196

مزاح کاعہدِیوسفی تمام،ادبی دنیاسوگوار

نئی دہلی(قندیل نیوز)
اردوزبان کے معروف و مشہور اور منفرد طنزومزاح نگار مشتاق احمدیوسفی آج کراچی میں انتقال کرگئے،ان کی عمر نوے سال سے زائد تھی او ر وہ ایک عرصے سے مختلف عوارض کا شکار تھے۔واضح رہے کہ یوسفی صاحب لگ بھگ ستر سال سے اردو ادب کی خدمت کررہے تھے اوراس طویل دورانیے میں ان کے قلم سے بے شمار قیمتی تحریریں معرضِ وجودمیں آئیں،یوسفی کی تحریروں میں طنزکی کاٹ کے ساتھ شگفتگی کا مزاج بھی پایاجاتا تھااور انھیں پڑھنے والے بے ساختہ مسکرائے بغیر نہیں رہتے تھے،یوسفی نے سماج و فن کے مظاہر و حقائق کے اظہار کے لیے مزاحیہ اسلوبِ نگارش کو اختیار کیاتھا اوراسے اس خوبی سے نبھایا کہ ایک دنیا ان کی معترف ہوگئی۔ان کا آبائی تعلق راجستھان کے ضلع ٹونک سے تھااور انھوں نے بی اے ،ایم اے آگرہ یونیورسٹی جبکہ ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی تھی،تقسیم ہند کے موقعے پر ان کے یاہل خانہ پاکستان منتقل ہوگئے تھے۔ان کاپیشہ ورانہ تعلق بینکنگ سیکٹر سے رہااورایک طویل عرصے تک مختلف بینکوں میں کلیدی عہدوں پرفائزرہے۔ادبی زندگی کی باقاعدہ شروعات 1955ء میں ہوئی جب ان کاایک مضمون مرزاادیب کے رسالہ ’’ادبِ لطیف ‘‘میں شائع ہوا،اس کے بعدوہ مسلسل لکھتے رہے اورچراغ تلے(1961)خاکم بدہن(1969)زرگزشت(1976)آبِ گم(1990) شامِ شعریاراں(2014)نامی ان کی کتابیں مختلف اوقات میں شائع ہوئیں،ان کے علاوہ ان کے مضامین،اقتباسات وغیرہ پر مبنی ہندوپاکستان میں متعدد کتابیں مرتب کی جاچکی ہیں۔انھیں ادبی دنیا میں بے شمار اعزازات سے نوازاگیا اور برصغیر کے علاوہ دوردورتک ان کی بلند قامتی کا اعتراف کیاگیا،ایسے عظیم فن کار کے انتقال پر ادبی دنیااور ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہر فردغمزدہ ہے اوردعاگوہے کہ باری تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے متعلقین کو صبرعطافرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں