89

مسجد اللہ کا گھر اور مذ ہبِ اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے

حافظ محمدہاشم قادری مصباحی
دنیاکے تمام مذاہب میں عبادت کا تصور پایا جاتا ہے اور عبادت کر نے کے لیے مخصوص جگہ مسجد، مندر، گرجا گھر، گرودوراوغیرہ وغیرہ کی تعمیر کی جاتی ہے اور ان عبادت گاہوں میں اس کے ماننے والے اپنے عقا ئد و نظریہ پر عمل کرتے ہوئے خوش دلی سے عبادت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا ہے، آنے والی صبحِ قیامت تک چلتا رہے گا، ہمارا ملک ہندوستان ایک کثیر ا لمذاہب ملک ہے بہت سے مذاہب کے ماننے والے یہاں زمانۂ قدیم سے آباد ہیں، گنگا جمنی(ہندو اور مسلمان کی ملی جلی )تہذیب والے اس ملک میں لوگ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے خوش تھے۔حکو متوں،عدالتوں کا کام ہے لوگوں کی جان ، مال ،عزت،آبرو کی حفاظت کرنا اور رعایا(عوام) کو خوش رکھنا۔ اگر کسی پر ظلم وجبر ہو رہا ہو، تو اس کو انصاف دلانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے،ظالم کے پنجوں سے آزادی دلاکر انصاف کر کے عوام کو اس کا حق دے اوردلائے جو بحیثیت انسان اس کا بنیادی حق ہے، بد قسمتی سے اس کام کے بجائے لوگوں پرموجودہ حکومت اپنی مرضی اور اپنا نظریہ مسلط کر رہی ہے، لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے اور نتہا ئی فکر اور شرم کی بات ہے کہ اب یہ کام عد لیہ سے بھی کرا رہی ہے۔ اللہ خیر فر مائے۔ عدالت سے پے در پے کئی فیصلے ایسے آئے ہیں کہ مسلما نوں کی تہذیب و ثقافت،مذہب پر آنچ آرہی ہے ،اب تو حد ہی ہو گئی ،طلاق کے مسئلے کے بعد اب خانۂ خدا ’’مسجد ‘‘کو اسلام کا ابھن انگ(اٹوٹ حصہ) نہ ماننا یہ سرا سر مذہب اسلام اور اس کے ماننے والوں پر ظلم عظیم ہے۔27 ستمبر2018 کو سپریم کورٹ نے دو فیصلے دیے۔ان میں سے ایک بابری مسجد کے ضمن میں چل رہے ایک مقدمے میں فیصلہ یہ دیا کہ’’ مسجد‘‘ میں نماز کی ادائیگی اسلام کا لاز می جز نہیں ہے، مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید اور احادیث طیبہ کے کسی ایک بھی سند کے بغیر یہ فیصلہ سنا یا گیا تھا، جس کو اسماعیل فاروقی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا کہ اسلام کی غلط تشریح ہوئی تھی؛ اس لیے اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے اسے وسیع تربینچ کو بھیج دیا جائے، جسے چیف جسٹس د یپک مشرا نے مسترد کر دیا اور یہ فیصلہ سنایا کہ ’’مسجد اسلام کا ابھن انگ نہیں ہے‘‘ اللہ خیر فر مائے۔ آج ہماراہندوستان جنت نشاں کہاں کھڑا ہے دنیا خوب دیکھ رہی ہے۔
مسجد اللہ کا گھر ہے اور وہ مقدس جگہ ہے، جہاں خدا ئے وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی جاتی ہے، زمین کا جو سب سے مبارک حصہ ہے ،وہ مسجد کا حصہ ہے، سب سے مبارک، سب سے قیمتی حصہ وہ ہے ،جو مسجدکے نام سے جانا جاتا ہے، مسجد کی اہمیت وحیثیت حدیث پاک میں اس طرح بیان کی گئی ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایاکہ شہروں میں اللہ کے نز دیک سب سے پسندیدہ جگہ وہاں کی مسجدیں ہیں اور شہروں میں سب سے نا پسندیدہ جگہ وہاں کے بازار ہیں(رواہ مسلم) اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ہے: ’’زمین کی بہترین جگہیں مسجدیں اور بری جگہیں بازار ہیں۔‘‘ ان احا دیث مبار کہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین میں سب سے مقدس جگہ مسجد ہے۔ اللہ رب ا لعزت نے بندوں کو عبادت کے لیے پیدا فر مایا،اور عبادت کے لیے سب سے پہلے کعبہ کو بنا یا:’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لو گوں کی عبا دت کو مقرر ہوا، وہ ہے جو مکہ میں ہے ،بر کت والا اور سارے جہان کا راہنما۔(سورہ آل عمران،آیت:96) مسجدیں نمازوں کی ادائیگی کے لیے ضروری اور اسلامی شعار ہیں،مسلمانوں سے مسجدوں میں نماز پڑھنے کا حق کو ئی نہیں چھین سکتا۔عدا لتیں لاکھ اس سوال پر غور کرتی رہیں کہ کیا مسلما نوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ نمازوں کی ادائیگی مسجدوں میں ہی کریں، مسلمان نماز مسجدوں میں ہی ادا کرتے رہیں گے ؛کیونکہ یہ ان کا شر عی حق ہے اور آئینی حق بھی، سپریم کورٹ نے بھلے ہی مسجدوں میں نماز کا حق بڑی بنچ کو نہ سونپا ہو، پر اسے مسلمانوں کی طرف سے یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ مسجدوں میں نماز کا حق قر آن و احادیث کی جانب سے ہے، سینکڑوں دلا ئل ہیں، جو پیش کیے جاسکتے ہیں، مسجدوں سے اصلاح معاشرہ کا پیغام دیا جاتا ہے، جب مسلمان دن میں پانچ بار آپس میں ملتے ہیں ،تو ایک دوسرے کے مسا ئل سے واقفیت ہو تی ہے، ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں، جمعہ وعیدین کے مو قع پر بہت بڑی تعداد میں لو گوں سے ملا قات ہو تی ہے، با ہمی ربط بڑ ھتا ہے، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی ہے ،بندوں کے حقوق ادا کر نے کا احساس پیداہو تا ہے، ان سارے معاملات میں مسجدوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے ،یہاں دینی ودنیوی تر بیت ہو تی ہے، مسجدوں سے ہمارا تعلق جڑا ہونے سے اللہ تعالیٰ سے قر بت حاصل ہوتی ہے اور کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی(رحمت کے) سا یے میں جگہ ملے گی؛ لہٰذا مسلمانوں کو چا ہیے کہ اپنا تعلق مسجدوں سے جوڑیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ مسجدیں آباد رہیں۔
مسجد اللہ کے ذکر کے لیے ہے اس میں رکاوٹ ڈالنے والا بہت بڑا ظالم ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے! انھیں ایسا کر نا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں( بھی) ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔ (البقرہ،آیت114) مسجد میں اللہ کا ذکر نے سے روکنے والے کو اللہ سب سے بڑا ظالم بتا رہا ہے ،ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ذلیل و رسوا فر مائے گا اور آخرت میں بھی سخت عذاب دے گا، قر آن کریم میں ہی فر مایاگیا ہے کہ ایسے ظالم پر ہم اس سے بڑا ظالم مسلط کر دیں گے۔(القرآن،سورہ البقر2،آیت129) بلاشبہ اللہ قدرت والا ہے اور وہ ظالموں کی ضرور پکڑ فر مائے گا،مگر ہماری ذمے داری ہے کہ ہم مسجدوں کو آباد کریں، مسجد کی آبادی صرف ظاہری زیب وزینت ،رنگ وروغن سے نہیں ہوتی ؛بلکہ اس میں ذکر اللہ کر نا، نمازیں پڑھنا، شریعت کے احکام کو قائم رکھنا، انھیں شرک وظاہری میل وکچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے،مسجد میں نماز پڑھنے کی بے شمار فضیلتیں احادیث طیبہ میں ہیں،ایک حدیث ملاحظہ فر مائیں، رسو ل اللہ ﷺ نے فر مایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کر تا ہے، پھر ’’مسجد‘‘ آتا ہے اور اس کے گھر کے نکلنے کا سبب صرف نماز ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بد لے اللہ تعالیٰ اس کا ایک در جہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا تا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔(سنن ابن ماجہ،حدیث:281 )اللہ ہم سب کو مسجد کی عزت بچانے و مسجد آباد کر نے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔

hhmhashim786@gmail.co
Mob.: 09279996221

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں