114

مسلم تنظیموں اور آر ایس ایس کے مابین ڈائلاگ

تحریر : مسعود جاوید

گزشتہ دنوں دو واقعات ایک ہی نوعیت کے پیش آئے. 1- آر اس ایس کے تهنک ٹینک اندریش کمار دارالعلوم دیوبند پہنچے اور ذمہ داروں کے ساتھ گفت و شنید کی.
2- جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی آر ایس ایس ہیڈکوارٹر ناگپور میں آر ایس ایس کے صدر موہن بهاگوت سے ملاقات کی اور گفت و شنید ہوئی.
ان دونوں واقعات سے بعص نام نہاد مسلم دانشوروں اور جمعیت مخالف مولویوں کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا ہے. اور انہوں نے نفس موضوع ‘ ڈائلاگ’ پر رائے زنی کی بجائے ادارے اور شخصیت پر بحث چهیڑ رکھی ہے کہ آر ایس ایس کو مسلم دانشوروں سے بات کرنی چاہئے . ان ملاؤں کے بس کی بات نہیں ہے. یہ مدرسے والے سیاست کیا جانیں. اسعد مدنی تو کانگریس کے نامزد راجیہ سبها کے ممبر تهے اس تنظیم سے کیا توقعات کی جا سکتی ہے. قاتلوں سے کیسی بات چیت وغیرہ وغیرہ.
سوال یہ ہے کہ آپ عصری تعلیم کے اداروں کے گریجویٹ نے آزادی کے بعد سے اب تک کون سا تیر مارا؟ مولانا ابوالکلام آزاد بهی مدرسہ کے پڑهے ملا تهے وہ بهی کانگریس کی صف اول کے لیڈر اور کانگریس حکومت میں وزیر تعلیم تهے ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
عربوں خاص طور پر فلسطینیوں کے متشدد گروپ بضد تهے اور ہیں کہ اسرائیل قاتل کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی ہمارا ہدف اساسی اسرائیل کے وجود کو فلسطین سے خاتمہ ہے. حاصل کیا ہوا. ایک اندازے کے مطابق ستر فیصد زمین سے سمٹتے سمٹتے پچیس فیصد پر آ گئے اور نہتے بوڑھے عورتیں اور معصوم بچے اس میں ایندهن بن رہے ہیں. ان کے جذبہء شہادت کو سلام کرنے کے علاوہ غم و غصہ کا اظہار کرنے میں ہمارا کیا جاتا ہے. ہم ان کی جانبازی اور بہادری پر تالی بجا دیتے ہیں آنسو بہا لیتے ہیں اور بس. اس کا حاصل کیا ہے؟ ڈائلاگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے. ایک اور اہم بات یہ کہ حکم فیصل اور ثالثی کرنے والا جو بهی ہو جب وہ یہ دیکهتا ہے کہ دونوں فریقوں میں توازن نہیں ہے. تو وہ حق کی بات کہ کر بهی کمزور فریق کو صبر کی تلقین کرتا ہے اور حق سے کم پر راضی ہونے کی نصیحت کرتا ہے …. اس لئے کہ عدل انصاف اور صلح میں فرق ہوتا ہے. عدل اسی وقت قائم کیا جا سکتا ہے جب حکم کے پاس قوت کا استعمال کرکے فیصلے پر عملدرآمد تنفیذ کرانے کے وسائل ہوں. اس کی غیر موجودگی میں خون خرابہ سے بچنے کے لئے صلح کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے.
ہمارے نام نہاد دانشوروں کی یہ سوچ کہ ملاؤں کو ہی ڈائلاگ کے لئے کیوں منتخب کیا گیا ؟ کس نے کہا کہ یہ ملے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ . تو اس کا جواب یہ ہے کہ فریق ثانی نے بغور جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا اس نے پتہ کر لیا کہ کس کی بات مسلمان سنتے ہیں. کس کے کتنے متبعین ہیں. ان ملاؤں کے جو مفلوک الحال مسلمانوں کے دکھ درد میں آدهی ادهوری ہی سہی مدد کے لئے سامنے آتے ہیں یا ان بعض مسٹروں کے جو غالباً اس ڈر سے کہ کہیں ان پر مسلم پرست کا دهبہ نہ لگ جائے دقیانوسی اور بنیاد پرست مسلم کی چهاپ نہ لگے، کبهی ان خستہ حال مسلمانوں کے ساتھ ربط ضبط نہیں رکها. گو ان کے اندر ملکہ وکٹوریہ یا شکسپیئر کے اسلوب میں انگریزی زبان میں لکهنے اور رائے عامہ بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے مگر انہوں نے مسلم ایشوز پر کبهی بات نہیں کی کسی پلیٹ فارم پر جو زبان دانی اور عصری تعلیم کی وجہ سے ان کو میسر ہے ان پر مسلمانوں کے حقیقی مسائل تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو موضوع سخن نہیں بنایا کبهی اسلام اور مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا. وہ وہی بات دہراتے رہے جو بدطینت مغربی اور ہندوستانی میڈیا نے پروسا. انہوں نے بهی سارے مسائل اور مشاکل کے ذمے دار مسلمانوں ہی کو ٹھہرایا. وہ آج بهی مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ آزادی سے پہلے کہی جانی والی فرسودہ باتیں پردہ حجاب تعلیم نسواں اور عصری تعلیم کی مخالفت کہتے ہیں اس لئے کہ مسلم اکثریت سے ان کا سابقہ نہیں ان کی کالونیوں میں کبهی آنا جانا نہیں ان کے مسائل کو سمجهنے ان پر ریسرچ کرنے اور کیس اسٹڈی کرانے کی سوچ نہیں ہے پهر بهی وہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس نے ان سے رابطہ کیوں نہیں کیا !
دیر آید درست آید… ویسے تو ایمرجنسی کے دوران جیل میں جماعت اسلامی اور آر ایس ایس کے ارکان کے درمیان گفت و شنید ہوئی تهی مگر ایمرجنسی کے خاتمہ کے بعد اور جنتا پارٹی کے بکهرنے کے بعد دوبارہ کانگریس کی حکومت بنی اور دونوں تنظیمیں دوبارہ مطعون اور راڈار پر آگئیں مگر اب خاص طور 2014 سے آر ایس ایس ایک پاورفل تنظیم بن کر ابهری ہے حکومت اس کے ہم خیال جماعت کی ہے اور ملک میں نئے حالات ہیں. ایسے میں اور بهی ضروری ہو جاتا ہے کہ ڈائلاگ شروع ہو دو فرقوں کے درمیان موجود غلط فہمیاں حقیقی ہوں یا مسلط کی ہوئیں اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے.
جہاں تک دارالعلوم دیوبند کا تعلق ہے تو ما قبل آزادی برطانوی استعماریت سے ملک کو آزاد کرانے کی اس کی سنہری تاریخ اس کے شہداء اور جیل میں قید و بند کی صعوبتیں کالاپانی میں جلا وطنی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. ما بعد آزادی دارالعلوم دیوبند نے اپنے آپ کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکها اور پارٹی پالیٹکس سے کنارہ کشی اختیار کر لی. قاری طیب صاحب رحمه الله پر بہت دباؤ بنایا گیا کہ وہ جمعیت علماء اور مسلم قیادت کی اکثریت کے نقش قدم پر چلیں لیکن استقامت کے ساتھ وہ اس ادارہ کو کانگریس کی ‘شاخ ‘ بننے سے بچائے رکها اس کے لئے ان کو ذہنی اذیت پہنچائی گئی ان پر مسلم لیگی کا ٹیگ لگایا گیا مگر وہ مرد مجاہد آخری سانس تک اس ادارے کے اصول سے انحراف نہیں کیا.
دارالعلوم دیوبند باعث فخر ملک کا اثاثہ ہے اس کے دروازے مذہب مسلک علاقے اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر ہر ایک کے لئے کهلے ہوئے ہیں. دانشور صحافی ریسرچ اسکالر حکومتی نمائندے اور ہندوستان میں موجود دنیا بهر کے سفارتخانوں کے نمائندوں کا بصد احترام استقبال کرتا ہے. مگر اس استقبال کا مقصد کسی قسم کا سیاسی فائدہ یا مالی تعاون حاصل کرنا نہیں ہوتا ہے. اس لئے کہ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اس کے جو اصول مرتب کئے تهے اس میں ایک یہ بهی ہے کہ یہ ادارہ اپنے اخراجات پوری کرنے کے لئے کسی نواب جاگیردار کارخانہ تجارت کسی امیر کسی حکومت کے ساتھ معاہدہ تعاون نہیں کرے گا بلکہ آمدنی کی سبیل عوامی چندہ ہوگا ‘. وہ شاید اس خدشہ کے تحت کہ 1- اعتماد علی الله سے زیادہ اعتماد علی العبد ہے 2- ایسے سرہرستان اپنے اثر ونفوذ کے ذریعے ادارے کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اس کے نظام اور روح کو متاثر کر سکتے ہیں 3- کارکنندگان مدرسہ کو عوام کو جوابدہی سے بے فکری ہو جائے گی.
آمدم بر سر مطلب یہ کہ گفت و شنید کی پہل کو نہ صرف ہمیں خوش آمدید کہنا چاہئے بلکہ مختلف تنظیموں کو بهی برادران وطن اور ان کی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہئے. ” مدرسوں میں کافروں کو قتل کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے” مساجد میں الله اکبر کا مطلب نعرہ تکبیر بلند کرکے مسلمانوں کو ورغلایا جاتا ہے” جیسے الزامات کو صاف کرنے کا یہ ایک اچها ذریعہ ثابت ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں