181

محمود پراچہ! ہم سے غلطی ہوگئی

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

صحافی محمد احمد کاظمی کو دہلی اسپیشل سیل نے دہشت گردی کے الزام میں 6 مارچ 2012 کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد پورے ہندوستان میں 300 سے زائد احتجاجی مظاہرے ہوئے، کاظمی کے صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ ہونے کی وجہ سے سنی شیعہ اتحاد تو رہا ہی، ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی صحافیوں نے ساتھ دیا، کیونکہ یہ اسرائیل اور ایران سے جڑا ایک جذباتی مسئلہ بھی تھا، بہر کیف 19 /اکتوبر 2012 کو چارج شیٹ وقت پر جمع نہ ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

اس دوران ایک نام جو کافی نمایاں ہوکر سامنے آیا، وہ دہلی کے ایک وکیل محمود پراچہ کا تھا جو اس سے پہلے فی الواقع ایک گمنام وکیل تھے لیکن ایک بڑے کیس سے جڑنے کی وجہ سے انہیں شہرت حاصل ہوگئی۔ محمود پراچہ نے اس وقت دو بڑے دعوے کیے، پہلا یہ کہ اب وہ مسلمان ہوگئے ہیں نیز گزشتہ زندگی سے توبہ کرکے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں (یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے والد سراج پراچہ بی جے پی کے بڑے لیڈر اور واجپائی کے ہم نوا ہوا کرتے تھے)۔ دوسرا یہ کہ اب وہ ایسے مقدمات بغیر کسی معاوضے کے دیکھنا چاہتے ہیں۔
جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے بے گناہوں کو اس وقت امید کی ایک کرن نظر آئی اور راتوں رات وہ بہت سے مقدمات کے وکیل بن گئے، محمود پراچہ نے مقدمات کی فہرست کے ساتھ جمعیۃ العلماء، جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر جیسی بہت سی تنظیموں سے مدد مانگی جس کے بعد ان تنظیموں نے ان کی ماہانہ مالی مدد شروع کی، جو ان کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوتی رہی جو بہت بڑی رقم ہے۔
کئی سال کی لگاتار مالی مدد کے بعد بھی نہ تو پراچہ صاحب نے حسب وعدہ کوئی ٹیم بنائی، نہ مقدمات میں کوئی سنجیدہ دلچسپی دکھائی، عدالت میں جج، سرکاری وکیل اور پولیس افسران کے ساتھ ساتھ دیگر دفاعی وکیلوں کے ساتھ بدتمیزی کرکرکے پورے ماحول کو دشمن بناتے گئے، ان تمام حالات کے پیش نظر نوجوانوں نے اپنے کیس ان سے واپس لے لیے اور جیل سے خطوط بھیج کر وکیل کی تبدیلی کی مانگ شروع کردی جس کے بعد جمعیۃ العلماء، جماعت اسلامی ہند، اے پی سی آر و دیگر ملی و سماجی تنظیموں نے محمود پراچہ کو دی جانے والی امداد روک دی اور دھیرے دھیرے ان سے تعلق ختم کرلیا، چنانچہ آج نہ تو ان کے پاس کوئی کیس باقی بچا ہے اور نہ بے گناہ نوجوانوں کے کیس لڑنے کے نام پر مذہبی جماعتوں کی امداد ان کو مل پارہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو اپنی آفس ڈیفنس کالونی سے نظام الدین منتقل کرنی پڑگئی، یہ واقعہ وکیل برادری کے درمیان ان کی پوزیشن کو بری طرح متأثر کردینے والا تھا۔ ملی اداروں اور تنظیموں کے خلاف ان کی موجودہ سرگرمیوں اور حرکتوں کی واقعی حقیقت جاننے کے لیے ان حالات کا سمجھنا ازحد ضروری ہے۔
مختلف مسلم تنظیموں خصوصا جمعیۃ العلماء، جماعت اسلامی ہنداور اے پی سی آر وغیرہ پر الزامات کی بوچھار کرتے ہوئے ان کا حالیہ دنوں ایک ویڈیوبیان منظرعام پر آیا ہے جس کو بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کے تحت مخصوص انداز میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ مجھے ان تمام ہی ملی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ ساتھ اس وکیل کے ساتھ بھی لمبے عرصے تک کام کرنے کا موقع ملا ہے، اس بنیاد پر مجھے ان الزامات کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

ویڈیو کی شروعات ہوتی ہے اس دعوی کے ساتھ کہ مختلف کیسوں میں انہوں نے کئی لوگوں کو چھڑوایا، جرمن بیکری کیس پوری طرح حل کرکے چھڑوایا۔ جبکہ یہ تمام ہی دعوے جھوٹے ہیں، جرمن بیکری کیس کا ملزم حمایت بیگ آج بھی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے پر مجبورہے کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ میں محمود پراچہ بحث کرنے میں ناکام رہے اور سپریم کورٹ میں اپیل آج بھی زیربحث ہے جس میں جمعیۃ العلماء وکیلوں کی پوری ٹیم کے مصارف برداشت کررہی ہے۔ محمودپراچہ نے آج تک کسی کو بری نہیں کرایا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے جس کیس کو انہوں نے دیکھا، اس میں آخرکارسزا ہی ہوئی۔
کاظمی صاحب کے کیس سے ان کو پہچان ملی، حالانکہ کاظمی صاحب کو چارج شیٹ داخل نہ ہونے کی وجہ سے ضمانت ملی تھی اور ان کا کیس تو آج تک شروع بھی نہیں ہوسکا ہے، یعنی ابھی کاظمی صاحب کو اگلے دس پندرہ سال اور عدالت کے چکر کاٹنے ہوں گے، جبکہ پراچہ صاحب اس کیس کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے ان کی کوششوں سے کاظمی صاحب بری ہوگئے ہوں۔
”کسی بھی طرح سے مقدمات میں پھنسانے میں تنظیموں کا ہاتھ ہے“، یہ الزام کسی بھی نوجوان یا اس کے اہل خانہ کی طرف سے آتا تو قابل غور ہوتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج تک جو بھی نوجوان بری ہوا یا جس کو سزا بھی ہوئی، اس نے ان جماعتوں کے تعاون اور ان کی مددکا کھل کر شکریہ ادا کیا۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ خود محمود پراچہ نے ان جماعتوں اور اداروں سے مقدمات کی پیروی کے نام پر بڑی رقومات حاصل کیں، جس میں سے ایک بڑی رقم ان کے بینک اکاونٹ”لیگل ایکسس“ میں سالوں تک ہر ماہ آتی رہی۔ جب کئی سال تک نہ تو کسی کا کیس آگے بڑھا، نہ کسی کی ضمانت کی سنجیدہ کوشش کی، نہ کوئی بری ہوا، اور دوسری طرف جیل سے وکیل کی تبدیلی کے لیے ان قیدیوں کی جانب سے مطالبات آنے لگے تو ان تمام جماعتوں نے اپنی اپنی امداد روک لی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امداد روک لیے جانے کے بعد بھی محمود پراچہ کئی سال تک جمعیت اور جماعت کے مرکز کا چکر لگاتے رہے، اوراب جبکہ کوئی امید نہیں باقی رہی، تو اب پلٹ کر انہی پرکیچڑ اچھالنی شروع کردی۔
محمود پراچہ کا یہ دعوی کہ وہ اپنے وسائل سے مقدمات دیکھتے تھے بالکل جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ یہ خود میرے ساتھ تنظیموں اور جماعتوں کے پاس مقدمات کی فہرست لے کر بارہا گئے اور وکیلوں کی الگ ٹیم اور آفس بنانے کے وعدے اور بڑی بڑی باتیں کرکے ان کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر کبھی بھی پورے نہیں اترے۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس ویڈیو میں بھی تمام تر الزامات اور دھمکیوں کے بعد انہوں نے ایک بار پھر وکیلوں کی ٹیم کو لے کراپنی مانگ رکھ دی۔ محمود پراچہ اس وقت ناکامیوں ونامرادیوں کے اس دور سے گزررہے ہیں جہاں ان کے پاس گنتی کے چند کیس بچے ہیں اور آفس کا کرایہ ادا کرنے کے پیسے بھی موجود نہ ہوپانے کی وجہ سے ڈیفنس کالونی جیسی جگہ سے نظام الدین بستی میں انہیں اپنی آفس منتقل کرنا پڑگئی ہے، ہمارا ماننا ہے کہ اس سب میں ان کی اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا سب سے بڑا رول ہے،انہیں چاہیے کہ وہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے خود کی اصلاح پر توجہ دیں۔
ویڈیو میں ایک دعوی یہ بھی ہے کہ لیفٹ و ملی جماعتوں نے بڑی بڑی میٹنگ کراکے ان کے بارے میں یہ کہا کہ ”یہ لڑائی اب یہ لڑیں گے“۔ ہمارا دعوی ہے کہ ایسا کوئی ویڈیو پیش نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں کسی ایک نے یہ کہا ہو۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری ملت کی بہت بڑی کمزوری ہے کہ جیسے ہی کوئی نام منظر عام پر آتا ہے، ہم اس کا ماضی اور اس کی ایمانداری دیکھے بغیر اُسے اسٹیج پر لاکر کھڑا کردیتے ہیں۔ محمود پراچہ کو بھی بہت اسٹیج دیے گئے جس کے لیے سب شرمندہ ہیں، یقینا اس تناظر میں سبھی جماعتوں اور تنظیموں سے غلطی ہوئی ہے۔
ویڈیو میں اگلا دعوی یہ ہے کہ ”کئی بار جان لیوا حملے ہوئے“، جو سراسر جھوٹ اور گمراہ کن ہے۔ یقینا جے پور کورٹ میں ایک معاملہ پیش آیا تھا،جس پر تمام ہی تنظیموں نے ان کے حق میں پریس کانفرنس و قانونی پیش قدمی بھی کی تھی۔ لیکن یہاں یہ قوم کو بتانا ضروری ہے کہ شاہد اعظمی مرحوم کو قتل کرنے کا الزام روی پجاری پر آتا ہے، گزشتہ دس سال میں وکیلوں کو جان سے مارنے کا مسیج روی پجاری کے نام پر ہی آتارہا ہے، محمود پراچہ کا بھی دعوی تھا کہ روی پجاری ان کو دھمکی دے رہا ہے، لیکن یہ بات سن کر آپ کے ہوش اڑجائیں گے کہ روی پجاری کا آقا چھوٹا راجن ہے اور چھوٹا راجن جب ہندوستان لایا گیا تو محمودپراچہ کو ہی اس کا کیس ملا، جس میں محمود پراچہ نے اپنے سینئرایسوسی ایٹ ایڈووکیٹ گجندر کمار کو آگے کیا، جن کے چھوٹا راجن کی بہنوں کے ساتھ اخبارات میں فوٹو بھی آچکے ہیں۔
پراچہ صاحب نے سادھوی پرگیہ سنگھ وغیرہ کے کیس میں بھی بڑا رول ادا کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ اس کیس سے ان کا کبھی بھی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا، گلزار اعظمی صاحب کی دوراندیشی کی قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے پہلی میٹنگ بھی مکمل ہونے سے پہلے کہہ دیا تھا کہ یہ آدمی نہ تو بھروسہ کے لائق ہے اور نہ ہی اس جیسے کیس دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگلا الزام پراچہ صاحب کا یہ ہے کہ یہ جماعتیں دکھانے کے لیے کام کرتی ہیں، یہ بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان جماعتوں کو اپنی قوم کے سامنے اپنی کامیابیوں اور حصولیابیوں کی رپورٹ پیش کرنا ہوتی ہے، تاکہ ملک و ملت کو پتہ چلے کہ ان کے کیا مسائل ہیں اور ان مسائل کا سامنا ان کے قائدین کس کس طرح کررہے ہیں۔
محمود پراچہ کا الزام کہ”یہ جماعتیں اور ان کے وکیل کیس کو کمزور کرتے ہیں، ان کے وکیل جاکر ملزمین کو ڈراتے ہیں، وعدہ معاف گواہ بناتے ہیں، کیس ہرواتے ہیں“۔سراسر جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ کوئی ایک بھی مثال پیش نہیں کی جاسکتی ہے کہ جماعت یا جمعیت کے کسی بھی ممبر یا وکیل نے کیس کمزور کیا ہو یا سرکاری گواہ بنایا ہو۔ رائج طریقہ یہ ہے کہ جیل سے خط یا اہل خانہ کی عرضی پر کہ”وہ یا ان کا بچہ بے گناہ ہے، بے گناہی ثابت کرنے کے لیے وکیل کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہوں، براہ کرم میرے وکیل کی فیس جو کہ اتنی ہے وہ ادا کرنے میں مدد کی جائے“، بقدر ضرورت پوری یا جو مناسب ہو وہ مددکردی جاتی ہے، جمعیت، جماعت یا اے پی سی آر کبھی اپنا وکیل کسی پر نہیں تھوپتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں