657

مبارک ہو،مودی جی 2019ء کا الیکشن جیت گئے ہیں

نایاب حسن قاسمی
پلواما میں خود کش حملے کے دوران 40؍سی آر پی ایف کے جوانوں کے مارے جانے کے بعد سے مسلسل مودی حکومت پر دباؤ تھا کہ پاکستان سے سخت بازپرس کی جائے یا اس حملے کا بدلہ لیاجائے بالآخر منگل26؍فروری کی صبح یہ خبر آگئی کہ ہندوستانی ایئر فورس کے’’میراج2000‘‘نامی بارہ جنگی طیاروں نے صبح ساڑھے تین بجے کے وقت پاک مقبوضہ کشمیر کے بالاکوٹ میں جیش محمد کے تربیتی کیمپوں پرلگ بھگ ایک ہزار کلو وزن کی بمباری کی اور ہندوستانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق لگ بھگ دوسودہشت گردوں کو مار گرایا،جبکہ پاکستان آرمڈ فورس کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وہاں کے میڈیاکو بتایاکہ بالاکوٹ کے نزدیک مظفر آباد کے علاقے میں ہندوستانی طیارے دیکھے توگئے تھے،مگر ان کا بروقت اور مؤثر پیچھا کیاگیا،جس کے بعد وہ فوراً ہی لوٹ گئے اور لوٹتے وقت اپنا’’بوجھ‘‘ہلکاکرتے گئے،جودھماکہ خیز اشیاکی صورت آبادی سے خالی علاقوں میں گراہے اور اس سے ایک بھی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے؛حالاں کہ دوسری طرف پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے جوجوابی یا دفاعی حملے کے سلسلے میں بیانات سامنے آئے ہیں ،ان سے معلوم ہوتاہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے واقعی اپناکام کردیاہے اور پاکستان یہ تسلیم کرنے سے کترارہاہے ؛کیوں کہ پھر اسے یہ بھی ماننا پڑے گاکہ اس نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔
اس کے بعد ہندوستان کے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں خوشی و مسرت کا اظہار کیاجارہاہے اور ایسا کہاجارہاہے کہ ہندوستانی فوج نے پاکستان کو منہ توڑ جواب دیاہے اور عام شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر سیکڑوں دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیاہے،جو ایک بڑی حصول یابی ہے۔ہندوستانی خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیادپرہندوستانی فضائیہ نے بالاکوٹ میں واقع جیشِ محمد کے سب سے بڑے کیمپ پر حملہ کیا ہے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندوستان کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر جیشِ محمد کے کیمپ پر کی جانے والی یہ ایک ’’غیر عسکری‘‘کارروائی تھی اور یہ پیش نظر رکھاگیا تھا کہ شہری ہلاکتوں سے بچا جائے،ان کے مطابق یہ حملہ گھنے جنگل میں پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک کیمپ پر کیا گیا، جو شہری آبادی سے کافی دور تھا۔ان کایہ بھی کہناتھا کہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں جیشِ محمد کےممبران، تربیت دینے والے سینیئر کمانڈرزاور دہشت گرد،جو فدائی حملوں کے لیے تیار کیے جا رہے تھے، ہلاک کر دیے گئے۔پاکستان نے فورااس سارے واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہے اور منگل کو دن میں وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر دفاع پرویز خٹک اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ،جس میں انھوں نے یہ طے کیاہے کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایاجائے گا،خصوصاً اقوام متحدہ،اوآئی سی اور دوست ممالک سے پاکستان بات کرے گا۔شاہ محمود قریشی کایہ بھی کہناہے کہ پاکستان بھی جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے-عمران خان کہتے ہیں کہ وقت اورجگہ کاانتخاب اب وہ کریں گے،وہ19؍فروری اور اس کے بعد کے اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ہندوستان کی جانب سے کوئی جارحانہ کارروائی ہوتی ہے،تو پاکستان جواب دینے کے بارے میں سوچے گا نہیں،جواب دے گا،اب پاکستانی میڈیا بھی وہاں کی حکومت پر یقیناً جوابی کارروائی کا دباؤ بنائے گی۔جیش محمد کے کیمپ کو تباہ کیے جانے کے ہندوستانی دعوے کو پاکستان شدت سے مسترد کررہاہے اوراس نے پاکستان میں موجودبین الاقوامی میڈیاکو موقعِ واردات کے معاینے کی دعوت دی ہے۔
ویسے یہ بہر حال حقیقت ہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے حملہ کیاہے،البتہ اس حملے میں کس کااور کتنا نقصان ہواہے،اس بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا ،بی بی سی نے جاے وقوع سے متصل علاقے کے ایک شخص کی ایک 55سکنڈکی ویڈیوجاری کی ہے،جس میں وہ بتارہاہے کہ صبح تین چار بجے کے قریب زور دار دھماکے کی آواز سننے میں آئی تھی ،پھر اچانک وہ آواز بند ہوگئی اور صبح کے وقت پتا چلاکہ چار پانچ مکانات کو نقصان پہنچا اور ایک آدمی زخمی ہوا ہے ۔اِدھر ہندوستانی حکومت خود توتفصیلات بتانے سے خاموش ہے،البتہ حکومت کے ترجمان مختلف صحافی نیوزچینلوں پر، ویب سائٹس پراور ٹوئٹر وغیرہ پر اطلاع دے رہے ہیں کہ سو،دوسو؛بلکہ تین سو دہشت گرد مارے گئے ہیں اوراس طرح پلواما سانحہ اب بی جے پی کے لیے ایک بہت بڑا انتخابیAdvantageثابت ہونے والا ہے،اس جوابی حملے کے بعد اب اپوزیشن کی جانب سے اس سوال کا بھی کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا کہ پلوامامیں فوجیوں کے قافلے پر ساڑھے تین سو کلو دھماکہ خیزمواد کے ساتھ حملہ کیسے ممکن ہوا؟اب یہ بھی پوچھنابے معنی ہوگا کہ جب پہلے سے حکومت کو خبر تھی کہ الیکشن سے قبل دہشت گردانہ حملہ ہوسکتا ہے،تو وہ سی آرپی ایف جوانوں کی سلامتی کے ساتھ شری نگر منتقلی کا انتظام کیوں نہ کرسکی؟ اب این ایس اے اجیت ڈوبھال پر سوال اٹھانا بھی بے معنی ہوگا،عین ممکن ہے کہ اب آنے والے الیکشن تک بات ہوگی،تو صرف مودی جی اوران کے چھپن انچ کے سینے کی، انوپم کھیروغیرہ جیسے’’ دیش بھکت کلاکار‘‘ تو ابھی سے آستینیں چڑھاکر ٹوئٹر پر کانگریسیوں،لیفٹسٹوں،لبرلز اور سیکولرز کی بینڈ بجانے میں سرگرم ہوچکے ہیں ،ایک صاحب نے ٹوئٹر پر لکھاہے کہ’’ چالیس جوانوں کے بدلے تین سو دہشت گردوں کوماردیاگیا،اسے کہتے ہیں ایک سر کے بدلے دس سر لانا اور یہ ہے نیا ہندوستان‘‘۔ مودی اور بی جے پی کے لیے انتخابی ریلیوں میں عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے یہ ایک ایسا موضوع ہے،جو اس الیکشن میں سرِ فہرست رہے گااور جیسا کہ یہاں کے عوام کی عادت ہے،بہت ممکن ہے وہ اسی معاملے پر بی جے پی کی حمایت کے لیے آمادہ بھی ہوجائیں۔ایسے میں اپوزیشن کے لیے ایک بار پھر بڑی آزمایش کا موقع ہوگا،ایک طرف خالص قوم پرستانہ جذبات کا اُبال ہوگا،تو دوسری طرف معاشی،سماجی و سیاسی سطح پر گزشتہ پانچ سال کے دوران برپامودی حکومت کے ذریعے برپاکی جانے والی تباہیاں ہوں گی، مودی اینڈ کمپنی چاہے گی کہ عوام کا ذہن صرف پلوامااور مابعد پلواما میں اٹکارہے،اپوزیشن والے اس سلسلے میں اب کوئی سوال بھی اٹھائیں گے،تو حسبِ روایت انھیں اینٹی نیشنل گینگ میں شامل کرنا آسان ہوگا؛لہذا اپوزیشن کو بڑی حکمت عملی کے ساتھ عوامی ذہن و رجحان کوملک کے اصل مسائل کی طرف پھیرنا ہوگا۔ویسے ابھی آنے والے دنوں میں پتانہیں اس جوابی حملے کے بارے میں بھی کیاکیا انکشافات سامنے آئیں ۔
پلواما حملہ اور اس کے بعد کے اب تک کے حالات کاایک تو ظاہر ہے،جو ہمیں نظر آرہاہے اور ہم اسی ظاہر کودیکھنے اور اس کے مطابق کوئی رائے قائم کرنے کے مکلف ہیں،مگر اس پورے ڈرامے کے پس منظر میں 2019ء کا جنرل الیکشن مرکزیت کاحامل ہے۔کئی تجزیہ کاروں کا یہ مانناہے کہ بی جے پی نے 2018ء کے اواخر میں اپنے ایک اہم انتخابی حربہ بابری مسجد۔رام جنم بھومی کو آزماناچاہا،مگراس میں کامیابی نہیں ملی اور خود اسی سے تعلق رکھنے والے کئی افراد اور جماعتیں بیزار ہوگئیں ،حتی کہ پروین توگڑیاجیسے ”کارگر” انسان بھی بی جے پی کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کرنے لگے،تو اب یہ پلواما سانحہ پیش آگیا اور اب تو اس کا جواب بھی دے دیاگیا ہے،پی ایم مودی کا جوش قابلِ دید ہے،آج ہی راجستھان میں انھوں نے اپنا2014ء والا نعرہ دہرایاہے’’یہ دیش نہیں جھکنے دوں گا،یہ دیش نہیں مٹنے دوں گا‘‘ دوسری طرف مختلف شعبوں میں موجود ان کے بھکت اپنے کام پر لگ چکے ہیں،آگے آگے دیکھتے ہیں،کیاہوتاہے۔ویسے میرا جی چاہ رہاہے کہ کنال کامراکے ساتھ میں بھی مودی جی کو 2019ء کے الیکشن میں کامیابی کی پیشگی مبارکباد پیش کردوں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں