21

ماں کی قبر سے

ابن الحسن عباسی
مئی کے مہینے کا گرم موسم ، جانے کتنی بار زندگی میں آیا اور گیا، گزشتہ نو دس سال یہ موسم آتا ہے اور اپنے ساتھ غم کی ایک تصویر اداسی لاتا ہے، کوئی نو سال ادھر کی بات ہے ، عشاء کی نماز پڑھی ، احباب تھے ، مسجد کی چھت پر بیٹھے، گرم موسم میں کراچی کی ساحلی ہوائیں بڑی راحت دیتی ہیں، کبھی بند ہوں تو حبس ہوجائے اور روح گھٹنے لگے، چلیں اور اکثر چلتی ہیں تو لطف بہار دیتی ہیں۔۔۔۔۔پر اس رات ہوائیں تو چل رہی تھیں لیکن طبیعت میں ایک ان جانے سی بے کلی تھی،بیٹھا نہ گیا تو اٹھ کر گھر آیا، وضو تازہ کیا اور کبھی مشام جان کو بہت بھاجانے والا عنبر کا شمامہ لگایا، قرآن کریم لیا، والدہ کے سرہانے بیٹھ کر سورة یسین پڑھنے لگا اور ایک سکون دل میں اترتا گیا، خیال ہوا ،یوں ہی دیر تک پڑھنا ہے۔۔۔۔والدہ جنہیں میں ” اجے” کہا کرتا تھا، چھ ماہ سے صاحب فراش تھیں اور آج ان کی تکلیف بہت سوا تھی، ان کا درد دیکھا نہ جاتا۔۔۔بے بسی کا یہ بھی ایک عالم ہوتا ہے درد جو نہ بانٹا جاسکتا ہے ، نہ لیا جاسکتا ہے، بس دیکھا جاسکتا ہے اور دیکھا جاتا نہیں۔۔۔ شدت الم کی کیفیت میں، اسی دن لپٹ کر وہ کہ گئی تھیں: ” مجھے اب جانا ہے”۔۔۔دوسری بار ابھی سورة یسین مکمل نہیں کی تھی اور وہ چلی گئیں۔۔۔ دیکھا تو بے چین چہرے کو ایک قرار آگیا اور ایک سکون چھا گیا !!
یہ اکیس مئی 209 جمعرات کی شب تھی۔۔۔ اگلی صبح وہ خوش آواز کوئل بھی خاموش تھا جو مدتوں، سویرے سویرے بوڑھے درخت کے پیڑ سے اماں جی کے کمرے کے سامنے سر بکھیرنے آتا اور اداس فضاوں میں زندگی کی امنگ بھرتا، جانے کیوں اس دن نہیں آیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔
جمعرات کو نماز ظہر کے بعد شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے جنازہ پڑھایا، علماء اور نیک لوگوں کا ایک ہجوم تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے کراچی کےجنوب کے قبرستان میں جب ہم انھیں مٹی کے حوالہ کررہے تھے تو مجھے ان کا وہ جملہ بہت یاد آرہا تھا جو زندگی میں اکثر وہ کہا کرتی تھیں:۔۔۔”بچیا، چہ مرگ شتے نو خوشحالی نشتہ ” ( بیٹے ، موت ہے تو خوشی نہیں ہے)۔۔۔ اتوار کو مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ صاحب دوبارہ آئے ،بزرگوں کی تسلی دینے کی بھی ایک شان ہوتی ہے ، بیٹھتے ہی فرمایا ” ماں کا بدل نہیں ۔۔۔۔” بے شک اس دنیائے رنگ و بو میں ماں کا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔ماں کی ہستی کائنات میں قدرت کی شفقت کا استعارہ ہے، وہ فانی زندگی کی تلخیوں میں ایک شیریں احساس ہے اور اس سے جڑا زندگی کا ہر تصور حسین ہے!
آج میں ایک عرصے بعد والدہ کی قبر پر گیا اور اسے دیکھ کر بہت آبدیدہ ہوا۔۔۔۔ماں کی جدائی کے غم پر بہت کچھ لکھا گیا اور بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن مصر کے اس یتیم بچے کا ایک جملہ ہزار مرثیوں پر بھاری ہے، جس نے امتحان کے کسی پرچے میں ابھی دو چار برس پہلے لکھا تھا۔۔۔۔” أمي ماتت، ومات معھا کل شیئ ” میری ماں مرگئی اور اس کے ساتھ ہر چیز مرگئی۔
” اجے! ماں جی! ہر چیز مرگئی ہے، سب رشتے بجھ گئے ہیں ،آپ کے جانے کے بعد!۔۔۔۔۔۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں