115

ماریشس کی نوجوان اردوقلم کارآبیناز جان علی پرامسنگ انڈین افریقن ایوارڈ سے سرفراز


ماریشس:10/دسمبر(پریس ریلیز)
۳۰ نومبر ۲۰۱۸ء کو ماریشس کے شمالی علاقہ بلاکلاوا کے پنج ستارہ ماریٹم ریزورٹ اینڈ اسپا میں ٹرین ٹو گین اور پرامسنگ انڈین سوسائٹی کے زیرِ اہتمام پرامسنگ انڈین افریقن ایوارڈکی شاندار تقریب منعقد کی گئی،شام کے تقریباً چھ بجے مہمان آنے لگے، جن کا استقبال بینڈ باجوں کے دلفریب شور سے ہوا،کانفرنس روم میں ان کا خیرمقدکیاگیا،اندر نفیس سفید میزپوش سے سجائی گئی گول میزوں کو ماریشس کے مختلف اضلاع کے نام سے منقسم کیا گیا تھا، بطور آرائش میزوں کے بیچوں بیچ ماریشس اور ہندوستان کے جھنڈے لگائے گئے تھے اور ان کے ارد گردماریشس کے چورنگے کی نشاندہی کرتے ہوئے لال، نیلے، پیلے اور ہرے رنگ کے پھولوں کے پتے لگائے گئے تھے، ہر نشست کے سامنے ایک بک مارک بھی تھا، جس میں افریقی اور ہندوستانی لیڈروں کے اقوال درج تھے۔اس جلسے میں بطور مہمانِ خصوصی عزت مآب زاویے لیوک دیوال اپوزیشن لیڈر ، محترمہ سلیکھا رادواصدرِ بلدیہ قاتربورن، ہندوستان سے محترمہ پریرنا سنگھ صاحبہ جو پرامسنگ انڈین سوسائٹی کی بانی ہیں،ان حضرات نے شرکت کی ،ان کے علاوہ ڈاکٹر ہریش بھیمل، ٹرین ٹوگین کے منیجر بھی تشریف فرما تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے نیشی سنگھ مسز انڈیا ورلڈوائیڈ ۲۰۱۷ء نے سب کا استقبال کیا،اس کے بعد ماریشس اور ہندوستان کے قومی ترانے گائے گئے، ہندوستانی تہذیب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے دیا جلانے کی رسم بھی اداکی گئی۔پریرناسنگھ نے اپنی افتتاحی تقریر میں بتایا کہ پرامسنگ انڈین سوسائٹی کا نصب العین دنیا میں منتشر این آرآئی، پی آراوز، اور او سی آئی کو یکجا کرنا ہے اور ان کے کام کے لئے ان کو سراہنا ہے۔ انہوں نے ٹرین ٹو گین کمپنی کا شکر ادا کیا کہ ان کے اشتراک سے یہ پروگرام ممکن ہوپایا ۔

پرامسنگ انڈین سوسائٹی۲۰۱۶ء میں شروع ہوئی اور اب تک پینتالیس ہزار این آر آئیز سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس سوسائٹی کا خواب ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے درمیان رابطے کا پل قائم کیا جائے۔اس کے بعد کاوالین صاحب نے نیلسن منڈیلا کی سالگرہ پر لکھی گئی اپنی نظم کریول زبان میں ترنم میں سناکر سامعین کو محظوظ کیا، نظم کا مرکزی خیال اتحاد پر مبنی تھا۔علاوہ ازیں ہندوستان اور افریقی تہذیب پر ایک فیشن شو بھی ہوا، اس فیشن شو میں حصّہ لینے والے ٹرین ٹو گین اورمحترمہ حرشانی مہادیو کے اشتراک سے منعقد ہونے والی’’کون بنے گا اگلا سوپر ماڈل ‘‘کے پیجینٹ میں حصّہ لینے والے ہیں،اس کے بعد کرومانیا ڈانس اکادمی کے جوشیلے اور ماہر فنکاروں نے افریقی اور ہندوستانی ثقافت کی آمیزش میں رقص پیش کیا جو سامعین کے لئے قدرے دلکشی کا باعث بنا۔
اپنی استقبالیہ تقریب میں ٹرین ٹوگین کے سی ای او ڈاکٹر ہریش بھیمل نے معزز مہمانان کا استقبال کیا اور اپنی ٹیم کا تعارف کراتے ہوئے ان کی کاوشون کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ ماریشس دو براعظم ایشیا اور افریقہ کے درمیان واقع ہے اور متعدد پروجیکٹ میں ان دونوں کو ساتھ میں شامل کرنے کے کئی امکانات ہیں، اگلے سال پرامسنگ انڈین افریقن ایوارڈکا دوسرا اجلاس جنوبی افریقہ میں کرانے کا اعلان کیا گیا۔
ایوارڈ کی تقریب میں مائستا لوملیٹ کے نئے سینگل ’شانتی‘ کی رسمِ رونمائی ہوئی، پھر مقامی فنکار مائستا لوملیٹ نے اپنا نغمہ ’’شانتی، شانتی کی اور ہم چلیں ‘‘سنایا ۔ مختلف افراد کو معیشت، ماحولیات، فیشن، سوشل ورک، تجارت، سیاست، سیاحت، صحت، ٹیکنالوجی وغیرہ کے میدانوں میں اعزازات دیے گئے۔اس موقع پر فن اور ثقافت کے زمرے میں اردوکی نئی نسل کی ابھرتی قلم کار آبیناز جان علی کو ایوارڈسے نوازا گیاگیا،قابل ذکر ہے کہ اردو کے لئے پہلی بار کسی کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ آبیناز جان علی نے ایوارڈملنے پرٹرین ٹوگین اور پرامسنگ اینڈین سوسائٹی کا شکریہ اداکیاہے۔انہوں نے کہاکہ اس اعزاز سے اردو کی مزید خدمت کا جذبہ بلند ہوا اور اس بات کی بھی خوشی ہے کہ میں اردو کو دیگر علوم و فنون کے ہم پلہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں