57

مصرف اور فنڈ کی تخصیص


کیا احکام الہی میں دخل اندازی کی جاسکتی ہے؟


تحریر : مسعود جاوید

یہ عجب اتفاق ہے کہ آج دو تین لوگوں کی پوسٹ ، اچهے طنزیہ ہونے کے باوجود ، مجھے پسند نہیں آیا. مثال کے طور قربانی کے بکروں اور بهوک کے پس منظر میں. ایک اور صاحب کی پوسٹ حج عمرہ اور غریب لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے ایک اور پوسٹ زکوٰۃ اور آئی اے ایس کوچنگ یا مسلم میڈیا کے تعلق سے. ایک اور پوسٹ کشمیریوں کی حالت زار اور قربانی کے موضوع پر.
میری ناقص رائے میں مذکورہ بالا تمام پوسٹ کا ، مخلصانہ اور ہمدردانہ ہونے کے باوجود ، دینی اور دنیاوی اعتبار سے جواز نہیں ہے.
دنیاوی اعتبار سے اگر دیکها جائے تو حکومت اور کمپنیاں ہر کام کے لئے ایک معین مبلغ مختص کرتی ہیں اس سے انحراف یعنی اس مقررہ مصرف کے علاوہ وہ مبلغ وہ رقم اور فنڈ کسی اور مصرف میں استعمال نہیں کی جا سکتی. خواہ کتنی ایمرجنسی کیوں نہ ہو. سڑک بنانے لئے رقم مختص ہوئی fund allocate ہوا تو آپ اسکول یا ہسپتال بنانے کے لئے اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتے. ہاں حکومت مخالف عناصر تنقید برائے تنقید کہ سکتے ہیں کہ کیا اندهیر نگری ہے عوام کو اچھے ہسپتال کی ضرورت ہے اور حکومت سڑک تعمیر کرا رہی ہے. ایسی باتیں سننے میں اچهی لگتی ہیں. لیکن اگر ہسپتال کی ضرورت سڑکوں سے زیادہ ہے تو آپ کے منتخب نمائندوں نے اسے حکومتی پلان میں شامل کیوں نہیں کرایا.

حج اور غریب لڑکیوں کی #شادی . سب سے پہلی بات تو یہ کہ غریب لڑکیوں کی شادی میں جہیز کا مسئلہ بر صغیر کا خود ساختہ مسئلہ ہے. نفاق بهرے معاشرے کی دین ہے. دوسری بات وہی کہ جس رقم کو جس فنڈ کے لئے مختص کیا گیا ہے اسے کہیں اور خرچ نہیں کیا جاسکتا. کسی ضرورت کو پوری کرنے کے لئے احکام الہی کو ترک نہیں کیا جاسکتا. اللہ رب العزت نے قران کریم میں فرمایا : وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیه سبیلا. جس کی استطاعت ہو وہ حج کرے. استطاعت یہ ہے کہ آپ کے پاس قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد اتنی رقم بچتی ہو جو سفر حج کے اخراجات کے لئے کافی ہو تو حج جو اسلام کے پانچ ارکان pillars میں سے ایک ہے اس فرض کی ادائیگی کرے . استطاعت کے مفہوم میں اپنی یا دوسروں کی ضروریات مثلاً رہائش کے لئے مکان رہتے ہوئے ایک اور نئی عمارت بنانا یا کسی مریض کے علاج کا خرچ اٹهانا کسی لڑکی کی شادی میں جہیز مہیا کرانا غریبوں کو کھانا کهلانے کے لئے لنگر کهولنا نہیں ہے اس حقیقت کے باوجود کہ ضرورتمندوں کی ضرورت میں کام آنا ، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا اور غریبوں کے علاج کے لئے مالی تعاون کرنا بذات خود بہت ثواب کے کام ہیں اور اسلام میں اس پر کافی زور دیا گیا ہے.

قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے : یسئلونک ماذا ینفقون، قل العفو .. لوگ پوچهتے ہیں ( ضرورتمندوں پر) کیا خرچ کریں . (اے اللہ کے رسول ) آپ کہ دیجئے کہ جو تمہاری ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد بچ جائے. .. اب ہماری ضرورت میں کهانا کپڑا مکان دیگر گهریلو اخراجات کے علاوہ دینی فرائض یعنی صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ ادا کرنا اور استطاعت ہونے پر حج کرنا بهی شامل ہے. ان کی رقم کاٹ کر نہیں علحدہ سے دینا العفو ہے. یعنی اس فنڈ میں کٹوتی نہ کی جائے. جس طرح کسی ضلع کا مالک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا ڈی سی پریشان حال مریضوں کے لئے سڑک بنانے کے فنڈ میں کٹوتی کرکے دوائیاں یا ہسپتال کی دوسری ضروریات پوری نہیں کراسکتا.

زکوہ – یہ بهی اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے . اللہ نے قران میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف کی تخصیص کردی ہے. ان کیٹیگریز کے اندر جو لوگ آتے ہیں زکوٰۃ کے صحیح مستحق وہی لوگ ہیں اس میں عقلی گهوڑے دوڑا کر زکوٰۃ کی رقم کسی اور مصرف میں ادا کرنے سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوگی. اللہ رب العالمین اور رحمان و رحیم سے بڑھ کر کوئی انسان رحمدل نہیں ہو سکتا. وہ چاہتا تو کسی مصرف کی تخصیص نہیں کرتا مگر اس کا تخصیص کرنا انسانوں کے مفاد میں ہے اس لئے کہ وہی حکمت جاننے والا اور علیم و خبیر ہے. آپ مسلمانوں کے زر تعاون سے میڈیا ہاؤس قائم کرنا چاہتے ہیں کوچنگ سنٹر قائم کرنا چاہتے ہیں پرسنیلٹی ڈولپمنٹ پروگرام کرانا چاہتے ہیں یتیموں اور بیواؤں کے لئے ووکیشنل ٹریننگ کورس کے مراکز کهولنا چاہتے ہیں بصد شوق شروع کریں بارک اللہ فیکم – …. مگر العفو کی رقم سے سرپلس منی سے عطیات اور صدقات سے نا کہ زکوٰۃ ، حج یا قربانی کی رقم سے اور احکام الہی میں دخل اندازی کرکے.

اور ہاں یہ بات بهی قابل ذکر ہے کہ جہیز کی لعنت کی طرح بیواؤں کا ظاہرہ phenomenon بهی غیر مسلم سماج سے ہمارے اندر سرایت کیا ہے. 22 سال کی بیوہ ہو یا 40 کی اس کا گهر بسانا اسلام سکهاتا ہے. اسلام میں مرد ہو یا عورت تجرد کی زندگی اکیلا بیچلر کی زبدگی ناپسندیدہ ہے.

کشمیر – ہمیں کشمیری عوام جو اس وقت سخت ترین حالات سے گزر رہے ہیں اور دنیا بهر کے مظلوموں سے ہمدردی ہے ان کے دکھ درد میں شریک ہیں ان کے لئے دعا گو ہیں مگر اس کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ احتجاجاً ہم احکام الٰہی ترک کر دیں. ہم عید الاضحٰی کی نماز ادا نہ کریں اور ہم میں سے جو صاحب نصاب ہیں وہ قربانی نہ کریں.

ایک صاحب نے لکها کہ ” پیسے سے جانور خرید کر قربانی کرنے کا یہ ڈرامہ ختم کرو. ایسی قربانی خود فریبی ہے. !
ایک صاحب نے لکها کہ گیارہ لاکھ کا بکرا ذبح کرنے والے چوہدری صاحب کے پڑوسی بهوکے پیٹ سوتے ہیں!
ایک صاحب نے لکها کہ زکوٰۃ کی رقم مستحقین کو دینے سے بهلا ملت کا کیا فائدہ ؟ لوگ visionary نہیں ہیں اس رقم سے ملت کے جوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہر بنایا جاسکتا ہے.
ایک صاحب نے لکها کہ جتنی وقت یہ نماز پڑهنے اور بیان سننے میں صرف کرتے ہیں اتنے میں کتنے غریب لڑکوں کو ٹیوشن پڑها کر ملی تعمیری کام انجام دیا جا سکتا ہے.
ایک صاحب نے لکها کہ علماء کو فتوی/ بیان دینا چاہئے اور تاکید کرنی چاہئے کہ اس سال کشمیریوں پر ظلم کے احتجاج میں کوئی مسلمان عید نہ منائے عیدالاضحیٰ کی نماز ادا نہ کرے اور قربانی نہ کرے. مگر سوال یہ ہے کہ جب آپ خود قابل ہیں تو علماء کی ضرورت کیوں آن ہڑی! آپ لوگ خود فیصلہ کرلیں !
ایک صاحب نے لکها کہ اصل تو روح ہے اور نیت ہے اب اگر میری نیت نیک اور جذبہ صادق ہے تو قربانی کے بکرے کی رقم کسی غریب کو دے کر بهی ثواب کما سکتے ہیں. نماز میں روٹین کے دو رکعتیں تین رکعتیں اور چار رکعتیں اور ہر رکعت میں اتنے رکوع اور اتنے سجدے اس میں کیوں الجها جائے اور اوقات کی پابندی کیوں ہو ؟ جس ہیئت سے اور جس وقت چاہے اللہ کی طرف رجوع کر لے عبادت ہو گئی !
لیکن ان تمام روشن خیالیوں کے باوجود جس بات کو وہ بهول رہے ہیں وہ ہے ڈسپلن اور ڈیکورم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے.
کیا کوئی ملازم اپنی مرضی سے جب چاہے اور جس طرح چاہے کسی آفس میں جاکر کام کرسکتا ہے؟

بهڑکیلے جاذب نظر اور میوزک ٹو ایئر مگر گمراہ کن جملے بازوں سے بچیں.
قابلِ غور بات یہ بهی ہے کہ آخر غریبوں سے ہمدردی مظلوموں سے غمگساری اور solidarity کرنے والوں کی نظر زکوٰۃ ، حج کی رقم اور قربانی کے بکرے ہی پر کیوں پڑتی ہے. دوسری بات یہ کہ العفو surplus money کا مفہوم بہت وسیع ہے.اس کے تحت انہیں یہ کام کرنے سے کس نے روکا. ایسا تو نہیں کہ وہ پکا پکایا چاہتے ہیں دوسرے چندہ کرکے لائیں اور ان کی جھولیوں میں ڈال دیں اور پهر یہ اس محنت و مشقت سے وصول کی گئی چندے کی رقم اپنے NGOs سے خرچ کریں ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں