125

لنچ فائلز

نایاب حسن قاسمی

ماب لنچنگ نئے ہندوستان کانیاٹرینڈبن چکاہے، انسانی جانیں جانوروں پرنچھاورکرنے والاہندوستان دنیاکاپہلادیس ہے،تاریخ کے مختلف ادوار میں مذہبی منافرت وفسادات کا ہمارے یہاں ایک طویل سلسلہ رہاہے، مگرانسان نماوحشی شیطانی ہجوم کے ذریعے کسی بے بس انسان کومارڈالنے، پھراس کی لاش کے گردرقص کرنے، اس منظرکوویڈیومیں قیدکرنے اورسوشل میڈیاکے سہارےپوری دنیا میں نشرکرنے کی روایت بی جے پی کی نئی حکومت میں باقاعدہ شروع ہوئی ـ جب یہ صورتِ حال ابتدائی مرحلے میں تھی، تو قومی میڈیامیں ایک بے چینی پیداہوئی، سول سوسائٹی نے ہنگامے کیے، اخبارات میں ان خبروں کوبڑی کوریج ملی، مگراب اس پرپانچ سال کاعرصہ بیتنے کے بعدماب لنچنگ ایک معمول کاواقعہ بن چکاہے، حادثے ہورہے ہیں، جنونی بھیڑنہتھے انسانوں کاخون مسلسل پی رہی ہے،مگرایسالگتاہے کہ رفتہ رفتہ یہ سانحے ہمارے روزمرہ واقعات کاحصہ بنتے جارہےہیں؛ اس لیے میڈیاسے ان واقعات کی خبریں بہ تدریج غائب ہورہی ہیں، لوگ مطمئن ہوتے جارہے ہیں ـ ایسے میں معروف وسینئرصحافی اوردانشور محترم ضیاءالسلام صاحب نے ہمارے دل ودماغ کوجھنجھوڑنے اور ذہن وشعورپر دستک دینے کی بڑی تواناکوشش کی ہے، ان کی تازہ ترین کتاب Lynch Files: The Forgotten Saga of victims of Hate Crimeمجھے پڑھناچاہیے، آپ کوپڑھناچاہیے، سارے ہندوستان کوپڑھناچاہیےـ یہ کتاب نہیں، یہ موجودہ ہندوستان کاخونیں منظرنامہ ہے، جس کاہرگوشہ پرہَول ہے، لرزہ انگیزہے، ہیبت ناک ہے، ہمیں خوف زدہ کرتاہے، ہمارے حال ومستقبل پرسوالیہ نشان کھڑے کرتاہےـ خوف ودہشت کی بات اس لیے بھی ہے کہ ایسے جنونیوں کوکئی بار حکومت کی پشتیبانی اورمقامی پولیس کی حمایت حاصل ہوتی ہے؛ بلکہ اگرکوئی ماب لنچرجیل پہنچ جائے، تواس کی بیل کروائی جاتی اورحکومت کاوزیرپوری بے غیرتی کامظاہرہ کرتے ہوئےاس ننگِ انسانیت کے گلے میں پھول مالا ڈالتا نظر آتا ہےاوراگرایساشخص مرتاہے، تواس کی لاش کوترنگےمیں لپیٹ کرقومی اعزازکے ساتھ نذرِ آتش کیاجاتاہے:
آسماں راحق بودگرخوں بباردبرزمیں
آج اس کتاب کااجرانمایاں اہلِ فکر و دانش کے ہاتھوں انڈیا انٹرنیشنل سینٹرمیں ہواہے ـ سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسراپوروانند،بزرگ صحافی جان دیال، جے این یوکی پروفیسر غزالہ جمیل اورنوجوان لیڈر جگنیش میوانی جیسے مختلف علمی وعملی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے اس کتاب کے پس منظروپیش منظرپرروشنی ڈالتے ہوئے جوباتیں کیں، وہ آج کے ہندوستان کی وہی زمینی حقیقت ہے جس کی طرف میں نے اشارے کیےـ آج کے مودی، امیت شاہ وآرایس ایس زدہ ہندوستان میں ان جیسےلوگوں کاوجودغنیمت ہے، جو سماجی مساوات، انصاف، جمہوریت اورقومی یکجہتی کے لیے ہرقسم کے اندیشوں سے بالاتر ہوکرسوچتے، بولتے، لکھتے اورعمل بھی کرتے ہیں ـ ضیاء السلام صاحب نے تقریبِ اجراکے آغازمیں اپنی کتاب کاتعارف کرواتے ہوئے بات دادری کے شہید محمداخلاق سے شروع کی، پھروہ گزشتہ سال جولائی میں اکبر(رکبر)خان کی شہادت کوبیان کرنے لگے، دونوں واقعات کے بعدکے شوراورسناٹوں کوانھوں نے اس کتاب کی تصنیف کی وجہ قراردیا، ان کے لہجے میں دردتھا، کرب تھا،احساس کی بےچارگی تھی اور وہ تکلیف، جوآج ہندوستان کاہرحساس وذمے دارشہری اس وقت بڑی شدت سے محسوس کرتاہے، جب ماب لنچنگ کے کسی واقعے میں کسی اخلاق، کسی پہلوخاں، کسی جنیدوغیرہ کوقتل کردیاجاتاہےـ یہ کتاب ہرہندوستانی کوضروربالضرور پڑھناچاہیے!
پروگرام کے اخیرمیں سامعین کوپانچ سات منٹ مہمانوں سے سوال کرنے کے لیے دیے گئے، جس کے دوران ایک صاحب نےمہمانوں سے پوچھاکہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں قلم یاکتاب کی طاقت کس حدتک کارگرہوسکتی ہے؟ اس کے جواب میں جناب جان دیال نے حق پسنداہلِ قلم وصحافت کی پریشانیوں کاذکرکیااورکہاکہ حکومت اپنے خلاف کوئی تنقیدنہیں سنناچاہتی؛ اس لیےزیادہ تر یاتوبک چکے ہیں یاخوف زدہ ہیں، مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جوبے خوفی کے ساتھ اپنی صحافتی وسماجی ذمے داریاں پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں ـ اُس وقت میرے ذہن میں احمدفرازکے یہ اشعارگردش کررہے تھے، جویقیناضیاصاحب، جان دیال اوران جیسےانصاف پسندوحق نگاراہلِ قلم وصحافت پرصادق آتے ہیں:
مراقلم نہیں کردار اُس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصورکرکے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم نہیں اوزار اُس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اُ س دُزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اُچھالتا ہے
مرا قلم نہیں تسبیح اُس مبلغ کی
جوبند گی کا بھی ہردم حساب رکھتا ہے
مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کی، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائےگا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں