118

مبارک جونپوری کے سخن آسماں کی سیر

حقانی القاسمی
آوازیں بھیڑ میں کھوجاتی ہیں مگر کچھ آوازیں سماعتوں سے رشتہ جوڑنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ان آوازوں کی اپنی الگ پہچان اور منفرد شناخت ہوتی ہے۔اور یہ شناخت فکر کامل اور تخیل کی ہم آہنگی اور ہم نشینی سے نصیب ہوتی ہے۔
مبارک جونپوری کی تخلیقی آواز بھی ایسی ہے جوتنقیدی فضا میں زیادہ مانوس نہیں ہے لیکن اس آواز کی اپنی انفرادیت ہے۔کہ ان کی روش گفتگو اوروں سے الگ ہے۔ان کے شعری پیکر بھی مختلف ہیں۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سیال اور متحرک اشیا سے ان کے ذہن کی مناسبت زیادہ ہے۔سورج،دریا،چاند،کشتی۔۔۔۔یہ روشنی اور تحرک کے شعری پیکر ہیں اور انہی پیکروں سے ان کی تخلیقی کائنات آباد ہے۔
مبارک جون پوری کے زیادہ تر شعری پیکروں کا تعلق مظاہر فطرت سے ہے۔سمندر، دریا اور ان کے انسلاکات سے ان کے علائم اور رموز کے دائرے تشکیل پاتے ہیں جن سے مبارک کے ذہنی تحرک اور تجسس کا پتہ چلتا ہے :
انقلاب لایا ہوں چیر کر اندھیروں کو
جاگو اے خرد مندو میں سحر کا سورج ہوں
——
پیاس تپتے صحرا کی جب بجھاتا ہے دریا
دشت کے بھی دامن میں گل کھلاتا ہے دریا
——
بیکراں وسعت رنگیں کے ہیں منظر کتنے
میری آنکھوں میں سمائے ہیں سمندر کتنے
——
دے کے اپنی خوشی زمانے کو
آنسووں سے گزر رہا ہے چاند
——
جلتے ہوئے سورج کی تمازت کا سہتا ہے وار شجر
تب جاکر دنیا کہتی ہے اس کو سایہ دار شجر
——
چراغوں کو بجھا دیتی ہے اکثر
یہی فطرت پرانی ہے ہوا میں
ان اشعار میں جو پیکر ہیں وہ منجمد نہیں ہیں۔دریا سمندر سورج شجر ہوا چاند یہ وہ علامتیں ہیں جن میں مفاہیم کی ایک وسیع تر دنیا فروزاں ہے۔
مبارک جون پوری کا اظہاری نظام منفرد ہے اور اس میں تحیر کی فضا بھی ہے اس لئے اگر ایک حصہ انبوہ میں گم ہو جائے تو ایک چھوٹا سا حصہ ایسا ضرور ہے جو اپنے وجود اور اثبات کا اعلان کرتا رہے گا۔ِجن شعروں سے ان کی اظہاری انفرادیت ترتیب پاتی ہے۔وہ اشعار یوں ہیں:
چند اشکوں پہ ہے موقوف غموں کی دنیا
ایک دریا سا کہاں دیدہ تر میں ہوگا
——
رات کے پردے سے نکلی صبح تاباں
روشنی ہم کو اندھیروں سے ملی ہے
——
مژہ کے دوش پہ جو آنسوؤں کی میت ہے
دل غریب کی اک لاش بے کفن سمجھو
——
لہو ٹپکتا ہی رہتا ہے اس کی آنکھوں سے
خیال کس کا اسے سنگسار کرتا ہے
——
مبارک اگ نہیں پائیں گے خواب کے سبزے
علاقہ نیند دریا اس گھڑی چراغوں میں
ان شعروں میں سوچ کے نئے زاوئے اور جزیرے ہیں لفظیات اور تراکیب کی سطح پر بھی انفرادیت روشن ہے کہ شاعر نے بالکل نئے زاوئے سے موضوع کو برتا ہے ۔ایسے ہی شعر شاعر کی تخلیقیت کے گہرے نقوش قاری کے ذہن پر مرتسم کرتے ہیں۔ مبارک جون پوری کے ہاں ایسے اشعار خاصی تعداد میں ہیں جن میں احساس واظہار کی ندرت و جدت نمایاں ہے۔مبارک کا طرز سخن مستعار یا ماخوذ نہیں ہے ہاں روایت سے مستنیر ضرور ہے شاعر ماضی سے مربوط ہے مگر حال سے بے خبر نہیں کہ روایت سے روشنی ملتی ہے اور حال سے رفتار۔روشنی اور رفتار کے تلاطم میں ہی تخلیق کچھ اور لہروں سے آشنا ہوتی ہے اور تخلیق کو تابندگی اور دوامیت بھی نصیب ہوتی ہے خود شاعر کا خیال ہے:
ہر ایک دور میں زندہ رہے گا اس کا سخن
جو شاعری میں ادب میں روایتیں دے گا
روایت کے سبز علاقے اور عصری احساس کے پانیوں میں رہ کر مبارک نے اپنا رنگ جدا رکھا ہے اور ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں احساس اور اظہار کی سطح پر فطری پن ہے اصلیت ہے۔ان کی فکر کسی ازم کے ایڈز سے متاثر نہیں ہے۔ایک مربوط سوچ اور ایک منظم انداز فکر ہے اور پوری شاعری اس تہذیبی جوہر کی تلاش میں نکل پڑی ہے جسے عصری تمدنی بحران نے سلب کر لیا ہے۔ بازاری معیشت‘میکانکی مشینی معاشرے نے جس طرح کی اجنبیت‘بیگانگی‘انتشار‘افسردگی‘ اضمحلال اور شکست خوردگی کو جنم دیا ہے۔مبارک کی شاعری اس نوع کے منفی احساسات سے نبرد آزما ہے۔صارفی ثقافت اور صنعتی تمدن سے اجتناب اور پرانی تہذیبی قدروں سے انسلاک اس شاعری کے مافیہ کا عنصر حقیقی ہے۔اپنے وجود کی تلاش‘اپنی جڑوں کی جستجو مبارک کی شاعری کے رگ وپے میں موجزن ہے:
تلاش غیر نہیں ہے تلاش اپنی ہے
خود اپنی زیست کے سائے میں گامزن ہوں میں
——
اس قدر نا آشنا ہوں خود ہی اپنے آپ سے
اپنا ہی چہرہ مجھے لگتا ہے اکثر اجنبی
——
مبارک آج یہ کیا وقت آگیا ہم پر
کہ اپنا سایہ بھی لگتا ہے اجنبی کی طرح
غزل کے وہ عصری موضوعات (فسادات،خوف ودہشت،ظلم وجبر،ناانصافی،اجنبیت، تنہائی،کرب ذات، مایوسی،حسن وعشق،شکست خواب) جو اکثر شاعروں کی تخلیقی فکر کا محور بنتے رہے ہیں،مبارک جونپوری کے شعری عمل کا بھی حصہ ہیں۔عمومی انسانی صورت حال، انتشار، انارکی‘تہذیبی شکست و ریخت‘اور دیگر سماجی و سیاسی حوالے ان کے شعری بیانئے میں موجود ہیں:
جو ساری رات مجرے میں جگی تھی
کھنڈر میں سو رہی ہے وہ حویلی
——
ہمارے عہد میں پامال ہو گئیں قدریں
چمن میں پھول بہت ہیں مگر گلاب نہیں
——
گھرے ہوئے ہیں رقابت میں خون کے رشتے
یہی کہانی ہے اے دوست آج گھر گھر کی
——
خنجر دلوں میں اور رقیبانہ چشمکیں
یہ لعنتیں تو آج سگے بھائیوں میں ہیں
——
کہتی ہیں گھر گھر میں عریاں تصویریں
آج پرانی قدروں کی پامالی ہے
——
روز لاشیں بچھ رہی ہیں ہو رہے ہیں قتل و خوں
روز پیدا ہو رہے ہیں فتنہ و شر کھیت میں
——
دل میں نفرت کی سلگتی ہوئی چنگاری ہے
آج انسان کو انسان سے بیزاری ہے
——
گلشن جھلس رہا ہے تشدد کی گی آگ میں
شعلے تعصبات کے پروائیوں میں ہیں
——
اب اس کو بغاوت کے تیشوں سے گرانا ہے
پربت سے کہیں اونچی ہے آج کی مہنگائی
زیاں خانے کی زندگی کی یہ وہ تصویریں ہیں جو شاعر کی ذہنی حساسیت کا آئینہ بن گئی ہیں۔ اس آئینہ میں اجتماعی زوال اور بحران کے سارے منظر دیکھے جا سکتے ہیں:
موسم کے دست ناز میں ہے خنجر خزاں
پھولوں کی سر زمین پہ اب قتل عام ہے
——
بوئے کفن میں ڈوب گئی ساری کائنات
ہے شاخ زندگی پہ کھلا موت کا گلاب
——
چنبل بنا ہوا ہے گلستان زندگی
ہر پھول جل رہا ہے بغاوت کی آگ میں
——
اب عیادت سے بھی کتراتے ہیں لوگ
تنگ دستی دیکھ کر بیمار کی
——
وفائیں دفن ہوئیں بے حسی کی قبروں میں
خلوص کہتے ہیں جس کو وہ اب قیاسی ہے
——
نہ وہ قربتیں ہیں نہ وہ دوستی ہے
جو تھا آشنا اب وہی اجنبی ہے
——
کیوں رفاقت کی بلندی کم ہوئی
کیوں گراوٹ دوستی میں آگئی
صحیح سمتوں کی تلاش‘صحت مند قدروں کی تشکیل اور انسانی رشتوں کی تجدید۔۔اس شاعر کے بنیادی مقاصد یہی ہیں۔یہ محض شعری اظہار نہیں‘قدروں اور تہذیبی رشتوں کی بازیافت کا وسیلہ بھی ہے۔
مبارک جون پوری کے کچھ شعروں میں ’فسانگی‘ بھی ہے۔وہی عرض تجمل جو افسانے کا جوہر ہے۔فنی اظہار میں اس کے لوازم کا بھی خیال رکھا ہے۔مبارک کی اس غزل میں کہانیت ہے۔شعر سے کوئی نہ کوئی داستان یا حکایت ضرور وابستہ ہے:
جاڑے کی سرد رات تھی منظر تھا گاؤں کا
جلتا ہوا الاؤ مقدر تھا گاؤں کا
——
مجبور جس کی عزت و تکریم پر تھے لوگ
قاتل تھا راہزن تھا ستمگر تھا گاؤں کا
——
حرص وہوس نواز حویلی کے صحن میں
مسلا گیا جو پھول گل تر تھا گاؤں کا
مبارک جون پوری کی شاعری میں گاؤں ایک کلیدی لفظ ہے۔ایک علامت ہے جس کے ارد گرد ساری شاعری گھومتی ہے۔گاؤں جن تہذیبی تلازمات سے عبارت ہے وہ سب وضعیات ان کی شاعری میں موجود ہیں۔گاؤں جو مثبت قدروں کا مرکز ہے۔جہاں وسعت کشادگی اور شفافیت ہے خلوص مہر و وفا ہے محبت ہے وضعداری ہے‘شہروں کی طرح شور اور شر نہیں آتما کا ناش کرنے والے کام‘کرودھ اور لوبھ جیسے تین پرکار کے دوار نہیں۔مبارک جون پوری کے احساس و اظہار میں گاؤں کی سی سادگی اور معصومیت ہے۔ان کی شاعری گاؤں جیسے فطری احساس کے ساتھ نمو پاتی ہے اور فکر و تخیل کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہوتی ہے۔گلاب اور خواب کی خوشبو سے مرکب یہ شاعری ایک نہ ایک دن ضرور ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ بنے گی۔کیوں کہ اسی شاعری کو زندگی ملتی ہے جس میں زندگی کی حقیقتوں کا سچا عرفان ہو اور اجتماعی مستقبل کا بیان ہو۔
مبارک جونپوری کے شعری مجموعہ ’آنکھوں کے گاؤں تک‘نے فکر و فن کی وادیوں میں جو چراغ جلائے ہیں وہ سدا روشن رہیں گے کہ یہ اشکوں کے چراغ ہیں جس کی لو کبھی مدھم نہیں ہوتی:
دل کے غریب شہر سے آنکھوں کے گاؤں تک
کتنا طویل راستہ اشکوں نے طے کیا
اشکوں نے میر تقی میر کو اعتبار عطا کیا تھا۔کیا عجب کہ یہی اشک مبارک کو معتبر کر دے۔
Email:haqqanialqasmi@gmail.com
Mob. 9891726444

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں