146

مجموعۂ ابوالکلام آزاداورتدوین وطباعت کانقص


محمد عزیر شمس، مکہ مکرمہ
مجموعۂ ابوالکلام آزادکے نام سے تین جلدوں میں وصی اللہ کھوکھر اور سید امتیاز علی نے مولانا آزاد کی تحریریں مدون کرکے پاکستان میں شائع کی تھیں جنہیں فرید بک ڈپو،دلی نے 2017 میں ہندوستان میں فوٹو لے کر چھاپ دیا ہے ۔ بڑے شوق سے اس کا ایک نسخہ منگوایا لیکن دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی کہ تدوین کا کام کرنے والوں نے تحقیق و تدوین کے بنیادی اصول وقواعد کا بھی لحاظ نہیں رکھا ۔ اور صرف تجارتی مقاصد پیش نظر رکھ کر مجموعہ چھاپ دیا ہے ۔
کسی بھی مفکر ، ادیب یا شاعر کا مجموعہ تیارکرنے اور اس کا مستند متن مدون کرتے وقت حسب ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے :
(1 )۔ اس کی تمام تحریروں کی ( خواہ مطبوعہ ہوں یا قلمی ) ایک مکمل فہرست تیار کی جا ئے ۔ قدیم ترین مطبوعات اور دستیاب مخطوطات جمع کیے جائیں ۔ انہیں تاریخی ترتیب پر مرتب کیا جائے ۔
(2 )۔ دستیاب شدہ تمام تحریریں جمع کرنے کے بعد ان کے مختلف قلمی اور اہم مطبوعہ نسخوں کا جائزہ لیا جا ئے ۔ اگر بخط مصنف کوئی مسودہ یا مبیضہ مل جائے یا اس کے زير استعمال مطبوعہ نسخہ حاصل ہوجائے جس میں جا بجا تصحیحات و اضافات اس کے قلم سے ہوں ایسے نسخے تدوین کے وقت سب سے زيادہ قابل اعتماد ہوں ‏گے ۔
(3 )۔ کسی تحریر کا قدیم ترین مطبوعہ یا مصنف کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن یا اس کا بخط مصنف قلمی نسخہ یا دیگراچھے قلمی نسخے مل جائیں تو ان کے تقابل کے بعد نسخوں کے درمیان اختلافات کا بیان بھی حاشیے میں ہو۔
(4 )۔ مجموعے کے شروع میں ہر تحریر و تصنیف اور اس کے قلمی و مطبوعہ نسخوں کا تعارف اور اس کی قدر وقیمت اور اہمیت کا تذکرہ ہو ۔
(5 )۔ حواشی میں متن سے متعلق بعض ضروری امور کی وضاحت ، اس میں مذکورہ آيات ، احادیث ، اشعار ، واقعات اور کتابوں کے اقتباسات کی توثیق اور تخریج بھی محقق کا اہم فريضہ ہے ۔
(6 )۔ مجموعے یا کتاب کے اخیر میں ضروری فہرستیں اور اشاریے بھی دیے جائیں تاکہ کتاب سے استفادہ آسان ہو ۔
یہ چند ضروری کام ہیں جن سے ہر محقق کو واقف ہونا چاہیے ۔ اور تدوین کا کام کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ اس کے اندر ان تمام مراحل سے عہدہ برآنا ہونے کی صلاحیت ہے یا نہیں ۔ اردو میں تدوین متن کا کام کرنے والے جو اس کے سارے تقاضے پورا کرتے ہیں انگلیوں پر کنے جاسکتے ہیں ۔ مولانا آزاد کی تحریروں کی تدوین کے تعلق سے غلام رسول مہر ، مالک رام ، عبدالقوی دسنوی اور ابوسلمان شاہجہاں پوری معروف ہيں ۔ ان کے ایڈٹ کردہ متون قابل اعتماد ہیں ۔ ان کے مقابلے میں اکثر لوگوں نے مولانا کی تحریریں ، مضامین اور خطوط بغیر کسی استناد اور حوالے کے چھاپ دیے ہیں ۔ ان کے اصل ماخذ ، قدیم ترین اشاعت اور الہلال و البلاغ وغیرہ کے شماروں کی نشاندہی کی ضرورت محسوس نہيں کی ۔ غضب یہ کہ ان کی تحریروں میں عمدا حذف و اضافہ کردیا گيا ہے ۔ یا پھر طباعت کی غلطیاں اس کثرت سے ہیں کہ پڑھتے وقت طبیعت مکدر ہوجاتی ہے ۔ظالموں نے قرآن ، حدیث ، اشعار اور اقتباسات کو اس طرح مسخ کردیا ہے کہ ان کی تصحیح کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔
مالک رام مرحوم نے ترجمان القرآن ، تذکرہ ، غبار خاطر ، خطبات اور خطوط ( جلد اول ) کی تدوین کی اور 1993 میں انتقال کرگئے ۔ آنے والے محقق کو چاہیے کہ باقی کتابوں ، مضامین ، خطبات اور خطوط کی تدوین کا کام اسی نہج پر کرے تاکہ مولانا کی تمام چیزيں سلیقے سے مدون ہوجائیں اور اس طرح قارئین اور تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے مکمل اور مستند مجموعہ وجود میں آجائے ۔
زیر تبصرہ مجموعہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ اس میں تدوین کے اصول و قواعد کا کوئی لحاظ نہيں رکھا گيا ۔ جمع کرنے والوں کو مبادیات تحقیق کاکوئی پتہ نہیں ۔ لگتا ہے کہ بازار میں مولانا آزاد کے جو مجموعے دستیاب ہوئے لے کر کمپوز کرنے والے کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ پھر پروف ریڈنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ غلطیاں بے شمار ہیں ۔ آيات ، احادیث اور اشعار میں تحریف کی مثالیں ہر ہر صفحے میں مل جائیں گی ۔
اس مجموعے میں مالک رام کی مرتب کردہ ام الکتاب ( ترجمان القرآن ج1 )، اصحاب کہف ( از ترجمان القرآن ) ، غبار خاطر ، خطوط آزاد ج 1 ، تذکرہ ، خطبات آزاد متن اور حواشی کے ساتھ از سر نو کمپوز کرکے ڈال دیے گئے ہیں ۔ طباعت کی غطیاں ان پر مستزاد ۔ اگر مالک رام زندہ ہوتے تو دیکھ کر سرپیٹ لیتے اور شاید ساہتیہ اکیڈمی کی طرف سے ناشرین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی کہ بلا اجازت کس طرح اس کی طباعت و اشاعت عمل میں آئی ۔مغربی ممالک میں کتابوں اور مؤلفین کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں ، کوئی شخص کسی کی کوئی کتاب بلا اجازت چھاپنے کی جرأت نہیں کرتا ۔خصوصا جب کہ سالہا سال اس کی تدوین وتحقیق میں کسی نے وقت اور محنت صرف کی ہو ، اور وہ کسی معروف سرکاری ادارے سے شائع ہوئی ہو ۔
اس مجموعے کے ناشرین نے ” انسانیت موت کے دروازے پر ” کومولانا آزاد کی طرف منسوب کردیا ہے جب کہ اس کی نسبت ان کی طرف درست نہیں ۔اور پھر اتنی غفلت کا ثبوت دیا ہے کہ ایک ہی جلد میں اس کا ایک بڑا حصہ مکرر چھاپ دیا ہے ۔ ایک بار ” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے آخری لمحات ” کے نام سے (ج/423- 476 )، دوسری بار اس سے متصل ہی ” انسانیت موت کے دروازے پر ” کے نام سے (1/477-532 ) اسی طرح ” غبار خاطر ” (2/5-288 ) مکمل چھاپ دینے کے بعد اسی میں سے ” چڑیا چڑے کی کہانی ” (2/986- 1004 ) دوسری بار چھاپ دی ہے ۔ ” خطبات آزاد ” (3/87 -330 ) مکمل شائع کردینے کے بعد اسی جلد میں اس کا ایک خطبہ ” ایک تاریخی خطبہ ” (3 /249 – 268 ) کے نام سے دوسری بار داخل مجموعہ کردیا ہے ۔ اس غفلت اور لاپرواہی پر کہا جائے ۔
مالک رام کی مرتبہ کتابوں کے علاوہ جو کتابیں بھی اس مجموعے میں ہیں ان کا متن قابل اعتماد اور مستند نہیں ۔ نہ ماخذ کا تعارف کرایا گيا ہے اور نہ ایڈیشن کی تعیین کی گئی ہے ۔ الہلال اور البلاغ وغیرہ کے مضامین بجائے اس کے کہ اصل ماخذ سے نقل کیے جاتے اور سارے مضامین و مقالات پورے استقصاء اور اہتمام سے مع حوالہ درج کیے جاتے ، ناشرین کو جو مجموعے بازار میں جیسے ملے ،لے لیے ، چنانچہ ” افسانے ” (2 /871 – 900 ) ” یادگار افسانے ” (2 /901 – 1004 ) ، سائنسی مضامین (2/1005 – 1188 ) ” تحریک آزادی ” (3/525 – 630 ) ، ” اسلام میں آزادی کا تصور ” (3 /821 – 890 )، ” قرآن کا قانون عروج و زوال ” (1/277- 370 )، ” شہادت حسین ” (1/621 – 656 ) ، ” اسلام اور جمہوریت ” (3 /891- 927 ) جس طرح چھپے تھے مجموعے میں بھی چھاپ دیے گئے بلکہ آخری کتاب میں دوسروں کے لکھے ہوئے تین مضمون بھی (3 /928 – 950 ) شامل کرلیے گئے کیوں کہ وہ دستیاب شدہ ایڈیشن میں رہے ہوں ‏گے ۔
مولانا کے خطوط کے جتنے مجموعے شائع ہوئے تھے ، مالک نے سب کیے جمع کیے تھے ، ان ہی کی بنیاد پر انہوں نے خطوط کی پہلی جلد ایڈٹ کی جس میں 11 آدمیوں کے نام خطوط ہیں ۔ اس مجموعے میں بعینہ اسے لے لیا گیا ہے ۔اس پر کوئی اضافہ نہيں (2/289- 562 )۔
اس مجموعے میں لسان الصدق ، الہلال ( دور اول ) ، البلا غ ، پیغام اور الہلال ( دور ثانی ) کے مضامین کی تدوین کی طرف کوئی توجہ نہيں دی گئی ۔ بعض مضامین جو کہیں نقل ہوئے تھے وہاں سے ناشرین نے لے لیے جب کہ اصل رسالوں کی عکسی اشاعتیں دستیاب ہیں ۔ لیکن اس مجموعے کے مرتبین کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ ان سے استفادہ کرتے ۔ اور اتنی محنت کرنے کی ضرورت کیا ہے جب کہ بازار میں موجود مجموعوں اور مالک رام کی شائع کردہ کتابوں سے ہی تین ضخیم جلدوں کا مواد دستیاب ہوگیا !!
مولانا کی بعض مستقل کتابیں اور مضامین ( جو مذکورہ رسالوں میں شائع نہیں ہوئے ) اس مجموعے میں نظر نہیں آئے ۔ جیسے ” حالات سرمد ” ( طبع رحمانی پریس ، دہلی ) ” جامع الشواہد ” ( طبع اول در معارف : مئی ، جون 1919 ) ۔۔۔۔وغیرہ ۔
مولانا کی تمام تحریروں ، مضامین ، خطبات اور خطوط کی تدوین کا کام کئی سے سال سے ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی کررہے ہیں جنہوں نے مولانا آزاد پر پی ایچ ڈی بھی کی ہے ۔ خطوط کا بڑا حصہ ابھی مدون نہیں ہوا ہے ۔ انہیں مالک رام کے نہج پر مکتوب الیھم کے نام پر مرتب کرنا چاہیے ۔ چند خطبات اور تقریریں بھی مالک رام کے مجموعے میں شامل نہیں ، ان کی تدوین بھی ہونی چاہیے ۔ لسان الصدق سے الہلال ( دور ثانی ) تک کے رسائل میں جو مضامین و مقالات شائع ہوئے ہیں ان کی موضوعاتی ترتیب کے مطابق تدوین ہونی چاہیے ۔ ان کا منظوم کلام جو کچھ دستیاب ہے وہ بھی اکٹھا کردیا جائے ۔ ان کے بعض خطوط اور مقالات جیسے ( شاہ اسماعیل شہید کی فکری سرگزشت ) بعد میں دستیاب ہوئے ہیں ۔ انہيں بھی شامل مجموعہ کرلینا چاہیے ۔ البتہ مالک رام کی مرتب کردہ کتابیں ( ترجمان القرآن ، تذکرہ ، غبار خاطر ، خطبات آزاد اور خطوط آزاد جلد اول ) اگر از سر نو ایڈٹ نہ کی جائیں تو انہيں شامل مجموعہ کرنے کی ضرورت نہيں ۔ انہیں ہو بہو کمپوزکرکے مجموعے میں شامل کرلینا چوری اور سینہ زوری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں