25

ماحولیات کو درپیش سنگین خطرات!

محمد یاسین جہازی
9871552408

آج دہلی سمیت متعدد بڑے شہر و اطراف زہریلی ہوا کی زد میں ہے۔ ایک طرف آسمان میں (اسموگ)دھواں کی چادریں تنی ہوئی ہیں،تو وہی دوسری طرف ہمہ وقت دوڑتی پھرتی گاڑیوں اور سامان تعیش فراہم کرنے والے مختلف قسم کے کارخانوں سے خارج ہونے والے مضر مواد اور فضلات نے طبعی آب وہوا، فطری حیاتیاتی نظاموں اور عوامل کو بری طرح متاثر کردیا ہے،گویا زمین اور فضا دونوں خطرناک حد تک پولیوٹیڈ ہوچکے ہیں، جس سے سانس، دمہ اور آنکھ میں جلن جیسی بیماریاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں اور گلابی پھیپھڑے دھیرے دھیرے کالے ہوتے جارہے ہیں۔
ہوا میں انسان کے ایک بال کے تین فی صد کے برابر(Particulate Matter) یعنی (P.M.2.5) ہوتا ہے، جس کی پیمائش کو (Air quality index) ایر کوالٹی انڈیکس کہاجاتا ہے۔ اگر (P.M.2.5) زیرو سے سو تک ہے ، تو اسے ٹھیک کہاجاتا ہے۔ ایک سو ایک سے دو سو تک نارمل سمجھا جاتا ہے، اس سے زیادہ تین سو تک خراب کے زمرہ میں آتا ہے، چار سو تک پہنچ جائے تو بہت خراب ہوتاہے، لیکن جب چار سوسے اوپر ہوجائے تو وہ خطرناک سطح پر پہنچ جاتا ہے۔
آج کل دہلی و اطراف کے بعض مقامات پر (P.M.2.5) سات سو سے آٹھ سوتک درج کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق زہریلی ہوا کی وجہ سے دہلی گیس چیمبر میں تبدیل ہوچکی ہے، یہاں سانس لینا اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہورہا ہے، جتنا ایک دن میں بیس سگریٹ پینے کا نقصان ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں فضائی کثافت کی وجہ سے ایک سال میں دس لاکھ لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں،اس سے آپ بہ خوبی سمجھ سکتے ہیں کہ دہلی و اطراف کی آب و ہوا کس قدر کثافت سے لبریز ہوچکی ہے۔ یہ عام دنوں کی بات ہے؛ لیکن تصور کیجیے کہ آنے والی اس دیوالی کو دہلی کی فضا کا کیا حال ہوگا، جب کہ ہر گھر میں اور ہر گلی چوراہے پر بارود، پٹاخے اور دھواں خارج کرنے والے تفریحی سامان جلائے جائیں گے۔ پچھلے سال کا ریکارڈ دیکھیں تو آئی ٹی او پر نصب فضائی کثافت کو ناپنے والی مشین ، پیمائش کی آخری حد پر پہنچ کر جام ہوگئی تھی اور اتفاق سے راقم اسی رات کو دہلی واپس آرہا تھا،تو کھلے علاقے کا یہ عالم تھا کہ دھواں کی وجہ سے کار کے باہر کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی اور سڑک کی کشادگی کے باوجود پندرہ بیس کی رفتار سے ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو سپریم کورٹ کے جج اے کے سیکری کی صدارت والی بنچ نے پٹاخوں میں مضر کیمیکل کا استعمال نہ کرنے، زیادہ شدت اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے پٹاخوں پر پابندی کے ساتھ دیوالی پر صرف دو گھنٹے پٹاخے جلانے اور کرسمس اور نئے سال کیجشن پر 11 بجکر 55 منٹ سے رات 12 بجکر 30،منٹ تک ہی پٹاخے چھوڑے جانے کی اجازت دی ہے۔
فضائی آلودگی کے علاوہ ’’روشنی کی آلودگی ‘‘ بھی گلوبل کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہے۔ آج میٹرو لائف کی وجہ سے راتوں میں ضرورت سے زائد روشنی کا اخراج کیا جارہا ہے۔ شہروں میں رات بھر جلتی اسٹریٹ لائٹس، شادی اور دیگر فنکشن کی آرائش و زیبائش میں بے تحاشا قمقموں کا استعمال اور فلک بوس عمارتوں کو جگمگ جگمگ دکھانے کے لیے بڑے بڑے بھیپر کی تیز کرنیں نیچرل لائف کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، جس سے نہ صرف انسان؛ بلکہ چرند پرند اور دیگر مخلوقات بھی بری طرح متاثر ہور ہی ہیں۔ اندھیرے میں سکون کی نیند کا محتاج انسان،رات میں زندگی کے لیے جدوجہد کرنے والے چمگادڑ ،تاریکی میں پھلنے پھولنے والے پیڑ پودے اور سمندری مخلوقات بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ کروڑوں ٹن تیز روشنیوں کے بے جا اور غیرضروری استعمال کے باعث دنیا سے راتیں ناپید ہوتی جارہی ہیں ، جس سے دنیا تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
بھارت میں دیوالی کے موقع پر ۔ جو مہابھارت کے مطابق پانڈو ۱۲؍ سال بن باس اور ایک سال اگیات واس سے واپس ہونے پر اظہار خوشی کے لیے دیپ جلائے تھے۔ گھر گھر، کونے کونے اور گلی محلوں میں جگہ جگہ تیل کے دیے اور موم بتیوں کے فلیتے بڑی تعداد میں جلائے جاتے ہیں، جس سے اٹھنے والے دھنواں اور ضرورت سے زائد روشنیاں ماحولیاتی آلودگیوں میں اضافہ کی باعث بنتی ہیں۔ راقم کسی کے مذہب کے خلاف نہیں ہے، بالخصوص تاریکی پر روشنی کی جیت کے طور پر منائے جانے والے اس تہوار”دیوالی”کے تو بالکل خلاف نہیں ہے؛لیکن ہم اپنے جذبات کے اظہار میں جانے یا انجانے میں ماحولیاتی کثافت پیدا کرنے والی جو حرکتیں کر جاتے ہیں، جس سے نہ صرف انسان؛ بلکہ کائنات کی دیگر مخلوقات بھی تکلیف محسوس کرتی ہیں، اس سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی شدید ضرورت ہے؛ تاکہ یہ دنیا جان دار اور غیر جان دار دونوں مخلوقوں کے لیے سانس لینے اور زندہ رہنے کی پرامن جگہ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں