98

مسئلہ کشمیر اور ہندوستانی مسلمان


مسعود جاوید

مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ابتداء سے ہی ہندوستانی مسلمانوں کا موقف حکومت ہند کے موقف سے متعارض نہیں رہا. اور جب بات دو ملکوں کے درمیان تعلقات ، دفاعی امور اور سرحد سے وابستہ ہو تو ہر شہری ،بلا امتیاز مذہب مسلک اور علاقہ ، کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کهڑا رہے.
خارجہ پالیسی اور دفاعی اسٹریٹجی خط احمر Red line کے زمرے میں آتے ہیں اس لکیر کو تجاور کرنے کی اجازت نہیں ہے. اس پر نقد و جرح صحافتی تجزیہ اور قانونی پہلوؤں پر بحث اس کے ماہرین کرتے ہیں. ہر کس و ناکس کا زبان کهولنا اور قلم رواں کرنا مصیبت کو دعوت دینے کا مترادف ہے. علمی گفتگو اور بات ہے لیکن جذباتی اظہار خیال قطعاً مناسب نہیں ہے.
مسلمانانِ ہند کی ملی تنظیموں نے دانشمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ حکومت ہند کے موقف ‘ کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ integral part ہے ‘ کی تائید کی ہے. علاحدگی پسند تحریکوں کے لیے کبھی ہمدردانہ اور نرم رویے کا اظہار نہیں کیا. تاہم ہمیشہ اپنی قراردادوں میں کشمیر مسئلے کا دائمی پر امن حل اور ریاست اور ریاست کے باشندوں کی تعمیر وترقی پر زور دیا. ایک اصولی موقف پر زور دیا کہ کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بهی ہمارے ہیں.
ہندوستان کی باقی عوام کے تبصرے تجزئے اور بحث و مباحثہ کو آپ اپنے لئے جواز نہیں بنائیں اس لئے کہ کشمیر اور پاکستان بہت حساس ایشوز ہیں اور مشترک مذہب کی وجہ سے ذرا سی غفلت آپ کی وطن سے محبت کو مشکوک کر سکتی ہے. ویسے بهی کشمیر کا مسئلہ کبھی مسلمانان ہند کا مسئلہ نہیں رہا اور کشمیریوں کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ ان کا مسئلہ نہیں رہا. وہ ہمارے لئے کشمیری اور ہم ان کے لئے بهارتی مسلمان رہے.
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ الحمد للہ ہندوستانی مسلمان دینی اخوت کے جوشیلے نعروں سے متاثر ہوکر دوسرے ملکوں کے تنازع میں نہیں کودے ہم فلسطینی مظلوموں کے لئے دعا کرتے ہیں عراق یمن اور شام میں قتل و غارتگری کی مذمت کرتے ہیں ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں اسی طرح دنیا بھر کے مظلومین کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن ان کی لڑائی ان کی لڑائی ہے وہ لڑائی لڑنے ہم نہیں جاتے ہیں. ان کی لڑائی کی نوعیت جبر و استبداد سے خلاصی کی ہو یا استعماری طاقت سے ملک آزاد کرانے کی ہم ان کے لئے ان کے ساتھ پیسے کے عوض یا دین کے نام پر ان کے داخلی امور میں فریق نہیں بنتے ہیں ہم کسی تنظیم یا ملک کے خلاف mercenary نہیں ہیں ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں