42

لال بہادر شاستری انڈین کلچرل سینٹر، تاشقند میں ہندوستانی وفد کا استقبال

تاشقند:(پریس ریلیز) تاشقند کے لال بہادر شاستری انڈین کلچر ل سینٹر میں ہندوستانی وفد کو استقبالیہ دیا گیا۔ اس موقع پر لال بہادر شاستری کلچرل سینٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر چندرشیکھر نے سینٹر کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سینٹر کا مقصد ہندوستانی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔اس سینٹر میں ہندوستانی زبانوں اور ان سے متعلق ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز نے سینٹر کو اردو یونی ورسٹی کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے دور ہندوستانی ثقافت کو پھلتا پھولتا دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔شعبہ اردودہلی یونی ورسٹی کے استاد پروفیسر ابن کنول نے ہندوستان اور ازبکستان کے کلچرپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ازبکستان اورہندوستان کے تہذیبی رشتے بہت قدیم ہیں،لال بہادرشاستری مرکزان رشتوں کومستحکم بنانے اہم کرداراداکررہاہے،پروفیسرچندرشیکھرایک فعال ڈائریکٹرہیں انھوں نے گذشتہ دس ماہ میں ازبکستان میں ہندوستانی ادب اورثقافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردارادا کیاہے،امیدہے آئندہ برسوں میں پروفیسر چندر شیکھر دونوں ممالک کی تہذیب اور افرادکواورقریب لے آئیں گے،لال بہادرشاستری سینٹرکی بدولت نہ صرف تاشقندمیں بلکہ پورے ازبکستان میں پروفیسرشیکھرکی رہنمائی میں ہندوستان متعارف ہورہاہے۔یہاں کے لوگوں میں جو خلوص دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں کی فضااورافرادکی خوب صورتی میں نظرآتاہے۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور حسن سلوک سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔دہلی یونی ورسٹی کے پروفیسرعلیم اشرف اور ڈاکٹر حسنین اختر نے بھی سینٹر کی سرگرمیوں پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے کہا کہ وطن سے دور ہونے کیباوجود ازبکستان میں ہمیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ ہندوستانی وفدجو عالمی صوفی کانفرنس میں شرکت کے لیے تاشقند گیا ہوا تھا جس میں ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز، پروفیسر ابن کنول، پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر محمد کاظم، ڈاکٹر حسنین اختر اور ڈاکٹر علی اکبر شاہ شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں