94

لوک سبھااسپیکر اور برہمنی احساسِ برتری

عبدالعزیز
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا گزشتہ منگل کو ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ”پیدائشی لحاظ سے برہمن معاشرے میں برتر اور بزرگ ہوتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا ہے کہ برہمنوں کو جو یہ مقام اور مرتبہ حاصل ہوا ہے ان کی قربانی، تپسیا اورمعاشرے ک لوگوں کی ان کی رہنمائی اور رہبری کی وجہ سے۔ رپورٹ کے مطابق اوم برلااکھل برہمن مہا سبھا کے جلسے میں شریک ہوئے تھے۔ یہ جلسہ ان کے انتخابی حلقے کوٹا میں ہوا تھا۔ جلسے کے بعد انہوں نے یہ ٹویٹ کیا تھا جس پر اس وقت ان پر بڑی نکتہ چینی ہو رہی ہے اور لعن طعن کیاجا رہا ہے۔ گجرات کے ایم ایل اے اور سماجی کارکن جگنیش میوانی نے اسپیکر کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کو معافی مانگنا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ ملک کے لئے ٹریجڈی ہے کہ ایسے لوگ جو بڑے عہدوں پر فائز ہیں ایسی ظالمانہ حرکت کرتے ہیں اونچ نیچ کو قائم رکھنے کے لئے اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ اور دستور ہند جس میں برابری اور مساوات کی بات کہی گئی ہے بھید بھاؤ سے دور رہنے کا درس دیا گیا ہے۔ اس کا حلف لے کر دستوری عہدوں پر براجمان ہیں اور انسانیت سے گری ہوئی حر کت کرتے ہیں۔
ابھی تک ہندوستان میں چھوت چھات، ذات پات کا سسٹم ختم نہیں ہوا۔ برہمنوں نے اپنی برتری اور بزر گی کے لئے جو بیج بویا تھا وہ تناور درخت کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ اپنے علاوہ دیگر طبقے کو مذہبی اطوار سے نیچا سمجھنا اور اس کے فائدے بتانا یہ برہمنوں کی بہت بڑی چال ہے۔ جس میں آج بھی ہندوستان گرفتار ہے۔ نجات حاصل کرنے کے لئے برہمنوں کا پیر دھو کر پینے کا رواج آج کے اس ترقی یافتہ، سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں بھی جاری ہے۔ ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد جو شودر کائستھ ذات کے تھے۔ جب صدر جمہوریہ ہند بنے تو حلف بر داری کے بعد اپنی بیوی کو لے کر بنارس گئے اور وہاں برہمنوں کے انگوٹھے دھو کر اس پانی کو اپنے اوپر اور اپنی وفادار بیوی کے اوپر چھڑکا، پھر اپنے کو پاک کرنے کے واسطے پانی کو پیا بھی۔ ان کے ذریعہ ملک کے صدارتی عہدے کو پائمال کئے جانے پر اخبارات نے تنقید کی تو انہوں نے کہا کہ برہمنوں کے آشیر واد(دعاؤں) کی وجہ سے ہی وہ صدر بنے ہیں اور ملک کی آزادی میں ان کی کوئی قربانی نہ تھی۔
جناب شنکرانند شاستری نے1989 ء میں اپنے زمانہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ عمل]برہمنوں کا پیر دھوکر پینا[ غیر برہمنوں میں عام ہے اور خاص طور سے بنیوں میں، جو برہمنوں کا پیر دھو کر اس کو پیتے ہیں اور یہ گندا، غیر صحت مند، جراثیم سے پر عمل ان کے نزدیک پاکی حاصل کرنے کا سب سے مقدس، لذیذ اور مشرف سمجھا جاتا ہے۔ چھتری، ویشیہ، شودر اور ان میں بھی بطور خاص شودر پر برہمنوں کی فضیلت کی دھاک اس طرح بیٹھی ہے کہ ذات پات کو ماننے والے برہمنوں نے اپنے دور اقتدار میں شو دروں کو جو لقب دیا، اس کو آج تک وہ اپنے گلے لگائے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر ذات پات کو ماننے والے برہمنوں نے مزعومہ چھوٹی ذاتوں یعنی دراوڑوں کو ”داس“ کا لقب دیا۔ اس لقب کو جس کے معنی غلام کے ہیں، آج تک وہ ڈھو رہے ہیں اور اپنے نام کے آگے نہ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ دیوتا ناراض اور برہم نہ ہوجائیں اور پھر اس کے نتیجہ میں عذاب میں نہ مبتلا کر دیں۔
موہن بھاگوت سے پہلے جو آر ایس ایس کے سنچالک سدرشن تھے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اسلام کی طرف مائل ہو گئے تھے اور بعض لوگوں کے خیال کے مطابق انہوں نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا۔ لیکن ذات پات کے سسٹم پر جب وہ سنچالک تھے تو ان کی ایک تقریر ہے جو آج بھی یو ٹیوب میں سنی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مغلوں کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ”مسلمانوں کی ساڑھے آٹھ سو سال حکومت کرنے کے باوجود جو آج ہندو ہندوستان میں اتنی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں وہ ذات پات کی بدولت ہے اگر ہندوؤں میں ذات پات کا سسٹم نہیں ہوتا تو مسلم حکومتیں ہندوؤں کو کھا جاتیں اور ان کا ہندو رہنا کسی طرح آسان نہیں رہتا۔“ آر ایس ایس اس وقت ہندوستان کے سب سے بڑی جماعت ہے اور ایس ایم مشرف سابق انسپکٹر جنرل آف پولس مہاراشٹر کے مطابق آر ایس ایس ملک کی سب سے بڑی دہشت گر د تنظیم ہے۔ یہ تنظیم اسلام دشمنی اور مسلم دشمنی پر آج بھی قائم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ہی ہندوؤں کو متحد و منظم کرنے کے لئے یہ جماعت عالم وجود میں آئی۔ آج ہندوستان میں حقیقت میں اسی جماعت کی حکمرانی ہے۔ جو لوگ بھی مودی حکومت کے ذریعہ چھوٹے بڑے عہدوں پر فائز ہیں وہ آر ایس ایس کو اپنی مدر تنظیم کہتے ہیں اور اپنے اظہار خیال میں اس تنظیم کے اصول و ضوابط کا خیال رکھتے ہیں کیونکہ آر ایس ایس ذات پات کے سسٹم کو ماننے والوں کو ہی ہندو سمجھتا ہے۔ خواہ کوئی کتنی ہی تنقید کرے جب تک ایسی ذات پرست تنظیم جس کے ہاتھ پاؤں بہت لمبے ہوں قائم و دائم رہتی ہیں۔ذات پات کا خاتمہ آسان نہیں ہے۔ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ مسلمان جو اسلام پر ایمان لانے کے دعویدار ہیں وہ بھی ذات پات کے معاملے میں ہندوؤں میں جو ذات پات کا سسٹم ہے اس کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اللہ نے سب کو برابری کا درجہ دیا ہے۔ اپنی کتاب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے”لوگو ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔“ (سورہ الحجرات:13) اس آیت میں پوری نوع انسانی کو خطاب کر کے اس عظیم گمراہی کی اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ فساد کی موجب بنی رہی ہے۔ یعنی نسل، رنگ، زبان اور قومیت کا تعصب۔قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کر کے اپنے ارد گرد وہ چھوٹے چھوٹے دائرے کھینچتا رہا ہے۔ یہودیوں نے اس بناء پر بنی اسرائیل کوچیدہ مخلوق ٹھہرایا اور اپنے مذہبی احکام تک میں غیر اسرائیلیوں کے حقوق اور مرتبے کو اسرائیلیوں سے فروتر رکھا۔ ہندوؤں کے یہاں ورم آشرم اسی تمیز نے جنم دیا۔ جس کی روح سے برہمنوں کی برتری قائم کی گئی۔ اونچی ذات والوں کے مقابلے میں تمام انسان نیچ اور ناپاک ٹھہرے گئے اور شودروں کو انتہائی ذلت کے گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ اس طرح ہر ملک میں برہمنوں اسرائیلیوں کی طرح کچھ لوگ ذات پات کے نظام سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مسلمان اس سے پاک صاف تھے۔ میری معلومات کی حد تک تین ممالک نے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے اندر مسلمانوں نے ہندوؤں کے ذات پات کے سسٹم کو ایک حد تک قبول کرلیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمان اس راہ پر گامزن نہیں ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے مختلف خطبات اور ارشادات میں مذکورہ آیت کو کھول کر فرمایا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر طواف، کعبہ کے بعد آپ نے جو تقریر فرمائی تھی اس میں فرمایا: ”شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سے جاہلیت کا عیب اور اس کا تکبر دور کر دیا ہے۔ لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک نیک اور پر ہیزگار، جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے۔ دوسرا فاجر اور شقی، جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے۔ ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔(بہقی فی شعب ایمان۔ ترمذی)
حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے وسط میں آپ نے ایک تقریر کی اور اس میں فرمایا:”لوگو، خبر دار رہو، تم سب کا خدا ایک ہے۔ کسی عرب کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عرب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقویٰ کے اعتبار سے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ بتاؤ، میں نے تمہیں بات پہنچا دی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسولؐ اللہ۔ فرمایا، اچھا تو جو موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں۔“(بیہقی)
”تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ لوگ اپنے آباء و اجداد پر فکر کرنا چھوڑ دیں ورنہ وہ اللہ کی نگاہ میں ایک حقیر کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوں گے۔“ (بزار)
”اللہ قیامت کے روز تمہارا حسب نسب نہیں پوچھے گا۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔“ (ابن جریر)
”اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“ (مسلم، ابن ماجہ)
ہندوستان میں مسلمان اگر اسلام پر عمل کرتے تو ہندو بھائیوں میں بھی جو ذات پات کا نظام ہے وہ ختم ہوجاتا لیکن بد قسمتی سے مسلمان شادی بیاہ اور دیگر باتوں میں اسلام کے بجائے رسم و رواج پر قائم ہیں۔ اس لئے جو خود غلط رسم و رواج میں مبتلا ہو اور بابا دادا کی پیر وی کر رہا ہو اور نفس پرستی کو بھی نہیں چھوڑ رہا ہو اس کے لئے مشکل ہے کہ وہ دوسروں کو متاثر کر سکے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں