43

محبوب کو خواب سنانے والا گیت نگار: کلیم عثمانی

احمد سہیل
کلیم عثمانی جتنے اچھے شاعر تھے،اتنے ہی اچھے پاکستانی فلموں کے گیت نگارتھے،وہ حاشیہ نویس، صحافی اور ادیب بھی تھے۔ 28؍فروری1928ء کو دیو بند ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہونے والے کلیم عثمانی کا اصل نام احتشام الٰہی تھا، جبکہ کلیم تخلص تھا، ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے تھا۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا بے حدشوق تھا، ان کے والد فضل الٰہی بیگل بھی اپنے زمانے کے بہترین شاعر تھے، شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لیا،ایک عرصے تک وہ احسان دانش سے اپنی شاعری کی اصلاح لیتے رہے۔ کلیم عثمانی مشاعرہ بہت اچھا پڑھتے تھے ،ان کا اندازِ ترنم کمال کا تھا۔ کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ فلمی اخبار’’نگار‘‘ میں ایک عرصے تک ایک حاشیہ بعنوان’’ لاھور کے نگار خانوں سے‘‘پابندی کے ساتھ لکھتے رہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، کلیم صاحب لاہور میں سول یا فوڈ سپلائی کے محکمے میں کلرک تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955میں فلم ’’انتخاب‘‘ کے گیت تحریر کیے، اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی، فلم ناکام ہو گئی؛ لیکن کلیم عثمانی ناکام نہیں ہوئے۔1957ء میں انہوں نے فلم ’’بڑا آدمی‘‘ کے گیت تحریر کیے، مبارک بیگم اور احمد رشدی کی آواز میں یہ گانا ’’کاہے جلانا دل کو چھوڑو جی غم کے خیال کو‘‘ بہت مقبول ہوا ،پھر1959ء میں ان کے لکھے ہوئے فلم’’راز‘‘ کے گیتوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ اس فلم کی موسیقی بھی فیروز نظامی کی تھی۔ زبیدہ خانم کی آواز میں گائے گیت’’میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا‘‘ کے بعد وہ ایک مسلمہ نغمہ نگار بن گئے، کوئی دس سال بعد 1966 میں ان کافلم ” ہم دونوں ” کا ایک گانا خاصا مقبول ہوا، گانے کے بول یہ تھے’’ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا…‘‘۔ناشاد کی موسیقی میں اس گانے کو رونا لیلی نے گایا تھا۔ انھوں نے جلوہ (1966)، عندلیب، نازنین (1969)، نیند ھماری خواب تمھارے، دوستی، چراغ کہاں ،روشنی کہاں (1971)، بندگی (1972)، گھرانہ (1973)، شرافت، زندگی (1974) میں بہترین گیت لکھے۔
ان کے چند مقبول فلمی گیت یہ ہیں:
لاگی رے لاگی لگن توہے دل میں (جلوہ)
میرا محبوب آگیا (نیند ھماری خواب تمھارے)
کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے (عندلیب)
پیار کرکے ہم بہت پچھتائے (عندلیب)
تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے (شرافت)
حال دل آج ہم سنائیں گے (چراغ کہاں روشنی کہاں)
میری دعا ہے تو بن کے مہتاب رہے(چراغ کہاں روشنی کہاں)
پیار کرنے کو سب کرتے ہیں (گھرانہ)
دیکھو چراغ جام چلے رات ہو گئی (خلش)
رت آئی ملن کی ساجن میلے میں (سبق)
باجے جب کوئی شہنائی، کیوں آنکھ بھر آئی (ایک مسافر ایک حسینہ)
اے میری زندگی… اے میری زندگی (غیر فلمی۔ گلوکارہ ناہید اختر)
کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ’’دیوار حرف‘‘ اور نعتیہ مجموعہ ’’ماہِ حرا‘‘کے نام سے چھپا۔ 28 اگست 2000ء کو کلیم عثمانی، لاہور میں وفات پاگئے اور لا ہور ہی میں علامہ اقبال ٹاون میں کریم بلاک کے قبرستان میں رزقِ خاک ہوئے۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں:
رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح
چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرح
خشک پتوں کی طرح لوگ اُڑے جاتے ہیں
شہر بھی اب تو نظر آتا ہے جنگل کی طرح
پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں بادل کی طرح
شاہد لطیف نے کلیم عثمانی کی یادوں سے ایک واقعہ رقم کیا ہے:
ایک مرتبہ موسیقارنثار بزمی صاحب کے ہاں کلیم عثمانی کا ذکر آ گیا، تو انہوں نے مجھے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ کہنے لگے: ’’ایک رو ز فجر کے وقت کلیم عثمانی میرے گھر آئے۔پوچھا’’ خیریت؟‘‘ جواب دیا ’’ابھی تھوڑی دیر قبل ادھ سوئی، ادھ جاگی کیفیت میں مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے قائدِ اعظم ؒ کمرے میں غصے کی حالت میں آئے اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ملک کا کیا خراب حال کر رکھا ہے؟ تم لوگوں نے تو مایوس ہی کیا! ہاں! اگر کسی سے اچھی امید ہے، تو وہ اس ملک کے بچے ہیں۔بس تب سے طبیعت سخت مضطرب ہے‘‘۔ بزمی صاحب نے جواب دیا: ’’قائدؒ نے کچھ ایسا غلط بھی تو نہیں کہا۔ سب کو آزما کے دیکھ لیا، اب ان بچوں سے ہی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔ بس وہ کچھ ایسا لمحہ تھا کہ بیساختہ کلیم عثمانی کو ایک خیال سوجھا کہ ’’تم ہو پاسباں اس کے‘‘،بس پھر کیا تھا، مکھڑا بن گیا،گویا بانیِ پاکستان اس ملک کے بچوں سے کہ رہے ہیں:’’یہ وطن تمہارا ہے ،تم ہو پاسباں اس کے۔۔۔‘‘اس طرح سے ریکارڈ وقت میں بے مثال طرز کے ساتھ یہ نغمہ مکمل ہوا۔جس کومہدی حسن کی آواز میں پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز سے اختر وقار عظیم صاحب نے پیش کیا‘‘۔
عبد الحفیظ ظفرنے لکھا ہے:
’’کلیم عثمانی کی غزلوں میں ہمیں رومانویت کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں اور عصری صداقتوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک صاف گو اور اصول پسند شخص تھے، جنہوں نے زندگی بھر سچائی سے محبت کی اور منافقت سے نفرت۔ ذیل میں ان کی غزلوں کے کچھ اشعار کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:
میں نے سمجھا تھا ملے گی مجھ کو ہمدردی کی بھیک
لوگ تو میرے غموں سے دل کو بہلانے لگے

روز مصلوب ہوئے اپنی انا کے ہاتھوں
ہم نے دنیا میں بہت کم ہی قلندر دیکھے

کیا شخص تھا کیا اس کے خدوخال بتائیں
کلیاں بھی اسے دیکھ کے ملتی رہیں آنکھیں

جب سے وہ شخص میری نگاہوں میں بس گیا
اپنی طرف بھی دیکھنے کو میں ترس گیا

دور ہوں میں منافقت سے کلیم
جیسا اندر ہے، ویسا باہر ہے
کلیم عثمانی آج اس دنیا میں موجود نہیں؛ لیکن ان کا شعری خزانہ موجود ہے، ان کے فلمی گیت اور غزلیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے‘‘۔
کلیم عثمانی کے یہ دو شعرآج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں:
میں اپنے شہر میں ہوں پھر بھی اجنبی سا ہوں
جنوں یہ ہے کہ وفا کو تلاش کرتا ہوں

ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
ان کی یہ غزل بھی ملاحظہکریں:
جب سرِ شام کوئی یاد مچل جاتی ہے
دِل کے ویرانے میں اک شمع سی جل جاتی ہے
جب بھی آتا ہے کبھی ترکِ تمنا کا خیال
لے کے اک موج کہیں دور نکل جاتی ہے
یہ ہے مے خانہ، یہاں وقت کا احساس نہ کر
گردشِ وقت یہاں جام میں ڈھل جاتی ہے
خواہشِ زیست، غمِ مرگ، غمِ سُود و زیاں
زندگی چند کھلونوں سے بہل جاتی ہے
جب وہ ہنستے ہوئے آتے ہیں خیالوں میں کلیمؔ
شامِ غم، صبحِ مسرت میں بدل جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں