58

مشکل حالات میں دانشوروں کا امتحان


ڈاکٹر منور حسن کمال
برصغیرہند ان دنو ںایسے حالات دوچار ہے، جہاں امن و سلامتی کا فقدان نظر آتا ہے۔ انصاف کا حصول مشکل ترین امر معلوم ہوتا ہے۔ بات اگر عدالتوں کی ہو تو دسیوں بیسوں برس سے لاکھوں افراد مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں، تاریخیں لگتی ہیں، لیکن اگلی تاریخ لینے کے لیے، اس سے آگے کارروائی شاذونادر ہی بڑھتی ہے۔ ایک دانشور طبقہ کی رائے تو یہ ہے کہ اب ملک میں حصول انصاف کے لیے عمر خضر اور صبرایوب کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی دولت بھی اتنی چاہیے جو بڑے بڑے امرا کو شرما دے۔ اس کے بعد بھی ایسے جذبے کی ضرورت ہے، جس کو آئے دن عدالتوں میں سلامی دینے والے افراد نے اپنی زندگی کا وظیفہ بنالیا ہو۔ یہ تنازعات کہیں خاندانی ہیں، کہیں لسانی اور علاقائی، بلکہ کہیں کہیں تو صرف نسلی برتری و تفاخر کے لیے جنگ جاری ہے۔
اکیسویں صدی کے آغاز سے قبل یہ جملہ عام تھا کہ نئی صدی ایشیا، دوسرے معنی میں برصغیر ہند کی ہوگی، لیکن جوں جوں اکیسویں صدی کی دہائی کے ہندسے آگے بڑھتے جارہے ہیں،بھائی چارہ، امن و سلامتی اور میل ملاپ جو برصغیر کی مٹی کا خمیر تھا، پورے ملک سے روٹھتا جارہا ہے اور آئے دن کی لوٹ مار، راہزنی اور ماب لنچنگ کے واقعات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ شاید یہ بھی جنگل راج کی ہی ایک شکل ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ملک میں بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا منظر سامنے آتا ہے۔
ادھر اب گزشتہ دہائی سے جمہوریت کے ستون بھی بہ ظاہر متزلزل ہی نظر آتے ہیں، جن میں عدلیہ اور مقننہ نے تھوڑی بہت لاج بچا رکھی ہے،وگرنہ صحافت کے ستون کو اس کی اصل حالت پر ایستادہ کرنے میں شاید اب زمانے لگ جائیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات کہنے والے حق بجانب نظر آتے ہیں کہ حالات میں اتارچڑھاؤ تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے، لیکن موجودہ دور کے اتارچڑھاؤ سے اگر ماضی کے حالات وواقعات کا موازنہ کریں تو شاید ان کا جواب نفی میں ہوگا۔ ہم ذلت و رسوائی کی اس منزل میں ہیں، جہاں قومیں اپنی قدر و منزلت کھوچکی ہوتی ہیں۔۔۔ اور ہماری بے حسی یہ ہے کہ ہم اب بھی ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہیں اور اپنی تاریخ پارینہ کو یاد کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ آسمان سے کوئی فرشتہ آئے گا اور حکم الٰہی سے پل بھر میں حالات بہتر ہوجائیں گے، لیکن ہمارے دانشوروں نے بھی اس جانب اپنی توجہ اس طور مرکوز نہیں کی ہے، حالات جس کے متقاضی ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ مذہبی تشخص کو بچانا بھی محال نظر آرہا ہے۔ ہماری روایات، اقدار اور اصول اوراقِ پارینہ میں کہیں دیمک چاٹ رہے ہیں۔
لاقانونیت کا ایسا بول بالا ہے کہ پاکیزہ قوتیں اپنا سرچھپاتی پھر رہی ہیں۔ چاہے حکومت کا کوئی شعبہ ہو یا پرائیویٹ اداروں کا،جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہی سفید و سیاہ کا مالک ہے۔ قانون سازی کا جو نظام پایا جاتا تھا، اس کا احترام ختم ہوگیا ہے۔ اب اس کے پس پشت بھی وہی اغراض و مقاصد کام کررہے ہیں، جو عادلانہ نظام کی ضد ہیں۔ انسانی عقل حیران و ششدر ہے کہ ایسی حکمرانی کی تعریف کرے یا تنقیص۔ عقل سلیم ایسے حالات کو بادی النظر میں ہی انصاف کے تقاضوں کے مطابق محمول کرسکتی ہے۔ ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ جیسے تمام آبادیاں ظلمت کی اتھاہ تاریکیوں میں غرق ہیں۔
لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مؤرخ کی آنکھ کبھی بند نہیں ہوتی، وہ دیکھ بھی رہا ہے اور لکھ بھی رہا ہے۔ عام آدمی کا کیا ہے، وہ تو نانِ شبینہ کی تلاش میں صبح نکلتا ہے اور شام کو اپنے بچوں کے ساتھ روکھی سوکھی کھاکر سوجاتا ہے۔ مگر کریمی لیئر اور دانشور طبقہ پر یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ناحق ستائے جارہے لوگوں کے حق میں آواز بلند کرے اور ان کے خلاف صرف طعن و تشنیع نہیں، بلکہ تیغ و تبر کے خلاف بھی سینہ سپر ہوجائے۔ لیکن اس طبقہ کی خاموشی یا نیم خاموشی نے کئی سوالیہ نشان قائم کردیے ہیں۔ انصاف کے تقاضے تو یہ بھی تھے کہ دانشور طبقہ عام آدمی کو ساتھ لے کر اٹھ کھڑا ہوتا اور جہاں بھی ان کے خلاف کوئی منظم سازش یا غیر منظم حملہ نظر آتا، ان کے کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑا ہوجاتا، اس وقت تک آگے رہتا جب تک قصورواروں کو قرار واقعی سزا نہ مل جاتی۔ لیکن ہائے رے چشم پوشی۔۔۔ اسے کیا نام دیں۔
تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی ہم سب ایک ہیں، لیکن ہمارے دلوں میں بغض و عداوت اور نفرت و دشمنی کے بیج جس کسی نے بھی بوئے ہیں، وہ آج نہیں تو کل گرفت میں ضرور آئیں گے اور وقت جو سب سے بڑا اگر ایک طرف مرہم ہے تو دوسری طرف اپنے ناقدروں کے لیے تیز خنجر سے کم نہیں، انہیں ضرور آلے گا۔ اس وقت ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ کا تو وعدہ ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ اگر چہ اغیار میں سے بھی چند لوگ بدطینت اور سماج دشمن عناصر کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور ان کی آواز سنی بھی جاتی ہے، لیکن ملت کے رہ نما اور دانشور طبقہ جب تک بہ یک آواز اس کھلی ہوئی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑا نہیں ہوگا، اس وقت تک سردست حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کی مدد کرنے جیسا ہے۔ ملت پر عجب وقت پڑا ہے۔ ایک طرف تو وہ ایک حد تک اخلاقی بے راہ روی اور روحانی تنزلی کا شکار ہے اور دوسری طرف ان پر ماب لنچنگ جیسے واقعات کی ذہنی مار پڑرہی ہے۔ ان کو دونوں سطح پر اصلاح اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس لیے دانشور طبقہ، ملت کے بہی خواہ اور ملی قیادت کو مظلوموں کے حق میں مضبوط و مستحکم آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے، دانشور طبقہ اور ملی قیادت کو علامہ اقبال کے اس سبق کو پھر پڑھنا چاہیے اور اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
دانشور طبقہ، ملت کے قائدین اور قومی فکر رکھنے والے جو چھوٹے چھوٹے گروہوں اور اپنی اپنی خانقاہوں میں قید ہیں، انہیں علامہ اقبال کی فکر سے سبق لینا چاہیے اور انہوں نے مسلمان بننے کے جن عناصر کی طرف رہنمائی کی ہے، اس پر غوروفکر اور تدبر کرتے ہوئے متحد ہوجانا چاہیے۔ ایک طرف جگرلالہ میں ٹھنڈک پہنچانے والی شبنم کا نمونہ پیش کرنا چاہیے اور دوسری طرف زمین ہی نہیں دریاؤں کے دل دہلانے والے طوفان کی ایسی آواز بن جانا چاہیے، جو ایک ہی جانب بہنے والے اقتدار کے دریاؤں کا نہ صرف رُخ موڑدے، بلکہ ایسی زمینوں کی سیرابی کا ذریعہ بھی بن جائے،جو ان دنوں سورج کی تیز تپش سے خشک سے خشک تر ہوتی جارہی ہیں۔
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں