119

ماہر قرآنیات پروفیسر خلیل الرحمٰن چشتی سے ایک ملاقات


محمد انس فلاحی سنبھلی
مکہ مکرمہ اور مدینہ وہ مقدس مقامات ہیں،جہاں دنیا بھر کے مسلمان حسبِ استطاعت اور حسبِ شوق و توفیق آتے رہتے ہیں،یہاں کا قیام اس لحاظ سے بھی بہت با برکت ہے ،یہاں دنیا بھر کے مشاہیرِ علم سے ملاقات کا موقع میسر آجاتا ہے۔عمرے کی غرض سے ماہر قرآنیات پروفیسر خلیل الرحمٰن چشتی صاحب تشریف لائے ،تو ملاقات کا موقع ملا،آپ سے واقفیت اور انسیت فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی،آپ کی تحریریں شوق سے پڑھیں اور دل کھول کے لائک اور شیئر کی جاتی ہیں۔
پروفیسر خلیل الرحمٰن چشتی کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے ؛لیکن 21؍ سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئے ،پھر وہاں سے مختلف ملکوں میں رہے اورکینیڈا، کویت، قطر اور مدینہ ہوتے ہوئے پاکستان جابسے ۔ دینی تعلیم باضابطہ کسی مدرسے میں حاصل نہیں کی؛ لیکن مولانا عبدالقدیر اصلاحی سے اخذ واستفادہ میں کوئی کسر نہ چھوڑی، دینی مطالعے اورتفقہ کا یہ عالم ہے کہ قرآنیات اور اسلامیات سے متعلق ایک درجن سے زائد کتابیں اہلِ علم کے درمیان مقبول ہوچکی ہیں۔ مطالعے کا خاص موضوع قرآن ہے اور یہی آپ کی وجہِ شہرت بھی ہے ،ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے بعد عوامی دروسِ قرآن کو جلا بخشنے والی شخصیات میں آپ کا نام بھی سرفہرست ہے۔’’درس قرآن کی تیاری کیسے؟‘‘،’’قرآنی سورتوں کا نظم جلی‘‘مقبولِ عام کتابیں ہیں،اول الذکر درسِ قرآن دینے والوں کے لیے ہدایات پر مبنی ہے اور ثانی الذکر قرآن کی جملہ سورتوں کا نظم، خلاصہ، مضمون اور پیغام کیا ہے؟800 صفحات کی اس کتاب میں بہت خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب علما اور عوام دونوں کے لیے یکساں مفید ہے ،لکھنے کا آغاز1995ء سے کیا، اب تک ایک درجن کے قریب کتابیں لکھ چکے ہیں،چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
1۔نمازِ تہجد تقربِ الہی اہم ترین ذریعہ
2۔قواعدِ زبانِ قرآن (دو جلدیں)
3۔توحید اور شرک
4۔درسِ قرآن کی تیاری کیسے؟
5۔قیادت اور ہلاکتِ اقوام
6۔قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی
7۔معارفِ نبویﷺ
مغرب بعد مسجد نبویؐ میں ملاقات ہوئی۔ اس موقعے پر عبیداللہ طاہر فلاحی مدنی بھی موجود تھے، عبیداللہ بھائی ان سے پہلے بھی کویت میں مل چکے تھے؛لیکن میری یہ پہلی ملاقات تھی۔جماعتِ اسلامی پاکستان، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ،قاضی حسین احمدؒ ، خرم جاہ مرادؒ ، مولانا گوہر رحمانؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ؒ سے متعلق گفتگو ہوئی، پاکستان کی جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہاں بھی جماعت اسلامی ہند کی طرح علما کا قحط ہے اور جو ہیں بھی، ان کی قدر نہیں ہے ،علما کی ناقدری ہی ان کے زوال کی بڑی وجہ ہے، جماعت اسلامی ہند اس حوالے سے کسی قدر خوش قسمت ہے کہ وہاں قیادت علما کے ہاتھوں میں ہی چل رہی ہے، البتہ مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا کہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گایانہیں۔ پاکستان کی جماعت اسلامی کے افسوسناک رویے پر خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے کئی تحریریں لکھی تھیں، اسی سلسلے میں جماعت کی مرکزی قیادت کے ساتھ ان کی طویل مجلس ہوئی تھی، ان سے جماعت اسلامی پاکستان نے پندرہ سالہ پروگرام لکھنے کو کہا تھا، آپ نے عمرے کے سفرپر آنے سے ٹھیک ایک دن پہلے ہی جماعت اسلامی کو پندرہ سالہ لائحہ تحریر کرکے سپرد کردیا ہے۔

باتوں باتوں میں نے گفتگو کا رخ جاوید احمد غامدی کی طرف موڑ دیا، ان کی فکر سے عام طقبہ تو متاثر ہو ہی رہا ہے؛ لیکن جماعت اسلامی اور جماعت کی ذیلی تنظیمیں بھی غامدیت کی زد میں ہیں ، ان کے بارے میں آپ نے بہت اہم باتیں کہیں کہ وہ شروع سے ہی معتزلی (عقل پرست) رہے ہیں’’کشاف‘‘ بغل میں دبائے پھرتے تھے ،جب آدمی دینی مسائل میں استدلال کی قوت نہیں رکھتا ہے، تو وہ عقلانیت کی طرف بھاگتا ہے؛لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہے کہ جاوید غامدی صاحب بہت متحمل مزاج، خوش گو اور اپنی بات کو خوش اسلوبی سے رکھنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔

پھر بات ہونے لگی ’’اقامتِ دین‘‘کے تصور پر ،جس پر مولانا وحید الدین خاں اور جاوید غامدی صاحبان نے نشتر چلائے ہیں،اسی ضمن میں مولانا علی میاں ندوی ؒ کی کتاب ’’عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح‘‘ کا بھی ذکر چھڑا،خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے اس حوالے سے’’تعبیر کی غلطی‘‘کو وزن دار قراردیا اورکہا کہ اس کے علاوہ جن لوگوں نے بھی اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی ہے، وہ کوئی وزن نہیں رکھتی ہیں ،میں نے اس حوالے سے ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کی کتاب کا ذکر کیا، جو انہوں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتاب کے رد میں لکھی تھی۔

بات ہو ’’اقامتِ دین‘‘ کے تصور کی اور مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ کے بغیر گفتگو ختم ہو جائے، یہ نا ممکن ہے، اس پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے کہا کہ مولانا مودودی ؒ کی یہ واحد کتاب ہے، جس میں اجمال پایا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ میں اس کی شرح لکھ رہا ہوں ،پھر بات ہونے لگی ’’إلہ‘‘ اور’’ رب‘‘ کے مفہوم پر، آپ نے قرآن کھول کر کئی مقامات سے قرآنی آیات میں جہاں جہاں لفظِ الہ اور رب آیا ہے ،وہ دکھایا، إلہ وہ کیسے ہو سکتا ہے، جو صاحبِ اقتدار اور طاقتور نہ ہو،اسی ضمن میں لا إلہ إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تین اجزا پر مشتمل ہے:
(لا إلہ الاأنت ) کوئی الہ نہیں ہے کوئی طاقت ور ہستی نہیں ہے سوائے تیرے، مچھلی کے پیٹ میں لانے اور نکالنے کی طاقت تیرے ہی پاس ہے، (سبحانک) تو پاک ہے اس بات سے کہ تو ظلم کرے۔(إنی کنت من الظالمین) مچھلی کا نگل جانا میری غلطی کی وجہ سے ہے اور اس سے بچانے والا تو ہی ہے۔

یہ موضوع ختم ہوا تو عبید اللہ بھائی نے اپنے سوال سے نئے موضوع کا آغاز کر دیا۔ سوال مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘ سے متعلق تھا، جسے بعض لوگ بہت زیادہ ہدفِ تنقید بناتے ہیں،اس سوال کا جو خوبصورت جواب آپ نے دیا، وہ یہ تھا:
’’مولانا مودودی ؒ کی یہ کتاب علما اور علما میں سے بڑے علما اگر پڑھیں، تو انہیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئے گی، جس سے گستاخ صحابہؓ اور توہینِ صحابہؓ کا الزام لگانا درست ہو،ہاں اس میں ایک کمی رہ گئی ہے، وہ یہ کہ کتاب کی ابتدا میں مناقبِ صحابہؓ پر مفصل باب ہونا چاہیے تھا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کتاب سے شیعیت کو ہوا ملی ہے، انہیں شیعہ کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن کو بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کہاں کہاں شیعیت پر ضرب لگائی ہے‘‘۔یہ بات مکمل ہوئی ،تو ہندوستانی سیاست اور الیکشن پر بات چھڑ گئی، ایک سوال ختم ہوتا تھا، توہم دونوں دوسرا سوال چھیڑ دیتے تھے ،اس طرح مجلس چلتی رہی ،وہ بولتے تھے اور ہم سنتے تھے، ہم سوال پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے۔ یہ مجلس نمازِعشا کے بعد بھی ڈیڑھ گھنٹے کے قریب چلتی رہی ،وقت بہت ہوچکا تھا؛ اس لیے ہم نے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔
آپ کی شخصیت نے گہرے اثرات چھوڑے۔ مسکراتا چہرہ، افہام وتفہیم کا دلنشیں انداز، ملنے والے سے خندہ پیشانی سے ملنا ؛ان سب باتوں کے ساتھ ان کی شخصیت کے بارے میں مَیں یہ فیصلہ نہیں کرپا یا کہ وہ علم میں زیادہ بڑے ہیں یا خوبیوں میں ۔ کسی بڑی شخصیت کا چلتے وقت آپ کے کندھے پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ دینا، بات بات میں مسکرا دینا آپ کے لیے بہت سی چیزوں کو اجاگر کردیتا ہے کہ وہ شخصیت اپنے نام اور کام سے بہت بلند اور بڑی ہے۔ جس شخصیت کے ساتھ ہٹو بچو کا لشکر ہو، ملنے والا ان کے دیدار کو ترسے،ان کا نام اور کام تو ضرور بلند ہوتا ہوگا؛ لیکن شخصیت واقعی بڑی ہے ،اس کا فیصلہ کرنا ناممکن نہیں ،تو مشکل ضرور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں