50

مسلمانوں کی شناخت کیا ہے ؟


تحریر : مسعود جاوید

مسلمان کس نام سے یا کس کام کے لئے جانے جاتے ہیں ؟
تقسیم ہند کے وقت سکھ برادری کو بہادری اور پنتھ کی رکشا یعنی مذہب کی حفاظت کرنے کا ٹیگ لگا کر لوگوں نے انہیں آگے بڑها دیا اور اس دوران جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے. اس کے بعد ہندو مسلم منافرت اور عدم اعتماد کی فضا میں سکهوں کو محافظ سمجها گیا.اگر کسی بس یا ٹرین میں کسی کم عمر لڑکا یا لڑکی کو اکیلے سفر کرنا ہوتا اور بس یا ٹرین میں کوئی سکھ ہوتا تو غیر مسلم والدین اپنے بچے کو گاڑی میں سوار کرکے مطمئن گهر لوٹتے کہ ” پا جی ہیں نا” . 84 میں اندرا گاندھی کا بہیمانہ انتقامی قتل کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں سکھ مخالف فسادات نے سکهوں کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا اور اب پبلک مقامات اور بس و ٹرینوں میں ان کا مذاق اڑایا جانے لگا اور اگر وہ ذرا بهی مزاحمت کرتے تو ان کی داڑھی اور پگڑی نوچی جاتی اور پٹائی کی جاتی تهی. اس قوم کی شوکت جاتی رہی. ان ہتک آمیز رویوں کو وہ صبر و تحمل کے ساتھ جھیلتے رہے اور ایک عرصہ کے بعد انہوں نے اپنی دوسری شناخت بنائی وہ شناخت کسی مذہب کے تحفظ کی نہیں پوری انسانیت کے ساتھ ہمدردی اور خدمت کی تهی. ہر ناگہانی آفات کے موقع پر انہوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر مصیبت زدگان کے لئے لنگر لگایا اور لنگر کے علاوہ شیر خوار بچوں کے لئے دودھ کی بوتلیں اور پینے کا پانی کا نظم کیا. شامی اور روہنگیائی مظلومین کی مدد اس کی چند مثالیں ہیں…… اور اب اکال تخت کا کشمیری لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرانے کا عہد اور عمل.

مسلمان کو کس نام سے یا کس کام کے لئے کسی آفت ناگہانی میں یاد کیا جائے ؟ کیا انسانی ہمدردی کی مجسمہ مدر ٹیریزا جیسی کوئی شخصیت ہم میں بهی ہے ؟. سیلاب متاثرین کے لئے کوئی ملی تنظیم جس کا اختصاص specialization اس فیلڈ میں ہو جس کے پاس crisis management کے ماہر افراد ہوں جنہیں ایمرجنسی کی حالت میں یاد کیا جائے کسی تنظیم کے پاس بلا تفریق مذہب و علاقہ اس طرح کی مصیبتوں سے نمٹنے کے لئے ایسا انفراسٹرکچر ہے کسی کے پاس رابطے کا ہوٹ لائن SOS نمبر ہے ؟
مسلمانوں کو غیر مسلم کس نام سے یاد کریں ؟ کیا صادق و امین صلی الله علیہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہم سچ بولنے والے اور امانت کی صحیح پاسداری کرنے والے ہیں ؟ اس مناسبت سے ایک واقعے کا ذکر بے محل نہیں ہوگا. شارجہ میں میرا ایک افغانی ڈرائیور تها جہانداد خان اس نے بتایا کہ افغانستان میں کثیر تعداد میں غیر مسلم سندهی مقیم تهے اور زیادہ تر ان کی ہی دکانیں تھیں. وہ سچ بولنے اور امانت رکهنے کے لئے مشہور تهے. اس امانت کی رقم میں ایمان محرک ہو یا نہ ہو مگر وہ امین تهے . شاید اس لئے بهی کہ وہ اس رقم کو roll over کرکے اپنی تجارت بڑهاتے تهے. اور یہ جب ہی ممکن تها جب ان کا reputation تهیک ہو.
عموماً افغانی ملک سے باہر سفر کرتے وقت یا پہاڑوں پر جاتے وقت اپنے پیسے ان سندھیوں کے پاس امانت رکھ جاتے تهے اور جب واپس آتے تو بلا کم و کاست سندهی وہ رقم لوٹا دیتے تهے. ” ایک بار افغانی واپس آیا رقم لینے سندهی کی دکان پر گیا تو سندهی کا لڑکا دکان پر بیٹها تها اس نے جو رقم لوٹائی وہ کم تهی. شام کو افغانی پهر اس دکان پر گیا اور اس کے باپ سے شکایت کی. باپ نے فوراً گهٹتی رقم پوری کر دی اور کہا معاف کرنا خان در اصل آج کل میرا لڑکا مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگا ہے.” میں نے واقعہ جیسا سنا ویسا ہی لکھ دیا ممکن ہے بعض اس کو مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کہیں.

مسلمانوں کی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی ؟
تعلیمی میدان میں شمالی ہند کے مسلمانوں کے پاس الامین ایجوکیشنل سوسائٹی کے ممتاز صاحب اور شاہین گروپ کے عبدالقدیر صاحب کیوں نہیں ہیں ؟ سیاسی میدان میں بدرالدين اجمل اور اسدالدین اویسی کیوں نہیں ہیں ؟ شمالی ہبد کے قدآور ‘ دگج’ منسٹرز اور ایم پی دہلی میں بیٹھ کر الائچی اگلتے رہتے تهے اور ہیں لیکن ان کی اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارکردگی उपलब्धि achievement ہے ؟ یہی نا کہ وہ born to lead اور اشرافیہ ہیں باقی دوسرے خطے کے لوگ کمتر ہیں مرکز کی سیاست ان کے علاوہ دوسروں کو نہیں آتی ! یہی زعم ہے نا کہ ہندوستان کے مسلمان ان کے فرمان کے انتظار میں رہتے ہیں ! یہی نا کہ مرکز کی گلیاروں اور اقتدار کی راہداریوں میں حزب اقتدار اور حزب مخالف کے منجهلے اور چهوٹے لیڈران سے ان کا دوستانہ ہے ! یہی نا کہ ان کے بیانات کو بعض اوقات میڈیا والے اسیس دیتے ہیں ! کیا صرف یہ کارنامے مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کے لیے کافی ہیں ؟ کیا اویسی اور اجمل کو بی جے پی کے ایجنٹ اور ایم آئی ایم اور یو ڈی ایف کو بی جے پی کی بی ٹیم کہنے سے ملت کے مسائل حل ہوتے ہیں ؟

پچهلے کئی سالوں سے تعلیم خاص طور پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا پورے ملک میں سیلاب سا آیا ہوا ہے. شاردا ، امیٹی ، لنگایت اور بڑلا وغیرہ ان گنت انسٹی ٹیوشن یونیورسٹیز اور کالجز ہیں جن کے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بهی کیمپس ہیں یہ ایک صاف ستهرا کام ہے اور اچهی منفعت بخش تجارت ہے لیکن افسوس شمالی ہند کے ذی حیثیت مسلم سرمایہ کاروں کی توجہ اس طرف نہیں ہوتی. اس وقت ملک میں جدید وسائل اور سہولیات والے پرائیویٹ نرسنگ ہوم ہاسپٹل اور سوپر اسیشیلیٹی ہیلتھ کیر سنٹر اور ہاسپیٹل ہیں اس سیکٹر میں مسلمان انویسٹ کیوں نہیں کرتے ؟ اس نہ کرنے کے لئے ذمہ دار کون ہے ؟ ظاہر ہے صرف صاحب ثروت نہیں. وہ لوگ بهی ذمے دار ہیں جنہوں نے MBA اور بزنس مینجمنٹ پلاننگ اور امپیلیٹیشن کے میدان میں بڑی بڑی ڈگریاں لے رکهی ہیں وہ چاہیں تو مسلم سرمایہ کاروں کو motivate کر سکتے ہیں صحیح رہنمائی کر سکتے ہیں اور مارکیٹ سیلری پر ہینڈز دے سکتے ہیں. بات جب ملت کی خیر خواہی اور ممکنہ تعمیر و ترقی کی ہوگی تو ملت کے ہر طبقے سے اپنی اپنی بساط بهر contributions کرنے کی ضرورت ہوگی. مونیٹری مال و زر سے نہیں کم از فکر مندی سے اور professional advice سے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں