172

مسئلۂ کشمیر کی پیچیدگی اور جمعیت علما کا موقف


معوذ سید ،بھیونڈی

سات دہائیوں پرانا مسئلہ کشمیر اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر ہے. ایک جانب دستوری اِبہام اور مخمصے کی صورتِ حال اور دوسری جانب انتظامی بحران نے جو پیچیدگی پیدا کی ہے اس کا تجزیہ کرنا بھی سرسری سا کام نہیں ہے، موقف قائم کرنا پھر اس سے آگے کی چیز ہے. یہی وجہ ہے کہ مسلمانانِ ہند کی جانب سے جمعیت علمائے ہند نے جو موقف اختیار کِیا ہے، وہ خود گویا نیم مسئلہ کشمیر بن گیا ہے. راقم کی کوشش ہے کہ حقیقی صورتِ حال اور اس کی مناسبت سے جمعیت علماء کے موقف کو مفروضات و غلط فہمیوں اور رطب و یابس سے مبرا کر کے پیش کیا جا سکے۔
دفعہ0 37
دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کا عمل اتنا سادہ اور یک رخی نہیں ہے جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے۔دفعہ 370، جو کشمیر کے راجہ ہری سنگھ کی جانب سے پیش کردہ دستاویزِ شرکت (Instrument of Accession) کے تحت مرتب کیے جانے والی تفویضات و شرائط کو آئینِ ہند میں باضابطہ طور بیان کرتی ہے، کا عنوان ـــ ’’ریاستِ جموں کشمیر کے متعلق عارضی توضیعات‘‘ ہے. حالیہ مسئلے میں اِس دفعہ سے متعلق چند باتوں کا جاننا لازمی ہے، جن کے ذریعے یہ سمجھا جا سکے دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کے لیے کیا راستہ اختیار کِیا گیا ہے۔
اول: دفعہ 370 کی شِق 1 کی ذیلی شق (ج) یہ بیان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 1 کا اطلاق ریاستِ کشمیر پر ہو گا، یعنی اس شِق کی رو سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔
دوم: شِق 1 کی ذیلی شِق (د) یہ بیان کرتی ہے کہ صدرِ جمہوریہ بذریعہ  صدارتی حکم آئین کی دیگر توضیعات کا اطلاق، کسی تغییر کے ساتھ بھی، ریاستِ کشمیر پر کر سکتا ہے، البتہ اگر یہ حکم دستاویزِ شرکت میں متعین امور سے متعلق ہو تو اس کا اطلاق ریاستِ کشمیر کی حکومت کی مشاورت کے ساتھ ہی کِیا جا سکے گا۔
سوم: شِق 3 بیان کرتی ہے کہ صدرِ جمہوریہ ہند کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی سفارش پر اِس پوری دفعہ کو غیر نافذ العمل قرار دے سکتا ہے۔
شِق 3 میں جس آئین ساز اسمبلی کا ذکر ہے، چونکہ وہ کشمیر کا آئین مدوَّن کر کے 1957 میں خود کو تحلیل کر چکی ہے، اس لیے سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ جب وہ آئین ساز اسمبلی نہ رہی تو دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کے لیے صدرِ جمہوریہ کو کس کے ساتھ مشاورت کرنی ہو گی؟ اس نازک سوال کا جواب، سپریم کورٹ کے ان فیصلوں میں موجود ہے جو اس نے 2017 اور 2018 میں دیے ہیں. ان فیصلوں میں اس امر کو واضح کِیا گیا ہے، کہ چونکہ دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کے لیے جس اسمبلی کی سفارش لازمی تھی، وہ اسمبلی، دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے والی کوئی سفارش کیے بغیر خود کو تحلیل کر چکی ہے، لہذا دفعہ 370  عارضی کے عنوان سے معنوَن ہونے کے باوجود آئینِ ہند میں مستقل حیثیت حاصل کر چکی ہے۔
اب ہم اس سوال کی جانب چلتے ہیں کہ درج بالا پسِ منظر کے باوجود، دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل کیسے قرار دے دیا گیا؟ اس اقدام کا طریقِ کار چند مرحلوں میں سمجھا جا سکتا ہے:
اول: دفعہ 370 کی شِق 1 کی ذیلی شِق (د) میں صدر جمہوریہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آئین کی دیگر توضیعات کا اطلاق، کسی تغییر کے ساتھ بھی، ریاستِ جموں کشمیر پر کر سکتا ہے. اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے آئین کی تمام توضیعات کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر کیا ہے. اس اطلاق کے لیے حکومتِ کشمیر سے مشاورت لازمی تھی، مگر چونکہ اس اقدام کے وقت ریاست جموں و کشمیر صدارتی اقتدار کے تحت تھی لہذا اس مشاورت کے بغیر یہ عمل انجام دیا جا سکا.
دوم:دفعہ 367، آئین کی تعبیری دفعہ ہے. درج بالا اختیار کا استعمال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے اپنے حکم نامے میں آئین کی دفعہ 367 میں ایک تغییر کی ہے اور اس کا اطلاق ریاستِ جموں و کشمیر پر کیا ہے۔آئین کی دفعہ 367 میں تغییر کے ذریعے شامل کی گئی شِق 4 کی ذیلی شِق (د) میں صدر جمہوریہ کا حکم نامہ یہ بیان کرتا ہے، کہ دفعہ 370 کی شِق 3 میں مذکور ’’ریاست کی آئین ساز اسمبلی‘‘ کو ’’ریاست کی قانون ساز اسمبلی (صوبائی اسمبلی)‘‘ پڑھا جائے گا۔اس طرح دفعہ 370 کی شِق 3 میں بالواسطہ طور پر ترمیم کر دی گئی۔
سوم: دفعہ 370 کی شِق 4 کی ذیلی شِق (د) میں صدر جمہوریہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دفعہ 370 کو پوری طرح غیر نافذ العمل قرار دے سکتا ہے، بشرطیکہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی جانب سے ایسا کرنے کی سفارش کی جائے۔دفعہ 370 کی شِق 3 میں درج بالا بالواسطہ ترمیم کے بعد، اب دفعہ 370 کو پوری طرح غیر نافذ العمل قرار دینے کے لیے، صدر جمہوریہ کو ریاست جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی (صوبائی اسمبلی) کی سفارش کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ چونکہ اس اقدام کے وقت جموں و کشمیر میں صدارتی اقتدار قائم تھا لہٰذا یہ سفارش کرنے کا حق، پارلیمنٹ کے حصے میں میں آ گیا۔پارلیمنٹ کی جانب سے وزیرِ داخلہ نے قرارداد پیش کر کے سفارش کی، اور اس سفارش پر صدر جمہوریہ نے دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دے دیا۔
اِس شاطرانہ طریقِ کار پر چند اہم اعتراضات قائم ہوتے ہیں:
اول: دفعہ 367 میں تغییر کے ذریعے شامل کی گئی شِق 4 کی ذیلی شِق (د) یہ بیان کرتی ہے کہ دفعہ 370 کی شِق 3 میں موجود تعبیر ـ’’آئین ساز اسمبلی‘‘ کو ’’قانون ساز اسمبلی‘‘ پڑھا جائے۔ حالانکہ قانونی تشریح کے اصولوں کے مطابق، کوئی تشریحی شِق یہ صلاحیت نہیں رکھتی کہ اسے ایک واضح تعبیر پر فوقیت دی جائے، لہذا دفعہ 367 میں شامل کی گئی مذکورہ تشریحی شِق کو دفعہ 370 کی شِق 3 پر فوقیت کیسے دی جا سکتی ہے؟
دوم؛ دفعہ 370 کی شِق 1 کی ذیلی شِق (د)، صدر جمہوریہ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ آئین میں موجود دیگر توضیعات کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر کرتے ہوئے ان میں تغییر بھی کر سکتا ہے۔ البتہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے جو تغییر کی گئی ہے وہ پہلے سے موجود کسی توضیع میں نہیں کی گئی بلکہ صدر نے براہِ راست ایک شِق (شِق 4) کا اضافہ کِیا ہے۔ کیا صدر جمہوریہ کو آئین کی شِق 1 کی ذیلی شِق (د) کے تحت یہ اختیار حاصل ہے وہ اس میں ایک نئی توضیع شامل کر سکے؟
سوم؛ صدر جمہوریہ کو دفعہ 370 کی شِق 1 کی ذیلی شِق (د) کے ذریعے آئین میں تغییر کرنے کا جو حق حاصل ہے، وہ محض جموں و کشمیر تک محدود ہے۔ لہذا دفعہ 367 میں تغییر کے ذریعے دفعہ 370 میں کی گئی بالواسطہ ترمیم کو آئین کا حصہ صرف اور صرف جموں و کشمیر کے سیاق میں مانا جائے گا۔ اس تغییر و ترمیم کو  علی الاطلاق آئین کا حصہ ماننے کے لیے اسے پارلیمانی ترمیم سے گزرنا ضروری ہے جو کہ انجام نہیں دی گئی۔ پس جو ترمیم علی الاطلاق آئین کا حصہ نہیں بنی، اس کا سہارا لے کر وزیر داخلہ نے سفارش کیسے کر دی اور صدر جمہوریہ نے وہ سفارش قبول کیسے کر لی؟
چہارم: درج بالا سارے مراحل، ایسے وقت میں انجام دیے گئے جب جموں و کشمیر میں صوبائی حکومت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کیا اِس سے بھارت کے نظام کی وفاقی حیثیت مجروح نہیں ہوتی؟
اب اگلا سوال یہ ہے کہ اِس دستوری و قانونی مخمصے پر جمعیت علمائے ہند نے کیا موقف اختیار کِیا ہے۔ 22 اگست 2019 کو جمعیت علمائے ہند و دیگر مسلم جماعتوں کی جانب سے جو متفقہ قرارداد پیش کی گئی، اس میں دفعہ 370 سے متعلق حصے کو من و عن یہاں نقل کِیا جا رہا ہے:
’’کشمیر میں دفعہ 370 کو دستوری طور نافذ کیا گیا تھا اور اسے دستوری طور ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ اِس وقت جو طریقہ اختیار کیا گیا اس پر اہم سوالات اور اعتراضات کِیے گئے ہیں جو کہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ہمیں سپریم کورٹ پر اعتماد کرنا چاہیے اور اس کے فیصلے کے مطابق اقدام کرنا چاہیے‘‘۔
اس اقتباس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کے عمل پر محض جمعیت علمائے ہند ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی ہند و دیگر جماعتوں کا بھی موقف یہ ہے انہوں نے اس خالص دستوری و قانونی پیچیدگی کو سپریم کورٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ میں 22 ستمبر 2019 کو منظور ہونے والی کشمیر سے متعلق قرارداد میں دفعہ 370 کے بارے میں مطلقاً کوئی بات نہیں کی گئی، اور نہ اس کے بعد جمعیت کے ذمے داروں کی جانب سے اس اقدام کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بات سامنے آئی ہے۔ جمعیت کی منتظمہ قرارداد میں ملک کے اتحاد و سالمیت کی جو پرزور تائید کی گئی ہے، اس کو الیکٹرانک میڈیا نے دفعہ 370 ہٹانے کی تائید کے طور پر پیش کیا ہے، اور یہ پروپیگنڈا بہت قوت حاصل کر چکا ہے۔ جب کہ جمعیت علماء کے ناظم عمومی جنہوں نے کئی مواقع پر اس مسئلے پر بات کی ہے، وہ کہیں ایک لفظ بھی دفعہ 370 کو غیر نافذ العمل قرار دینے کی حمایت میں نہیں بولے۔ حتی کہ وہ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ دفعہ 370 غیر فعال کرنے کے عمل پر ہمارا وہ موقف نہیں جو میڈیا پر پیش کِیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس سے صریح اختلاف ہے، لیکن ہم اسے بحث کا موضوع نہیں بنانا چاہتے۔ بلکہ ہم ملک کی سالمیت پر ملک کے ساتھ کھڑے ہونے اور ایسی بیرونی مداخلت جو ہماری آڑ میں کی جائے اسے مسترد کرنے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ یہ بات قابلِ فہم بھی ہے کہ جب سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی بنچ 5 اکتوبر 2019 کو دفعہ 370 غیر فعال کرنے کے عمل کی دستوری حیثیت پر سماعت کرنے والی ہے، تو کسی کمیونٹی کا پہلے سے چیف جسٹس بن جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
کشمیر کی ابتر صورتِ حال
دفعہ 370 غیر فعال کیے جانے سے قبل ہی جموں و کشمیر پر غیر معمولی پابندیاں اور فوجی انتظامات مسلط کیے جا چکے تھے، بدقسمتی سے وہ ابتری دو ماہ کے طویل عرصے کو پہنچ چکی ہے۔ سب سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ کشمیر کے آئین پسند سیاسی قائدین نظر بند کِیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں علاحدگی پسند قوتوں کا عوامی رسوخ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ شاید حکومت کا حربہ بھی یہی ہے کہ اپنے مقابل محض ان مخالفین کو رہنے دیا جائے جو بالکل انتہاء پر کھڑے ہوں، تاکہ حکومت کا مقدمہ مضبوط رہے۔ لیکن اس سے قطعِ نظر، سوال یہ ہے کہ کشمیر میں حالاتِ زندگی کا تعطل، در حقیقت کس نوعیت کا حامل ہے؟ ایک بیانیہ تو وہ ہے جو بھارتی میڈیا کی روایتی ہٹ دھرمی کا مَظہر ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے، اور دوسرا بیانیہ وہ ہے جو بی بی سی، الجزیرہ اور دی وائر جیسی نیوز ایجنسیز کی جانب سے سامنے آیا ہے کہ کشمیر حکومتی پابندیوں کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔ لیکن بین الاقوامی میڈیا کا ایک بیانیہ وہ ہے جو غیر مقبول نقطہ  نظر (Unpopular Opinion) کی مانند نظر انداز کِیا جا رہا ہے۔ وہ تیسرا بیانیہ یہ ہے کہ کشمیر میں حالاتِ زندگی کا تعطل صرف حکومتی پابندیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں زیادہ بڑا کردار اس بات کا ہے اس تعطل کو کشمیری عوام نے طریقہ احتجاج اور علاحدگی پسند قوتوں نے اپنی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا ہے۔ 167 برس پرانی انٹرنیشنل نیوز ایجنسی رِیوٹرز (Reuters)، جو دنیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسیز میں سے ہے، کی 5 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق کشمیری شہریوں نے حکومتی پابندیوں میں جزوی نرمی آنے کے باوجود ہڑتال جاری رکھی ہے۔ عوام کا تاثر ہے کہ یہ ہماری شناخت کا سوال ہے، لہذا جب تک کشمیر کی سابق خصوصی حیثیت بحال نہیں ہو جاتی، وہ حالات کو معطل ہی رکھیں گے۔ ایسے پوسٹرز دیواروں پر موجود ہیں جن میں دکان داروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محض علی الصباح اور دیر رات دکانیں کھولیں تاکہ ضروریاتِ زندگی کی خرید کی جا سکے، لیکن دن کے وقت دکانوں کو بند رکھیں۔ رِیوٹرز کے الفاظ میں، کشمیر میں سِول نافرمانی کا ایک دور شروع ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر اشاعت میں 18 ویں مقام کے حامِل اخبار نیویارک ٹائمز کی 15 ستمبر کی رپورٹ اور زیادہ سنگین صورتِ حال کی خبر دیتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کشمیر کا موجودہ تعطل ماضی کے متعدد ادوار جیسا نہیں ہے، بلکہ اب اِس تعطل کو علاحدگی پسندوں نے اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔علاحدگی پسند عناصر نے نظامِ زندگی کو پوری طرح مفلوج رکھنے کے لیے عوام میں دہشت کی ایک فضا قائم رکھی ہے، اُنہیں اپنے کام کاج اور دوسرے معاملات میں دوبارہ معمول کے مطابق لوٹنے سے سخت ممانعت ہے اور اس ممانعت کی خلاف ورزی پر بات جان لیوا حملوں تک پہنچ جا رہی ہے۔نظام کو مفلوج رکھ کر وہ کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ حکومتِ ہند کے لیے کشمیر ناقابلِ انتظام رہے، اور حالات معمول پر نہ آ سکیں۔ اس ضمن میں نیویارک ٹائمز نے کچھ دلخراش واقعات بھی نقل کِیے ہیں جنہیں راقم نقل نہیں کرنا چاہتا۔ جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کے تعطل پر حکومت سے جو مطالبات اپنی منتظمہ قرارداد میں اور وزیر داخلہ سے ملاقات کے وقت کِیے ہیں، ان کا لب و لہجہ انہی حالات سے زمینی طور پر آگاہی کا عکّاس ہے۔ کشمیری عوام کے حقوق انسانی و تہذیبی شناخت کے تحفظ اور کشمیر کے حالات کی بحالی کے لیے جمعیت نے حکومتِ ہند کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں، ان میں حکومت کو براہ راست ہدف نہیں بنایا، کیونکہ حالات کی درج بالا نوعیت اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ وہاں ہونے والے مظالم کا منبع محض ایک نہیں ہے۔ اب تک کشمیری عوام چکی کے دو پاٹ میں پِس رہے تھے، لیکن اِس تازہ ترین سنگین صورتِ حال میں اُن پر تین جانب سے مظالم ہو رہے ہیں۔
ملک کے ساتھ ہونے کا مطلب
دفعہ 370 غیر فعال کِیے جانے کے بعد، حسبِ توقع علاحدگی پسند رجحانات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔وہ کشمیری عوام جو آئین اور ملک کے نظام پر اعتماد رکھتی تھی، اس کا اعتماد بھی متزلزل ہو چکا ہے۔ علاحدگی پسند عناصر نے تو حالیہ صورتِ حال کو اپنی تحریک کا آخری معرکہ سمجھ لیا ہے، جس کا اختتام وہ کسی فیصلہ کن نتیجے پر کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ملک کی سالمیت، جس کو آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی بین الاقوامی سرحدوں کے تعین و تحفظ پر ملک کے ساتھ ہونے کا مضبوطی سے اظہار کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ دفعہ 370 کی پہلی شِق کی ذیلی شِق (ج) کا مطلب ہی یہی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اور ذیلی شِق (د) کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کے مکمل آئین کی عمل داری کشمیر پر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس عمل داری کے نفاذ کے طریقِ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، لیکن یہ تو واضح ہے کہ دفعہ 370 کی وکالت اور کشمیر کی علاحدگی پسند تحریک کی وکالت ساتھ ساتھ چل ہی نہیں سکتی، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔
جمعیت علماء کے موقف میں ملک کی سالمیت کا یہی مطلب ہے کہ مسلمان متحدہ بھارت کے ساتھ، پوری قوت سے کھڑا ہے اور اس کی سرحدوں پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی تحریک کا سخت مخالف ہے۔ یہ ایک پہلو ہے، ملک کی سالمیت پر جمعیت کے موقف کا دوسرا پہلو، تفصیل چاہتا ہے۔ دفعہ 370 ہو یا کشمیر کے حالات، یہ بھارت کے داخلی معاملات ہیں۔ اول تو یہ کہ پاکستان نے ان معاملات میں مداخلت جاری رکھی ہے، اس پر مستزاد یہ کی 20 کروڑ مسلمانانِ ہند کی آڑ میں جاری رکھی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پہلے پاکستان کی ایک عوامی ریلی میں اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ راگ الاپا ہے کہ بھارت کی حکومت بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے جب وہ بھارت کے مسلمانوں کے خود ساختہ ترجمان بن رہے تھے، تو انہوں نے کسی فلم کا حوالہ دیا جس میں کوئی کردار انصاف نہ ملنے کی صورت میں بندوق لے کر سڑکوں پر جانیں لینے کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، خان صاحب کے خیال میں ہندوستانی مسلمان اُسی کردار کی طرح اپنے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔
اِس سنگین صورتِ حال کا ادراک کر کے جمعیت علماء نے پوری قوت کے ساتھ دنیا بھر کے سامنے یہ موقف پیش کِیا، کہ 20 کروڑ ہندوستانی مسلمان، پاکستان کی اس مداخلت کو جو مسلمانوں کی آڑ میں کی جا رہی ہے، مسترد کرتے ہیں۔ ایک نوجوان ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے، کہ اگر ہمارے مسائل اور پریشانیوں پر کوئی ہماری ترجمانی یا وکالت کر رہا ہے، تو ہمیں اس کا احسان مند ہونا چاہیے چہ جائیکہ ہم شدت کے ساتھ اس کی مخالفت پر اتر آئیں۔ اِس سوال کا جواب اگر مسئلہ کشمیر کی تاریخ سے لیا جائے تو بہت سی گرہیں سلجھ سکتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں مسلم یونائیٹید فرنٹ کی شکست فاش کے کچھ عرصے بعد احتجاج و مخالفت کا جو دور شروع ہوا تھا، اُس دور میں کشمیر کے بعض عناصر نے دو سنگین غلطیاں کی تھیں۔
پہلی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے، جس کے نتیجے میں انہوں نے آئینی حقوق اور جمہوری تقاضوں کے مطالبے کا حق از خود کھو دیا۔ دوسری غلطی یہ کی تھی کہ ایک غیر ملکی حکومت کو اپنا وکیل اور پشت پناہ بنا لیا تھا، کسی بھی عوامی تحریک میں غیر ملک کو وکیل بنا لینا، اس عوامی تحریک کی موت ہوا کرتی ہے۔ خواہ وہ غیر ملک کوئی بھی ہو، اس صورت میں وہ وہ آواز شہریوں کے حقوق اور مطالبات کی آواز نہیں رہ جاتی، ایک حکومت کے سیاسی و سفارتی مفادات کی آواز بن جاتی ہے اور عوامی آواز بے اثر ہو جاتی ہے۔ اور جب حکومت بھی ایسی ہو جس کا سیاسی، معاشی و نظریاتی ڈھانچہ کسی بنیاد پر نہ ٹکا ہو، تو یہ بے اثری دوچند ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کشمیر کے ان عناصر کے ساتھ یہی ہوا، اول تو انہوں نے اہلِ کشمیر کے آئینی وجمہوری مقدمے کو کمزور کر دیا، دوم یہ کہ جب پاکستان میں پرویز مشرف کی آمریت کا دور آیا تو مشرف صاحب وار آن ٹیرر کے ہیرو بن گئے، نتیجتاً کشمیر کی وہ فلم جو پاکستان نے جہاد کے نام پر چلا رکھی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے سپر فلاپ ہو گئی۔ اس طرح کشمیر کی عوامی تحریک میں جو رہا سہا دم خم تھا، وہ پاکستان ہی کے صدقے میں ختم ہو گیا، جتنا نقصان کشمیر کو پاکستانی مداخلت سے پہنچا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں پہنچا۔
آج اگر ہندوستانی مسلمان اُسی سنگین غلطی کو دہراتا ہے، تو آنے والے برسوں میں وہ اپنی شہری و عوامی حیثیت سے محروم ہو چکا ہو گا۔ پہلی بات تو بالکل عمومی ہے کہ عوامی تحریک کو حکومتیں ہائی جیک کر لیں تو تحریک کی عوامِیَت اپنی موت آپ مر جاتی ہے، دوسری بات بالخصوص پاکستان کے تناظر میں ہے۔ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی کرشماتی تقریر کے دوران اپنے ملک کی معاشی حالتِ زار کا نوحہ کِیا ہے۔ خان کے مطابق، پچھلے دس سالوں میں پاکستان کے قرضے میں چار گنا اضافہ ہوا ہے اور پاکستان اپنی آمدنی کا نصف حصہ قرض ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست دان بہت سے مسائل کو محض اپنے اقتدار کے لیے چھیڑتے ہیں۔ خود انہی کے لفظوں میں یہ سبق موجود ہے، کہ آج خان کو اپنے ملک میں مذہبی اپوزیشن کی مضبوط تحریک کا سامنا ہے، لہذا وہ اپنے اقتدار کی خاطر امتِ مسلمہ کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ کل جب خان کو اپنے ملک کی اس بدحال معیشت پر سوالات اور تحریک کا سامنا ہو گا جس کا نوحہ خان نے اقوام متحدہ میں کِیا ہے، تو ان کا قبلہ امتِ مسلمہ نہیں رہ جائے گی، پھر وہ معیشت کے استحکام کے لیے بھارت تو کیا اسرائیل سے بھی اچھے روابط کے دلائل دے رہے ہوں گے، چین کی دوستی کے چلتے انہوں نے اغیور مسلمانوں سے کیسی چشم پوشی کر رکھی ہے، یہ جگ ظاہر ہے۔ اگر آج ہندوستانی مسلمان نے انہیں پوری قوت کے ساتھ مسترد نہ کر دیا، تو پہلے مرحلے میں مسلمانوں کی آواز کی شہری حیثیت مطلقاً بے اثر ہو جائے گی، وہ اپنے مسائل کو کسی بھی درجے میں حل کرانے کی اہلیت سے محروم ہو جائیں گے۔ اور دوسرے مرحلے میں خود ساختہ ترجمان خان صاحب دست برداری فرما لیں گے، یا کوئی اگلی جمہوری یا فوجی حکومت، جیسا کہ پاکستان کی روایت ہے، اپنے آپ کو لاتعلق کر لے گی، اِس طرح خدا اور صنم دونوں ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ اور اگر ہندوستانی مسلمانوں نے اس مداخلت کو مسترد کر دیا، جیسا کہ بھرپور انداز میں کِیا ہی جا چکا، تو ہندوستانی مسلمان آنے والے برسوں میں اپنے مسائل کی جمہوری لڑائی اِس نفسیاتی برتری کے ساتھ لڑے گا کہ ’’ہم بائی چانس ملک کے ساتھ نہیں، بائی چوائس ملک کے ساتھ تھے‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں