80

مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور لوگوں کی تشویش

تحریر : مسعود جاوید


ہندوستان ایک فیڈرل اتحادی ملک ہے یعنی ریاستوں کا وفاق یونین والا ملک ہے اس وفاقی نظام کے تحت ہندوستان کی تمام ریاستوں/صوبوں نے آپس میں اتفاق کیا کہ ان کا ایک اجتماعی نظام اور مرکز ہوگا جس کا دارالسلطنت دہلی ہوگا اور  جس کے تحت وہ صوبے خود مختار ہوتے ہوئے بهی بعض امور میں خود مختار نہیں ہوں گے بلکہ  مرکز کے تابع ہوں گے اور دستور ہند فیصل ہوگا. دستور ہند وہ وثیقہ ہے جس کے پابند ہر حکومت اور ہر شہری ہے.
مرکز کے اختیارات کیا ہوں گے اور ریاستوں کے اختیارات کیا ہوں  گے اس کی وضاحت دستور ہند میں کی گئی ہے. ان ہی اختیارات میں چار اختیارات ایسے ہیں جو مرکز کے پاس ہیں اور ریاست ان میں با اختیار نہیں ہیں. وہ اختیارات ہیں1- خارجہ تعلقات اور پالیسی یعنی کوئی ریاست کسی ملک کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کر سکتی. کس ملک سے تعلق رکھنا ہے یا منقطع کرنا ہے اس کا فیصلہ مرکز کرے گا. بیرون ملک سفر کے لئے مرکزی حکومت پاسپورٹ ایشو کرے گی. غیر ملکوں کے سفارتخانے مرکز میں ہوں گے کسی ریاست میں نہیں.  ہاں ویزہ اور دیگر تجارتی و ثقافتی امور کے لئے مرکز کی اجازت سے یہ سفارتخانے ریاستوں میں اپنے اپنے قونصل خانے حسب ضرورت  کهول سکتے ہیں. 2- دفاع . ملک کی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری مرکز کی ہے. ریاستوں کو اپنی فوج رکهنے کی اجازت نہیں ہے.3- مواصلات اتصالات یا کمیونیکیشن کے تمام ذرائع پوسٹل سروسز ٹیلی گرام ٹیلی فون فیکس انٹر نیٹ  مرکز کے زیر نگرانی ہیں. 4- کرنسی روپیہ پیسہ مرکزی حکومت کے ریزرو بینک آف انڈیا سے جاری ہوتے ہیں. کسی ریاست کو اپنی کرنسی چلانے کی اجازت نہیں ہے.  دستور ہند کے مطابق تمام ریاستیں بشمول جموں و کشمیر اس کے پابند ہیں.  مرکزی حکومت کے سربراہ کے لئے وزیر اعظم اور  ریاستی حکومتوں کے سربراہوں کو لئے وزیر اعلی کی اصطلاح ہے. لیکن اتحادی نظام سے قبل سے ہی کشمیر راجہ کے دور میں حکومت کے سربراہ کے لئے وزیر اعظم کا لقب چلتا آرہا ہے.آرٹیکل 370 اور 35 اے . 370 کے تحت مرکزی حکومت کے فیصلے کشمیر وزیر اعظم (وزیر اعلی) کشمیر اسمبلی کی موافقت rectification کے بعد ہی نافذالعمل ہوں گے. حالیہ تنظیم نو  reorganization کے تحت جموں کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے لداخ ایک الگ صوبہ بنایا گیا ہے جس کی اپنی ریاستی اسمبلی نہیں ہوگی جبکہ جموں و کشمیر الگ صوبہ ہے جس کی ریاستی اسمبلی ہوگی لیکن یہ تینوں مرکز کے زیر انتظام ہوں گے یعنی وزیر اعلیٰ کی بجائے مرکزی حکومت کے مقرر کردہ گورنر ریاست کے سربراہ ہوں گے. 35 اے کے تحت وہاں کی زمین جموں کشمیر لداخ سے باہر کے لوگ نہیں خرید سکتے. ہندوستان کے کسی اور علاقے کے کسی شخص سے اگر وہاں کی لڑکی شادی بهی کرلے تو زمین کی مالک نہیں ہو سکتی یعنی باپ سے ورثہ میں ملنے والے حصہ سے محروم ہو جائے گی . اس شق کا صرف یہ مقصد ہے کہ باہر کے لوگ ان کی زمینیں حاصل نہ کر سکیں.  اپنی زمین نسل اور تہذیب کی حفاظت کے لئے اس طرح کے قوانین انوکهے نہیں ہیں.  متحدہ عرب امارات میں جس کی شادی غیر اماراتی سے ہوتی ہے اس کے بچوں کو اماراتی بچوں جیسے مساوی حقوق نہیں ملتے. اگر کوئی اماراتی مرد یا عورت کسی مصری یا پاکستانی یا کسی اور ملک کے باشندے سے شادی کرتا ہے یا کرتی ہے تو اس کے بچوں کے لئے مفت تعلیم اور علاج نہیں ہے. کشمیر میں سب سے زیادہ زمین ڈوگرہ قبیلے کے پاس تهی ان لوگوں نے راجہ سے ایسا قانون بنوایا کہ پنجاب اور دیگر ریاستوں کے لوگ ان کی زمین نہ خرید سکیں.  شیخ عبداللہ مرحوم نے لینڈ ریفارم مہم شروع کی تهی اس کے بعد وہ جیل بهیج دیئے گئے. قبائلیوں کی زمین کی حفاظت کے لئے خود ہندوستان کے کئی صوبوں میں ایسا قانون ہے مثال کے طور پر آج بهی جهارکهنڈ اسٹیٹ میں سی این ٹی جس کے تحت آدیواسیوں کی زمین خود اس اسٹیٹ کے غیر آدی باسی نہیں خرید سکتے. ہر الیکشن کے موقع پر غیر آدی واسیوں کی طرف سے سی این ٹی ایکٹ ہٹانے کا مطالبہ ہوتا ہے جس کے خلاف آدی واسیوں کی طرف سے مزاحمت ہوتی ہے. 370 کی طرح کئی ریاستوں میں 371 نافذ العمل ہے.   
آج بهی کشمیر کے لوگوں کو یہی خدشہ ہے کہ باہر کے لوگ آکر زمینوں کی قیمت بڑها دیں گے یہاں آکر بس جائیں گے وغیرہ وغیرہ.  جبکہ اس کا ایک  مثبت پہلو یہ بهی ہے کہ اس ترمیم سے ان کے لئے روزگار تجارت اور شراکت کے مواقع مہیا ہوں گے. تاہم کیا مفید ہے اور کیا مضر وہ اس ریاست کے لوگ بہتر سمجهتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں