116

مشاہیر اکابر ومعاصرین


مجموعہئ مضامین: مولانامفتی ظفیر الدین مفتاحیؒ، سابق استاذ فقہ وافتا ومرتب فتاوی دارالعلوم دیوبند
ناشر: مرکزی پبلی کیشنز، نئ دہلی
صفحات:455
قیمت: 350
تبصرہ: فیصل نذیر، ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہاے گراں مایہ کیا کیے
مفتی ظفیر الدین مفتاحی ؒ ان علمائے دین میں سے ہیں، جنہیں عالم ربانی ہونے کے ساتھ ساتھ وطن ِعزیر کی آزادی کے لئے تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور حکومتِ ہند آپ کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے تا حیات انہیں سرکاری وظیفے سے اعزازا ًنوازتی رہی۔ساتھ ہی مفتی صاحب ایک باتوفیق صاحب قلم تھے اور انھوں نے اپنی ساٹھ سالہ عملی زندگی میں سیکڑوں مضامین و مقالات کے علاوہ متعدداہم علمی موضوعات پر بیش قیمت کتابیں بھی لکھیں۔
زیرنظر کتاب بھی مفتی ظفیر ؒ کی شاہکار تحریروں کا مجموعہ ہے جو موقع بموقع ”ماہنامہ دار العلوم“اور دیگر رسائل میں میں چھپتے رہے،اکثر مضامین مشاہیرمعاصرین کے انتقال پر تحریر کی گئی ہیں۔کتاب کے مشتملات میں بڑا توسع اور تنوع ہے، یہ کتاب محض مذہبی شخصیات پر عقیدتوں کا گلدستہ نہیں؛بلکہ اس میں آپ کو سیاسی، ادبی، علمی، سماجی اور دیگر شعبہئ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے اسما بھی نظر آجائیں گے۔
ابتدا کے مضامین نسبتاً طویل ہیں، ان میں شیخ الہند ؒ، ابوالمحاسن محمد سجادؒ، مفتی عزیز الرحمن ؒ، حسین احمد مدنیؒ، قاری طیبؒ، منت اللہ رحمانیؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور مولانا ابو الحسن ؒ وغیرہ کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسرے حصے کی شخصیات کے انتخاب میں تنوع زیادہ ہے اسے”نقوشِ کارواں“کا عنوان دیا گیا ہے۔اس میں سابق صدرِجمہوریہ ڈاک ٹر ذاکر حسین ؒ،مولانا ابراہیم بلیاویؒ،جمال عبد الناصر ؒ، شاہ فیصلؒ،مولانا عبد الماجد دریابادیؒ، مفتی شفیع دیوبندیؒ، مولانا عثمان فارقلیطؒ، مولانا یوسف بنوریؒ، بشیر احمد ایڈوکیٹؒ،نظام دکن میر عثمان علی خاں ؒ وغیرہ کی حیات وخدمات پر تحریریں موجودہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مولانا نے وسعت قلبی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ان حضرات پربھی مضامین لکھے ہیں، جن سے علمائے دیوبند کا نظریاتی اختلاف رہا ہے، مثلا مولانا عامر عثمانیؒ کی وفات پر مفتی صاحب نے مضمون لکھا اور بڑی کشادہ دلی سے اعتراف کیا ہے کہ عامر عثمانی ؒ اگر چہ علمائے دیوبند کے خلاف اپنے رسالے ”تجلی“ میں لکھتے تھے اور وہ جماعتِ اسلامی کی طرف مائل ت ھے، مگر مصنف نے آپ کے زورِ قلم اور محنت کی تعریف کی ہے کہ وہ کس طرح دار العلوم کی لائبریری میں آکر گھنٹوں غرقِ مطالعہ رہتے اور آپ کی ذمے داری ان دنوں لائبریری میں ہوتی تھی تو آپ عامر عثمانی کو کتابیں نکال کر دیا کرتے تھے۔
اس کتاب کے مطالعے اور اس میں موجود مولانا محمد ولی رحمانی کے مقدمے اور مولانا سعید الرحمن اعظمی کی تعارفی تحریر سے مفتی صاحبؒ کی حیات کے نئے گوشے ابھر کر سامنے آئیں ہیں اور پیشِ لفظ کے ذریعے بالتفصیل آپ کی خدمات،آپ کے علمی کارنامے اور دیگر کمالات کا علم ہوا، یقینا مفتی صاحب کی زندگی میں خدا نے بڑی برکت دی تھی کہ آپ نے تنِ تنہا ایک انجمن اور معہد کا کام کیا۔ درجنوں کتابوں کی تصنیف وتالیف،دو سو سے زائد مضامین، ماہنامہ”دار العلوم“ کی ادارت واداریہ نویسی، فقہ اکیڈمی کی تاحیات صدارت، درس وتدریس، بارہ ضخیم جلدوں میں فتاویٰ دار العلوم کی ترتیب،کتب خانہ کی فہرست سازی وغیرہ جیسے عظیم کام کے لئے مکمل کمیٹیاں ہونی چاہئے تھیں،ایسے کاموں کے لیے سرکاریں بڑابڑا بجٹ مختص کرتی ہیں، مگر مفتی ظفیر الدین ؒ صاحب کی شخصیت نے اپنی محنت ولگن کے بل پر ممکن کر دکھایاتن تنہایہ سب کام کیے،فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔
اس کتاب کے صفحات و طباعت عمدہ ہیں اور انفرادی استفادے کے ساتھ لائبریری و مکتبات کے لئے بھی یہ کتاب یکساں مفیدو اہم ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے ذریعے نسلِ نو مولانا کو اور ان کی ہمہ جہت خدمات کوبہتر طریقے سے جانے گی۔ کتاب میں کچھ طباعتی کچھ غلطیاں رہ گئی ہیں۔ امید ہے کہ مرتب اس کی طرف توجہ دیں گے؛ لیکن صفحہ نمبر 449/کے آخری مضمون میں موجود غلطی قاری کو کنفیوژ کرسکتی ہے؛ کیونکہ مضمون ہے بنگلہ دیش کر جنرل ضیاء الرحمن کے سلسلے میں،مگر ضیاء الحق چھپ جانے کی وجہ سے پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق سے اشتباہ ہوسکتا ہے، اسے دوسری اشاعت میں درست کرلینا چاہیے، مزید یہ کہ اگر پیشِ لفظ میں آزادیِ ہند کی جدوجہد میں آپ کی حصے داری پر بھی کچھ لکھ دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔
اخیر میں مجھ طالب علم کی دعا ہے کہ اللہ مفتی صاحبؒ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔اور میں آپ کے فرزندِ ارجمند مولانا احمد سجاد قاسمی کومبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑی محنت ومشقت سے یہ کتاب ترتیب دی۔ نامِ نیکِ رفتگاں کی حفاظت کے لئے انہوں نے اس قدر جدو جہد کی، اللہ ان کی کوشش کو قبول فرمائے (آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں