141

مشرف عالم ذوقی اپنی گفتگو کے آئینے میں

پاکیزہ اختر
(ریسرچ اسکالر مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد،سرینگر کیمپس)
(مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف ناول نگار ہیں،ان کا مقام عہدِ حاضر میں اردو کے اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے نیلام گھر ،شہر چپ ہے،بیان،اور لے سانس بھی آہستہ جیسے کئی اہم ناول لکھے جنھیں عوام وخواص کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ناولوں کے علاوہ انھوں نے بہت سے افسانے بھی تخلیق کیے ہیں جو اردو کے مؤقر رسائل واخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح ان کی ریڈیو پر نشر ہونے والی کہانیوں کی بھی معتد بہ تعداد ہے۔ حال ہی میں مشرف عالم ذوقی کے فکشن کے حوالے سے پاکیزہ اختر ریسرچ اسکالرمولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد(،سرینگر کیمپس)نے ان سے بات چیت کی، جس کے بعض اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔)
…………………………………………..

سوال: آپ نے جب فکشن کے میدان میں قدم رکھا تو اس کی شروعات آپ نے کہانیوں سے کی یا ناولوں سے،اگرکہانیوں سے کی تو اپنی پہلی کہانی یا افسانے کے بارے میں بتائیں؟
جواب : شروعات کہانیوں سے ہوئی،گیارہ سال کی عمر میں،میں نے پہلاافسانہ لکھا۔اس کے بعد تیرہ سال کی عمر میں،میں نے ایک افسانہ ’’جلتے بجھتے دن‘‘پٹنہ ریڈیو اسٹیشن کو بھی دیا۔اتفاق سے ان کو یہ افسانہ پسند آیا،اور مجھے افسانہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا۔آرا سے پٹنہ کی دوری کافی ہے۔اور میری عمر اس وقت صرف تیرہ سال کی تھی۔ظاہر ہے کہ میں اکیلے پٹنہ نہیں جاسکتا تھا۔میں اپنے بڑے بھائی مسرور عالم ا ور آرا کے ہی ایک مشہور شاعر تانابیانی کے ہمراہ پٹنہ ریڈیو اسٹیشن پہنچا۔ڈائریکٹر مجھے دیکھ کر چونک گئے۔کیونکہ اتنی کم عمری میں پٹنہ ریڈیو اسٹیشن اب تک کسی کو بھی کہانی پڑھنے کے لئے نہیں بلایا گیا تھا۔’جلتے بجھتے دن‘ ایک رومانی کہانی تھی۔اس میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی بیان کی گئی تھی جس کا محبوب اس کو چھوڑ کر چلا گیا تھا،پھر بھی اس لڑکی نے اپنے زندہ ہونے کے احساس کوقائم رکھا۔وہ سوچتی ہے کہ محبت میں ناکامی ملنے کے بعد بھی زندگی کا سفر ختم نہیں ہوتا۔تیرہ سال کی عمر میں ہی،میں نے دوسرا افسانہ ’’رشتوں کی صلیب‘‘ لکھا۔یہ افسانہ ممبئی سے نکلنے والے رسالہ ’’کہکشاں‘‘میں شائع ہوا۔
سوال: میں نے آپ کا افسانہ ’’تم اس شہر کا مزاق نہیں اڑا سکتے ‘‘پڑھاہے۔کیا یہ افسانہ آپ نے کسی حادثے کے بعد لکھا ہے۔اس میں شہر نے جو کردار ادا کیا ہے،اس پر بھی روشنی ڈالیں؟
جواب: میں پریم چند اور ترقی پسندافسانوں کو پڑھنے کے بعد ایک ایسا افسانہ لکھنے کا خواہش مند تھا ،جو مزدوروں کے استحصال پر مبنی ہو۔ میں پریم چند سے بہت متاثر تھا اور اب بھی ہوں۔پریم چندنے مزدوروں اور کسانوں پر جو کچھ بھی لکھا وہ زمینی حقیقت سے بہت قریب ہے۔جب میں نے یہ افسانہ لکھنا شروع کیا، اس وقت تک پریم چند کو فوت ہوئے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔افسانہ لکھنے سے قبل میں کئی مزدوروں سے ملا۔ان کے مسائل اور گھریلو زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی۔اس کہانی میں شہر ایک کردار کے طور پر شامل تھا ۔میں جن مزدوروں سے ملاوہ تمام بہار اور یوپی کے شہروں سے ہجرت کر کے دلّی آتے تھے۔جب یہاں کام ملنا بند ہو جاتا تو وہ واپس اپنے گاؤں لوٹ جایا کرتے تھے۔لیکن مسئلہ صرف یہیں تک محدود نہ تھا بلکہ بہت حد تک ہمارا معاشرہ بھی اس کا ذمہ د ار تھا۔جہاں جاگیردارانہ نظام اور سرمایہ داری کے ختم ہونے کے باوجود ظلم کرنے کا احساس باقی رہ گیا تھا۔کہانی میں شہر کئی موقعوں پر مزدور کو ڈراتا ہے،گاؤں واپس جانے کی تنبیہ کرتا ہے۔آخری منظر بھیانک ہے۔جب خستہ حال مزدور کو شہر ٹوٹی پھوٹی حالات میں نظر آتا ہے۔شہر کا یہ پس منظر آج بھی ہے۔بہت سارے مزدور اپنے خوابوں کے ساتھ شہر میں آتے ہیں اور شہر ان کے خوابو ں کو توڑ دیتا ہے۔انسانی زندگی پر ہونے والا ظلم کسی بڑے حادثے سے کم نہیں۔اس لئے جو کہانی میں نے لکھی وہ صرف مزدوروں کی زندگی پر نہیں ہے،بلکہ دور دراز گاؤں سے آئے ہوئے نوجوانوں کا عکس بھی اس کہانی میں تلاش کیاجاسکتا ہے۔
سوال : کہانی ’’باپ اور بیٹا ‘‘کے ذریعے آپ قاری کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب: ایک ادیب سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔تومیںیہ بات واضح کر دوں کہ کوئی بھی بڑاادیب کہانیوں کے ذریعے کوئی پیغام دینا نہیں چاہتا ہے۔ادیب مبلغّ یا مقرب نہیں ہوتا۔’باپ اور بیٹا‘ کہانی میں دو نسلوں کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ایک باپ اور دوسرا بیٹا ہے۔زمانہ ایک لمبی اڑان بھر چکا ہے۔قدریں بدل چکی ہیں۔باپ بھی بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر بھی خواب ہیں،امنگیں ہیں،اور ابھی ڈھیر ساری عمر باقی ہے۔جس کو وہ اپنی مرضی سے جی سکتا ہے۔یہ باپ بیٹے کی اڑان کی کہانی ہے۔اب درمیان میں وقت ہے۔وقت جو دونوں کو انجان منزلوں کی سمت اڑائے لئے جا رہا ہے۔
سوال: آپ کے جوافسانے منظر عام پر آچکے ہیں،ان میں سے کتنے افسانے ریڈیو پر نشرہوئے؟
جواب: ریڈیو سے میرا گہرا تعلق رہا ہے۔میں تیرہ سال کی عمر میں ہی ریڈیو پر افسانے پڑھنے لگا تھا۔اور آج بھی میری کہانیاں ریڈیوپر براڈکاسٹ ہوتی رہتی ہیں۔ریڈیو اپنی آواز دور تک پہنچا دیتا ہے۔یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔کیوں کہ ہندوستان کے دور دراز گاؤں میں آج کی تاریخ تک ٹی ۔وی نہیں پہنچا ہے۔مگر وہاں ریڈیو کی اہمیت آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔میں نے اب تک پانچ سو سے زیادہ افسانے لکھے ہیں،کچھ کو چھوڑ کر زیادہ تر افسانے ریڈیو پر نشر ہو چکے ہیں۔
سوال : ریڈیائی افسانوں کی تاریخ اور تعریف کے بارے میں قارئیں کوکچھ بتائیں؟
جواب: جب ریڈیو شروع ہوا ،اور پطرس بخاری کو ڈائریکٹر بنایا گیا۔اس وقت ہندوستان کی زبان اردو تھی۔اردو عام بول چال کی زبان تھی۔پطرس نے ریڈیو کے ذریعہ اردو کو گھر گھر پہنچانے کا ایک بڑا کام کیا۔اس وقت کے تمام بڑے ادیبوں سے پطرس بخاری نے رابطہ کیا۔ان کو ریڈیو کی ذمّے دار ی دی۔منٹو ،بیدی،کرشن چندر جیسے لوگوں سے باضابطہ افسانے لکھوائے۔اب بہت حد تک ریڈیو والوں میں یہ جوش اور جذبہ ختم ہو گیا ہے۔اب ایسے لوگ کم ہیں،جوریڈیو کے معیار کو سامنے رکھ کر افسانے لکھتے ہیں۔بلکہ زیادہ تر ادیب اپنے لکھے ہوئے افسانوں کو ریڈیو میں آکر پڑھ دیتے ہیں۔وہ باضابطہ طور پر ریڈیو کے لئے نہیں لکھتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ ادیبوں میں بہت حد تک ریڈیو کی اہمیت باقی رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے،کہ ریڈیو کی اہمیت کو سمجھاجائے اور ریڈیو کے افسران اپنی ذمیّ داری کو محسوس کرتے ہوئے افسانہ نگاروں کواس بات کی دعوت دیں کہ وہ ذمیّ داری کے ساتھ ریڈیو کے لئے کچھ لکھیں۔جرائم سے لے کر صفائی اور ماحولیات تک ہزاروں ایسے مو ضوعات ہیں جن پر ہمارے ادیبوں کو لکھنا چائیے۔
سوال: دور حاضر میں نشریاتی ادب کی اہمیت پر اپنی رائے سے قاری کو آگاہ فرمائیں؟
جواب: نشریاتی ادب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔نشریاتی ادب کا سیدھا مطلب ہے ادیبوں اور دانشور وں کے خیالات سے عوام کو بیدار کرنا ۔اس لئے نشریاتی ادب میں چھو ٹے چھوٹے فیچر ز، ریڈیائی ڈراموں ، مضامین اور افسانوں کے ذریعے بیداری کا پیغام دیا جاتا ہے۔یہ پیغام بچوں اور عورتوں سے لے کر ہر طبقے کے لوگوں کے لئے ہوتا ہے۔ان میں جمہوریتی ہم آہنگی ، مساوات ،بھائی چارگی جیسے سارے موضوعات ہوتے ہیں۔ساتھ ہی ماحولیات کے حوالے سے پیغام ہوتا ہے۔اس لئے نشریاتی ادب کی بہت اہمیت ہے۔اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سوال: آزادی کے بعد ریڈیائی افسانوں کے مو ضوعات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے؟
جواب: آزادی کے بعد سے 1990ء تک ریڈیو کی حکومت قائم رہی۔1990ء کے بعدٹی۔وی کا ذور دار چلن شروع ہو گیا اور ریڈیو کی اہمیت کم سے کم ہوتی گئی۔ریڈیو میں افسانے کا وقفہ دس سے پندرہ منٹ یا بہت زیادہ بیس منٹ کا ہوتا ہے۔یعنی ایک ادیب کو اسی وقفے کے درمیان اپنی کہانی ختم کرنی ہوتی ہے۔جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے توریڈیائی افسانوں کے موضوعات ملک کی ترقی اور فروغ سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ان میں ایسے مسائل بھی آتے ہیں جنھوں نے کئی سطحوں پر ہمیں کمزور بنایا۔1990ء تک باضابطہ ادیبوں کو موضوعات بھی دیے جاتے تھے اور اس پرادیب خوش بھی ہوتے تھے ۔ان موضوعات کو تخلیقی ادب کا حصہّ مانتے تھے۔ اب یہ روایت بہت حد تک ختم ہوچکی ہے۔
سوال: آزادی کے بعد ریڈیائی افسانوں میں رونما ہونے والی اہم تبدیلوں اور موضوعات کے حوالے سے قارئین کو آگاہ فرمائیے ؟
جواب: آزادی کے بعد بہت سے مسائل ایسے تھے جن پر لکھنے کی ضرورت تھی ،دو قومی نظریہ کے سبب ملک کی تقسیم ہوئی تھی ۔آزادی کے بعد یہی آگ ان دو ملکوں میں سلگتی رہی تھی، اس لئے اس وقت سب سے اہم موضوع یہی تھاکہ ہندو ؤں اور مسلمانوں کے درمیان محبت کے جذبے کو فروغ دیا جائے،اور بڑھتی ہوئی نفرت کو ختم کیا جائے ۔1960 ء کے بعد جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی ،لیکن نشریاتی ادب لکھنے والوں نے عوامی رابطے کی زبان کو زندہ رکھا اور علامتی نظام سے رابطہ قائم رکھا، مسائل بڑھ چکے تھے ،ہندوستان آہستہ آہستہ ترقی کر رہا تھا ،اس لئے ترقی کے ساتھ ساتھ نشریاتی افسانوں میں بھی ملک کے مسائل جگہ پاتے گئے ۔لیکن 1990 ء کے بعد یہ روایت بھی بہت حد تک ختم ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں