81

مشہور شاعرہ فوزیہ رباب کے اعزاز میں تقریب پذیرائی

مشہور شاعرہ فوزیہ رباب کے اعزاز میں تاریخی لائبریری حضرت پیر محمد شاہ لائبریری، احمد آباد،گجرات میں تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا گیا.نشست کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محی الدین بامبے والا نے کہا کہ فوزیہ رباب کا تعلق احمد آباد کے ایک علمی خانوادے سے ہے. ان کے دادا اور والد کا شمار اپنے وقت کے جید علما میں ہوتا ہے ہے اور ان کی تعلیمی، سماجی اور ملی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. فوزیہ رباب کی شاعری میں جو بے ساختگی آمد کی کیفیت اور والہانہ پن ہے وہ ان کے فطری شاعرہ ہونے کی دلیل ہے اور یہی ان کی اصل شناخت ہے. اس کم عمری میں ان کا یہ شعری رویہ ان کے تابناک تخلیقی مستقبل کا اشاریہ بھی ہے. تقریب کے آرگنائزر ابہام رشید خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ ففوزیہ رباب کے شعری مجموعہ “آنکھوں کے اس پار” کا اجرا جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی اور مضامین ڈاٹ کام کے زیر اہتمام ہوا تھا.اس مجموعے کو ادبی دنیا میں اتنی جلدی جس قدر مقبولیت ملی ہے وہ بہت ہی کم کسی فن کار کے حصے میں آتی ہے اور ان کے درجنوں علمی مقالے ملک و بیرون ملک کے مشہور اخبارات و رسائل میں شائع ہوچکے ہیں. انھوں نے درجنوں قومی اور بین الاقوامی سیمناروں میں مقالات پیش کرکے اہل علم سے داد و تحسین وصول کی ہے.فوزیہ رباب نے مشاعروں کی پستی کے اس دور میں بھی اپنے وقار و معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا. وہ ساہتیہ اکادمی دہلی، اردو اکادمی مدھیہ پردیش اور اردو اکادمی راجستھان کے علاوہ بیسیوں پروقار مشاعروں میں بحیثیت شاعرہ شریک ہوچکی ہیں.انھیں ریڈیو ،ٹیلی ویژن پروگراموں میں بلایا جاتا ہے. ان کے اعزاز میں دلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ممبئی میں تقریبات منعقد ہو چکی ہیں.
اس اعزازی نشست میں فوزیہ رباب نے اپنی نظمیں اور غزلیں پیش کر کے سامعین کو مسحور کر دیا. ان کے علاوہ شبنم انصاری، عمر بارہ بنکوی، معظم ہاشمی، اکرم نگینوی، شبیر ہاشمی، سفیان صوفی، ارشاد انصاری اور ارشاد عاطف نے اپنا کلام پیش کیا. محفل میں پروفیسر اختر دیوان اور شہر کے معززین شریک تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں