف ڈراسکتا ہے‘‘۔(ایضا،ص:341)
اس پوری تقریر میں مولانانے اپنے مخصوص لب و لہجے میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے انھیں بزدلی و کم ہمتی،خوف و ہراس اور گھبراہٹ سے نکل کر حقیقت پسندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انھیں ان کا ماضی یاد دلایا،وہ ماضی جس پر مسلمان صدیوں سے فخر کرتے آرہے تھے اور جو واقعتاً قابلِ فخر تھا،اس کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے فرمایاکہ چند ایسے لوگ، جنھوں نے تم سے وعدہ خلافی کی اور وہ تمھیں حالات کے حوالے کرکے نکل گئے،ان کی وجہ سے بے قابوہونے کی ضرورت نہیں،یہ پورا ملک تمھارا ہے،اس کے ذروں میں تمھارے آباواجداد کی سانسیں بستی ہیں اوراس کی تعمیر و ترقی میں تمھارے خون پسینے شامل ہیں،مولاناکی اس تاریخی تقریر نے مسلمانوں کو غیر معمولی طورپر حوصلہ و تسلی سے ہم کنار کیا،اس کے بعد مولانا نے عملی طورپر ہندوستان بھر میں موجود مسلم رہنماؤں کوبلایا،ان سے تبادلۂ خیال کیا،مسلمانوں کو سنبھالادینے کی تدبیریں کیں ،ان کے اعتماد و اطمینان کوبحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے اورانھیں اس وقت سہارادیا،جب مسلمانوں کے ماقبل تقسیم کے بیشتر رہنمااپنی عافیت کی تلاش میں راہِ فرار اختیار کرچکے تھے۔
اس موقع پرمولاناکی جگہ کوئی دوسرا سیاسی لیڈر ہوتا اور 1947ء سے قبل ان کے ساتھ خود مسلمانوں نے جن انسانیت سوزحرکتوں کا ارتکاب کیا تھا، ان سے گزراہوتا،تو بعد کے حالات میں وہ انھیں سرے سے جھٹک دیتااوران کی ماضی کی کارستانیاں یاد دلاتے ہوئے حالات کے حوالے کردیتا،جناح صاحب نے تو دوتہائی سے زائد مسلمانوں کی پرجوش حمایت کے باوجود کراچی کوچ کرتے ہوئے انھیں ’’رائٹ آف‘‘کردیاتھااور ہندوستان میں بچ جانے والے مسلمانوں کے بارے میں صاف کہہ دیاتھا کہ’’وہ اپنی دیکھ بھال خود کریں،میری ان کے مستقبل میں کوئی دلچسپی نہیں‘‘۔ Roses in)
December,by:M.C
Chagla,Page No.80,Published by:Bhartiya Vidya Bhawan 1975)
مگر آزاد توآزاد تھے؛چنانچہ انھوں نے اپنی عظمت کے تقاضے کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہ سب کچھ کیا،جس کی انھیں ضرورت تھی،انھیں دلاسہ دیا،سہارادیا،حوصلہ بخشا،ہمت عطاکی اور صبرکے صحیح معنی سمجھائے،بزدلی و کم ہمتی سے چھٹکارادلایا اور اس احساس کو بیدار کیاکہ ہندوستان پرمسلمانوں کابھی اتنا ہی حق ہے،جتناکہ یہاں بسنے والی کسی دوسری قوم کا،یہ ایک حقیقت ہے کہ مولاناآزاد جس سیاسی نظریےکی تبلیغ کرتے رہے،اسے اگست سن 47ء میں بہ ظاہر شکست ہوگئی،مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہی کے نظریے نے مابعدتقسیم کے ہندوستانی مسلمانوں کوحوصلہ و ہمت اور خود اعتمادی سے ہم کنارکیا؛ بلکہ یوں کہیے کہ انھیں نئی زندگی بخشی ،خدانخواستہ اگر مولانا ان دنوں اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرلیتے یاتقسیمِ ہند کے بعدگوشہ نشیں ہوجاتے یا ہندوستانی مسلمانوں سے منہ پھیر لیتے، تو کچھ نہیں کہاجاسکتاکہ تقسیم کے سانحے میں مسلمانوں کو جوخسارہ ہواتھا،مولاناکی گوشہ نشینی وبیزاری کے بعداس سے کتناگنا زیادہ خسارہ ہوتااورہندوستان میں بچ جانے والے کروڑوں مسلمانوں کوتاراجی کے کیسے کیسے کاری زخم سہنے پڑتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں