178

مطالعہ کیسے کریں ؟

رعایت اللہ فاروقی
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ محدود تعداد میں ہی سہی، مگر جب بھی میری کسی پوسٹ میں مطالعے کا ذکر آتا ہے، تو نوجوانوں کی جانب سے کتب کے حوالے سے سوالات ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ یہی کہا جاتا ہے کہ میں مطالعے کے لئے کتب تجویز کروں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہر شخص کا اپنا ذوق ہوتا ہے،جو اس کے مزاج کا تابع ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی بھی موضوع پر میری پسندیدہ کتاب آپ کو بھی پسند آئےیا کوئی مصنف اور اس کا اسلوب نگارش مجھے مرغوب ہو تو ہرگز ضروری نہیں کہ وہ آپ کو بھی پسند آئے۔ بعینہ موضوعات کی پسند ناپسند یا ترجیحات اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ مثلا “آگ کا دریا” اردو ادب میں شاہکار کا درجہ رکھتا ہے، مگر میں اس کے دس صفحات بھی نہیں پڑھ پایا۔ عمر کے مختلف مراحل پر میں نے اسے پڑھنے کی کوشش کی، مگر قرۃ العین حیدر کا قلم مجھے سحر میں لے ہی نہیں سکا۔ اسی طرح مشتاق یوسفی صاحب کا معاملہ ہے، مجھے ان کا مزاح متاثر نہیں کر سکا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قرۃ العین حیدر یا یوسفی صاحب لیجنڈز نہیں۔ وہ اردو ادب کے ممتاز ترین ستاروں میں سے ہیں،مگر میرا ذوق ان سے مناسبت پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ جو مجھے پسند ہیں وہ آپ کو پسند نہ آئیں لہذا نوجوانوں کے لئے کتب تجویز کرنا غلط سمجھتا ہوں۔ کتب تب تجویز ہوتی ہیں جب آپ سالہا سال سے مطالعے کا معمول بنا چکے ہوں۔ تب کبھی پوچھا جاتا ہے:
“آپ نے فلاں کو پڑھا ؟”
یا کہا جاتا ہے:
“اس موضوع پر فلاں نے فلاں کتاب لکھی ہے، وہ بھی پڑھیے”ـ
مطالعے کا آغاز کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ لائبریری یا کتب خانے میں جا کر مختلف کتب اور ان کے مصنفین کے ناموں پر نظریں دوڑاتے جائیے۔ کئی کتابیں آپ کے قدم روک کر آپ کے ہاتھ کو اپنی جانب کھینچ لیں گی۔ آپ پہلے فہرست والے صفحات پر نظر دوڑائیے، اگر وہاں آپ کی دلچسپی کا کچھ ہوا، تو متعلقہ صفحے پر آپ خود بخود پہنچ جائیں گے۔ اگر مصنف میں دم ہوا،تو وہ آٹھ سے دس سطروں میں ہی آپ کو جکڑ لے گا۔ لیکن ایک ہی صفحے پر ہرگز اعتماد مت کیجیے۔ دو سے تین دیگر مقامات سے بھی اسے پڑھ دیکھئے۔ خدا کرے وہ کتاب کتوں کی اقسام اور ان کی خصلتوں پر ہی کیوں نہ ہو، اگر آپ کے لیے پرکشش ہے تو لازم ہے کہ آپ اسے پڑھ ڈالیں۔
مبتدی کو کسی بھی صورت ایک وقت میں ایک سے زائد کتب نہیں خریدنی چاہئیں۔ کتاب ایک ہی خریدیے اور اسے مزے لے لے کر پڑھیے اور روز اتنا ہی پڑھئے جتنی آپ کی طبیعت چاہے، جس لمحے آپ بوریت محسوس کریں، اسی لمحے مطالعہ روک دیجئے اور وہ کیجئے جس کا اس وقت آپ کا جی کر رہا ہے۔ کچھ لوگ بہت تیز رفتار مطالعہ کرتے ہیں اور اس کا فخریہ اظہار یوں کرتے ہیں جیسے یہ کوئی کمال ہو۔ میرے نزدیک یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ندیدے کی طرح کنڈی چڑھا لیں اور دس منٹ میں دو لوگوں پر وجوب غسل کا باعث بن کر ہانپنا شروع کردیں۔ مطالعہ تو رومانس جیسی سرگرمی ہے جس کا پوری طرح لطف لینا چاہیے۔ استعارے، محاورے، کنایے اور مصرع کو مختلف اعضاےے خاص کی طرح ٹریٹ کرنا چاہیے۔ اگر آپ دس منٹ میں خود پر اور اپنے پارٹنر پر غسل واجب کرکے اوندھے منہ پڑے ہیں تو آپ نے سیکس فرمایا ہے رومانس نہیں۔ یقین جانئے میں تو بعض جملوں یا صفحات پر ایسا بھی اسیر ہوا ہوں کہ آگے کا سفر روک کر پانچ پانچ، دس دس بار وہ ایک صفحہ یا مقام ہی پڑھتا رہا ہوں اور تب تک آگے بڑھا ہی نہیں جب تک اس مقام سے جی نہ بھر گیا۔
ایک اہم چیز یہ ذہن میں رکھیے کہ ہیرے جواہرات جیسی کتابیں یا جرائد پرانی کتب کی دکانوں یا فٹ پاتھوں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں چھٹی والے روز لاہور کا انارکلی اور کراچی کا صدر خاصا اہم ہے۔ میں نوجوانی میں کراچی کے ناظم آباد نمبر 2 کے مین سٹاپ پر سروس روڈ کی جانب کھڑے ہونے والے پرانی کتب کے 3 ٹھیلوں پر ہر دوسرے تیسرے دن بعد از عصر جاتا اور کبھی خالی ہاتھ نہ آتا اور یہ معمول میرے اسلام آباد منتقل ہونے سے قبل کئی سال پورے تسلسل سے جاری رہا۔
کوشش کرکے اپنے قریبی دوستوں کو بھی مطالعے کا چسکا لگائے۔ اس کا زبردست فائدہ یہ ہوگا کہ جب بھی آپ کی بیٹھک ہوگی کتب اور ان کے مندرجات ہی زیر بحث رہا کریں گے۔ شروع شروع میں مختلف مصنفین اور ان کی کتب پر آپ کی ماہرانہ رائے مضحکہ خیز حد تک بے تکی ہوگی لیکن یاد رکھئے شمس الرحمن فاروقی ہوں خواہ قرۃ العین حیدر، آپ کی عمر میں وہ بھی مضحکہ خیز گپیں ہانکا کرتے تھے مگر وہ پابندی سے ہانکتے رہے اور اسی کے نتیجے میں بڑے ادیب یا دانشور بنے۔ جو آپ کی آج کی باتوں پر ہنسے اسے کہدیجئے کہ آپ شوق سے ہنس لیجئے، میں تو اپنے حصے کی داد آپ کی اولاد سے پاؤں گا، بس ذرا دریاؤں کو پلوں تلے تھوڑا پانی بہا لینے دیجئے !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں