217

لیاقت علی عاصم کے شعری مجموعے” نشیبِ شہر“ سے ایک انتخاب

عزیز نبیل

سن 2008ء میں لیاقت علی عاصم بھائی کے تین مجموعے کراچی سے مجھ تک دوحہ قطر پہنچے، رقصِ وصال، آنگن میں سمندر اور نشیبِ شہر۔ اپنے پسندیدہ شاعر کی جانب سے بھیجے گئے اِن تین مجموعوں نے بہت عرصے تک مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا ۔
عاصم بھائی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے اپنے پورے وجودکے ساتھ شاعری کی ہے، ایسی شاعری جسے مسلسل شعری ریاضت، تخلیقی شعور اور بے پناہ وجدانی وجود٬ تاج محل کی طرح خوبصورت اور مرعوب کرنے والا بنادیتے ہیں۔ ایسی شاعری جس کے حرف حرف میں فکری و نظری تغیرات کی علامات، وقت کی تیز رفتاری کی دھمک، شعور اور لاشعور کے افق سے طلوع ہوتے ہوئے خالص جذبات و احساسات، اندرونِ ذات کی گفتگو، آشوبِ شہر کا بیان اور سب کچھ بہت سلیقے ، قرینے اور رکھ رکھاؤ کیساتھ موجود ہیں ۔
مجھے کہنے دیجے کہ اکّیسویں صدی کے اہم غزل گویوں کی مختصر سے مختصر فہرست بھی لیاقت علی عاصم کے نام کے بغیر نا مکمل سمجھی جائے گی۔
مسلسل پچاس برسوں سے شعروسخن کے خزانے میں اپنی بیش بہا شاعری سے اضافہ کرنے والے لیاقت علی عاصم بھائی کے سات مجموعہ ہائے کلام کی کلیات یکجا شائع ہوچکی ہے۔
تینوں مجموعوں سے انتخاب بہت طویل ہوجاتا؛ اس لیے فی الحال صرف نشیبِ شہر سے ایک مختصر سا انتخاب پیش خدمت ہے:

فارغ نہ جانیے مجھے مصروفِ جنگ ہوں
اس چپ سے جو کلام سے آگے نکل گئی
عاصم وہ کوئی دوست نہیں تھا جو ٹھیرتا
دنیا تھی اپنے کام سے آگے نکل گئی

تم آئے اور ہوش معطّل سے ہوگئے
در کیا کھلا کہ ہم تو مقفّل سے ہوگئے
کس حال کو پہنچ کے اٹھاتے ہیں کاسہ لوگ
سوچا ہی تھا کہ ہاتھ مرے شل سے ہوگئے

سارے دیے اچھال دیے تھے ہواؤں میں
کیا رات تھی وہ صبح سے وابستگی کی رات

پردۂ شب کی رعایت مجھے منظور نہیں
جس کو جانا ہو سرِ شام ہی رخصت ہوجائے

عدالت کیا قیامت تک چلے گی
مجھے جلدی سزا دو تھک گیا مَیں
کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں
بس اب پردا گرا دو تھک گیا مَیں

جسم سے چپکے ہوئے ہاتھ منافق ہیں سبھی
کوئی بازوئے بریدہ ہی سنبھالے مجھ کو
آپ اپنے میں کہیں کھویا ہوا رہتا ہوں
اس ہوس میں کہ کوئی ڈھونڈ نکالے مجھ کو

قصور ہم سے بھی کیا کیا مسافرانہ ہوئے
کہیں کا قصد کیا اور کہیں روانہ ہوئے
نہ کہنے والا کوئی تھا نہ سننے والا کوئی
عجیب رات تھی جس رات ہم فسانہ ہوئے

میں تکتا رہا کاسۂ دیدار اٹھائے
حیرت کے سوا حسن نے خیرات نہیں کی
کیا پوچھتا اُس سے کہ وہ قطرہ ہے کہ دریا
پیاسا تھا بہت میں نے کوئی بات نہیں کی
کس صبح گلابوں میں ترا ذکر نہ چھیڑا
کس شام ستاروں سے تری بات نہیں کی

دھڑکنیں گنتے ہوئے کون سفر کرتا ہے
عمر ہو یا کہ زمانہ ہو کوئی ہو ہمیں کیا

مرے سائے پہ نہ بیٹھو تمہیں معلوم نہیں
مرے سائے پہ بہت بوجھ ہے دیواروں کا

ہائے وہ رات جو احباب میں کٹ جاتی تھی
ہائے وہ ہاتھ جو دروازہ کھلا رکھتے تھے

صحرا نے درمیان میں آکر بچا لیا
دریا کی آنکھ تھی مرے در پر لگی ہوئی

آج کیوں جی میں یہ آتا ہے کہ سب سے ملیے
کل کہیں شہر سے جانے کا ارادہ بھی نہیں

اب تو دستار بھی جائے گی جناب
پہلے سر کٹتا تو سر ہی جاتا

مناتے پھر رہے ہو ہرکسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا
یہ دنیا تو نہیں مانے گی عاصم
مگر تم نے بھی حجّت چھوڑ دی کیا

ہم بھی یہی کہتے تھے میاں عمر پڑی یے
اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہاں عمر پڑی ہے

وہ جو آنسو تھے کوئی لے گیا دامن بھر کے
اب مری آنکھ میں پانی کے سوا کچھ بھی نہیں

کیا آئینے سے دوسری صورت کروں طلب
میرا ہی عکس مجھ کو عطا ہو نہیں رہا

اے وحشتِ دل وسعتِ صحرا کو صدا دے
اس گھر پہ یہ تہمت ہے کہ تعمیر میں کم ہے

چراغ بجھ کے ستاروں میں ڈھلتے جاتے ہیں
ہمیں بھی دیکھنا اک دن اِدھر کی حد سے اُدھر

دل پہ طاری تھا گریۂ اظہار
شعر کہنے لگا میں زارو قطار
دل پہ آئے عذاب ٹالتا ہوں
شاعری سے مجھے نہیں سروکار

ایک دم رک گئی تھی عمر رواں
ایک دم زندگی گزرگئی تھی
شعر در شعر ہورہی تھی غزل
آنسوؤں سے بیاض بھر گئی تھی

شہر میں دشت سے آئے تھے بھلا کیا کرتے
مسندِعشق سے اترے سرِ منبر بیٹھے
شوقِ نظّارہ نے کیا آئینہ ایجاد کیا
دیکھ لیتے ہیں تماشائے جہاں گھر بیٹھے

یا شوقِ بود وباشِ سبا ترک کیجیے
یا سر پہ بارِ تختِ سلیماں اٹھائیے
یا گھر میں بیٹھ جائیے زنجیر ڈال کر
یا صحبتِ ہوائے بیاباں اٹھائیے
یا سایہ سایہ بیٹھیے داغِ بہار کے
یا بخیہ بخیہ تارِ گریباں اٹھائیے

آرزوئے وصل شاید جستجوئے ہجر تھی
تم ہمارے شہر میں تھے ہم تمہارے شہر میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں