241

مثل نسیم صبح رہے تم جہاں رہے


مولاناسراج اکرم قاسمی

رفیق محترم مولانامحمد غزالی ندوی 14 جون 2019 بروز جمعہ صبح 9بجے زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد اچانک رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، مولانا کی اس” غیر متوقع رحلت” پر قلب و جگر جن کیفیات سے دوچار ہے انہیں موت و حیات عطا کرنے والی ذات خوب جانتی ہے بس یہ دعا ہے مری۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔
مولانا ندوی ایک سنجیدہ ومتین باصلاحیت عالم دین،ملکی وملی اور رفاہی وعلمی کاموں کے حوالے سے بڑے متحرک وفعال اور خاموش وبے لوث خادم تھے،علی گڑھ کے ایک علمی و تحقیقی ادارے” امام بخاری ریسرچ اکیڈمی “کےڈائریکٹر ،”مدرسة العلوم الاسلامیة “کے مقبول ترین، ہردل عزیز، افراد ساز استاذ اور نائب مدیر تھے،اپنی فطری ذہانت وذکاوت، خاندانی نجابت وشرافت اور صلاحیت وصالحیت کی بنا پر اپنے ہم نام امام غزالی رح کی نظیر تھے،چناں چہ 6ماہ کے عرصے میں حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے مولانا کا شمار اُن بااقبال اور خوش بخت لوگوں میں تھا، جنہیں سعودیہ میں ایک مسابقے میں شرکت کے موقع پر درونِ کعبہ دوگانہ ادا کرنے کی بھی سعادت ملی تھی، وہ ٹوپی آج بھی مولانا کے گھرکی زینت ہے، جسے مولانانےاس مبارک ومسعود موقع سے ارضِ کعبہ سے مس کیاتھاـ
مولانا اپنے بلند کردار، پاکیزہ اوصاف، مرنجاں مرنج طبیعت، قلبی طہارت وپاکیزگی اور شیریں بیانی ونرم گفتاری کی وجہ سے ہمیشہ ہرجگہ لوگوں کے منظور نظر اور دل ونگاہ کے مرکز رہے،خواہ وہ دعوت الحق سیتا مڑھی ہویا ندوہ و تجویدالقرآن دہلی،موریشش ودبئی ہو یا علی گڑھ ـ
مولانا کا تعلق جس خانوادے سے تھا وہ” ایں خانہ ہمہ آفتاب است” کا مصداق ہے اور مولانا اس خاندان کے نسلِ نو کے گلِ سرسبد تھے ، آپ مفتی” ثمین اشرف قاسمی”( صاحب دبئی خلیفہ ومجاز مولانا حکیم اختر صاحب رح )کے بھانجے ، داماداور مفتی صاحب کے علمی وارث و امین تھے،مولانا کے پس ماندگان میں اہلیہ محترمہ، بالترتیب تین لڑکے عزیزان عمر، انس ،سعد اور ایک لڑکی حفصہ ہے بڑے لڑکے کی عمر عمر15 سال ہے۔
احقر اس اندوہ ناک موقع پر خانوادۂ براہیم ومحمود،وابستگانِ امام بخاری ریسرچ اکیڈمی اور طلبا واساتذۂ مدرسة العلوم الاسلامیہ کی خدمت میں مسنون تعزیت پیش کرتاہےکہ”إن لله ما أخذ وله ما اعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب” اور قارئین سے یہ درخواست کرتاہے کہ وہ مولانا مرحوم کی درجات کی ترقی ،پس ماندگان کے صبر جمیل، اہل وعیال کی بعافیت تمام کفالت اور مولانا کے چھوڑے ہوئے کارِ خیر کی تکمیل کےلیے ہمیشہ دعا گو رہیں تاکہ مولانا کی میزانِ حسنات کا پلڑا ہمیشہ جھکتا رہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں