235

متاع دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں کی

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
ہندوستان میں فسطائیت کی بادصرصر ایسی چلی ہے کہ قوم کا درخت خزاں رسیدہ ہوگیاہے جب نا اہل شخص کے ہاتھ میں اقتدار اور راہزن کے ہاتھ میں تلوار آجائے تو پھر یہی منظر سامنے آتا ہے۔ ایک شیطانی تحریک کے تحت ہندوستان کے ہندو ووٹ بینک کے استمالت کے لئے، دو تہائی سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے اور ہندوستان میں اپنی مستقل اور لازوال حکومت قائم کرنے کے لئے دفعہ ۰۷۳ کو ختم کردیا گیا۔ لازوال حکومت کا خواب بڑا سہانا ہوتا ہے قرآن میں ہے (یا آدم ہل ادلک علی شجر الخلد وملک لایبلی۔ طہ ۰۲۱ ) یعنی (شیطان کہتا ہے) اے آدم کیا میں آپ کو وہ درخت بتاوں جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے ۔ چنانچہ پھر شیطان نے لازوال سلطنت کے سہانے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے اور بلا شرکت غیرے اپنا اقتدار قائم کرنے کے لئے اور برہمنیت کو راسخ القدم بنانے کے لئے بی جے پی کی حکومت کو بہکایا اور پھر کشمیر میں دستور کی دفعہ ۰۷۱ کو ختم کردیا گیا۔فریب کا جو دام ہم رنگ زمیں شیطان نے حضرت آدم کے لئے بچھایا تھا وہی دانہ ودام بی جے پی کے لئے بچھایا گیا۔ آسمان پر ہمیشہ رہنے کے لئے حضرت آدم کو شجرۃ الخلد کی جانب رجھانے کی کوشش کی گئی تھی اور ہندوستان کے خاکدان پر ہمیشہ حکومت کرنے کے لئے شیطان نے بی جے پی کو کشمیر جنت نظیر کا”شجرۃ الخلد“ دکھایا اور پھر شیطان کی چال میں پھنس کر موجودہ حکومت نے دفعہ ۰۷۳ کو ختم کردیا۔ یعنی وہ دفعہ ۰۷۳ ختم کردی گئی جس کی بنیاد پر کشمیر کا ہندوستان سے الحاق ہوا تھا۔ئ اس غلطی پر تنقید کرنے والے انصاف پسند غیر مسلم بہت ہیں۔ اندیشہ ہے کہ کشمیر دوسرا فلسطین بن جائے گا اور بی جے پی کی حکومت اسرائیل بن جائے گی۔ ہندوستان کے مسلمان نہیں چاہتے ہیں کہ کشمیر پر پاکستان کا قبضہ ہو لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے ہیں کہ کشمیر یوں کی مرضی کے علی الرغم کشمیر ہندوستان کی ایسی ریاست بن جائے جیسے اترپردیش اور بہار۔ مولانا ارشد مدنی کا بیان بہت مناسب تھا کہ دفعہ ۰۷۳ کو ختم کرنا تھا تو پہلے کشمیریوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔مولانا محمود مدنی کے بیان کوجو حکومت وقت کی حمایت میں تھا تمام اہل خرد اور اہل ضمیر نے نا پسند کیا اور مسلمانوں نے ان کو بلیک لسٹئ کردیا ہے۔ مولانا ارشد مدنی پہلے بھی ارشد تھے اب بھی ارشد ہیں یعنی صاحب رشد و خرد ہیں لیکن محمود مدنی محمود سے نامحمود بن گئے ہیں یعنی ستائش کے لائق نہیں رہ گئے ۔ انہیں اندازہ نہیں کہ ایک غلط بیان نے ان کو کتنا نقصان پہونچایا ہے خود ان کی جمعیۃ کے لوگ اس بیان کو نا پسند کر رہے ہیں بعض جگہ کے ذمہ داران جمعیۃ نے استعفاء بھی دے دیا ہے۔ کاش کہ انہوں نے یہ بیان نہیں دیا ہوتا۔ کاش کہ انہوں نے یہ غلطی نہیں کی ہوتی ، کاش کاش ”اک حرف کاش کیست کہ صد جا نوشتہ ایم“
جیسا کہ پہلے کہا گیا یہ ملک فسطانئیت کے رخ پر تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، ایک ملک اور ایک زبان کے نعرے بھی اب بلند کئے جارہے ہیں اور ہندی کومسلط کرنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے، نومبر میں رام مندر کی تعمیر شروع کردینے کا اعلان کردیاگیا ہے اور اگر رام مندر کی تعمیر شروع ہوگئی جس کا امکان ہے تو پھر حکومت کو”شجر الخلد“ اور”ملک لا یبلی“ یعنی لازوال سلطنت کی نعمت عظمی حاصل ہوجائے گی اور دوتہائی سے زیادہ کی اکثریت حکومت وقت کو حاصل ہوجائے گی۔۲ دیسمبر ۲۹۹۱ میں بابر مسجد شہید کی گئی سیکڑوں مسلمانوں کا خون بہا اور اسی کے ساتھ حق اور انصاف کا خون بھی بے دریغ بہا یا گیا اور اب یہ قضیہ نا مرضیہ سپریم کورٹ کی عدالت میں ہے اورخیر کی توقع بھی ہے، لیکن بعض اہل نظر کا کہنا ہے کہ سپر یم کورٹ کے لئے حق کی حمایت کرنا اور غالب اکثریت کے رجحان اور اذعان کے خلاف فیصلہ دینا آسان نہیں ہے۔ اندیشہ ہے کہ وہ اس فیصلہ کا بوجھ پارلیامنٹ کے شانہ پر ڈال کر خود سبک دوش ہو جائے ۔اور اب بارلیامنٹ کے لئے قانون بنانا آسان ہوگیا ہے اور بی جیہ پی کو وہاں اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ہندوستان میں جمہوریت کے چراغ کا تیل ختم ہورہا ہے اورانصاف کی لو جھلملارہی ہے، سٍپریم کورٹ پر بھی ہندو تو کا دباو ڈالنے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے یہ کہا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ ہمارا ہے یعنی ہندووں کا ہے ۔الکشن کمیشن آف انڈیا کو بھی حکومت کی کٹھ پتلی بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ مسلم پرسنل لا میں کھلی ہوئی مداخلت اب ہوچکی ہے اور بورڈ اس مداخلت کو روکنے میں پورے طور پر ناکام رہا ہے۔آسام اور دوسری جگہوں پر بھی مسلمانوں کی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش ہور ہی ہے۔ہجومی تشدد کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ شرافت اور اخلاق اور انصاف کی تمام روایات مٹائی جارہی ہیں۔ ہم لوگوں کے لئے جن کا سیاست سے زیادہ تعلق نہیں ہے سکون اور دلجمعی کے ساتھ علمی اور تعمیری کام کرنا مشکل ہورہا ہے تصنیف وتالیف کے لئے جس سکون اور دلجمعی کی ضرورت ہے وہ عنقا ہے ۔ جمہوری قبا میں دیو استبداد پایہ کوب ہوچکا ہے۔
حالات کو درست کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کی بھی ہے ہندوستان کے موجودہ حالات میں اب مسلمان اہل دانش کو نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ایک ایسی مومنانہ فراست کی ضرورت ہے جوکشتی کو منجدھار کے پار اتاردے۔ جو سفینہ کو ساحل نجات تک پہونچادے۔ مومنانہ فراست یہ نہیں ہے کہ ہم بس ساری امیدیں سپریم کورٹ سے لگا کر بیٹھ جائیں یا کسی علاء الدین کے چراغ کا انتظار کریں ۔ مسلمان اہل فکر ودانش اور علماء کو اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب پرانا نسخہ، پرانا طریقہ عمل ، پرانا نصاب اورپرانا نظام تعلیم،پرانا انداز فکر کام نہیں دے گا ۔اگر ملک میں عزت اور طاقت کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو ملک کے عوام سے، یہاں کی قوم سے لسان قوم کے ذریعہ رابطہ قائم کرنا ہوگا۔ لسان قوم میں بات کرنے والے اور خطاب کرنے والے علماء تیار کرنے ہوں گے ۔ پورا نقطہ نظر بدلنا ہوگا۔ وہ پرانا نقطہ نظر کہ صرف مسلمانوں سے خطاب کرنے والے علماء تیار ہوں ختم کرنا ہوگا۔اور یہ تبدیلی بلا تاخیر شروع ہونی چاہئے۔مولانا محمود مدنی صاحب نے دہلی کے قریب ایک تعلیم گاہ قائم کی ہے وہ اگر لسان قوم میں تعلیم کی اسے تجربہ گاہ بنائیں اور اس کام کے لئے یکسو ہوجائیں تو بہتر ہے جمیعۃ علماء کو وہ مولانا ارشد مدنی کے حوالہ کردیں۔ یا کم از کم کوئی پالیسی اختیار کرنے سے پہلے ان سے مشورہ کرلیا کریں۔
ہندوستان صرف ہندووں کا ملک نہیں ہے یہاں مسلمان سکھ اور عیسائی بھی بستے ہیں اوردوسری مذہبی اور لسانی اقلیتیں بھی یہاں رہتی ہیں ۔ مختلف مذہبوں فرقوں خاندانوں اور زبانوں کے افراد یہاں صدیوں سے رہتے آئے ہیں اگر یہان باہمی محبت اعتماد رواداری اور دست گیری اور مفاہمت کی فضا نہیں ہوگی تو یہ ملک مستقل کشمکش کے نتیجہ میں کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ اس ملک میں ہماری،ہم مسلمانوں کی عاقبت بخیر ہو اور مستقبل روشن ہو اس کے لئے نئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔یہ ذمہ داری سب کی ہے لیکن مسلمانوں کی تنظیموں کو اور ان کے قائدین کو آگے آنا چاہئے مسلمانوں نے یہ غلطی کی ہے کہ ان کے قائدین نے اور ان کی تنظیموں نے اور ان کے اداروں نے خود کو مسلمانوں کے دائرہ میں محدود کردیا ہے ”خیر امت“کو ”اخرجت للناس“ کے لئے مبعوث کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ”اخرجت للمسلمین“ کے خول میں خود کو محبوس کرلیا ان قائدین کی ساری نقل وحرکت صرف مسلمانون تک محدود ہو کر رہ گئی۔ دینی مدارس نے ”لسان قوم“ کو پیغام رسانی کا ذریعہ بنانے کے بجائے صرف”لسان المسلمین“ کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔مشکل یہ ہے کہ ہمارا پرانا شاکلہ ذہنی (مائنڈ سٹ) اتنا منجمد اور پتھریلا ہوگیا ہے کہ وہ کسی تبدیل کو قبول نہیں کرتا ہے مثلاایک شخص اٹھتا ہے ملت کی بیچارگی اور بیماری کا حال زار بیان کرتا ہے اس کے بعد جو وہ دوا تجویز کرتا ہے وہ وہی دقیانوسی ہوتی ہے وہی مسلمانوں کے درمیان کام ، اکثریت کے بحر ظلمات سے دوری اور اس میں شناوری کا خوف اتنا طاری رہتا ہے کہ اس کے اندر سے آواز آتی ہے ”دامن تر مکن ہوشیار باش“۔
ہماری باتیں بہت سے لوگوں کو نئی نئی سی لگتی ہیں۔جب بیماریاں نئی ہوں گی تو نئے نسخوں کی اور نئے علاج کی ضرورت ہوگی۔ پرانے خاندانی نسخے کام نہیں آئیں گے۔ پرانا نصاب تعلیم،پرانا نظام تعلیم کام نہیں آئے گا۔اب اپنی ان غلطیوں کی اصلاح کا وقت آگیا ہے ضرورت ہے کہ مدرسوں میں لسان قوم کو پڑھانے اور اس میں لکھنے اور پڑھنے کی مشق کرائی جائے چونکہ ”اخرجت للناس“ کا مصداق ہم کو بننا ہے اس لئے مدرسوں کے طلبہ کو ملک کے تمام باشندوں کے عقائد سے اور مذہب سے اور تہذیبی روایات سے واقف بنانے کی کوشش کی جائے ان کومکالمہ اور ڈائلاک کے بہترین طریفہ (وجادلہم بالتی ہی احسن) کی مشق کرائی جائی اگر مسلمان اس ملک میں اپنا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک نئے فکری انقلاب کے لئے اپنے کو تیار کر لیں اور یہ یقین کرلیں کہ ان کی گذشتہ کوششیں نئے حالات میں ثمر آور نہیں ہوسکتی ہیں اگر وہ خاک دان ارضی پر شوق دوام رکھتے ہیں اور طویل المدت قیام چاہتے ہیں تو انہیں اب نئی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی اور نیا منصوبہ تیار کرنا ہوگا اور نئی نسل کی نئی تربیت کرنی ہوگی ایک نیا دار العلوم دیوبند قائم کرنا ہوگا اور ایک نیا ندوۃ العلماء۔ہمیں انگلش کو اور لسان قوم کو دینی مدارس میں تدریس کا میڈیم بنانا ہوگا اور پورے قوم سے برادران وطن سے رابطہ قائم کرنے کی اور تعلقات استوار کرنے کی اسٹریٹچی بنانی ہوگی۔ سیاست مسئلہ کا اصل حل نہیں ہے مسلم پرسنل لا جیسی تنظیمیں بھی مسئلہ کا حل نہیں ہیں۔ برادران وطن سے رابطہ مسئلہ کا حل ہے ۔ارشد مدنی اور موہن بھاگوت ملاقات کو نمونہ بنائے اور اس انداز پر کام کو آگے بڑھائے۔کیا مسلم قائدین اور علماء ہماری یہ آواز سنیں گے؟اگرآج ہماری یہ آواز صدا بصحراء ثابت ہوئی تو پوری ملت کو مدتوں صحراء نوردی اور بے ثمر آبلہ پائی کرنی پڑے گی مسلمانوں کے لئے رابطہ عامہ اور Mass contact کے سوا کوئی راستہ بچا نہیں ہے۔وقت بھی کم ہے او ر کم وقت میں کام زیادہ کرنا ہے۔ملت کے قائدین ،ملت کے مخلصین کے سمجھ میں کاش یہ بات آجائے۔”جو نہ دے دل ان کو تو دے مجھ کو زباں اور“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

متاع دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں کی” ایک تبصرہ

  1. محسن عثمانی صاحب کا مضمون بہت عمدہ ہے؛ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لئے حالات کے رخ کو پھیرنے اور انھیں اپنے حق میں بہتر بنانے کے ایک مؤثر طریقے کی مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں