184

ماب لنچنگ پرمعروف صحافی ضیاءالسلام کی دستاویزی کتاب کی رونمائی


نئی دہلی: (قندیل نیوز)معروف انگریزی صحافی، مصنف ودانشورضیاء السلام کے ذریعے گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں ہجومی تشددکی وارداتوں کے جائزوں پرمشتمل Lynch Files نامی کتاب کااجرامختلف دانشوران کے ذریعےآج انڈیاانٹرنیشنل سینٹرمیں عمل میں آیاـ اس موقع پر کتاب کاتعارف پیش کرتے ہوئے مؤلف ضیاء السلام نے گزشتہ چندسالوں کے دوران رونما ہونے والےہجومی تشددکے واقعات پراجمالی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ شروع میں تواس قسم کے واقعات قومی میڈیامیں جگہ پاتے تھے اوراخبارات کے پہلے صفحے پرپانچ پانچ چھ چھ کالموں میں انھیں جگہ ملتی تھی، مگراب حالات اس حدتک خراب ہوچکے ہیں کہ ماب لنچنگ ایک عام واقعہ بن چکاہے اورایسے واقعے پرمیڈیامیں بھی اب زیادہ کچھ نہیں آتاـ انھوں نے اس کتاب کومرتب کرنے کی اذیتوں کاحوالہ دیتےہوئے کہاکہ ہمیں مل کراپنے ملک کو ایسا بناناہوگاکہ آیندہ پھرکسی کودوسری ایسی کتاب لکھنے کی نوبت نہ آئےـ معروف وکیل وسماجی کارکن پرشانت بھوشن نے اپنے خطاب میں ماب لنچنگ کے واقعات میں براہِ راست وزیراعظم مودی کے ملوث ہونے کی بات کہی اورانھوں نے کہاکہ مسٹرمودی ایسے لوگوں کوبڑھاوادیتے ہیں جو سوشل میڈیامیں یازمینی سطح پرمنافرت پھیلاتے ہیں،عورتوں کودھمکاتے ہیں اورمسلمانوں ودلتوں کی ماب لنچنگ کرتے ہیں ـ گجرات کے وڈگام سے ایم ایل اے اورسماجی کارکن جگنیش میوانی نے کہاکہ آرایس ایس نے 1925سے مسلسل اس ملک میں زہرپھیلانے کی جوکوششیں کی ہیں انہی کانتیجہ ہے کہ آج پورے ملک میں دلتوں، اقلیتوں اورمسلمانوں پربے دھڑک مظالم کیے جارہے ہیں اوران سے کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہےـ سینئرصحافی جان دیال نے بھی ملک کی موجودہ صورتحال کوخطرناک قراردیتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کومل کرسماج دشمن عناصرکےخلاف جدوجہدکرنے کی تاکیدکی ـ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسروسماجی کارکن اپوروانندنے کہاکہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ چارپانچ سال کے عرصے میں ہمارے ملک میں “لِنچ “کالفظ ایک ایسے معنی میں عام ہواہے جوظلم وانتہاپسندی سے تعلق رکھتاہے ـ انھوں نے کہاکہ خصوصامسلمانوں کے خلاف لنچنگ کے واقعات عام ہوچکے ہیں اوربسااوقات ان میں باقاعدہ پولیس اورحکومت ملوث ہوتی ہیں ـ انھوں نےسول سوسائٹی سے اپیل کی کہ ملک کی سماجی ساخت کوبچانے اورقومی ہم آہنگی کوبرقراررکھنے کے لیے نہ صرف موجودہ فاشسٹ حکومت کوباہرکاراستہ دکھاناہوگابلکہ سماجی سطح پرایسی منظم تحریکیں چلانی ہوں گی جن سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین بھائی چارہ وہم آہنگی کے جذبات فروغ پائیں ـ جے این یوکی پروفیسرغزالہ جمیل نے بھی اپنے خیال کااظہارکیاـ پروگرام کے شرکااورمہمانوں نے کتاب کے مؤلف ضیاء السلام کاشکریہ اداکیا کہ انھوں نے وقت کے ایک سلگتے موضوع پرقیمتی معلوماتی دستاویز فراہم کردی ہےـ مجلس کے اختتام سے قبل کتاب پر پینل ڈسکشن بھی ہوااوراخیرمیں سامعین کومہمانوں سے سوال وجواب کابھی موقع دیاگیاـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں